میری ایک غزل ۔ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر

نوید خان

محفلین
بھئی آپ اپریل ۲۰۱۴ کی اس غزل کو ڈھونڈ کر سرِ فہرست لے آئے اور اس طرح ہمیں بھی پڑھنے کا موقع دیا ۔ اس لئے آپ کا شکریہ واجب ہوا ۔ :):):)
نوید خان
آپ کے اس شکریہ کا بھی بہت شکریہ۔ اللہ پاک آپ کو صحت و سلامتی عطا کریں اور شاد و آباد رکھیں۔ آپ سب محترم اساتذہ کی وجہ سے ہی تو یہ محفل آباد ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
آپ کے اس شکریہ کا بھی بہت شکریہ۔ اللہ پاک آپ کو صحت و سلامتی عطا کریں اور شاد و آباد رکھیں۔ آپ سب محترم اساتذہ کی وجہ سے ہی تو یہ محفل آباد ہے۔
آپ بھی بہت استاد ہیں حضرت! :) شکریہ اور دعا کے فوراً بعد مجھ پر استاد ہونے کا الزام بھی لگادیا ۔ بھائی میں تو آپ ہی کی طرح شعر و ادب کا شائق ہوں ۔ بس عمر میں ذرا بڑا ہوں تو کیا ہوا ۔ انکل وغیرہ بیشک کہہ لیجئے مجھے لیکن اور کچھ نہ کہیئے ۔ :D
 

نوید خان

محفلین
آپ بھی بہت استاد ہیں حضرت! :) شکریہ اور دعا کے فوراً بعد مجھ پر استاد ہونے کا الزام بھی لگادیا ۔ بھائی میں تو آپ ہی کی طرح شعر و ادب کا شائق ہوں ۔ بس عمر میں ذرا بڑا ہوں تو کیا ہوا ۔ انکل وغیرہ بیشک کہہ لیجئے مجھے لیکن اور کچھ نہ کہیئے ۔ :D
ایک قاری اور ادب کا مشتاق ہونے کے ناطے آپ جیسے محترم شاعروں کے اشعار سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی ناطے آپ ہمارے ہر لحاظ سے استاد ہوئے اور استاد ہی رہیں گے۔ انکل تو اور بھی بہت ہیں لیکن استاد کی عزت و احترام کا ایک اپنا مقام ہے جس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ :):):)
 
ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
آسماں کو ملی ان سے رفعت مگر

حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر

راز سینے میں ایسا ہے میرے جسے
ڈھونڈتے ہیں شب و روز شمس و قمر

زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر

آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر

گفتگو تھی تصور میں تجھ سے فقط
ہمنوا ہوگئے کیوں یہ برگ و شجر

فرصتِ زندگی کا تماشا یہی
غور سے دیکھ لے کو ئی رقص ِشرر

ہو صدائے سگا ں گو وفا کاشعار
ہے فقیری کا مشرب مگر درگزر
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
واہ۔۔۔ کیا خوب غزل ہے۔

میں کہنے آیا تھا کہ صرف ایک غزل۔۔۔۔ لیکن پھر اندازہ ہوا کہ اس دور میں شامل کی گئی ہے جب ایک غزل کا ہی رواج تھا۔ چاہے سنانے والی ہو یا سنائے جانے والی ۔۔۔۔۔


پس نوشت: کچھ اشعار کے بارے میں راقم کو یہ گماں ہے کہ عام قاری کی ان کے مفہوم تک رسائی ممکن نہ ہوسکے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ خاکسار عام زبان میں مفہوم سب تک پہنچانے کا ذمہ اپنے کاندھوں پر لینے کو تیار ہے۔
 
پس نوشت: کچھ اشعار کے بارے میں راقم کو یہ گماں ہے کہ عام قاری کی ان کے مفہوم تک رسائی ممکن نہ ہوسکے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ خاکسار عام زبان میں مفہوم سب تک پہنچانے کا ذمہ اپنے کاندھوں پر لینے کو تیار ہے۔

شاعر کی جانب سے اجازت ملے نہ ملے، آپ اپنا کام کر گزرئیے۔ نیک کام میں صلے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی ایک زمانہ ہوا اردو محفل پر کسی شاعر کی غزل کی تشریح نہیں کی گئی۔ اس روایت کو زندہ کردیجیے، للہ!!!
 
Top