موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد

hakimkhalid

محفلین
سوتی ملبوسات استعمال کریں'پانی ابال کر پیئں'لیموں پانی اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں
سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے :کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان
iuq39cd5qs.jpg
لاہور03جون: اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا'بھوک کی کمی 'سردرد'صفراوی بخار'گھبراہٹ 'خفقان' ٹائیفائڈ'پھوڑے پھنسیاں'ہیپاٹائٹس 'یرقان 'گیسٹرو'ہیضہ' اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میں کولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی'بزوری 'صندل' فالسہ اور نیلوفر کا شربت 'لیموں پانی' تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی 'نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان'' موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ 'تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی 'گیسٹرو'اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔​
 

انتہا

محفلین
طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔​
بازار میں جو سرکے دستیاب ہوتے ہیں، وہ اکثر ایسنس ہوتے ہیں، اصلی سرکہ کہاں سے دستیاب ہو سکتا ہے؟
 

فہیم

لائبریرین
بازار میں جو سرکے دستیاب ہوتے ہیں، وہ اکثر ایسنس ہوتے ہیں، اصلی سرکہ کہاں سے دستیاب ہو سکتا ہے؟
سفید سرکے کی حد تک تو آپ کی بات بہت حد تک درست ہے :)

لیکن بازار میں جامن، سیب اور گنے وغیرہ کے سرکے کی بوتلیں بھی ملتی ہیں جو وائٹ والے سے تھوڑی بڑی ہوتی ہیں۔
اور سو فیصد خالص کا دعویٰ تو نہیں لیکن وائٹ والے کے مقابلے یہ ذرا خالص ہی ہوتا ہے :)
 

فہیم

لائبریرین
یعنی پھر وہی ڈھونڈنے کی مشقت!!!!!!
ہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے :)

کیوں کے خود ایک بار ہمیں بھی شوق ہوا تھا
سرکہ میں پیاز ڈبو کر کھانے کا تو ہمارے علاقے میں کہیں بھی
بلیک سرکہ نہیں مل پایا تھا :)

مارکیٹ وغیرہ میں شاید آسانی سے دستیاب ہوجائے :)
 

شمشاد

لائبریرین
پیاز کو سرکے میں ڈبو کر کھانے کے علاوہ سرکہ استعمال کرنے کے اور کون کون سے طریقے ہیں۔
 

hakimkhalid

محفلین
بازار میں جو سرکے دستیاب ہوتے ہیں، وہ اکثر ایسنس ہوتے ہیں، اصلی سرکہ کہاں سے دستیاب ہو سکتا ہے؟
درست فرما رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں زیادہ تر سینتھیٹک سرکہ فروخت کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔تاہم کلاسیک طریقہ سے تیار کیا گیا سرکہ بھی دستیاب ہے۔۔۔۔۔صوبہ خیبر پختون خواہ اور افغانستان کا شائد ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں سرکہ موجود نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔دتو اینڈ سنز کمپنی کے سرکہ جات ۔۔۔۔۔قدیم طریقہ سے تیار کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جن سے بیان کئے گئے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں۔۔۔۔یہ پاکستان میں کم و بیش ہر جگہ دستیاب ہیں۔۔۔۔۔۔
 

hakimkhalid

محفلین
ایک سٹیپ کی کمی کے ساتھ سرکہ بنانے کا وہی طریق کار ہے جو کہ شراب بنانے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم سرکہ حلال ’سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔شراب کے تمام فوائد بھی سرکہ میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔علاوہ خمر یا نشہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔بنوں، کوہاٹ اور پشاور کے علاقوں میں گھر گھر سرکہ سازی ہوتی ہے۔۔۔۔۔سرکہ کی تیاری کا طریقہ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ اس طرح ہے کہ جس چیز کا سرکہ بنانا ہو، پہلے اس کا رس (جوس) حاصل کرکے پھر اس کو کسی روغنی مٹکے میں ڈال کر زیر زمین اس طرح دبایا جاتا ہے کہ مٹکے کا تمام حصہ زمین کے اندر رہے اور صرف گردن باہر ہو یا پھر کسی ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں سورج کی شعاعیں دیر تک رہیں۔ تقریباً چالیس روز بعد یا پھردو ماہ کے بعد نکال کر استعمال میں لاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
 

hakimkhalid

محفلین
پیاز کو سرکے میں ڈبو کر کھانے کے علاوہ سرکہ استعمال کرنے کے اور کون کون سے طریقے ہیں۔
سرکہ اپنے اثرات کے لحاظ سے اینٹی بایوٹک ،جراثیم کش، دافع تعفن اور مقامی طور پر خون کی گردش میں کمال کی چیز ہے۔ اس میں اگر کسی اور دوائی کا اضافہ نہ بھی کیا جائے تو چھیپ، داد اور رانوں کے اندرونی طرف کی خارش میں مفید ہے۔ پھپھوندی کے علاج میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پھپھوندی دواؤں کی عادی ہو جاتی ہے۔ اس لئے صحیح دوائی کے چند روزہ استعمال کے بعد فائدہ ہونا رک جاتا ہے بلکہ مؤثر دوائی کے استعمال کے دوارن ہی مرض ۔ سرکہ وہ منفرد دوائی ہے جس کی پھپھوندی عادی نہیں ہوتی اور یہ ہر حال میں اس کے لئے مفید ہے۔ ابن قیم کے مشاہدات پیدا ہونے والی سوزشوں کے لئے ایک نسخہ آزمایا گیا۔ برگ مہندی، سنامکی، کلونجی، میتھرے، حب الرشاد، قسط شیریں کو ہم وزن پیس کر اس کے ایک پیالہ میں چھ پیالہ سرکہ ملا کر اسے دس منٹ ہلکی آنچ پر ابالا گیا۔ پھر کپڑے میں نچوڑ کر چھان کر یہ لوشن ہمہ اقسام پھپھوندی میں استعمال کیا گیا۔ فوائد میں لاجواب پایا گیا۔ کسی بھی مریض کو بیس روز کے بعد مزید علاج کی ضرورت نہ رہی۔

سرکہ کے سر کے بالوں پر اثرات
سرکہ جلد اور بالوں کی بیماریوں کے لئے اطباء قدیم کے اکثر نسخہ سرکہ پر ہی مبنی ہیں۔ بو علی سینا کہتے ہیں کہ روغن گل میں ہم وزن سرکہ ملا کر خوب ملائیں۔ پھر موٹے کپڑے کے ساتھ سرکہ کو رگڑ کر سر کے گنج پر لگائیں۔ انہی کے ایک نسخہ میں کلونجی کو توے پر جلا کر سرکہ میں حل کرکے لیپ کرنے سے گنج ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بکری کے کھر اور بھینس کے سینک کو جلا کر سرکہ میں حل کرکے سر پر بار بار لگانے سے گرتے بال اگ آتے ہیں۔ اسی مقصد کے لئے ادرک کا پانی اور سرکہ ملا کر لگانا بھی مفید ہے۔ بال اگانے کے لئے کاغذ جلا کر اس کی راکھ سرکہ میں حل کرکے لگانے کے بارے میں بھی حکماء نے ذکر کیا ہے۔

* خارش اور حساسیت میں سرکہ پلانا اور لگانا مفید ہے۔
* سرکہ میں پکائے ہوئے گوشت کو یرقان میں مفید بتلایا گیا ہے۔
* سرکہ جوش خون اور صفراء اور پیاس میں مفید ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے بھوک نہ لگتی ہو تو مفید ہے۔
* سرکہ میں گندھک ملا کر خارش میں لیپ کرنا مفید ہوتا ہے۔
* عرق النساء میں حکماء نے لکھا ہے کہ حب الرشاد اور جو کا آٹا سرکہ میں حل کرکے لیپ کرنا نہایت مفید ہے۔
* ہیضہ اور اندرونی سوزشوں میں مفید ہے۔
* حلق کے ورم میں اس کی بھاپ سونگھایا جانا بے حد مفید ہوتا ہے۔ شراب کا نشہ اتارنے کے لئے ایک اونس سرکہ پلانا کافی ہوتا ہے۔
* سرکہ اور شہد کا مشہور مرکب بخار، متلی اور صفراوی امراض میں مستعمل ہے۔
* برسات اور موسموں کی تبدیلیوں میں بہترین چیز ہے۔ پیٹ کی اکثر بیماریاں دور کرتا ہے۔
* امام صادق کے حوالے سے ایک جگہ لکھا ہوا پایا کہ سرکہ عقل کو تیز کرتا ہے اور اس سے مثانہ کی پتھری گل جاتی ہے۔
 

hakimkhalid

محفلین
صحیح مسلم
کھانے کے مسائل
باب : سرکہ اچھا سالن ہے۔
1315 : طلحہ بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے مکان پر لے گئے۔ پھر روٹی کے چند ٹکڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سالن نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں مگر تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرکہ اچھا سالن ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس روز سے مجھے سرکہ سے محبت ہو گئی، جب سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور طلحہ نے کہا ( جو اس حدیث کو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ) جب سے میں نے یہ حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنی، مجھے بھی سرکہ پسند ہے۔
 
ایک سٹیپ کی کمی کے ساتھ سرکہ بنانے کا وہی طریق کار ہے جو کہ شراب بنانے کا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔تاہم سرکہ حلال ’سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ ۔۔۔ ۔اور ۔۔۔ ۔شراب کے تمام فوائد بھی سرکہ میں موجود ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔علاوہ خمر یا نشہ کے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔بنوں، کوہاٹ اور پشاور کے علاقوں میں گھر گھر سرکہ سازی ہوتی ہے۔۔۔ ۔۔سرکہ کی تیاری کا طریقہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ کچھ اس طرح ہے کہ جس چیز کا سرکہ بنانا ہو، پہلے اس کا رس (جوس) حاصل کرکے پھر اس کو کسی روغنی مٹکے میں ڈال کر زیر زمین اس طرح دبایا جاتا ہے کہ مٹکے کا تمام حصہ زمین کے اندر رہے اور صرف گردن باہر ہو یا پھر کسی ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں سورج کی شعاعیں دیر تک رہیں۔ تقریباً چالیس روز بعد یا پھردو ماہ کے بعد نکال کر استعمال میں لاتے ہیں۔۔۔ ۔۔۔
یہ ایک سٹیپ کیا ہے؟ کیا فروٹ جوس کو چالیس دن دھوپ میں رکھا جائے تو وہ سرکہ ہی بنے گا؟ شراب تو نئی بن جائے گا؟ کیا فروٹ جوس کو سرکہ میں بدلنے کیلئے اُس میں پہلے تھوڑا سا سرکہ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ خمیر ہو جائے جس طرح دہی بنانے کیلئے دودھ میں تھوڑا سا دہی ملاتے ہیں؟ کوئی بھائی مہربانی کر کے اس چیز کو واضح کر دے تاکہ اگر گھر میں خود سرکہ بنانے کی کوشش کی جائے تو کوئی غلطی نہ ہو۔میرے خیال میں اگر شراب بنانے کا طریقہ بھی یہاں لکھ دیا جاتا تو دونوں میں فرق کرنا آسان ہوتا۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اوپر والا طریقہ شراب بنانے کا ہے سرکہ بنانے کا نہیں ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
یہ ایک سٹیپ کیا ہے؟ کیا فروٹ جوس کو چالیس دن دھوپ میں رکھا جائے تو وہ سرکہ ہی بنے گا؟ شراب تو نئی بن جائے گا؟ کیا فروٹ جوس کو سرکہ میں بدلنے کیلئے اُس میں پہلے تھوڑا سا سرکہ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ خمیر ہو جائے جس طرح دہی بنانے کیلئے دودھ میں تھوڑا سا دہی ملاتے ہیں؟ کوئی بھائی مہربانی کر کے اس چیز کو واضح کر دے تاکہ اگر گھر میں خود سرکہ بنانے کی کوشش کی جائے تو کوئی غلطی نہ ہو۔میرے خیال میں اگر شراب بنانے کا طریقہ بھی یہاں لکھ دیا جاتا تو دونوں میں فرق کرنا آسان ہوتا۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اوپر والا طریقہ شراب بنانے کا ہے سرکہ بنانے کا نہیں ۔
محفل پر خوش آمدید اقتداعسکری
 
Top