مذاہب کا تقابلی مطالعہ

قسیم حیدر

محفلین
جی علم تو صرف ان محدثین پر ختم ہو گیا جن کی کتب بھی ان سے ثابت نہیں ہیں۔ یہ ذاتی طور پر کہی سنی باتوں کو آخری لکیر مان لینا ہی سب سے بڑی کم علمی ہے۔ جو مذہب ہے وہ قرآن میں‌ہے اور سنت میں ہے۔ بقیہ مشہور عام کتب روایات، شرعیات کو مذہب کا درجہ دینا ۔ مکمل طور پر اسرئیلیات ہے۔ جن محدثیں کو آپ عالم سمجھتے ہیں وہ کچھ انسانوں کی ذاتی کاوشیں ہیں اور بس۔ یہ کہنا کہ عالم پیدا بند ہوگئے ہیں یا اگلی صدی میں کوئی شخص‌عالم نہ ہوگا، علم کی کمی کی نشانی ہے۔ علم منطقی بحث، باہمی مناظرے، حصول علم اور پرانی غیر منطقی نظریات کو بھولنے اور نئے منطقی نظریات سیکھنے کا نام ہے۔ کسی انسان کو عالم کے درجے پر فائز کرنا، اور اس کی ہر بات کو اللہ و رسول کی بات کے متوازی رکھنا شخصیت پرستی کے علاوہ کچھ نہیں۔ جن کتب کو محدثین سے منسوب کیا جاتا ہے ان کا سراغ‌بھی 16 صدی سے پہلے نہیں ملتا۔ 9 ویں صدی اور 16 ویں صدی کے درمیان قیاس یہ کیا جاتا ہے کہ تمام علم سنے سنائے طریقے سے آگے بڑھا۔ میں 1700 کی ہاتھ سے لکھی ہوئی بخاری کی ایک کتاب دیکھ چکا ہوں، جس کے عربی مندرجات موجودہ کتب سے بہت کم ہیں۔ کسی کے پاس 1600 سے 800ع تک کی بخاری کی کتب ہوں یا لنک ہوتو دیدار کرائے۔ ورنہ یہ سمجھنے میں کوئی باک نہیں کے ان میں سے بیشتر سنی سنائی باتیں ہیں۔ لکھی لکھائی نہیں ۔اور انسانوں‌نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ترتیب دیں۔ اور یقین دلانے کے لئے بیشتر روایات خود لکھیں اور رسول اللہ سے منسوب کیں۔ اسی لئے نہ یہ روایات قرانی احکامات سے مناسبت رکھتی ہیں اور نہ ہی مطابقت۔ قرآن قرض جیسے معاملےکو لکھنے کی ہدائت کرتا ہے۔ اس پر گواہ رکھنے کی۔ گواہوں کے لئے عینی شہادت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور ہمارے ان علماء‌کا یہ عالم ہے کہ صرف زبانی کلامی اور سنی سنائی پر کام چلاتے رہے۔ روایات ہر چھپی ہوئی کتاب ایک دوسری سے تعداد اور متن میں مختلف ہے۔ جن کو اچھی لگتی ہیں استعمال کریں۔

ہمارا آپ کا متفقہ ذریعہ ہے قرآن، اگر آپ کے پاس قرآن سے کوئی شہادت ہے تو دیجئے۔ وہ اس لئے کہ قرآن رسول اللہ کا ذاتی کلام نہیں ہے۔ اور اس پر آپ ہم دونوں متفق ہیں کہ رسول اللہ شارح قرآن ہیں۔ تو ان کی اس قدر اہم ہدایت کا قرآن میں‌پایا جانا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں بارہا پرانی کتب اور ان کے مندرجات کا حوالہ دیتے ہیں اور وہ حوالہ موجود بھی ہیں۔ ابھی یہاں‌تک ۔ آیات کا حوالہ انشاء اللہ آئیندہ بار۔

والسلام،

کتب احادیث میں تبدیلی کا اعتراض پہلے بھی اٹھایا گیا تھا۔ میں نے اس کے جواب میں لکھا تھا:
احادیث کی اشاعت کیسے ہوئی
قرآنِ کریم کی طرح حدیث کی اشاعت کا بھی یہ انداز نہیں رہا کہ محض کتاب لکھ کر کتب خانے میں سجا دی جاتی ہو۔ امام بخاری نے ہزاروں لوگوں کو اپنی کتاب لفظ بلفظ پڑھائی۔ ہزاروں لوگوں نے ان سے سن کر اس کتاب کو لکھا۔ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے مل جائیں گے جو اس کتاب کی تعلیم کا پورا سلسلہ سند رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ امام بخاری کے شاگرد سے کسی نے یہ کتاب پڑھی، پھر اس نے اسے دوسروں کو پڑھایا اور یہ سلسلہ نسل در نسل آج تک چلا آ رہا ہے۔ حدیث کے کسی طالب علم سے پوچھ لیجیے وہ بتائے گا کہ میں نے یہ کتاب فلاں استاد سے پڑھی، میرے استاد نے فلاں سے اس کا درس لیا تھا اور استاد کے استاد نے فلاں فلاں سے شرفِ تلمذ پایا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ امام بخاری تک جا پہنچتا ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تمام کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ اس لیے ممکن ہے کسی نسخے میں کچھ فرق آ گیا ہو یا کاتب سے کوئی حدیث یا صفحات سہوًا چھوٹ گئے ہوں لیکن ان غلطیوں کو بنیاد بنا کر ساری احادیث کو مشکوک قرار دے دینا انصاف نہیں ہے۔ یہ امر توجہ کے لائق ہے کہ صحیح البخاری کے دو نسخوں میں اگر کسی حدیث کی موجودگی مختلف ہے تو وہی حدیث دوسری کتابوں کے ایسے نسخوں میں مل جاتی ہے جو کم از کم اُس حدیث کی حد تک متفق علیہ ہیں۔
حدیث بمقابلہ تاریخ
حدیث میں تو ہمارے زمانے سے لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا صحابہ کرام یا ائمہ حدیث تک اسناد کا پورا سلسلہ موجود ہے خواہ آپ کے نزدیک مشکوک ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اسی اصول کو دوسری کتابوں پر بھی لاگو کر کے دیکھیے۔ جن قدیم کتابوں کو آپ تاریخ کا سب سے معتبر ذخیرہ سمجھتے ہیں ان کے متعلق آپ کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ جن مصنفین کی طرف وہ منسوب کی گئی ہیں انہی کی لکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جو حالات ان کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ان کے لیے بھی آپ کوئی ایسی سند نہیں رکھتے جن کی بنا پر ان کی صحت کا تعین کیا جا سکے۔ پس اگر حدیث کی کتابوں کی مسلسل اور مستند روایات کو اس آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے تو تاریخ کےپورے ذخیرے کو اس سے بھی زیادہ آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص بلاتکلف کہہ سکتا ہے کہ عباسیوں کا وجود دنیا میں کہیں نہ تھا۔ اموی سلطنت کبھی قائم نہ ہوئی تھی۔ سکندر کا وجود محض ایک افسانہ ہے۔ دنیا میں نپولین اور ہٹلر کبھی ہو کر نہیں گزرے۔غرض تاریخ کے ہر واقعہ کو اس دلیل سے بدرجہا زیادہ قوی دلیل کی بنا پر جھٹلایا جا سکتا ہے جس کی بنا پر آپ کتب احادیث کی صحت کو جھٹلاتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں زمانہ گزشتہ کے حالات کا کوئی ذخیرہ اتنا مستند نہیں ہے جتنا حدیث کا ذخیرہ ہے، اور جب وہ بھی ناقابل اعتبار ہے تو قدیم زمانہ کے متعلق جتنی روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ سب دریابرد کر دینے کے قابل ہیں۔ (سنت کی آئینی حیثیت از سید مودودی رحمہ اللہ)
چند سوالات
اگر یہ سچ ہے کہ کتب احادیث میں تبدیلی کی گئی یا ان میں اہانتِ رسول پر مشتمل مواد شامل کیا گیا تو چند بنیادی سوالات کے جواب عنایت فرما دیں:
1۔ کس کتاب میں کس کس شخص نے کیا کیا تبدیلی کی؟ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلے ہوئے نسخوں کو بدل ڈالنے کے لیے کمال درجے کی مہارت اور بے انتہا وسائل درکار تھے۔ یہ تمام خوبیاں کس شخص میں پیدا ہو گئی تھیں؟ حیرت کی بات ہے کہ ایسے باکمال آدمی کو کوئی جانتا بھی نہ تھا یہاں تک کہ پندرھویں صدی ہجری میں ایک صاحب پر نے امت کو اس کارنامے پر مطلع کیا؟
2۔ یہ تبدیلیاں کس دور میں کی گئیں؟ چین سے عرب تک پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جس نے اس ظلم کی نشاندہی کی ہو یا اس پر صدائے احتجاج بلند کی ہو؟

3۔ تبدیلیاں ایک نسخے میں کی گئیں یا ان تحریری نسخوں کو بھی بدل دیا گیا جو امام بخاری کے شاگردوں نے ان سے براہِ راست نقل کیے تھے اور جو ان کی ذاتی حفاظت میں ہوتے تھے۔
4۔ جن احادیث پر "اسلام کے مجرم" میں اعتراض کیا گیا ہے ان میں کون کون سے حدیثیں ایسی ہیں جن کے بارے میں صحیح البخاری کے نسخوں میں (بقول آپ کے) اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اختلاف تو کسی دوسری روایت کے بارے میں ہو اور اسے متفق علیہ احادیث پر چسپاں کیا جا رہا ہو۔
5۔ یہ کیا بات ہے کہ صحیح البخاری کی جن حدیثوں پر اعتراض ہے وہی حدیثیں دوسرے ائمہ کی کتابوں میں بھی مل جاتی ہے۔ جو مضمون بخارا کے رہنے والے محمد بن اسماعیل بخاری کی کتاب میں ہے وہی بلخ کے امام ترمذی، خراسان کے امام نسائی، سجستان کے ابوداؤد اور نیشاپور کے امام مسلم بن حجاج کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ آخر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے مختلف ملکوں میں جا کر ایک ہی مضمون ان ساری کتابوں میں داخل کر دیا اور تاریخ میں ان کا ذکر تک موجود نہیں ہے؟
8۔ آخری اور اہم سوال، ان ساری معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ جن لوگوں نے ہزاروں محدثین اور لاکھوں علماء کے کام کو بیک جنبشِ قلم منسوخ قرار دے دیا ان کا علمی مرتبہ کیا ہے؟ سند کو "فرسودہ نظام" کہنے والے اپنی سچائی کے ثبوت میں کون سے تاریخی حوالے اپنے پاس رکھتے ہیں جو اس سے مضبوط تر ہوں؟ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اگر سند کی بات رد کی جا سکتی ہے تو تاریخ کا حوالہ اس سے زیادہ آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ امت کا سارا دین ملیامیٹ کر دیا گیا ہو۔ ختم المرسلین کے فرمودات بدل دیے گئے ہوں۔ لیکن عرب سے لے کر چین تک کہیں بے چینی کی لہر نہ اٹھی ہو۔ اس کے پیچھے جو ذہن کام کر رہا تھا اس کا نام کسی کو معلوم نہ ہو سکے، نہ تاریخ کے صفحات میں اس انقلابِ عظیم کا ذکر آ سکے کہ ایک بوند بھی خون کی نہ گری اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے عقیدے بدل گئے، ان کی وہ کتابیں بدل گئیں جن میں ان کے نبی کی سیرت محفوظ تھی۔یا للعجب
ایک خطرناک حربہ
اس قسم کے نظریات اگر کوئی ناواقف مسلمان یا غیر مسلم پڑھ لے تو اس کے دل پر یہ بات نقش ہو جائے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر پچاس برس بھی نہ گزرے ہوں گے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ اور اسلام کے خلاف عام بغاوت کر دی اور وہی لوگ اس بغاوت میں سرغنے بنے جو اسلام کی مذہبی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور جنہیں مذہب اسلام کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے دل میں ایمان کا شائبہ تک نہ تھا۔ انہوں نے اپنی اغراض کے لیے حدیث، فقہ، سنت اور شریعت کے شاندار الفاظ گھڑے اور دنیا کو دھوکا دینے کے لیے وہ باتیں رسول اللہ کی طرف منسوب کیں جو ان کی اور قرآن کی تعلیمات کے بالکل برخلاف تھیں۔ یہ اثر پڑنے کے بعد ہمیں امید نہیں کہ کوئی شخص اسلام کی صداقت کا قائل ہو گا، کیونکہ جس مذہب کے ائمہ اور ممتاز ترین داعیوں کا یہ حال ہو اس کے پیروؤں میں صرف "شبیر احمد" اور ان کے ہم خیال گنتی کے چند آدمیوں کو دیکھ کو کون عقلمند یہ باور کرے گا کہ ایسا مذہب بھی کوئی سچا مذہب ہو سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کے اعتراضات کو دیکھ کر تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کر سکتا ہے کہ آیا اسلام اپنی اصلی شکل میں اس وقت محفوظ ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ جب مسلمانوں کے اسلاف میں پہلی صدی سے لے کر اب تک کوئی گروہ بھی ایسا موجود نہیں رہا جو اپنے نبی کے حالات، اقوال، اور تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک محفوظ رکھتا اور جب اس قوم کے چھوٹے بڑے سب کے سب ایسے بددیانت تھے کہ جو کچھ جی میں آتا تھا گھڑ کر اپنے رسول کی طرف منسوب کر دیتے تھے تو اسلام کی کسی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ عرب میں فی الواقع کوئی رسول مبعوث ہوا تھا، کیا عجب کہ عوام پر گرفت قائم رکھنے کے لیے رسول اور رسالت کا افسانہ گھڑ لیا گیا ہو۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی شک کیا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع کسی رسول پر اترا تھا یا نہیں۔ اور اگر اترا تھا تو اپنی اصلی عبارت میں ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ وہی لوگ ہیں جو یہود و نصٰرٰی اور مجوسیوں کی باتیں لے لے کر رسول کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا نہ شرماتے تھے یا پھر وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تھا اور وہ دم نہ مارتے تھے۔ منکرینِ حدیث نے یہ ایسا حربہ دشمنانِ اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو حدیث کے فراہم کیے ہوئے حربوں سے لاکھ درجہ زیادہ خطرناک ہے، اس سے تو اسلام کی جڑ بنیاد ہی کھود کر پھینک دی جا سکتی ہے۔
کتابتِ حدیث کی تاریخ پر بھی فتنہ انکار حدیث والے تھریڈ تفصیل سے بات ہوئی تھی۔ لیکن ڈھاک کے تین پات۔ جب آپ خود مانتے ہیں کہ ہمارا اختلاف حدیث پر ہے تو بار بار اختلافی معاملات کو اٹھانے کا فائدہ۔
 
جس پر ہمارا اتفاق ہے اس کتاب سے دلیل کیوں‌نہیں‌لائی جاتی، صاحب ، کہ دوسرے مذاہب کی کتب پڑھنا ان کا تقابلی جائزہ منع ہے یا حرام ہے۔ حدیث و قرآن کی بحث سے باہر کیوں‌نہیں نکلتے؟‌ کسی روایت کو حدیث رسول قرار دینا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ کسی ناقص العلم سے اس ذمہ داری اٹھانے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس سلسلے میں ، میں اپنی واضح‌رائے کا اظہار مودودی صاحب کے الفاظ میں کرچکا ہوں۔ اس لئے کسی بھی بحث سے معذور ہوں۔ آپ کا بیان میرے بیان کی تصدیق کرتاہے کہ موجودہ سلسہ کتب روایات سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے۔ تو پھر بحث کیسی؟ کسی کا ان روایات پر کامل ایمان ہے، اس کو مبارک- ان روایات کو اسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہوں جس نکتہ نظر سے جناب مودودی صاحب اور بہت سے دوسرے حضرات دیکھتے رہے ہیں۔
دوبارہ عرض‌ہے کہ مذہب کے تقابلی جائزے کے موضوع کو مد نظر رکھئے۔ حدیث و قرآن کی بحث کا کھیل اگر آپ کو مزا دیتا ہے تو کوئی دوسرا ساتھی ڈھونڈ لیجئے اس کھیل کے لئے۔
والسلام،
 
صاحبو،
حسب وعدہ، تورات، زبور و انجیل سے متعلق آیات نقل کر رہا ہوں۔ بناء‌ تبصرہ، ان کتب کے بارے میں اپنا خیال اسی تھریڈ میں عرض‌کر چکا ہوں کہ موجودہ حالت میں یہ انسانی کاوشیں زیادہ لگتی ہیں۔ اپنے طور پر غور کرلیجئے کہ مذہبی تقابلی جائزہ کے لئے ان کتب کو دیکھنے کی حد تک پڑھنا مناسب ہے یا غیر مناسب؟ جو الفاظ بریکٹ‌میں ہیں وہ مترجم کے اپنے الفاظ‌ہیں۔

[ayah]5:32[/ayah] اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

[ayah]5:43[/ayah] اور یہ لوگ آپ کو کیوں کر حاکم مان سکتے ہیں در آنحالیکہ ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں اللہ کا حکم (مذکور) ہے، پھر یہ اس کے بعد (بھی حق سے) رُوگردانی کرتے ہیں، اور وہ لوگ (بالکل) ایمان لانے والے نہیں ہیں

[ayah]5:44[/ayah] بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں

[ayah]5:45[/ayah] اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے عوض آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے عوض کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں (بھی) بدلہ ہے، تو جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (یعنی معاف) کر دے تو یہ اس (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہوگا، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیں

[ayah]5:46[/ayah] اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے پیچھے ان (ہی) کے نقوشِ قدم پر عیسٰی ابن مریم (علیھما السلام) کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور (یہ انجیل بھی) اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی (تھی) اور (سراسر) ہدایت تھی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت تھی

[ayah]5:47[/ayah] اور اہلِ انجیل کو (بھی) اس (حکم) کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیں

[ayah]5:48[/ayah] اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے

[ayah]5:49[/ayah] اور (اے حبیب! ہم نے یہ حکم کیا ہے کہ) آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں

[ayah]3:3[/ayah] (اے حبیب!) اسی نے (یہ) کتاب آپ پر حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے (یہ) ان (سب کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے اتری ہیں اور اسی نے تورات اور انجیل نازل فرمائی ہے

[ayah]3:50[/ayah] اور میں اپنے سے پہلے اتری ہوئی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور یہ اس لئے کہ تمہاری خاطر بعض ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، سو اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کر لو

[ayah]3:65[/ayah] اے اہلِ کتاب! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو (یعنی انہیں یہودی یا نصرانی کیوں ٹھہراتے ہو) حالانکہ تورات اور انجیل (جن پر تمہارے دونوں مذہبوں کی بنیاد ہے) تو نازل ہی ان کے بعد کی گئی تھیں، کیا تم (اتنی بھی) عقل نہیں رکھتے

[ayah][3:93[/ayah] تورات کے اترنے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے ہر کھانے کی چیز حلال تھی سوائے ان (چیزوں) کے جو یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، فرما دیں: تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو

[ayah]5:66[/ayah] اور اگر وہ لوگ تورات اور انجیل اور جو کچھ (مزید) ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا تھا (نافذ اور) قائم کردیتے تو (انہیں مالی وسائل کی اس قدر وسعت عطا ہوجاتی کہ) وہ اپنے اوپر سے (بھی) اور اپنے پاؤں کے نیچے سے (بھی) کھاتے (مگر رزق ختم نہ ہوتا)۔ ان میں سے ایک گروہ میانہ رَو (یعنی اعتدال پسند ہے)، اور ان میں سے اکثر لوگ جو کچھ کررہے ہیں نہایت ہی برا ہے

[ayah]5:68[/ayah] فرما دیجئے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سرکشی اور کفر میں بڑھا دے گی، سو آپ گروہِ کفار (کی حالت) پر افسوس نہ کیا کریں

[ayah]7:157[/ayah] (یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمّی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر مِن جانبِ اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) جن (کے اوصاف و کمالات) کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور ان سے ان کے بارِگراں اور طوقِ (قیود) جو ان پر (نافرمانیوں کے باعث مسلّط) تھے، ساقط فرماتے (اور انہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں۔ پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نورِ (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں

[ayah]9:111[/ayah] بیشک اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید لئے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، سو وہ (حق کی خاطر) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کئے جاتے ہیں۔ (اﷲ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اﷲ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہے

[ayah]48:29[/ayah] محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے ہوئے، سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ (صرف) اﷲ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں۔ اُن کی نشانی اُن کے چہروں پر سجدوں کا اثر ہے (جو بصورتِ نور نمایاں ہے)۔ ان کے یہ اوصاف تورات میں (بھی مذکور) ہیں اور ان کے (یہی) اوصاف انجیل میں (بھی مرقوم) ہیں۔ وہ (صحابہ ہمارے محبوبِ مکرّم کی) کھیتی کی طرح ہیں جس نے (سب سے پہلے) اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقتور اور مضبوط کیا، پھر وہ موٹی اور دبیز ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی (اور جب سرسبز و شاداب ہو کر لہلہائی تو) کاشتکاروں کو کیا ہی اچھی لگنے لگی (اﷲ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو اسی طرح ایمان کے تناور درخت بنایا ہے) تاکہ اِن کے ذریعے وہ (محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جلنے والے) کافروں کے دل جلائے، اﷲ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے

[ayah]61:6[/ayah] اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، پھر جب وہ (رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واضح نشانیاں لے کر اُن کے پاس تشریف لے آئے تو وہ کہنے لگے: یہ تو کھلا جادو ہے

[ayah]62:5[/ayah] اُن لوگوں کا حال جن پر تورات (کے احکام و تعلیمات) کا بوجھ ڈالا گیا پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا (یعنی اس میں اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر موجود تھا مگر وہ اِن پر ایمان نہ لائے) گدھے کی مِثل ہے جو پیٹھ پر بڑی بڑی کتابیں لادے ہوئے ہو، اُن لوگوں کی مثال کیا ہی بُری ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا

[ayah]22:40[/ayah] (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)

[AYAH]21:105[/AYAH] اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے

[ayah]5:69[/ayah] بیشک (خود کو) مسلمان (کہنے والے) اور یہودی اور صابی (یعنی ستارہ پرست) اور نصرانی جو بھی (سچے دل سے تعلیماتِ محمدی کے مطابق) اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

[ayah]2:62[/ayah] بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے

والسلام،
 

باذوق

محفلین
باذوق انکل ۔۔

يہي تو ميں بھي کہہ رہا ہوں کہ بخاري کي حديث ۔۔ دارمي کي اس حديث کي ناسخ ہے ۔۔
کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں‌ گے کہ درج بالا جملے میں ، یہ "مَیں" کون ہے؟
دنیائے علومِ حدیث‌ میں اس "مَیں" کا کیا تعارف ہے ؟؟ :confused: :rolleyes: :eek:
 

باذوق

محفلین
ہمارا آپ کا متفقہ ذریعہ ہے قرآن، اگر آپ کے پاس قرآن سے کوئی شہادت ہے تو دیجئے۔ وہ اس لئے کہ قرآن رسول اللہ کا ذاتی کلام نہیں ہے۔ اور اس پر آپ ہم دونوں متفق ہیں کہ رسول اللہ شارح قرآن ہیں۔ تو ان کی اس قدر اہم ہدایت کا قرآن میں‌پایا جانا بہت ضروری ہے۔
محبی محترم
ایسا بچکانہ تجزیہ / مطالبہ آپ جیسے ماہر اہلِ قرآن کو زیب نہیں دیتا !!
ذرا ہم کو بتائیے کہ : کیا نماز ، زکوٰة اور حج ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی اہم "ہدایات" نہیں ہیں؟ کیا آپ ہمیں صرف اور صرف "قرآن" سے نماز ، زکوٰة اور حج کے مکمل طریقہ کار کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں؟
اگر نہیں کر سکتے تو اپنے ذہنی تعصب کو بالائے طاق رکھ کر کھلے دل سے مان لیجئے کہ :
کسی قدر اہم ہدایت کا قرآن میں ‌پایا جانا بہت ضروری امر "نہیں" ہے !!

جب آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو شارح قرآن سمجھتے ہیں تو یہ بھی مان لیجئے کہ : جو بات قرآن میں نہ ملے وہ صحیح حدیث میں ضرور مل جائے گی !!
 

باذوق

محفلین
۔۔۔۔میں خدانخواستہ امام ابن کثیر کی نیت پر اعتراض نہیں کررہا۔ لیکن ان کی تفہیم یقیناً حرفِ آخر نہیں ہوسکتی۔
میں نے بھی غالباً اب تک ایسا کہیں نہیں لکھا کہ : تفسیر ابنِ کثیر تمام تفاسیر میں حرفِ آخر ہے !
یہ الگ بات ہے کہ اہل علم کے درمیان یہ تفسیر "ام التفاسیر" کا درجہ رکھتی ہے۔
مگر خیر آپ کو "اہلِ علم" کی علمیت سے کیا مطلب؟؟ آپ کو تو غالباً اس شرح سے ازحد دلچسپی ہے جو آپ یا آپ کے دیگر احباب کسی فورم کی بیٹھک میں اپنی عقلِ عظیم سے پیش فرمائیں۔
کسی جگہ تو آپ نے متضاد سوچ کا الزام "کسی" اور پر لگایا تھا ، اب ذرا اپنا یہ پرانا جواب بھی یاد کرلیں :
میں یہ نہیں مان سکتا کہ اتنے بڑے اولیاء اللہ جن کی بدولت اسلام کی اشاعت و تبلیغ ہوئی وہ دین کے اصول و شرائط ہی سے بے گانہ تھے۔
سوال یہ ہے کہ جب "اولیاء اللہ" آپ کے نزدیک اتنا بڑا درجہ رکھتے ہیں تو آپ کے نزدیک کسی محدث یا مفسر کی کوئی اہمیت نہیں ؟ اور اس کے مقابلے میں آپ محض اپنے فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں؟؟
چلئے مانا کہ آپ کو ابن کثیر کی تفسیر سے اختلاف ہے ۔۔۔ لیکن اس کے مقابلے میں آپ کسی دوسرے معروف مفسر کی تفسیر تو پیش فرمائیں جو کوئی دوسرا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوں۔
ہم بھلا کیسے آپ کی مجہول (مجہول سے مراد یہاں : علمِ حدیث کے معنوں میں "غیر معروف" ہے) شخصیت کو ابن کثیر کی علمیت کے برابر قرار دے لیں؟؟

اور یہ بھی آپ ہی نے لکھا تھا :
پہلے بھی کہیں عرض کیا تھا کہ احادیث‌کے متعلق ناسخ و منسوخ کا ایک بہت اہم مرحلہ ہوتا ہے جو اکابرین نے بڑی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے۔
اور جب کوئی باذوق ، کسی حدیث کی شرح ، شارحین کے حوالے سے بیان کرتا ہے تو آپ اسے فرماتے ہیں :
صرف ایک حدیث پکڑ کر حلت اور حرمت کی ریت اچھی نہیں بھائی۔
اور دوسری طرف کوئی حسن نظامی صاحب ، کسی حدیث کو اپنی طرف سے ناسخ قرار دیتے ہیں تو آپ کا قلم وہاں خاموش رہ جاتا ہے؟؟؟ یہ کون سا انصاف ہے برادر ؟؟
 

باذوق

محفلین
دونوں‌ احادیث میں جمع و تطبیق

قارئین !
میں اب آخری بات اس بحث کے ضمن میں کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
سچ پوچھئے تو جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ مخالفین ہی کے قلم سے بہت پہلے سامنے آ چکی ہے۔ مگر یہ ہم مسلمانوں کا المیہ ہے کہ متعصبانہ روش کے تحت غور و فکر سے ہم احتراز کرتے ہیں ! افسوس !!

اگر آپ یہ دھاگہ شروع سے پڑھیں ، بالخصوص شروعات کی میری چند پوسٹس تو آپ کو بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ : باذوق نے کوئی "حکم" نہیں لگایا ہے کہ اسرائیلیات کا مطالعہ قطعاً ممنوع ہے !

الدرامی کی ایک حدیث پیش کی گئی تھی جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے تورات کے مطالعے پر ناگواری کا اظہار کیا اور ان کو "تنبیہ" کی۔

اب اس کے مقابلے میں جو دوسری حدیث تھی (یعنی : صحیح بخاری کی) اس کا ذکر بھی میں نے کر دیا تھا اُسی پوسٹ میں۔
حسن نظامی صاحب نے فتح الباری کے حوالے سے اس کی شرح یوں پیش کی :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ﴿وحدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج ﴾ یعنی تم پر کوئی تنگی نہیں ہے ان سے روایت کے بیان کرنے میں یہ اس وجہ سے ہے کہ اس سے پہلے ان سے روایات لینے پر اور ان کی کتابوں کو پڑھنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زجر فرمائی تھی اور یہ نہی احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ کے استقرار سے بیشتر فتنہ کے خوف سے فرمائی تھی پھر جب محزود زائل ہو گیا تو اجازت دے دی گئی جس طرح کے زمانے کے اعتبار سے روایت کے واقع ہونے سے علم ہوتا ہے

پھر حسن نظامی صاحب نے ہی ایک اور پوسٹ میں یوں لکھا :
اس حدیث کی شرح میں صاحب فتح الباری کی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے روایات کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ جب اسلام دلوں میں راسخ نہ ہوا تھا ۔
اور بعد میں اجازت دے دی گئی ۔۔ ظاہر ہے یہ اجازت کسی حکمت کے تحت ہی دی گئ ہو گی ۔

پھر اسی حدیثِ بخاری کی ایک دوسری شرح "تیسیر الباری" (مولانا وحید الزماں) سے یہ شرح بھی نقل فرمائی :
شروع شروع میں آپ نے اس سے منع فرما دیا تھا جب اسلام دلوں میں خوب جما نہ تھا اس کے بعد اجازت دے دی مگر اجازت انہی باتوں سے متعلق ہے جو قرآن اور حدیث کے خلاف نہ ہوں ۔۔

یہ تینوں اقتباسات کو ذرا غور سے پڑھئے اور پھر اس دھاگے کی شروعات میں موجود میری ایک پوسٹ کا درج ذیل اقتباس دیکھئے :
صحابہ نے اگر دیگر کتبِ الہامی سے مثالیں دی تھیں تو ان کے درمیان رحمة العالمین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شخصیت اور آپ (ص) کی تعلیمات کے اصل اثرات موجود تھے۔ کیا آج ہم میں سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہی فہم ہمیں بھی حاصل ہے جو صحابہ کو میسر تھا؟

خود صاحبِ فتح الباری کا اقرار ہے کہ : پہلے اسرائیلیات کا بیان ممنوع تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اجازت دی تو صرف اسی وقت جب
احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ پر صحابہ کو استقرار آ گیا !!

یعنی بقول وحید الزمان :
جب اسلام دلوں میں خوب جم گیا تو اسرائیلیات کے بیان کی اجازت دے ڈالی۔

اور بالکل یہی بات باذوق کہہ رہا ہے قارئین !!
ذرا بتائیے کہ آپ میں سے کون ہے جو دعویٰ کرے کہ اس کے دل میں اسلام جم گیا ہے یا وہ احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ سے مکمل واقف ہو چکا ہے؟؟
اگر آپ ایسا دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں تو پھر یقیناً یہ حدیث آپ کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ کے لیے الدارمی کی وہ "حسن" حدیث ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے توریت (اسرائیلیات) کو پڑھنے پر ناراضگی اور تنبیہ فرمائی ہے۔
میری اس بات کی تائید خود حسن نظامی ہی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے :
ظاہر ہے یہ اجازت کسی حکمت کے تحت ہی دی گئ ہو گی ۔

"احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ پر استقرار" ہی وہ شرط (حکمت) ہے جس کے تحت یہ اجازت آپ کو حاصل ہوگی۔
شارحینِ حدیث (ابن حجر عسقلانی ، نواب وحیدالزماں) کی شرح کا یہی مطلب ہے۔
یہ بات بھی نہیں کہ اس حدیث کا یہی ایک مطلب صرف عسقلانی یا وحیدالزماں نے ہی نکالا ہو ، بلکہ دیگر علماء سے بھی یہی مطلب منقول ہے۔ جیسا کہ "معارف القرآن" کے مقدمے میں مولانا تقی عثمانی نے اور "شرح فیض الباری" میں مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے۔

اب ہم بےشک کہہ سکتے ہیں کہ درج بالا شارحین کے مطلب کو قبول کرنے کے ہم پابند نہیں ہیں۔
تو جناب عالی !
اس حدیث کی کوئی مختلف شرح آپ کی نظر میں ہو تو محدثین اور کتبِ شرح کے حوالے سے یہاں بیان فرمائیں۔
ہاں ، آپ کی اپنی عقلی تُک بندیاں ہرگز ہرگز بھی قبول نہیں کی جائیں گی کہ علومِ حدیث کے میدان میں ہم میں سے (بشمول راقم الحروف) کسی کا نام "معروف" نہیں ہے !!
دنیا کے کسی بھی علم کا کوئی فارمولہ جاننا ہو تو اس کے ماہر سے یا ماہرین کی کتب سے رابطہ کیا جاتا ہے ۔۔۔ تو حدیث کے معاملے میں بھی ہم ایسا مطالبہ آپ سے کیونکر نہ کریں ؟؟

وما علینا الا البلاغ
 

فرید احمد

محفلین
جی علم تو صرف ان محدثین پر ختم ہو گیا جن کی کتب بھی ان سے ثابت نہیں ہیں۔ یہ ذاتی طور پر کہی سنی باتوں کو آخری لکیر مان لینا ہی سب سے بڑی کم علمی ہے۔ جو مذہب ہے وہ قرآن میں‌ہے اور سنت میں ہے۔ بقیہ مشہور عام کتب روایات، شرعیات کو مذہب کا درجہ دینا ۔ مکمل طور پر اسرئیلیات ہے۔ جن محدثیں کو آپ عالم سمجھتے ہیں وہ کچھ انسانوں کی ذاتی کاوشیں ہیں اور بس۔
شاید فاروق صاحب دو بارہ حقانیت حدیث کی بحث چھیڑنا چاہتے ہیں ، انہوں نے سنت کا نام لینا شروع کیا ہے ، وہ کیا ہے ، کیسے ثابت ہے ؟ ذرا بتائیں ؟
 

قسیم حیدر

محفلین
کسی کا ان روایات پر کامل ایمان ہے، اس کو مبارک- والسلام،
الحمدللہ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحیح روایات پر کامل ایمان ہے۔
حدیث و قرآن کی بحث کا کھیل اگر آپ کو مزا دیتا ہے تو کوئی دوسرا ساتھی ڈھونڈ لیجئے اس کھیل کے لئے۔
مذاہب کے تقابلی جائزے میں کتب سابقہ کی آڑ میں حدیث کا تذکرہ کس نے چھیڑا تھا۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ گستاخی معاف، قرآن و حدیث آپ کے لیے شاید کھیل ہو، ہمارے تو ایمان کا حصہ ہے اور جہاں بھی اس پر اعتراض کیا جائے گا اللہ کی توفیق سے اس کا جواب دینے کو حاضر ہوں گے۔
بہت شکریہ کہ آپ نے اس تھریڈ پر دوبارہ حدیث کی بحث چھیڑنے سے گریز کیا اور خود کو معذور سمجھا۔
 
الحمدللہ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحیح روایات پر کامل ایمان ہے۔

من و تو:
شکر الحمد للہ، (انتہائی نیک نیتی سے) کم از کم ہم اور آپ روایات کے صحیح اور غیرصحیح پر تو متفق ہوئے۔ جو روایات صحیح کے زمرے میں نہیں‌آتی ہیں ان کے بارے میں احتیاط برتنے میں کیا برائی ہے؟ ( بقایا ذاتی تبصرہ حسب دستور درگزر کررہا ہوں )

مذہبی کتب کا باہمی مقابلہ:
کتب روایات اور سابقہ الہامی کتب کی قدر مشترک ہے، کسی باقاعدہ معیار کی کمی، ان میں‌جملوں کی کمی اور بیشی مشترک ہے۔ آج موجودہ حالت میں سابقہ الہامی کتب یعنی توراۃ‌، زبور و انجیل میں مزید قدر مشترک یہ ہے کہ ان کتب کو اس احتیاط سے نہیں رکھا گیا، جن کی یہ کتب مستحق تھیں۔ یہ وہ اہم نکتہ ہے جو ان کتب کی صحت و افادیت کو سوالیہ بنا دیتا ہے۔ تورات، زبور و انجیل کے ایسے ورژن بہت آسانی سے مل جاتے ہیں جہاں‌ایک ہی جملے کے مختلف نمبر ہیں یا ایک ہی نمبر کے نیچے تحریر مختلف ہے۔ یہ وجہ کسی بھی کتاب میں تبدیلیوں کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ ابتدائی ترتیب سے انتہائی ترتیب تک جو بھی کتب اپنے اندر پائی جانے والی تبدیلیوں کی شہادت رکھتی ہو، باعتبار قرار پانے کی مستحق قرار نہیں پاتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سابقہ الہامی کتب کی یہی قدر کتب روایات میں‌بھی مشترک ہے۔ یہ وجہ تھی ان کے تذکرہ کی۔ مثلاَ ایک ہی روایت بخاری کی کتاب میں، سعودی عرب میں کسی نمبر کے تحت، ہندو پاک میں کسی نمبر کے تحت اور مصروشام و لبنانی کتب روایات میں کسی اور نمبر کے تحت ملتی ہیں۔ ایک ہی روایت کے الفاظ مختلف ہیں، ایک ہی کتاب کے مختلف ایڈیشنز میں روایات کی تعداد مختلف ہے۔ اور درست، صحیح اور ضعیف کی ایک نا ختم ہونے والی بحث ہے۔ یہی معاملہ سابقہ الہامی کتب کے ساتھ ہے کہ ایک ہی نمبر کی آیت کا متن مختلف ہے، اور نمبر مختلف ہیں۔ اور تو اور مقدس انجیل کے کچھ ورژن ایسے ہیں کے خود یہود و نصاری کو قبول نہیں۔ یعنی قابل قبول اور ناقابل قبول کی بحث کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔ (یہ سلسلہ یقیناَ‌ فاروق، قسیم اور باذوق نے شروع نہیں کیا) کچھ ایسا ہی سلسلہ کتب روایات کے ساتھ ہے کہ کوئی ان کو الہامی کتب نہیں کہتا اور باقاعدہ مرتبہ و ترتیب کی کمی کا شکار رہی ہیں۔ بہت سے لوگ مختلف ورژن قابل قبول پاتے ہیں باقی ناقابل قبول۔ یہ سلسلہ قرآن کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ ایک مستقل کتاب ثابت ہے۔ اور کوئی بھی تبدیلی آج تک ٹہر نہیں پائی ہے۔ اس مستقل صحیح ہونے کے یہ علامت بذات خود ایک معجزہ ہے۔ مسلمان فخریہ طور پر اس کو اللہ تعالی کا کلام قبول کرتے ہیں اور بقایا تمام مذہبی کتب کو قرآن حکیم سے پرکھتے ہیں۔

سابقہ الہامی کتب کو یہ ذہن میں رکھ کر پڑھنا ناقابل قبول نہیں کہ یہ پیغمبران اسلام کے الفاظ کو محفوظ رکھنے کی انسانی کاوش ہے اور امتداد زمانہ کے علاوہ 'نظریہ ضرورت' کے تحت وجود میں آنی والی اختلافی آراؤں سے پر ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہی سابقہ الہامی کتب اپنی موجودہ حالت میں بنی نوع انسانی کے ایک وسیع وعریض طبقے کی کردار سازی اور ذہنی سوچوں کی تعمیر میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہذا یہ جاننا کہ وہ قومیں کس طرح سوچتی ہیں، ضروری ہے۔ ان سابقہ الہامی کتب کے پیروکاروں نے اسلام و مسلمان کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے اسرائیلیات کو کتب روایات میں شامل کیا، اس بارے میں بہت سے بیانات تاریخی حوالوں سے پڑھے جاسکتے ہیں۔ ان ہی بنیادوں پر اسلامی روایات کے صحیح و ضعیف کی بحث شروع ہوئی۔ کتب اسرائیلیات کے پڑھنے کا ایک فائیدہ یہ بھی ہے کہ وہ روایات جو صرف اسرائیلیات میں پائی جاتی ہیں سامنے آجاتی ہیں۔ لیکن یہ فائیدہ صرف اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب کے قرآن کو باقاعدہ اور بامعنی پڑھا جائے۔

والسلام،
 

باذوق

محفلین
من و تو:
شکر الحمد للہ، (انتہائی نیک نیتی سے) کم از کم ہم اور آپ روایات کے صحیح اور غیرصحیح پر تو متفق ہوئے۔ جو روایات صحیح کے زمرے میں نہیں‌آتی ہیں ان کے بارے میں احتیاط برتنے میں کیا برائی ہے؟ ( بقایا ذاتی تبصرہ حسب دستور درگزر کررہا ہوں )
جناب عالی ! آخر کیوں آپ بچپنے جیسی باتیں کر جاتے ہیں بعض اوقات ؟؟
یہ تو دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ مسلمانوں کے نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب جو بھی "روایات" ہیں اس میں غیر صحیح کی بھی ملاوٹ ہے۔ اس میں بھلا متفق ہونے کی کیا بات ؟
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے میں کہوں : میرے گھر کی کھڑکی سے عین صبح سات بجے سورج طلوع ہوتا ہے اور دوسرے محلے میں بیٹھا میرا دشمن بھی یہی کہے کہ : میرے گھر کی کھڑکی سے بھی عین صبح سات بجے سورج طلوع ہوتا ہے ، چلو کم از کم ہم اور آپ اس بات پر تو متفق ہوئے کہ ہمارے اور آپ کے پاس صبح سات بجے سورج طلوع ہوتا ہے !!
بتائیے یہ کوئی منطق ہوئی ؟؟
معلوم نہیں ہمارے محبی محترم ایسی بوکھلاہٹوں کا شکار کیوں رہتے ہیں ہر دم ؟؟

جنابِ محترم ، خوب سن رکھئے کہ "اتفاق" ، درج بالا یونیورسل فیکٹ پر نہیں بلکہ ، بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث کی جن احادیث کو معروف محدثین کے اجماع کے تحت ہم "صحیح" مانتے ہیں ، ان تمام کو آپ بھی "صحیح" مانتے ہیں یا نہیں ۔۔۔ اس پر ہو سکتا ہے !!
ورنہ ہمارا اور آپ کا تو دن اور رات جیسا اختلاف ہے اور رہے گا۔
صحیح اور غیرصحیح میں فرق کرنے کے لیے ہم اسی میدان کے ماہر "محدثین" کی اجماعی تحقیقات کو ماننے کے پابند ہیں ، کسی مجہول شخصیت شبیر احمد کی انفرادی کوششوں کو نہیں۔
 
جنابِ محترم ، خوب سن رکھئے کہ "اتفاق" ، درج بالا یونیورسل فیکٹ پر نہیں بلکہ ، بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث کی جن احادیث کو معروف محدثین کے اجماع کے تحت ہم "صحیح" مانتے ہیں ، ان تمام کو آپ بھی "صحیح" مانتے ہیں یا نہیں ۔۔۔ اس پر ہو سکتا ہے !!
ورنہ ہمارا اور آپ کا تو دن اور رات جیسا اختلاف ہے اور رہے گا۔
صحیح اور غیرصحیح میں فرق کرنے کے لیے ہم اسی میدان کے ماہر "محدثین" کی اجماعی تحقیقات کو ماننے کے پابند ہیں ، کسی مجہول شخصیت شبیر احمد کی انفرادی کوششوں کو نہیں۔
افسوس اس امر کا ہے کہ اس صحیح اور غیر صحیح کی بحث تو آپ کی اور باقی سب کی کب سے جاری ہے، اور پتہ نہیں کب تک جاری رہے گی۔ جب یہ بحث‌مکمل ہو جائے تو بتا دیجئے گا۔ جب سب روایات کے ایک سیٹ پر متفق ہوجائیں تو مجھ ناچیز کی رائے کیا اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں کوئی صاحب مجھ سے اسی نکتہ پر الجھے تھے کہ کچھ بھی غیر صحیح کے زمرے میں نہیں‌ہے، شاید بھول گئے۔ اچھا ہے۔ میں‌بھی بھول جاتا ہوں۔ کہ جب تک اس امر کا کوئی متفقہ فیصلہ امت اسلامیہ میں ہو، میں بن باز کے اس مخطوطہ میں دیے گئے قول رسول صلعم پر کاربند ہوں۔
http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=177947&postcount=13
میرا نکتہ نظر:
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?p=187645#post187645
 

خرم

محفلین
میں نے بھی غالباً اب تک ایسا کہیں نہیں لکھا کہ : تفسیر ابنِ کثیر تمام تفاسیر میں حرفِ آخر ہے !
یہ الگ بات ہے کہ اہل علم کے درمیان یہ تفسیر "ام التفاسیر" کا درجہ رکھتی ہے۔
مگر خیر آپ کو "اہلِ علم" کی علمیت سے کیا مطلب؟؟ آپ کو تو غالباً اس شرح سے ازحد دلچسپی ہے جو آپ یا آپ کے دیگر احباب کسی فورم کی بیٹھک میں اپنی عقلِ عظیم سے پیش فرمائیں۔
کسی جگہ تو آپ نے متضاد سوچ کا الزام "کسی" اور پر لگایا تھا ، اب ذرا اپنا یہ پرانا جواب بھی یاد کرلیں :

سوال یہ ہے کہ جب "اولیاء اللہ" آپ کے نزدیک اتنا بڑا درجہ رکھتے ہیں تو آپ کے نزدیک کسی محدث یا مفسر کی کوئی اہمیت نہیں ؟ اور اس کے مقابلے میں آپ محض اپنے فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں؟؟
چلئے مانا کہ آپ کو ابن کثیر کی تفسیر سے اختلاف ہے ۔۔۔ لیکن اس کے مقابلے میں آپ کسی دوسرے معروف مفسر کی تفسیر تو پیش فرمائیں جو کوئی دوسرا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوں۔
ہم بھلا کیسے آپ کی مجہول (مجہول سے مراد یہاں : علمِ حدیث کے معنوں میں "غیر معروف" ہے) شخصیت کو ابن کثیر کی علمیت کے برابر قرار دے لیں؟؟

اور جب کوئی باذوق ، کسی حدیث کی شرح ، شارحین کے حوالے سے بیان کرتا ہے تو آپ اسے فرماتے ہیں :

اور دوسری طرف کوئی حسن نظامی صاحب ، کسی حدیث کو اپنی طرف سے ناسخ قرار دیتے ہیں تو آپ کا قلم وہاں خاموش رہ جاتا ہے؟؟؟ یہ کون سا انصاف ہے برادر ؟؟

باذوق نے کہا:
اگر آپ یہ دھاگہ شروع سے پڑھیں ، بالخصوص شروعات کی میری چند پوسٹس تو آپ کو بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ : باذوق نے کوئی "حکم" نہیں لگایا ہے کہ اسرائیلیات کا مطالعہ قطعاً ممنوع ہے !
باذوق نے کہا:
برادر محترم قیصرانی ! اس حدیث کو ذرا غور سے پڑھئے اور اس کے مفہوم پر مکرر غور کر کے بتائیے کہ : کیا یہ "تنبیہ" نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے اُن جانثاروں کو نہیں دی جنہیں قرآن السابقون الاولون کا خطاب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔ صرف تورات کے چند جملے پڑھنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے عزیز از جان صحابہ کو گمراہی کی وعید سنا ڈالی تو ہماری آپ کی بات ہی کیا؟
خرم نے کہا:
بھائی بحث‌تو اللہ معاف فرمائے مقصد ہی نہیں ہے۔ میں‌تو صرف یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہر معاملہ میں یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس پر علمائے اکابرین کی کیا رائے ہے کہ ان کا علم ہم سے یقیناً بہت زیادہ تھا اور ان کا اجتہاد ہمارے اجتہاد سے بہتر تھا اور پھر ان میں سے جس کی بات آپ کے جی کو لگتی ہے اسے مان لیجئے کہ حدیثِ نبوی صل اللہ علیہ وسلم تو یہ بھی ہے نا کہ علماء کے اختلاف میں امت کے لئے رحمت ہے۔ (یہاں‌وہ پاکستان اختلاف نہیں علمی اختلاف کی بات ہے جیسا کہ ائمہ کرام کے درمیان تھا اور ہے)۔ تو بس یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ اگر کسی امام یا سچے عالم کی رائے میں یہ ممنوع نہیں ہے تو پھر اس کی حرمت پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔
باذوق نے کہا:
حالانکہ یہ بات طےشدہ ہے کہ شریعتِ اسلامی کے سوا اللہ نے کسی دوسری الہامی کتاب کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا۔ پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کے لیے دینِ اسلام کو پسند کیا اور روزِ قیامت کوئی دوسرا دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیا قرآن کی اتنی مضبوط گواہی ہمارے حق الیقین کا سبب نہیں بن سکتی؟ کیا ہم قرآن کو مہجور بنانا چاہتے ہیں کہ اس کی آیات کی تصدیق تحریف شدہ دیگر الہامی کتب سے ہوگی ؟ حق یا ناحق کا فیصلہ کرنے کے لیے کیا قرآن و حدیث کافی نہیں ہیں؟ کیا راست قرآن و حدیث کی تعلیمات حق کے اظہار کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہیں؟؟
باذوق نے کہا:
آپ فرماتے ہیں کہ : بات عام مسلمان کی نہیں ہو رہی۔ بات علمی نقطۂ نظر کی ہو رہی ہے۔
کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اس قسم کے علمی نقاط نظر نے امتِ مسلمہ کو کیا فائدہ پہنچایا ہے یا اس سے اسلام کی تبلیغ میں کیا آسانیاں پیدا ہوئی ہیں؟
باذوق نے کہا:
بےشک اولیائے کرام اور اکابرین امت کی اہمیت و فضیلت اپنی جگہ ہے لیکن یہ بات تو آپ بھی مانیں گے کہ دین ان کے اقوال و افعال کا نام نہیں ہے ! دین نام ہے اتباعِ قرآن و سنت کا۔ لہذا دینِ خالص کی بات کیجئے تو حوالہ بھی قرآن و حدیث اور اصحابِ خیر القرون کے فہم سے دیجئے گا کہ ان کی تربیت رسول کریم (ص) نے کیسے کی اور اجماعی طور پر خود انہوں نے دین کو کیسے سمجھا؟
باذوق نے کہا:
"احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ پر استقرار" ہی وہ شرط (حکمت) ہے جس کے تحت یہ اجازت آپ کو حاصل ہوگی۔
بالکل درست فرمایا باذوق بھائی اسی لئے عرض کیا تھا کہ
اسی لئے میرا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک آپ خود تقوٰی کے ایک خاص مقام تک نہیں پہنچ جاتے آپ کو وعظ و تبلیغ نہیں کرنا چاہئے کہ آپ کے عقائد کا خام ہونا آپ کے اپنے ایمان کو ہی خراب کر سکتا ہے۔
بھائی میرے خیال میں تو اسلاف نے یہی طریق اختیار کیا تھا۔ آپ ہندوستان میں ہی تبلیغِ دین کا عمل دیکھ لیں کہ کن لوگوں نے اور کیسے سرانجام دیا۔ شیخ سعدی نے تو ہندوؤں کی درسگاہ میں تعلیم تک حاصل کی ان کے عقائد جاننے کے لئے۔ لیکن بات وہی ہے کہ ایک خالصتاً علمی مسئلہ ہے اور یقیناً اس بات کی ہر کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ غیر مسلموں کے مذہب پر تحقیق کرتا پھرے کہ اس سے اپنا ایمان مجروح ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
 

باذوق

محفلین
بالکل درست فرمایا باذوق بھائی اسی لئے عرض کیا تھا کہ
اسی لئے میرا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک آپ خود تقوٰی کے ایک خاص مقام تک نہیں پہنچ جاتے آپ کو وعظ و تبلیغ نہیں کرنا چاہئے کہ آپ کے عقائد کا خام ہونا آپ کے اپنے ایمان کو ہی خراب کر سکتا ہے۔
کیا قرآن و سنت کی تبلیغ کرنے (یعنی وہ تبلیغ جو سلف الصالحین سے ثابت ہو) ۔۔۔
آپ کی نظر میں "اسرائیلیات" بیان کرنے کے مترادف ہے ؟؟؟
حضرت !!
کدھر کی اینٹ کدھر کا روڑا ؟؟
دوسری حدیث میں‌ جو قید ہے ، وہ اسرائیلیات کے حوالے سے ہے۔
اور بالفرض ۔۔۔ اگر آپ میری کم علمی پر اعتراض جڑنا ہی چاہتے ہیں تو ادباَ عرض ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا وہ کوئی ایک پوسٹ‌ بتا دیں‌ جہاں میں‌ نے اپنے "ذاتی اقوال" سے لوگوں‌ کو میرا خود کا "فہم و فراست" اپنانے کی دعوت دی ہو!

"روایت" اور "رائے" میں‌ خاصا فرق ہوتا ہے جناب عالی۔ پہلے آپ اس فرق کو ہی جان لیں تو بہتر ہے۔

اور یہ جو آپ نے لکھا ہے:
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک آپ خود تقوٰی کے ایک خاص مقام تک نہیں پہنچ جاتے آپ کو وعظ و تبلیغ نہیں کرنا چاہئے
اس کی کوئی دلیل قرآن و حدیث‌ سے ؟؟
حالانکہ قرآن و حدیث‌ میں‌ تو اس کا الٹ ہی بیان ہوا ہے !! :)
 

خرم

محفلین
ابھی تو آپ نے لکھا تھا
"احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ پر استقرار" ہی وہ شرط (حکمت) ہے جس کے تحت یہ اجازت آپ کو حاصل ہوگی۔
تبلیغِ دین کی بات تو اضافی تھی۔ اس سے قطعِ نظر فرمالیجئے فی الحال کہ اصل موضوع تو دیگر کتب الٰہی کا مطالعہ و اسرائیلیات تھا اور میرے خیال میں چونکہ اب آپ بھی وہی بات کہہ رہے ہیں جو اس احقر نے اس دھاگہ کے آغاز میں عرض کی تھی لہٰذا اب اس موضوع کو ختم کردیا جائے تو احسن ہوگا کہ ذاتی حملے میرا مقصد نہیں ہیں اور غالباً آپ کا بھی نہیں۔
 

قسیم حیدر

محفلین
من و تو:
شکر الحمد للہ، (انتہائی نیک نیتی سے) کم از کم ہم اور آپ روایات کے صحیح اور غیرصحیح پر تو متفق ہوئے۔ جو روایات صحیح کے زمرے میں نہیں‌آتی ہیں ان کے بارے میں احتیاط برتنے میں کیا برائی ہے؟ ( بقایا ذاتی تبصرہ حسب دستور درگزر کررہا ہوں )

مذہبی کتب کا باہمی مقابلہ:
کتب روایات اور سابقہ الہامی کتب کی قدر مشترک ہے، کسی باقاعدہ معیار کی کمی، ان میں‌جملوں کی کمی اور بیشی مشترک ہے۔ آج موجودہ حالت میں سابقہ الہامی کتب یعنی توراۃ‌، زبور و انجیل میں مزید قدر مشترک یہ ہے کہ ان کتب کو اس احتیاط سے نہیں رکھا گیا، جن کی یہ کتب مستحق تھیں۔ یہ وہ اہم نکتہ ہے جو ان کتب کی صحت و افادیت کو سوالیہ بنا دیتا ہے۔ تورات، زبور و انجیل کے ایسے ورژن بہت آسانی سے مل جاتے ہیں جہاں‌ایک ہی جملے کے مختلف نمبر ہیں یا ایک ہی نمبر کے نیچے تحریر مختلف ہے۔ یہ وجہ کسی بھی کتاب میں تبدیلیوں کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ ابتدائی ترتیب سے انتہائی ترتیب تک جو بھی کتب اپنے اندر پائی جانے والی تبدیلیوں کی شہادت رکھتی ہو، باعتبار قرار پانے کی مستحق قرار نہیں پاتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سابقہ الہامی کتب کی یہی قدر کتب روایات میں‌بھی مشترک ہے۔ یہ وجہ تھی ان کے تذکرہ کی۔ مثلاَ ایک ہی روایت بخاری کی کتاب میں، سعودی عرب میں کسی نمبر کے تحت، ہندو پاک میں کسی نمبر کے تحت اور مصروشام و لبنانی کتب روایات میں کسی اور نمبر کے تحت ملتی ہیں۔ ایک ہی روایت کے الفاظ مختلف ہیں، ایک ہی کتاب کے مختلف ایڈیشنز میں روایات کی تعداد مختلف ہے۔ اور درست، صحیح اور ضعیف کی ایک نا ختم ہونے والی بحث ہے۔ یہی معاملہ سابقہ الہامی کتب کے ساتھ ہے کہ ایک ہی نمبر کی آیت کا متن مختلف ہے، اور نمبر مختلف ہیں۔ اور تو اور مقدس انجیل کے کچھ ورژن ایسے ہیں کے خود یہود و نصاری کو قبول نہیں۔ یعنی قابل قبول اور ناقابل قبول کی بحث کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔ (یہ سلسلہ یقیناَ‌ فاروق، قسیم اور باذوق نے شروع نہیں کیا) کچھ ایسا ہی سلسلہ کتب روایات کے ساتھ ہے کہ کوئی ان کو الہامی کتب نہیں کہتا اور باقاعدہ مرتبہ و ترتیب کی کمی کا شکار رہی ہیں۔ بہت سے لوگ مختلف ورژن قابل قبول پاتے ہیں باقی ناقابل قبول۔ یہ سلسلہ قرآن کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ ایک مستقل کتاب ثابت ہے۔ اور کوئی بھی تبدیلی آج تک ٹہر نہیں پائی ہے۔ اس مستقل صحیح ہونے کے یہ علامت بذات خود ایک معجزہ ہے۔ مسلمان فخریہ طور پر اس کو اللہ تعالی کا کلام قبول کرتے ہیں اور بقایا تمام مذہبی کتب کو قرآن حکیم سے پرکھتے ہیں۔

سابقہ الہامی کتب کو یہ ذہن میں رکھ کر پڑھنا ناقابل قبول نہیں کہ یہ پیغمبران اسلام کے الفاظ کو محفوظ رکھنے کی انسانی کاوش ہے اور امتداد زمانہ کے علاوہ 'نظریہ ضرورت' کے تحت وجود میں آنی والی اختلافی آراؤں سے پر ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہی سابقہ الہامی کتب اپنی موجودہ حالت میں بنی نوع انسانی کے ایک وسیع وعریض طبقے کی کردار سازی اور ذہنی سوچوں کی تعمیر میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہذا یہ جاننا کہ وہ قومیں کس طرح سوچتی ہیں، ضروری ہے۔ ان سابقہ الہامی کتب کے پیروکاروں نے اسلام و مسلمان کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے اسرائیلیات کو کتب روایات میں شامل کیا، اس بارے میں بہت سے بیانات تاریخی حوالوں سے پڑھے جاسکتے ہیں۔ ان ہی بنیادوں پر اسلامی روایات کے صحیح و ضعیف کی بحث شروع ہوئی۔ کتب اسرائیلیات کے پڑھنے کا ایک فائیدہ یہ بھی ہے کہ وہ روایات جو صرف اسرائیلیات میں پائی جاتی ہیں سامنے آجاتی ہیں۔ لیکن یہ فائیدہ صرف اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب کے قرآن کو باقاعدہ اور بامعنی پڑھا جائے۔

والسلام،

سلسلہ زیر بحث میں بار بار مداخلت کرنا اچھا نہیں لگتا لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صحیح اور غیر صحیح پر اب متفق ہونے پر ہم اب متفق نہیں ہوئے۔ شاید آپ بھول گئے ہوں میں نے کتب ستہ کے بارے میں لکھا تھا کہ ان میں صحیح اور ضعیف دونوں قسم کی روایات ہیں۔ جہاں تک کتب احادیث کی نمبرنگ کے فرق کا معاملہ ہے تو اس کی وجہ نمبرنگ سسٹم کا مختلف ہونا ہے۔ صحیح المسلم کی ایک سے زیادہ ترقیم مروج ہیں، ترقیم العالمی اور فواد عبدالباقی کی ترقیم وغیرہ۔ کسی گننے والے نے مضامین کے اعتبار سے نمبرنگ کی تو کسی نے اسناد کو سامنے رکھ کر۔ حدیث کا حوالہ نمبر دیتے وقت بتا دیا جائے کہ کونسی ترقیم استعمال کی گئی ہے تو اسیے شبہات پیدا نہیں ہوتے۔ کتب احادیث کے مروجہ سافٹ ویئرز میں عمومااپنی پسند کا ترقیمی نظام اپنانے کی سہولت ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی آیات کی گنتی کے لیے بھی دو طریقے مروج ہیں، کوفی اور غیر کوفی۔ کوفی طریقے سے آیات کی تعداد چھے ہزار چھے سو سے کچھ اوپر بنتی ہے اور غیر کوفی طریقے سے چھے ہزار دو سو کچھ۔ اپنا مصحف کھولیے، سورۃ الفاتحہ میں انعمت علیھم کے بعد 5 کا نشان کوفی آیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سورۃ قریش میں رب ھذا البیت کے بعد میں کوفی ایک آیت مانتے ہیں۔ لہٰذا نمبرنگ مختلف ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں‌ گے کہ درج بالا جملے میں ، یہ "مَیں" کون ہے؟
دنیائے علومِ حدیث‌ میں اس "مَیں" کا کیا تعارف ہے ؟؟ :confused: :rolleyes: :eek:

جناب يا تو آپ مجھ سے انتہائي بغض رکھتے ہيں يا پھر اپني بات کے علاوہ کسي کي بات سننا آپ کو گوارا ہي نہيں ۔۔

آپ ميري ہر بات کے جواب ميں عجيب و غريب انداز اختيار کرتے ہيں ۔۔

ہر بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کيا ہے
تمہي بتلاو يہ انداز گفتگو کيا ہے

قبلہ يہ ميں ميں نہيں‌ صاحب فتح الباري جناب قبلہ شارح بخاري کہتے ہيں ۔۔

کيا اب وہ اقتباس ميں دوبارہ آپ کے سامنے پيش‌ کرو ۔۔

جو اسي دھاگے ميں‌ پہلے کئي بار بارگاہ بے نياز ميں‌ پيش‌کر چکا ہوں ۔۔

ليکن افسوس آپ تعصب کي پٹي اپني آنکھوں سے اتارتے ہي نہيں ۔۔

پھر ميں نے جناب کے سامنے شارح‌ ترمذي کے اقوال بھي رکھے تھے ۔۔ ليکن ان کي تو آپ کے نزديک چنداں اہميت نہيں کيونکہ انہيں‌ حسن نے پوسٹ کيا ہے ۔۔

حضرت والا گل محمد نہ بنيں اور اتنے دلائل کے سامنے ذرا جنبد فرمائيں ۔۔

چشم پوشي سے کب تک کام چلائيں گے ۔۔ ابن کثير کي بات کوئي نص کا درجہ نہيں رکھتي ۔۔

مجالد کے بارے ميں تو ابھي تک آپ بالکل خاموش ہيں کہ وہ کون سے مجالد ہيں ۔۔

بس ہر کسي کو ٹکر مارے جا رہے ہيں ذرا ہوش کيجيے حضرت اور دوبارہ سے اس دھاگے کا مطالعہ کيجيے ۔۔ ليکن ايک بات ! کہ :cool: نہ کيجيے گا بلکہ :eek: کيجيے گا تاکہ کچھ نظر آئے ۔۔

اور يہ ميں‌ ميں بھي نہ کريں ۔۔۔ کيوں کہ ميں بکري نہيں ہوں ۔۔:(
 

حسن نظامی

لائبریرین
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک آپ خود تقوٰی کے ایک خاص مقام تک نہیں پہنچ جاتے آپ کو وعظ و تبلیغ نہیں کرنا چاہئے

حضرت آپ کے ماننے پر قربان جائيں ۔۔

ويسے آپ کو مسئلہ کيا ہے انوکھا ماننے اور نرالا منوانے کا شوق تو نہيں ۔۔۔:);):grin:
 

حسن نظامی

لائبریرین
جناب عالی ! آخر کیوں آپ بچپنے جیسی باتیں کر جاتے ہیں بعض اوقات ؟؟

باذوق انکل ويسے آپ ہر کسي کو بچہ بنانے پر کيوں‌تلے ہوئے ہيں چليں ميري بات تو سمجھ ميں‌ آتي ہے فاروق صاحب کو بھي ۔۔:eek:

ويسے حقيقتا (سنجيدگي سے) آپ کي عمر کيا ہے ؟
 
Top