مختلف کتابوں سے پسندیدہ اقتباس

ناعمہ عزیز

لائبریرین
مایوسی کو اپنے وجود میں کوئی مقام نہیں دینا چاہئیے ۔ ہم یقیناً کامیاب ہو سکتے ہیں اور حالات پر فتح حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہماری پوشیدہ قوت ہماری ظاہری کمزوری سے کہیں زیادہ ہے ۔ صرف ہمیں اس کا احساس نہیں ہے ۔ جلدی سے متاثر ہو جانا زندگی کی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ ایک آزاد اور کھلا ذہن نہ تو اخباری سرخیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی ان سے مجروح ہوتا ہے ۔ ایک ظالم اور خوفناک چہرہ ، منصوبے میں اچانک تبدیلی ، کوئی نقصان یا دھمکی دینے والا معاشرہ یہ سب بند ذہنوں پر کار گر ہوتے ہیں ۔​
عمل میں رکنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان عوامی اعلان کے فریب اور واہموں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے ۔ سچ وہ ہے جو " ہے " وہ نہیں جو کروڑوں عوام سوچتے ہیں کہ یہ سچ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الفاظ اور لیبل اور سلوگن اڑچنیں ضرور نظر آتے ہیں لیکن وہ بہت ہی کمزور ہوتے ہیں ۔ اپنی ذات سے لیبلوں کو کھرچ کر پرے پھینکو پھر تم آزاد ہو ۔​
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 527
 

نیلم

محفلین
اور وہ جدا ہونے سے پہلے اپنی زندگی کے اثاثے بانٹ رہے تھے سب سے پہلے انہوں نے ہنسی آدھی آدھی بانٹ لی ۔تو وہ بولی
“تم اپنے حصے کی ہنسی کا کیا کرو گے “
“یتیم خانے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دے دونگا“
اس نے جواب دیا ۔ وہ بڑی فراخ دل نکلی اور جب اداسی بانٹنے کا وقت آیا تو کہنے لگی “میں اس میں سے کچھ نہیں لیتی ساری اداسی تم رکھ لو “
اس طرح اس نے سارا سفر ، سارا انتظار، خزاں کے سارے موسم ، سردیوں کی تنہا شامیں اسے دے دیں اور کہنے لگی
“آج تو تمہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں کنجوس نہیں ہوں “
وہ بہت خوش ہوا اور بولا “وہ دوپہر بھی ساری مجھے دے دو جب ہم پہلی بار ملے تھے “ وہ مان گئی تو س نے وہ دوپہر بھی ، اداسی ، خزاں کے موسموں ، تنہائی اور سفر کے ڈھیر پر رکھ دی ۔
اتنے میں اس نے فراخدلانہ لہجے میں پوچھا “ان سب کا کیا کرو گے “ وہ بڑے مطمئن لہجے میں بولا“اپنی اداسی کو جو حصہ تم نے مھجے دیا ہے اسے زندگی بھر اپنے ساتھ رکھونگا ۔ شامیں بوڑھے لائیبریرین کے نام کر دونگا ، انتظار منڈیر پر رکھے اس دیئے میں ڈال دونگا جسے سرِ شام جلا کر کوئی لڑکی کسی کی چاپ کی منتظر ہو گی ، سارا سفر خط میں ڈال کر پوسٹ کر دونگا ، جنکا محبوب دور ہو گا اور اس سے ملنے کے لیئے بے چین ہو گا “
ریت پر انگلی سے ایک لمبی لکیت کھینچ کر وہ بولی “ سارا ماضی بھی تم رکھ لو“ یکدم خوشی کی ایک لہر اسکے چہرے پر اٹھی اور آنکھوں میں اکر ٹھہر گئی ۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور بولا
“تم نے اپنا سارا ماضی بھی مجھے دیکر بہت اچھا کیا “
“اسکا کیا کرو گے “ اس نے پوچھا
“اسے اوڑھ کر پھرونگا آنے والی گرم تنہا دوپہروں اور سرد شاموں میں ۔۔۔۔ “
وہ مسکرائی “ سارے لفظ بھی تم لے لو “ وہ ممنون سا ہو گیا اور بولا “ میں سارے لفظ بھی پوسٹ مینوں میں بانٹ دوں گا ۔ مگر ہمارے درمیان کچھ گیتوں کی سانجھ بھی ہے “
“ہاں وہ بھی تم لے لو
“ٹھیک ہے“ وہ مطمئن سا ہو گیا
“انکا کیا کرو گے “
“ملاحوں ، ساربانوں اور چرواہوں میں بانٹ دونگا ۔ کسی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والی لڑکی کو دے دونگا “
یونہی وہ کتنی دیر اپنے اثاثے بانٹتے رہے ۔
مظہر الاسلام ۔۔۔ آؤ بچھڑ جائیں (افسانہ،)
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے ، جب آپ اپنا سارا دماغ ساری طاقت ، ساری ترکیبیں اور ساری صلاحیتیں صرف کر چکے ہوتے ہیں اور پانسہ پھینک چکے ہوتے ہیں ۔ اس وقت سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔​
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 434​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
فرمایا کہ شبیہ تیار نہ کرنا ۔ صنم نہ بنانا ۔ بت نہ بنانا ۔ کیونکہ اس کا بت بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔ اس لیے اس کا بت نہ بنانا ، نہ ہی اس کی پوجا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ بتوں کو توڑنا اور بت خانوں کو تباہ کرنا ہماری ڈیوٹی ہے ۔ چونکہ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔ اس لیے جہاں بھی اس کی شکل و صورت بنائی گئی ہے ۔ اس کو ڈھا دینا چاہیے ، تباہ کر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا ان کی عقل ملاحظہ فرمائیں ، فرمایا یہ تھا کہ ظاہر پرستی نہ کرنا ، ظاہر کو نہ اپنانا ، اپنے اندر اترنا ، اپنے وجود کی تلاوت کرنا لیکن ہم نے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ لوگ پتھر کو پوجتے ہیں ، کچھ پتھر کو توڑتے ہیں ۔ دونوں ہی پتھر سے وابستہ ہیں ۔ دونوں ہی پتھر کے گرویدہ ہیں ۔ دونوں ہی اس سے بندھے ہوئے ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 441
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔
لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔​
بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟​
ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔​
آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا ۔
طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔
اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمقوں کی سی بات کرتے ہو ۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا"۔
اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑہ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے ۔
صوفی نے کہا " اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے ۔ تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا "۔
ان سب حکیمون نے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ۔
اگر عام زندگی میں دیکھا جائے تو اور دنیوی سطح پر اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو یقین کی طرف قدم بڑہے گا ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 438​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
کسی شخص نے رزق میں اضافہ کا وظیفہ پوچھا ۔ ارشاد ہوا کہ اگر وظائف پر روزی موقوف ہوتی تو دنیا میں ملاؤں سے زیادہ کوئی امیر نہ ہوتا ۔ لیکن وظیفہ تو اس معاملے میں الٹا اثر کرتا ہے ۔ کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور نامِ خدا ایک صابن ۔ بھلا صابن سے میل کیونکر بڑہ سکتا ہے ۔ تم نے کسی وظیفہ خواں کے گھر پر ہاتھی گھوڑے موٹر گاڑی دیکھی ہے ۔ خدا کا نام تو صرف اس لیے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے۔ نہ اس لیے کہ دنیا میں اور زیادہ آلودہ ہو ۔ پھر اس کو ایک وظیفہ بتلا کر کہا گھر پر پڑھا کرنا خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام ۔ مسجد میں نہ پڑھنا ۔​
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 410​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
ہم لوگوں کی ، اوروں کے چھوٹے چھوٹےعیوب پر نظر ہے ۔ اور اپنے بڑے بڑے عیوب دکھائی نہیں دیتے ۔ اپنے بدن پر سانپ بچھو لٹک رہے ہیں ، ان کی پرواہ نہیں ۔ اور ہم دوسروں کی مکھیاں اڑانے کی فکر میں ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
زمانے نے عجب پلٹا کھایا ہے ۔ پچھلے لوگ چھپ کر عبادت اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
دعا قلندری یہ ہے ! یا اللہ شیطان اور شرارت سے محفوظ رکھیو ۔ رحمت سے محروم نہ رکھیو ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا
 

فلک شیر

محفلین
بابا کے تو ہم شیدائی ہیں اور آپا کا لفظ لفظ روشنی کا نا بجھنے والا چراغ- شیئر کرنے کا بہت شکریہ
نوجوان اشفاق احمد گڈریا کے داؤجی کی داستان رقم کرتا ہے تو اردوادب کو تازگی عطا کرتا ہے اور جب بوڑھا اشفاق احمد
اماں سرداربیگم لکھتاہے تو اردوادب کو بلندیوں پر لے جاتاہے کہ اسکا مقابلہ دنیا کے بڑے سے بڑے افسانے سے کیا جاسکتا ہے
گڈریا.............سبحان اللہ ............دلِ من فدائے راہے، کہ سوار خواہی آمد:redheart:
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
کئی مرتبہ زندگی میں اور زندگی سے زیادہ ایمان کے اندر تضاد نظر آتا ہے ۔۔۔۔ یاد رکھو ایمان ہے ، سائنس نہیں ۔ ایمان ایک موسم میں آگے بڑھتا ہے ، دوسرے میں پورے کا پورا پیچھے چلا جاتا ہے ۔​
ایک وقت میں تم نمازیں پڑھتے ہو ، عبادت کرتے ہو ، پھر ڈھیلے ہو جاتے ہو ۔​
آرام طلبی اختیار کر لیتے ہو ، جھگڑا کرنے لگتے ہو ، منفی ہو جاتے ہو ۔​
جس طرح نیگیٹو اور پازیٹو دونوں تاریں مل کر بجلی کا بلب روشن کرتی ہیں ایسے ہی ایمان ہے ۔ اسی طاقت سے رخ موڑے جاتے ہیں ، پہاڑ کاٹے جاتے ہیں ۔ جب تم رکوع میں جاتے ہو ، سجدے میں جاتے ہو سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہو اور خدا سے اس علم کی بھیک مانگتے ہو کہ مجھے ایمان کے اندر رہ کر حرکت نصیب ہو تو پھر تمہارے سارے تضاد حق بن جاتے ہیں اور ساری تخریبیں تعمیریں ہو جاتی ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
بڑائی اور برتری کی اپنی اپنی قسمیں ہیں ۔ جب ہم بڑائی کا سوچتے ہیں تو کچھ حاصل کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ جب انبیاء بڑائی کی سوچتے ہیں تو کچھ عطا کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں ۔ جب میں بڑائی کے حصول کی کوشش کرتا ہوں تو نوکر چاکر ، خدام ادب اور مال و دولت اور محل ماڑی کو حاصل کرنے کی طرف لپکتا ہوں ۔ لیکن جب نبی بڑے ہونے کا اظہار کرتے ہیں تو فرماتے ہیں ! پیاری بیٹی تو نے نوکر چاکر ، غلام اور لونڈی لے کر کیا کرنا ہے ، میں تمہیں ایک ایسا وظیفہ نہ بتا دوں جو تمہیں ہر مشکل پہ آسانیاں عطا کرتا رہے ۔​
اشفاق احمد بابا صاحبا
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
جب آپ نا خوش ہوتے ہیں ، ناراض اور ناساز ہوتے ہیں ۔ تو ہر شے دھندلی ہو جاتی ہے ۔ نہ باہر کا حسن نطر آتا ہے نہ اندر کا ۔ آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں ، خوشبوئیں ماند ہو جاتی ہیں ۔ بھوک ختم ہو جاتی ہے ۔ لمس ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ انسان اپنے آپ میں نہیں رہتا اور کا اور ہو جاتا ہے ۔ تم کو پتہ نہیں چلتا کہ خوف اور اکلاپا آپ کی ذات کے اندر آپ کی روح کو کیسے پژمردہ کر دیتے ہیں ۔ اور اس کی بصیرت پر موتیا اتر آتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
ہر شخص کو آج کے اندر داخل ہونے کی دعوت ہے ۔ ہم سب حال کے اندر بیٹھے مزے لے رہے ہیں ۔ نہ ماضی کی یاد ہے نہ مستقبل کا خوف ۔ آج کے اندر رہنا اور آج میں داخل ہونا صاحبِ حال ہونا ہے ۔ ماضی مستقبل کو چھوڑ کا عطا کردہ حال میں رہنا ۔ کچھ لوگ مستقبل کے بارے میں فکر کر کے اپنے حال کو تباہ کر لیتے ہیں ۔ کچھ ماضی کو یاد کر کے حال سے لطف اندوز نہیں ہوتے ۔ پھر چند سال بعد اسی گذرے حال کو کو یاد کرنے لگ جاتے ہیں ۔​
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 539​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
بہتر چیز کی خرابی اس وقت سامنے آتی ہے جب بہترین چیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ وہ ریک میں ڈسپلے نہیں ہوتی۔ اس پر گرد کی ہلکی سی تہہ بھی نہیں پڑی ہوتی۔ ہاتھ در ہاتھ پکڑے جانے سے کرسٹل کی شفاف سطح دھند لاتی ہے۔

اقتباس :" مرگ وفا " از آمنہ ریاض
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
’’مرد کی محبت کے رنگ بھی عجیب ہوتے ہیں،وقت کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔مرد جس عورت سے محبت کرتا ہے اس کے معاملے میں اعلی ظرف نہیں ہوتا،اور اگر اسے عورت کے کردار پر شک ہوجائے تو وہ اسے محبت تو دیتا ہے،لیکن عزّت نہیں۔۔۔۔۔حالانکہ عورت کے لیے محبت سے زیادہ عزت زیادہ قیمتی شے ہوتی ہے۔‘‘

(صائمہ اکرم کے ناول ’’نارسائی‘‘ سے ایک اقتباس)
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
مصحف واپس کرنے آئی ہو ؟؟؟؟

"" مصحف "" ؟؟ اکھڑی اکھڑی سی محمل نے ابرو اٹھائی ۔۔۔

"" ہم ایرب ورلڈ (عرب دنیا ) میں قرآن کو مصحف کہتے ہیں ۔" "

"" تم نے مجھے قصے کہانیاں سنا کر قرآن تھما دیا۔ یہ کوئی مذاق کرنے کی کتاب تو نہ تھی۔
یہ تو قرآن تھا۔ ""

"" قرآن تھا نہیں ۔۔ قرآن ہوتا ہے "" وہ اداسی سے مسکرئی تو محمل نے شانے اچکائے۔

"" بہرحال تمہیں یہ پریکٹیکل جوک کرکے مجھے شرمندہ کرنے پر شرم آنئی چاہئیے۔ میں تو کیا سوچ رہی تھیں اور تم نے ایک مقدس کتاب تھمادی ۔ ""

"" تو تم کیا کسی غیر مقدس چیز کی توقع کر رہی تھیں کیا؟؟ ""

"" جی نہیں۔۔"" وہ تلملائی ، پھر قرآن اس کی گود میں رکھا ۔ "" یہ میرے پاس پہلے سے ہے مجھے ضرورت نہیں ہے۔ ""

بیٹھ کر بات کر لو۔

میں ٹھیک ہوں ۔ وہ اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھے اکھڑی اکھڑی کھڑی رہی۔۔

" اچھا۔۔ " اُس نے نرمی سے مصحف کی سیاہ جلد پہ ہاتھ پھیرا ۔ "" تو تم نے یہ پڑھ رکھا ہے ؟؟ "" اسکی آواز میں صبح کی ساری اداسی سی سمو گئی تھی۔

" ہاں اور بچپن میں ہی پڑھ لیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم شروع سے ہی مسلمان ہیں۔ "" وہ عادتا جتا کر بولی۔

اور تمہیں ہماری کتاب کے متعلق غلط فہمیاں ہیں ، یہ کوئی فال نکالنے والی کتاب نہین ہے ، نہ ہی اس میں میری یا تمہاری سٹوری ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔

"" اچھا۔ "" وہ ذرا مسکرائی ۔ " چلو پھر بیٹھو اور مجھے بتاو اس میں کیا ہے "

"" اس میں احکامات ہیں، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ہے ۔"" وہ اُس کے ساتھ بینچ پر بیٹھ کر اسے بہت سمجھداری سے بتانے لگی۔ "" اس میں پرانی قوموں کے قصے ہیں، قوم عاد، قوم ثمود ۔۔۔ اور بنی اسرائیل ۔۔ ""

"" یہ بنی اسرئیل کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟؟

مطلب ؟؟ وہ ہلکا سا گڑبڑائی۔ "" بنی اسرائیل کا ممطلب ہوا اسرئیل کے بیٹے ؟؟؟ "" وہ پوچھ رہی تھ یا بتا رہی تھی وہ خود بھی نہ سمجھ سکی۔

" اسرئیل کا مطلب عبداللہ ہوتا ہے۔ یہ یعقوب کا نام تھا۔ ""
آں ہاں حضرت یعقوب کا قصہ، حضرت یوسفؑ کا قصہ، سب پڑھ رکھا ہے میں نے، سب پتا ہے مجھے۔ ہمیں تو کورس میں پڑھایا گیا تھا یوسفؑ اور زلیخا کا قصہ۔۔۔ ""

یوسفؑ اور کس والا قصہ ؟؟ سیاہ فام لڑکی کی آنکھوں میں حیرت اُبھری۔۔

"" یوسفؑ او زلیخا والا قصہ۔۔۔۔۔ ""

عزیز مصر کی بیوی کا نام زلیخا تھا؟؟؟

کیا نہیں تھا؟؟ وہ کنفیوژڈ ہو گئی۔۔۔ "" کوئی دلیل ہے تمہارے پاس ؟؟ کوئی حجت ؟؟؟

دلیل ؟ حجت ؟؟ وہ ٹکڑ ٹکڑ اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔

"" ہمارے کورس کی گائیڈ بک میں لکھا تھا ۔ ""

"' کورس کی گائیڈ بکانسان کی بات ہے اور انسان کی بات مین کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل صرف قرآن یا حدیث سے پیش کی جاتی ہے۔ قرآن اور حدیث اور نہ ہی اسرئلیات میں کہیں بھی اس عورت کا نام نہیں بتایا گیا کہ اس عورت کا نام زلیخا تھا "" اس کا لیجہ نرم تھا۔ "" "" مصر کی اس عورت سے ایک غلطی ہوئی تھی، ایک جرم سرزد ہوا تھا، مگر اللہ نے اُس کا پردہ رکھ لیا۔ اسکا فعل تو بتایا مگر اس کا نام نہیں۔ اور جس چیز کا پردہ اللہ رکھے ، وہ کُھل نہیں سکتا، مگر ہم نے "" یوسفؑ اور زلیخا "" کے قصے ہر منببر اور مسجد مین جا کر سنائے۔ ہم کیسے لوگ ہیں؟ ""

"" ہیں ؟؟ تو اسکا نام زلیخا نہیں تھا ؟؟ "" وہ ساری خفگی بھلا کر حیرت سے پوچھ رہی تھی۔

"" اسکا نام راز ہے۔ اور میرا اور تمہارا رب وہ راز نہیں کھولنا چاہتا، سو یہ ہمیشہ راز ہی رہے گا۔ ""

"" اچھا ۔ "" اس نے شانے اچکائے ۔ پہلی دفعہ اسے اپنی علم کمتری کا خفیف سا احساس ہوا تھا۔ مگر یہ ماننا اسکی انا کی شکست تھی، سو لاپروائی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی۔

"" بہرحال "" مجھے افسوس ہے کہ تمہارے کونسیپٹ قرآن کے بارے میں غلط ہیں۔ یہ کتاب وہ نہیں ہے جو تم اسے سمجھتی ہو۔ ""

"" اور اگر یہ وہ نہ ہوئی جو تم اسے سمجھتی ہو تو؟؟ ""

"" میں صیح ہوں، مجھے سب پتا ہے ""

"" تمہیں جو کوئی اس نور کی طرف بلائے گا تم اسے یہی کہو گی؟؟ ""

مگر تم نے یہ تو نہیں بتا تھا کہ یہ قرآن ہے۔ تم نے تو کچھ اور قصے سنائے تھے۔ آخر کیوں ؟؟

"" اگر میں تمہیں تبلیغ کرتی تو تم اکتا کر مجھ سے دور بھاگ جاتیں ۔ ""

"" اب بھی تو یہ ہی ہوگا۔ "" وہ جتا کر بولی تو سیاہ فام لڑکی نے مسکرا کر سر جھٹکا۔

"" لیکن اب تمہاری حجت تمام ہو چکی ہے۔ آگے تمہاری مرضی ۔""

اقتباس ؛ مصحٖف

تحریر؛ نمرہ احمد
 
Top