مجھ پر اردو محفل کے اثرات

نور وجدان

لائبریرین
گزشتہ سال محفل کے جشن کے موقع پر فیس بک اور اردو محفل کے بارے میں بات ہوئی ۔ اس وقت مجھے لگا فیس بک پر جو کہا گیا ہے وہ غلط ہے۔فیس بک پر حلقہ احبات مختصر سے دوستوں پر محدود اور نہ ہی کیس گروپ کی ممبر رہی ۔ کچھ گروپس جو دوستوں نے مل جل کے بنائے ہوئے تھے اس میں اکثر اچھی باتیں شریک ہوتی ہیں ۔ پھر کچھ گروپس جوائن کئے تو اندازہ ہوا کہ ان میں محفل میں کیا فرق ہے ۔

1۔ میرے نزدیک استاد ایک لفظ رہا تھا کیونکہ استاد وہ ہوتا ہے جو وقت کے پیسے لیتا ہے اور ہم اس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ بعوض پیسوں کے پڑھا رہا ہوتا ہے ۔اس لئے بڑا عجیب لگا جب سب یہاں 'استاد ' کا لفظ استعمال کرتے تھے مگر جب ان کی بے لوث خدمات دیکھیں تو بڑی شرم آئی ۔ان کو استاد کہنا شروع کردیا ۔ میں اب ان محترم ہستیوں الف عین اور محمد یعقوب آسی کو استاد سے انکل کہنا چاہتی ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی خدمات کی اجرت نہیں لیتے مگر بے لوث بتاتے جاتے ہیں ، چراغ جلاتے جاتے ہیں ۔ ان کی بدولت میں یہ لکھ رہی ہوں اور کوئی ٹوٹا پھوٹا شعر بھی کہ ڈالتی ہوں ۔ شکریہ ان ہستیوں کے لیے بہت چھوٹا لفظ ہے ۔ میں نے انکل یعقوب سے ایک دفعہ سنا تھا کہ جو لکھنا سچ لکھنا اور اس لیے سچ لکھ دیا پتا نہیں کیا سچ اور کیا غلط ۔ ایک اور اچھے انسان جس نے میری ہمت بڑھائی اور حوصلہ دیا وہ مزمل شیخ بسمل ہیں ۔ ایسے بے لوث انسان نہیں دیکھا ۔ان کے پاس بلا کا علم ہے مگر کبھی اظہار نہیں کیا اور نہ غرور کیا ہے ۔ اتنے اچھے لوگ مجھے اس محفل میں ملے ۔ یہ اپنی رائے دیتے ہیں ،سمجھا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے دم سے محفل کی رونق اور بڑھائے

2۔ دنیا نے نام نہاد فیس بک علمی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں ۔ میں نے سوچا یہاں سے سیکھو کچھ ۔ ایک فیس گروپ میں پھر سے اپنی ایک کاوش دے ڈالی ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے پاس بڑا علم ،تم ایسا کرو نقاد بن جاؤ ۔میں نے کہا اس کی اہلیت میں نہیں رکھتی ۔پھر کہا اچھا رائے ہی دے دو ۔میں نے ان کے فارم کے ایک معروف شخصیت کے افسانے پڑھ کر رائے دے ڈالی ۔ اس میں انتظامیہ نے ان کا تعارف ڈال کر اس کو بطور ''خاکہ '' اپنے فارم پر پیش کردیا ۔ اپنی کم علمی پر ماتم ہے کہ مجھے پتا نہیں تھا کہ خاکہ کیا ہوتا اس لیے شروع میں چپ رہی کہ شاید یہ خاکہ ہی ہوگا ۔ جب اعتراضات ہوئے تو میں نے انتظامیہ سے کہا کہ آپ نے اس کو بطور خاکہ کیوں پیش کیا ۔جب کہ میں نے صرف رائے دی تھی مجھے جواب ملا : تم چپ کرو ، جو اعتراضات کر رہے تم دیکھو ان کا منہ میں دوسری ہستیوں سے کیسے بند کرواتی ہوں ۔تمہیں میں اتنا اونچا لے کر جاؤں گی تم سوچ بھی نہیں سکو گی ۔۔میں نے کہا آپ میر ا دیا ہوا افسانہ مجھے واپس کردیں ۔مجھے کوئی نہیں آپ کی وال پر لگانا۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ یوں جو تلخ تجربہ ہوا ،اس نے مجھے ایک فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا کہ میں اب کبھی بھی نہ لکھوں گی ۔۔۔

انہوں گروپس میں ،میں نے خواتین کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے دیکھا ہے ۔۔۔یہ کیسا ادب ہے ؟ کوئی بتائے گا ۔۔مجھے لگا میں کیچڑ میں دھنس نہ جاؤں اس لیے ان کی نام نہاد تنظمیں چھوڑ دیں ۔۔۔غلط ہے ! جھوٹ بولتے ہیں کہ اردو کہ فروغ دے رہے ہیں وہ ممبران کو آپس میں لڑوا کر تماشا دیکھتے ہیں ۔۔ میں نے وہاں خواتین کو نیوڈ پینٹنگز شریک کرتے دیکھی جو کوئی دیکھنے پر آنکھ بند کرلے ۔ کیا یہ ہمارا معیار ہے ؟ ہم اپنے مرکز سے ،اپنے آپ سے اور اپنے رب سے کتنی دور ہوگئے ہیں صرف سستی شہرت کے لیے ۔ ایک رنج اور دکھ کا عالم ہے ۔ دکھ کا ۔۔۔!!!

بس آخر میں مجھے خیال آیا اردو محفل ایک گھر کی طرح ہے ۔ یہاں کوئی کسی کیس تذلیل نہیں کر رہا ہے اور نہ کسی کو ٹول بنا رہا ہے ۔ یہاں سب سیکھنے آتے ہیں یا سکھانے آتے ہیں ، یا اچھی باتیں کرنے آتے ہیں

میں نے اس کو نہایت دکھ میں لکھا ہے ۔ ایک درخواست ہے اس سے اچھا سمجھا جائے ۔
 
گزشتہ سال محفل کے جشن کے موقع پر فیس بک اور اردو محفل کے بارے میں بات ہوئی ۔ اس وقت مجھے لگا فیس بک پر جو کہا گیا ہے وہ غلط ہے۔فیس بک پر حلقہ احبات مختصر سے دوستوں پر محدود اور نہ ہی کیس گروپ کی ممبر رہی ۔ کچھ گروپس جو دوستوں نے مل جل کے بنائے ہوئے تھے اس میں اکثر اچھی باتیں شریک ہوتی ہیں ۔ پھر کچھ گروپس جوائن کئے تو اندازہ ہوا کہ ان میں محفل میں کیا فرق ہے ۔

1۔ میرے نزدیک استاد ایک لفظ رہا تھا کیونکہ استاد وہ ہوتا ہے جو وقت کے پیسے لیتا ہے اور ہم اس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ بعوض پیسوں کے پڑھا رہا ہوتا ہے ۔اس لئے بڑا عجیب لگا جب سب یہاں 'استاد ' کا لفظ استعمال کرتے تھے مگر جب ان کی بے لوث خدمات دیکھیں تو بڑی شرم آئی ۔ان کو استاد کہنا شروع کردیا ۔ میں اب ان محترم ہستیوں الف عین اور محمد یعقوب آسی کو استاد سے انکل کہنا چاہتی ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی خدمات کی اجرت نہیں لیتے مگر بے لوث بتاتے جاتے ہیں ، چراغ جلاتے جاتے ہیں ۔ ان کی بدولت میں یہ لکھ رہی ہوں اور کوئی ٹوٹا پھوٹا شعر بھی کہ ڈالتی ہوں ۔ شکریہ ان ہستیوں کے لیے بہت چھوٹا لفظ ہے ۔ میں نے انکل یعقوب سے ایک دفعہ سنا تھا کہ جو لکھنا سچ لکھنا اور اس لیے سچ لکھ دیا پتا نہیں کیا سچ اور کیا غلط ۔ ایک اور اچھے انسان جس نے میری ہمت بڑھائی اور حوصلہ دیا وہ مزمل شیخ بسمل ہیں ۔ ایسے بے لوث انسان نہیں دیکھا ۔ان کے پاس بلا کا علم ہے مگر کبھی اظہار نہیں کیا اور نہ غرور کیا ہے ۔ اتنے اچھے لوگ مجھے اس محفل میں ملے ۔ یہ اپنی رائے دیتے ہیں ،سمجھا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے دم سے محفل کی رونق اور بڑھائے

2۔ دنیا نے نام نہاد فیس بک علمی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں ۔ میں نے سوچا یہاں سے سیکھو کچھ ۔ ایک فیس گروپ میں پھر سے اپنی ایک کاوش دے ڈالی ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے پاس بڑا علم ،تم ایسا کرو نقاد بن جاؤ ۔میں نے کہا اس کی اہلیت میں نہیں رکھتی ۔پھر کہا اچھا رائے ہی دے دو ۔میں نے ان کے فارم کے ایک معروف شخصیت کے افسانے پڑھ کر رائے دے ڈالی ۔ اس میں انتظامیہ نے ان کا تعارف ڈال کر اس کو بطور ''خاکہ '' اپنے فارم پر پیش کردیا ۔ اپنی کم علمی پر ماتم ہے کہ مجھے پتا نہیں تھا کہ خاکہ کیا ہوتا اس لیے شروع میں چپ رہی کہ شاید یہ خاکہ ہی ہوگا ۔ جب اعتراضات ہوئے تو میں نے انتظامیہ سے کہا کہ آپ نے اس کو بطور خاکہ کیوں پیش کیا ۔جب کہ میں نے صرف رائے دی تھی مجھے جواب ملا : تم چپ کرو ، جو اعتراضات کر رہے تم دیکھو ان کا منہ میں دوسری ہستیوں سے کیسے بند کرواتی ہوں ۔تمہیں میں اتنا اونچا لے کر جاؤں گی تم سوچ بھی نہیں سکو گی ۔۔میں نے کہا آپ میر ا دیا ہوا افسانہ مجھے واپس کردیں ۔مجھے کوئی نہیں آپ کی وال پر لگانا۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ یوں جو تلخ تجربہ ہوا ،اس نے مجھے ایک فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا کہ میں اب کبھی بھی نہ لکھوں گی ۔۔۔

انہوں گروپس میں ،میں نے خواتین کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے دیکھا ہے ۔۔۔یہ کیسا ادب ہے ؟ کوئی بتائے گا ۔۔مجھے لگا میں کیچڑ میں دھنس نہ جاؤں اس لیے ان کی نام نہاد تنظمیں چھوڑ دیں ۔۔۔غلط ہے ! جھوٹ بولتے ہیں کہ اردو کہ فروغ دے رہے ہیں وہ ممبران کو آپس میں لڑوا کر تماشا دیکھتے ہیں ۔۔ میں نے وہاں خواتین کو نیوڈ پینٹنگز شریک کرتے دیکھی جو کوئی دیکھنے پر آنکھ بند کرلے ۔ کیا یہ ہمارا معیار ہے ؟ ہم اپنے مرکز سے ،اپنے آپ سے اور اپنے رب سے کتنی دور ہوگئے ہیں صرف سستی شہرت کے لیے ۔ ایک رنج اور دکھ کا عالم ہے ۔ دکھ کا ۔۔۔!!!

بس آخر میں مجھے خیال آیا اردو محفل ایک گھر کی طرح ہے ۔ یہاں کوئی کسی کیس تذلیل نہیں کر رہا ہے اور نہ کسی کو ٹول بنا رہا ہے ۔ یہاں سب سیکھنے آتے ہیں یا سکھانے آتے ہیں ، یا اچھی باتیں کرنے آتے ہیں

میں نے اس کو نہایت دکھ میں لکھا ہے ۔ ایک درخواست ہے اس سے اچھا سمجھا جائے ۔

اللہ کریم آپ کے احساسات کو توانا اور آپ کے افکار کو مثبت سمت میں رکھے۔ آمین۔
چند ایک نکات پر مختصر سی بات کروں گا۔
۔1۔ مجھے آپ جو بھی کہہ لیں، یہ آپ پر منحصر ہے۔
-2۔ سیکھنے کے عمل میں سیکھنے والا اول ہوتا ہے؛ تاہم اس کو کوئی سکھانے والا بھی چاہئے۔ یہ اس کا شوق بھی ہو سکتا ہے۔
۔3۔ فکر انسانی فطرت کا جوہر ہے۔ یہ شفاف رہے گا تو سب کچھ صاف دکھائی دے گا، یہ گدلا ہو گیا تو پھر ۔۔ ۔۔ ۔۔
۔4۔ فیس بُک پر بھی سارے برے نہیں ہیں، خود مجھے بہت اچھے دوست ملے؛ سینئر بھی جونیئر بھی۔
۔5۔ تقابلی جائزے میں مجھے اردو محفل فورم بہتر لگا کہ یہاں اکثر احباب سنجیدگی برقرار رکھتے ہیں۔ فیس بک میں گلیمر کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے۔
۔6۔ اعجاز عبید صاحب سے میری شناسائی فیس بک، اردو محفل فورم وغیرہ کے دور سے کہیں پہلے کی ہے۔ نوید صادق نے ایک یاہو گروپ بنایا تھا "مجلسِ ادب"؛ گروپ اب بھی کام کر رہا ہے تاہم وہاں پہلے کی سی سرگرمیاں نہیں رہیں۔
۔7۔ انسان سارے عمل میں شکل میں فکر میں صلاحیتوں میں ایک جیسے ہو ہی نہیں سکتے۔ کوشش ہونی چاہئے کہ اپنے ہم مزاج لوگوں سے کانٹیکٹ رکھے جائیں۔
۔8۔ اپنی امیدوں اور توقعات کو جتنا قلیل رکھیں گے، دکھ سے اتنا ہی بچے رہیں گے۔
۔9۔ اللہ کریم سے راست فکری طلب کیا کیجئے اور پورے اعتماد کے ساتھ! طلب کی قبولیت میں تاخیر یا عدم قبولیت کے پیچھے کیا کچھ ہے، ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔
۔10۔ کوئی ٹیڑھا کام اپنے ذمے نہ لیجئے۔ سیدھے کاموں میں سچائی جتنی زیادہ ہو گی کامیابی اور وقار بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و الی اللہ المستعان
 
چلتے چلتے لفظ "استاد" پر بھی بات ہو جائے۔ یہ لفظ "اوستا" سے ماخوذ ہے۔
زرتُشت کی دو کتابیں تھیں: ژند اور اوستا، دونوں کے مجموعے کو ژندوستا کہا جاتا اور ان کی تعلیم دینے والے عالم (کاہن) کو اوستاذ کہا جاتا جس کی صورت بدلتے بدلتے "استاد" بن گئی۔ آج کل اس کی جمع عربی طریقے پر بناتے ہیں اور اس میں دال کی بجائے ذال ہوتا ہے۔ "اساتذہ"۔
عمومیت کے ساتھ ہر معلم کو استاد کہا جانے لگا؛ وہ جہاں بھی ہو، جس شعبے میں بھی ہو، اور جس سطح کا بھی ہو۔ ہر آٹو ورکشاپ میں ایک استاد ہوتا ہے، ہر ٹیلرنگ شاپ میں ہوتا ہے، ہر باربر سیلون میں ہوتا ہے، ہر مسجد میں ہوتا ہے، اور بڑے اداروں میں تو کئی کئی اساتذہ ہوتے ہیں۔ فوج میں عام طور پر حوالدار کو استاد کہا جاتا ہے۔ استاد جوا خانے میں بھی ہوتا ہے، استاد جیب کتروں کا بھی ہوتا ہے؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ مشاہرہ، وظیفہ، فیس وغیرہ کے معاملات اپنے اپنے حساب سے ہوتے ہیں۔
منطقی طور پر استاد اپنے میدانِ علم میں اپنے شاگردوں سے آگے ہوتا ہے، استاد کے علم کا ایسا گر یا ٹوٹکا یا نکتہ جس کا شاگردوں کو پورا ادراک نہ ہو اس کو "استادی" کہا جاتا ہے، اور یہ طنزیہ معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:
چلتے چلتے لفظ "استاد" پر بھی بات ہو جائے۔ یہ لفظ "اوستا" سے ماخوذ ہے۔
زرتُشت کی دو کتابیں تھیں: ژند اور اوستا، دونوں کے مجموعے کو ژندوستا کہا جاتا اور ان کی تعلیم دینے والے عالم (کاہن) کو اوستاذ کہا جاتا جس کی صورت بدلتے بدلتے "استاد" بن گئی۔ آج کل اس کی جمع عربی طریقے پر بناتے ہیں اور اس میں دال کی بجائے ذال ہوتا ہے۔ "اساتذہ"۔
عمومیت کے ساتھ ہر معلم کو استاد کہا جانے لگا؛ وہ جہاں بھی ہو، جس شعبے میں بھی ہو، اور جس سطح کا بھی ہو۔ ہر آٹو ورکشاپ میں ایک استاد ہوتا ہے، ہر ٹیلرنگ شاپ میں ہوتا ہے، ہر باربر سیلون میں ہوتا ہے، ہر مسجد میں ہوتا ہے، اور بڑے تعلیمی اداروں میں تو کئی کئی اساتذہ ہوتے ہیں۔ فوج میں عام طور پر حوالدار کو استاد کہا جاتا ہے۔ استاد جوا خانے میں بھی ہوتا ہے، استاد جیب کتروں کا بھی ہوتا ہے؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔
منطقی طور پر استاد اپنے میدانِ علم میں اپنے شاگردوں سے آگے ہوتا ہے، استاد کے علم کا ایسا گر یا ٹوٹکا یا نکتہ جس کا شاگردوں کو پورا ادراک نہ ہو اس کو "استادی" کہا جاتا ہے، اور یہ طنزیہ معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

میرا خیال ہے اردو کا استاد عربی کے لفظ استاذ سے نکلا ہے۔ عربی کا استاذ کہاں سے نکلا یہ معلوم نہیں
 
میرا خیال ہے اردو کا استاد عربی کے لفظ استاذ سے نکلا ہے۔ عربی کا استاذ کہاں سے نکلا یہ معلوم نہیں

اپنے محدود سے علم کے مطابق گزارش کر دی ہے۔ "اوستاذ"، استاذ، (اور اس کی بدلی ہوئی صورت "استاد") کی اصل وہی قدیم فارسی ہے۔ اس کی جمع فارس والے بھی عربی نہج پر کرتے ہیں۔ عربی اصل میں لفظ معلم معروف ہے، تاہم مزید الفاظ بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ اور الفاظ ایسے بھی ہیں جن پر ساخت کے اعتبار سے عربی کا گمان ہوتا ہے مگر وہ عربی نہیں۔ جیسے شوکت ہے، روغن اور اس کا مشتق مرغن ہے۔ بعض علماء کے نزدیک عربی لفظ سراج کی اصل فارسی کا چراغ ہے، بعض اس کے الٹ کہتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
 
روغن عربی نہی ہے فارسی ہے
جی میں نے بھی یہی عرض کیا ہے۔
کچھ اور الفاظ ایسے بھی ہیں جن پر ساخت کے اعتبار سے عربی کا گمان ہوتا ہے مگر وہ عربی نہیں۔ جیسے شوکت ہے، روغن اور اس کا مشتق مرغن ہے۔
 
روغن عربی نہی ہے فارسی ہے
جی میں نے بھی یہی عرض کیا ہے۔
کچھ اور الفاظ ایسے بھی ہیں جن پر ساخت کے اعتبار سے عربی کا گمان ہوتا ہے مگر وہ عربی نہیں۔ جیسے شوکت ہے، روغن اور اس کا مشتق مرغن ہے۔
 
استاذ کے معنی پروفیسر کے ہیں جبکہ معلم ٹیچر کے لیے استعمال ہوتا ہے
مختلف شعبہ ہائے علوم کی ضرورتوں کے مطابق جہاں اصطلاحات کی ضرورت پڑے، الفاظ مستعار بھی لے لئے جاتے ہیں۔ مثلاً:
ہم لوگوں نے فزکس میں پڑھا: رفتار (ولاسٹی)، چال (سپیڈ)۔
حساب اور برقیات میں ’’مثبت‘‘ اور ’’منفی‘‘ کے اپنے الگ اصطلاحی معانی ہیں؛ نفسیات میں ان سے بھی مختلف ہیں۔
میں نے ’’مصباح اللغات‘‘ (عربی سے اردو) میں پڑھا: کہرباء وہ بجلی ہے جو بجلی گھر میں بنتی ہے اور برق وہ بجلی ہے جو آسمان سے گرتی ہے۔ استعمال دونوں کے لئے "برق" ہو رہا ہے۔
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

ایسے سلسلے ہوا کرتے ہیں، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
دعاؤں کا طالب رہا کرتا ہوں۔
 
آخری تدوین:
مختلف شعبہ ہائے علوم کی ضرورتوں کے مطابق جہاں اصطلاحات کی ضرورت پڑے، الفاظ مستعار بھی لے لئے جاتے ہیں۔ مثلاً:
ہم لوگوں نے فزکس میں پڑھا: رفتار (ولاسٹی)، چال (سپیڈ)۔
حساب اور برقیات میں ’’مثبت‘‘ اور ’’منفی‘‘ کے اپنے الگ اصطلاحی معانی ہیں؛ نفسیات میں ان سے بھی مختلف ہیں۔
میں نے ’’مصباح اللغات‘‘ (عربی سے اردو) میں پڑھا: کہرباء وہ بجلی ہے جو بجلی گھر میں بنتی ہے اور برق وہ بجلی ہے جو آسمان سے گرتی ہے۔ استعمال دونوں کے لئے "برق" ہو رہا ہے۔
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

ایسے سلسلے ہوا کرتے ہیں، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
دعاؤں کا طالب رہا کرتا ہوں۔

درست
ویسے کھربا اور برق الگ الگ استعمال ہورہا ہے جیسے مصباح اللغات میں درج ہے
اللہ اپ کو خوش رکھے ۔ ہم سب کو خوش رکھے ہمیشہ
 

تہذیب

محفلین
آسمانی بجلی کے لئے برق کے علاوہ "صاعقہ" کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے السعودیہ کی ایلیٹ فورس بھی الصاعقہ کہلاتی ہے۔ تھنڈر بولٹ
 

نور وجدان

لائبریرین
اللہ کریم آپ کے احساسات کو توانا اور آپ کے افکار کو مثبت سمت میں رکھے۔ آمین۔
چند ایک نکات پر مختصر سی بات کروں گا۔
۔1۔ مجھے آپ جو بھی کہہ لیں، یہ آپ پر منحصر ہے۔
-2۔ سیکھنے کے عمل میں سیکھنے والا اول ہوتا ہے؛ تاہم اس کو کوئی سکھانے والا بھی چاہئے۔ یہ اس کا شوق بھی ہو سکتا ہے۔
۔3۔ فکر انسانی فطرت کا جوہر ہے۔ یہ شفاف رہے گا تو سب کچھ صاف دکھائی دے گا، یہ گدلا ہو گیا تو پھر ۔۔ ۔۔ ۔۔
۔4۔ فیس بُک پر بھی سارے برے نہیں ہیں، خود مجھے بہت اچھے دوست ملے؛ سینئر بھی جونیئر بھی۔
۔5۔ تقابلی جائزے میں مجھے اردو محفل فورم بہتر لگا کہ یہاں اکثر احباب سنجیدگی برقرار رکھتے ہیں۔ فیس بک میں گلیمر کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے۔
۔6۔ اعجاز عبید صاحب سے میری شناسائی فیس بک، اردو محفل فورم وغیرہ کے دور سے کہیں پہلے کی ہے۔ نوید صادق نے ایک یاہو گروپ بنایا تھا "مجلسِ ادب"؛ گروپ اب بھی کام کر رہا ہے تاہم وہاں پہلے کی سی سرگرمیاں نہیں رہیں۔
۔7۔ انسان سارے عمل میں شکل میں فکر میں صلاحیتوں میں ایک جیسے ہو ہی نہیں سکتے۔ کوشش ہونی چاہئے کہ اپنے ہم مزاج لوگوں سے کانٹیکٹ رکھے جائیں۔
۔8۔ اپنی امیدوں اور توقعات کو جتنا قلیل رکھیں گے، دکھ سے اتنا ہی بچے رہیں گے۔
۔9۔ اللہ کریم سے راست فکری طلب کیا کیجئے اور پورے اعتماد کے ساتھ! طلب کی قبولیت میں تاخیر یا عدم قبولیت کے پیچھے کیا کچھ ہے، ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔
۔10۔ کوئی ٹیڑھا کام اپنے ذمے نہ لیجئے۔ سیدھے کاموں میں سچائی جتنی زیادہ ہو گی کامیابی اور وقار بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و الی اللہ المستعان
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اتنے اچھے سے جواب دیا ۔بڑا انسان ۔۔؟ کون ہوتا ہے ۔۔۔ کوئی تو ہوتا ہے ۔۔۔ پوسٹ لکھتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ بڑا انسان اور عظیم انسان ایک نہیں ہوتا ہے ۔ دنیا میں بڑے انسان بہت سے ہیں مگر عظیم کا حال کون جانے ۔۔۔۔ سعدیہ کو جو سوچ کی دُعا دی ۔۔۔ سعدیہ کو جو سمجھایا ۔۔۔ کوئی رہبر ہوتا ہے ؟ الفاظ کو دھیان سے سوچ کہ استعمال کر رہی ہوں ۔۔پھر بھی بے ساختہ نکل آیا آپ تو ہیں ۔۔۔جس کو عظمت کا درجہ دیا جاتا ہے ۔۔۔ وہی عزت جو میں نے پڑھا پرانے زمانے میں شاگرد اساتذہِ کرام کو دیا کرتے تھے ۔۔۔۔ عظیم انسان گھر سے ہوتے ہوتے معاشرے کو دیکھتا ہے ۔۔۔۔ آپ بھی تو یہی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ من کہتا ہے اس لیے لکھ دیا میں نے ۔۔۔۔۔
۔8۔ اپنی امیدوں اور توقعات کو جتنا قلیل رکھیں گے، دکھ سے اتنا ہی بچے رہیں گے۔
کیا خوب بات کی ہے ۔۔۔ دس منشورات بتا دئے ۔۔۔۔ اب کہ ایسا ہی سوچا کہ وہ کام کروں جس پر مجھے بالکل اعتماد ہو کہ یہ میرے بس کی بات ہے ۔۔۔
اور کچھ کہنے کو دل نہیں ۔۔۔۔ کہ پاس الفاظ بچے ہی نہیں ۔۔۔۔ ایسا بھی کبھی ہوتا ہے ۔۔۔۔ جو باتیں آپ کی نے کی دراصل وہ زندگی کا نصب العین بھی ہیں ۔۔۔ان پر رہ کر چلے جاؤ کہ قدم کبھی ڈگمگائیں گے بھی نہیں ۔۔۔۔ میں نے فیس بک گروپس کی بات کی ہے ۔۔۔۔ جو لوگوں کو بھٹکا رہے ہیں ۔۔۔مجھے تو فیس بک پر بہت اچھے لوگ ملے ہیں ۔۔۔

دعا ہے کہ آپ کو جناب اعجاز عبید جیسے لوگوں کی بدولت نئے ''آسی '' اور ''اعجاز'' پیدا ہوں ۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔ آمین آمین
 

bilal260

محفلین
اس دھاگے کا عنوان کچھ جانا پہچانا لگ رہا ہے ۔ :thinking:
میں نے بھی اس جیسا ایک تھریڈ پوسٹ کیا تھا
جس کا عنوان تھا اردو محفل سا نہیں کوئی۔
جس میں بہت سے مختلف فورمز اور اردو بلاگز سے اپنی اردو محفل کا موازنی کیا گیا تھا۔
 
Top