:: ماہ صفر اور ہم ::: ماہ صفر منحوس !!!؟؟؟ :

میر انیس

لائبریرین
روایات میں ہے کہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی اور بکری کے گوشت میں زہر ملا کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک لقمہ چکھتے ہی ہاتھ روک دیا اور اعلان فرمایا کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ ایک صحابی اس زہر کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یہ روایت اہلسنت کی کتب میں موجود ہے۔ مرضِ وفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ 'میں اُس زہر کا اثر اب بھی اپنے بدن میں محسوس کرتا ہوں' یہ روایت بھی اہلسنت کی کتب میں موجود ہے۔ اس بناء پر کہا گیا ہے کہ آپ شہید ہیں ۔ ۔ ۔ واللہ اعلم بالصواب

جی بالکل یہی روایت ہماری کتابوں میں بھی ملتی ہے۔اسکے علاوہ بعض اہلِ سنت کے علماء امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی شہادت کو آنحضرت کی شہادت سے نسبت دیتے ہیں۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
جی بالکل یہی روایت ہماری کتابوں میں بھی ملتی ہے۔اسکے علاوہ بعض اہلِ سنت کے علماء امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی شہادت کو آنحضرت کی شہادت سے نسبت دیتے ہیں۔

بلاشبہ روایت تو موجود ہے مگر وجہ انتقال اس واقعہ کو قرار دینا قرین انصاف نہیں لگتا کہ یہ واقعہ 7 ہجری کو پیش آیا اور 11 ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔

اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابن ماجہ جلد سوم حدیث‌ نمبر 427 ذکر ہے۔

یحییٰ بن عثمان بن کثیر بن دینارحمصی، بقیہ، ابوبکر عنسی، یزید بن ابی حبیب، محمد بن یزید مصریین، نافع، ابن عمر ، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو ہر سال بیماری ہو جاتی ہے اس زہریلی بکری کیوجہ سے جو آپ نے (خیبر میں ایک یہود کی دعوت میں) کھائی آپ نے فرمایا مجھے جو بیماری بھی ہوئی وہ اس وقت بھی میرے مقدر میں لکھی ہوئی تھی جب سیدنا آدم علیہ السلام مٹی کے پتلے تھے۔
 
Top