قسمت کے دکھ

نظام الدین

محفلین
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔

(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
 

شزہ مغل

محفلین
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
 

شزہ مغل

محفلین
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
 

نظام الدین

محفلین
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔
 

آوازِ دوست

محفلین
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔

(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
خوشی کی طرح دُکھ بھی لامحدود عمر لے کر نہیں آتے۔ سب فانی ہے، سب مٹ جانا ہے سو نو پرابلم :)
 

آوازِ دوست

محفلین
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
آپ بھاگ سکتے ہیں گھر کو چھوڑ کر، رشتوں اور فرائض کو بھی چھوڑ کر مگر بالاخر آپ خود کو دوبارہ اِنہی اُلجھنوں میں گرفتار دیکھیں گے اور زیادہ احساسِ گرانی کے ساتھ لِہذا اپنے سے نچلی سطح پر موجود لوگوں کو دیکھیں اور شکر ادا کریں۔ یہی زندگی ہے :)
 

آوازِ دوست

محفلین
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
زندگی میں محو رہیں ، زندگی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے :)
 

آوازِ دوست

محفلین
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔

(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
بھرے پیٹ والا خالی پیٹ والے کے احساسات نہیں سمجھ سکتا خواہ وہ ایک وقت میں اِس صورتِحال کا سامنا کر بھی چُکا ہو پیٹ بھرتے ہی انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اِسی طرح بھوکا انسان چاند کو دیکھ کر بھی روٹی کا ہی سوچتا ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا دُکھ یا سُکھ :)
 

شزہ مغل

محفلین
بھرے پیٹ والا خالی پیٹ والے کے احساسات نہیں سمجھ سکتا خواہ وہ ایک وقت میں اِس صورتِحال کا سامنا کر بھی چُکا ہو پیٹ بھرتے ہی انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اِسی طرح بھوکا انسان چاند کو دیکھ کر بھی روٹی کا ہی سوچتا ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا دُکھ یا سُکھ :)
بالکل درست
قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
 

آوازِ دوست

محفلین
دکھ سکھ بھی زندگی ہی کا حصہ ہیں۔ زندگی کے دکھ شخصیت کا حصہ بھی بن جاتے ہیں
با لکل ! بلکہ ہر وہ چیززندگی کا حصہّ بن جاتی ہے جسے ہم اہمیت دیں ۔ دُکھ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہیں مگرزندگی آگے بڑھتی ہے چھوٹی بڑی خوشیوں یا محض اُن کی اُمید کے سہارے :)
 
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
میری والدہ اکثر کہا کرتی ہیں کہ ہر انسان اپنی عقل کے مطابق بات کرتا ہے۔ اس لئے بے عقل کی بات کو اہمیت دے کر خود کو پریشان نہیں کرنا چاہئے۔ :)
 
Top