قادیانیوں کی حیثیت : شرعی اعتبار سے

قادیانیوں کے بارے میں یقینا ہر شخص جانتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قادیانی اپنے آپ کو مسلمان معاشرے میں مسلمان کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں ۔ اور موقع محل دیکھتے ہوئے اپنے دین کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی شیعہ ظاہر ہو کر دوسرے مسالک کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی سنی بن کر اہل تشیع کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی اہل حدیث ظاہر کر کے دونوں کے خلاف گفتگو فرمائیں گے۔ اس طرح معاشرے میں ایسے لوگوں کو تلاش کریں گے جو نہ تو تحقیق اور نہ ہی پہچان رکھتے ہونگے۔ دوسرا کام جو یہ کرتے ہیں احادیث سے ثابت عقائد کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کریں گے۔ مثال کے طور پر حیات عیسیٰ والے معاملے پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ پھر ختم نبوت پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ اور آخر میں اپنی دعوت پیش کر دیں گے جس کے ساتھ مالی آسودگی کا لالچ بھی شامل ہوگا۔ یہ عمومی طریقہ ہے البتہ ہر انسان پر مختلف طرح سے یہ اپنے گر آزماتے ہیں۔ جب خود کو مسلمان ظاہر کرنے والا ایسی بات کرتا ہے تو ایسا انسان جسے ان باتوں کا علم بھی نہیں یا علم میں کمی ہے وہ متاثر بھی ہو سکتا ہے اور مرتد بھی ایسے معاملات میں ان کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا معاشرے میں فساد اور خرابی کا باعث ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
قادیانیوں کے بارے میں یقینا ہر شخص جانتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قادیانی اپنے آپ کو مسلمان معاشرے میں مسلمان کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں ۔ اور موقع محل دیکھتے ہوئے اپنے دین کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی شیعہ ظاہر ہو کر دوسرے مسالک کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی سنی بن کر اہل تشیع کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی اہل حدیث ظاہر کر کے دونوں کے خلاف گفتگو فرمائیں گے۔ اس طرح معاشرے میں ایسے لوگوں کو تلاش کریں گے جو نہ تو تحقیق اور نہ ہی پہچان رکھتے ہونگے۔ دوسرا کام جو یہ کرتے ہیں احادیث سے ثابت عقائد کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کریں گے۔ مثال کے طور پر حیات عیسیٰ والے معاملے پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ پھر ختم نبوت پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ اور آخر میں اپنی دعوت پیش کر دیں گے جس کے ساتھ مالی آسودگی کا لالچ بھی شامل ہوگا۔ یہ عمومی طریقہ ہے البتہ ہر انسان پر مختلف طرح سے یہ اپنے گر آزماتے ہیں۔ جب خود کو مسلمان ظاہر کرنے والا ایسی بات کرتا ہے تو ایسا انسان جسے ان باتوں کا علم بھی نہیں یا علم میں کمی ہے وہ متاثر بھی ہو سکتا ہے اور مرتد بھی ایسے معاملات میں ان کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا معاشرے میں فساد اور خرابی کا باعث ہے۔
متفق!
 
جس معاشرے میں ایک قاتل قادری کو کافی لوگ ہیرو سمجھتے ہیں اس میں مزید فساد کی گنجائش ہے؟
قادری کو ہیرو سمجھنا تو ایک طرف کچھ لوگ تو یہاں لبرل ازم کی آڑ میں بے غیرتی اور بے حیائی کا کاروبار بھی پھیلا رہے ہیں۔ منشیات ۔ بچیاں ۔ لادینیت اور پتہ نہیں کیا کیا۔ بس جی اللہ باقی ۔۔ہر شے فانی۔۔ حق ہو ۔ حق ہو۔ بس ایک دکھی دل سے تو آہیں ہی ہیں۔ چلو جی چھڈو سو ۔ ایہہ ویکھو واٹس ایپ تے نویں بچی پھسائی اے پھیکے نے۔۔۔
 

ابوعبید

محفلین
قادری کو ہیرو سمجھنا تو ایک طرف کچھ لوگ تو یہاں لبرل ازم کی آڑ میں بے غیرتی اور بے حیائی کا کاروبار بھی پھیلا رہے ہیں۔ منشیات ۔ بچیاں ۔ لادینیت اور پتہ نہیں کیا کیا۔ بس جی اللہ باقی ۔۔ہر شے فانی۔۔ حق ہو ۔ حق ہو۔ بس ایک دکھی دل سے تو آہیں ہی ہیں۔ چلو جی چھڈو سو ۔ ایہہ ویکھو واٹس ایپ تے نویں بچی پھسائی اے پھیکے نے۔۔۔
لبرل ازم اور الحاد دونوں ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ ؟؟ طالب علمانہ سوال ہے ۔
دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اگرمثالوں سے ممکن ہو سکے تو سمجھا دیں ۔ شکریہ
 
لبرل ازم اور الحاد دونوں ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ ؟؟ طالب علمانہ سوال ہے ۔
دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اگرمثالوں سے ممکن ہو سکے تو سمجھا دیں ۔ شکریہ
الگ دھاگہ کھولیں ان شاء اللہ جواب مل ہی جائے گا اگر دھاگہ بند نہ ہوا تو
 
قادیانیوں کے بارے میں یقینا ہر شخص جانتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قادیانی اپنے آپ کو مسلمان معاشرے میں مسلمان کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں ۔ اور موقع محل دیکھتے ہوئے اپنے دین کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی شیعہ ظاہر ہو کر دوسرے مسالک کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی سنی بن کر اہل تشیع کے خلاف گفتگو کریں گے۔ کبھی اہل حدیث ظاہر کر کے دونوں کے خلاف گفتگو فرمائیں گے۔ اس طرح معاشرے میں ایسے لوگوں کو تلاش کریں گے جو نہ تو تحقیق اور نہ ہی پہچان رکھتے ہونگے۔ دوسرا کام جو یہ کرتے ہیں احادیث سے ثابت عقائد کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کریں گے۔ مثال کے طور پر حیات عیسیٰ والے معاملے پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ پھر ختم نبوت پر شک و شبہ ڈالیں گے۔ اور آخر میں اپنی دعوت پیش کر دیں گے جس کے ساتھ مالی آسودگی کا لالچ بھی شامل ہوگا۔ یہ عمومی طریقہ ہے البتہ ہر انسان پر مختلف طرح سے یہ اپنے گر آزماتے ہیں۔ جب خود کو مسلمان ظاہر کرنے والا ایسی بات کرتا ہے تو ایسا انسان جسے ان باتوں کا علم بھی نہیں یا علم میں کمی ہے وہ متاثر بھی ہو سکتا ہے اور مرتد بھی ایسے معاملات میں ان کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا معاشرے میں فساد اور خرابی کا باعث ہے۔
۱- یہ کام عیسائی، دہریہ، منکرِ حدیث بھی کر سکتا ہے۔
۲- کیا اعتراض صرف مبلغ قادیانیوں پہ ہے؟
۳- پہلی پوسٹ کا جواب آپ نے ابھی تک نہیں دیا۔
 
- یہ کام عیسائی، دہریہ، منکرِ حدیث بھی کر سکتا ہے۔
۲- کیا اعتراض صرف مبلغ قادیانیوں پہ ہے؟
۳- پہلی پوسٹ کا جواب آپ نے ابھی تک نہیں دیا۔
عیسائی ایسا کرتے کبھی نظر نہیں آئے۔دہریے اور منکیرین حدیث کا طریق کار الگ دھاگہ کھول کر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر قادیانیوں کی بات ہو رہی ہے اس تھریڈ میں تو ان پر یہ اعتراض اس لیئے بنتا ہے کیونکہ وہ اپنے تمام تر فاسد (مسلمانوں کے نقطہ نظر سے) عقائد کے باوجود خود کو مسلم کہلانے پر مصر رہتے ہیں اور یہ اصرار اصل سبب ہے اس پر ردعمل کا
 

زیک

مسافر
قادری کو ہیرو سمجھنا تو ایک طرف کچھ لوگ تو یہاں لبرل ازم کی آڑ میں بے غیرتی اور بے حیائی کا کاروبار بھی پھیلا رہے ہیں۔ منشیات ۔ بچیاں ۔ لادینیت اور پتہ نہیں کیا کیا۔ بس جی اللہ باقی ۔۔ہر شے فانی۔۔ حق ہو ۔ حق ہو۔ بس ایک دکھی دل سے تو آہیں ہی ہیں۔ چلو جی چھڈو سو ۔ ایہہ ویکھو واٹس ایپ تے نویں بچی پھسائی اے پھیکے نے۔۔۔
یعنی پاکستان میں ہر طرف فساد ہی فساد ہے؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ لوگ کئی بہانوں ( کبھی امتی نبی کی بحث سے کبھی حیات عیسی کے معاملے سے وغیرہ ) سے نبوت کا سلسلے کو جاری رکھنے سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ جب کہ قرآن حدیث کو ماننے کے دعوی بھی کرتے ہیں ۔
یہ تو خود ایک انٹرنسک تضاد کا شکار فلسفہ ہے ۔
اصل مقاصد کیا ہیں ؟ اور انہیں مغربی دنیا میں اتنی پذیرائی کیوں ملتی ہے ؟
 

ابوعبید

محفلین
الگ دھاگہ کھولیں ان شاء اللہ جواب مل ہی جائے گا اگر دھاگہ بند نہ ہوا تو
اس بحث کے لیے الگ لڑی کھول لیجیے۔ مختصراََ عرض ہے کہ یہ دونوں الگ الگ تصورات ہیں۔
بڑی عزت اور احترام سے گذارش ہے کہ ممتاز قادری کے لیے بھی دھاگے موجود ہیں تو یہاں بات کرنے کی تُک نہیں سمجھ آ رہی ۔ میں سمجھا شاید اسی دھاگے میں ہر طرح کی بحث ممکن ہو سکتی ہے ۔
 
عیسائی ایسا کرتے کبھی نظر نہیں آئے۔دہریے اور منکیرین حدیث کا طریق کار الگ دھاگہ کھول کر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر قادیانیوں کی بات ہو رہی ہے اس تھریڈ میں تو ان پر یہ اعتراض اس لیئے بنتا ہے کیونکہ وہ اپنے تمام تر فاسد (مسلمانوں کے نقطہ نظر سے) عقائد کے باوجود خود کو مسلم کہلانے پر مصر رہتے ہیں اور یہ اصرار اصل سبب ہے اس پر ردعمل کا
قبلہ بات شرعی اصول کی ہو رہی ہے۔ شرعی اصول ہر مذہب پہ لاگو ہو گا۔
 

زیک

مسافر
بڑی عزت اور احترام سے گذارش ہے کہ ممتاز قادری کے لیے بھی دھاگے موجود ہیں تو یہاں بات کرنے کی تُک نہیں سمجھ آ رہی ۔ میں سمجھا شاید اسی دھاگے میں ہر طرح کی بحث ممکن ہو سکتی ہے ۔
ہر فساد کا ڈر ہے تو اس کے بہت سورسز موجود ہیں۔ بلوچستان یا قبائلی علاقوں کو دیکھ لیں۔ یا سوات کے پچھلے 20 سال۔ ان تمام جاری مسائل کو چھوڑ کر ایک فرضی فساد پر اتنا زور کیوں؟
 
قبلہ بات شرعی اصول کی ہو رہی ہے۔ شرعی اصول ہر مذہب پہ لاگو ہو گا۔
شرعی اصول کے لاگو ہونے نہ ہونے کی بحث الگ ہے اور کہاں کون سا اصول لاگو ہوگا یہ فیصلہ بھی آپ شاید اپنے طریقے سے اپنی مرضی کے پلیٹ فارم پر چاہ رہے ہیں۔ اگر تو شرعی اصول کے متعلق معلومات درکار ہیں تو علماء سے دریافت فرمایا جا سکتا ہے۔ اگر عوامی رائے کے متعلق معلومات درکار ہیں تو یہاں تو وہی معلومات میسر ہونگی جو آپ کے تھریڈ کو پڑھنے والے افراد کے پاس موجود ہیں۔ جیسے ہر انسان کی علمی اور ذہنی استعداد مختلف ہوتی ہے اس کا بیان و کلام میں احتیاط کا بھی الگ درجہ ہوتا ہے۔ کوئی یہ کہہ ڈالتا ہے کہ جی فلاں میری نظر میں کافر ہے زندیق ہے مرتد ہے لیکن کوئی ایسی بات کرنے میں احتیاط کرتا ہے اور وہ بات بیان کرتا ہے جو اس کی دانست میں بہترین علمی تفسیر ہو سکتی ہے۔ جب بات شرعی اصول لاگو ہونے کی ہو تو یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ذمیوں کو عامۃ المسلمین جیسے کپڑے پہننے سے منع کردیا گیا تھا۔
گو کہ اس سلسلے میں کچھ محققین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کے دور کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ محققین کا اصرار عباسی خلافت کے دور پر ہے۔ البتہ غیر مسلموں کے لیئے الگ ڈریس کوڈ۔ الگ عدالتیں ۔ الگ عائلی قوانین وغیرہ کا اطلاق مسلمان معاشروں میں شروع سے رائج ہے۔ اب اس پر کوئی عمل کرے نہ کرے یا کتنا عمل ہوا یہ الگ امر ہے۔ درج بالا تمام امور کے لیئے واضح طور پر اپنی مذہبی وابستگی کا اعلان ایک ضروری امر ہے۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک ذمی خود کو مسلمان بتا کر ذمیوں کے لیئے رعایات حاصل کر لے یا پھر اس کے بالعکس۔

یہاں ذمی سے مراد مسلمان معاشرے میں موجود غیر مسلم ہی مراد ہے
 
بے غیرتی اور بے حیائی کا کاروبار بھی پھیلا رہے ہی
منشیات ۔ بچیاں ۔ لادینیت اور پتہ نہیں کیا کیا۔

تو یہ سب خرید کون رہا ہے؟ اور کیوں؟
طوائف تو گناہکار ہے لیکن اسکے کوٹھے پر جانے والا نہیں۔ عمدہ!
 
شرعی اصول کے لاگو ہونے نہ ہونے کی بحث الگ ہے اور کہاں کون سا اصول لاگو ہوگا یہ فیصلہ بھی آپ شاید اپنے طریقے سے اپنی مرضی کے پلیٹ فارم پر چاہ رہے ہیں۔ اگر تو شرعی اصول کے متعلق معلومات درکار ہیں تو علماء سے دریافت فرمایا جا سکتا ہے۔ اگر عوامی رائے کے متعلق معلومات درکار ہیں تو یہاں تو وہی معلومات میسر ہونگی جو آپ کے تھریڈ کو پڑھنے والے افراد کے پاس موجود ہیں۔ جیسے ہر انسان کی علمی اور ذہنی استعداد مختلف ہوتی ہے اس کا بیان و کلام میں احتیاط کا بھی الگ درجہ ہوتا ہے۔ کوئی یہ کہہ ڈالتا ہے کہ جی فلاں میری نظر میں کافر ہے زندیق ہے مرتد ہے لیکن کوئی ایسی بات کرنے میں احتیاط کرتا ہے اور وہ بات بیان کرتا ہے جو اس کی دانست میں بہترین علمی تفسیر ہو سکتی ہے۔ جب بات شرعی اصول لاگو ہونے کی ہو تو یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ذمیوں کو عامۃ المسلمین جیسے کپڑے پہننے سے منع کردیا گیا تھا۔
گو کہ اس سلسلے میں کچھ محققین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کے دور کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ محققین کا اصرار عباسی خلافت کے دور پر ہے۔ البتہ غیر مسلموں کے لیئے الگ ڈریس کوڈ۔ الگ عدالتیں ۔ الگ عائلی قوانین وغیرہ کا اطلاق مسلمان معاشروں میں شروع سے رائج ہے۔ اب اس پر کوئی عمل کرے نہ کرے یا کتنا عمل ہوا یہ الگ امر ہے۔ درج بالا تمام امور کے لیئے واضح طور پر اپنی مذہبی وابستگی کا اعلان ایک ضروری امر ہے۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک ذمی خود کو مسلمان بتا کر ذمیوں کے لیئے رعایات حاصل کر لے یا پھر اس کے بالعکس۔

یہاں ذمی سے مراد مسلمان معاشرے میں موجود غیر مسلم ہی مراد ہے
اپنی مرضی کے طریق پہ نہیں چاہ رہا بلکہ ان لوگوں سے ہی پوچھنا چاہ رہا ہوں، جو اکثر یہ بات کہتے پائے جاتے ہیں۔
اگر آپ یہ نہیں کہتے تو نہ کہہ کر الگ ہو جائیے۔
اگر کہتے ہیں اور بطور مسلمان کہتے ہیں تو پھر اس کی کوئی شرعی دلیل بھی ہونا چاہئے۔
یا کہ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے، جا اجتہادی مسئلہ ہے۔
 
تو یہ سب خرید کون رہا ہے؟ اور کیوں؟
طوائف تو گناہکار ہے لیکن اسکے کوٹھے پر جانے والا نہیں۔ عمدہ!
طوائف کے کوٹھے پر جانے والا نہ صرف مجرم ہے بلکہ اس طوائف کے کاروبار کو بڑھانے والا بھی ہے۔ اس کی وجوہات میں جہالت اور لاعلمی ایک بڑا فیکٹر ہے جس کو ختم کرنے اور علمی طور پر طوائف کی برائی اور اس کی قباحتیں بیان کرنے پر کچھ لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اور ساتھ ہی طوائف کے حقوق کی بات آجاتی ہے۔ اب کیا کیجئے آج کے مفادات کو کہ اس مجرم کو مجرم کہنے والے یا برائی کے متعلق معلومات دے کر اس سے خبردار کرنے والے کو یہ کہہ کر پابند کیا جاتا ہے کہ اس پر بات نہیں ہوگی کیونکہ اس سے معاشرے میں منافرت پھیلتی ہے
 
Top