فضا کی سانس اکھڑ گئی۔۔۔۔

زبیر مرزا

محفلین
بھئی میں تو یوں بھی اس موضوع پر بات کرنے (مشورے کہہ لیں ) کا حق نہیں رکھتا کہ نیٹ کا محبِ وطن کہلاتا ہوں اس ملک کی بات کرکے:)
بیرون ملک مقیم کمینہ جو ٹھہرا ( پاکستان میں کبھی رہا ہی نہیں ) میں تو بس اس ملک کے بارے میں اچھا سوچنا اوراچھا کرنا چاہتا ہوں
اس پر تھوکنا اوہردم تنقید کرنا مجھے نہیں آیا-
 

محمد امین

لائبریرین
امین بھائی، بہت ہی دلسوز واقعہ ہے۔ خدا خیر کرے۔ امید ہے اس ملک کی فضا بھی بہت جلد ایسی ہو جائے کہ جن لوگوں کا ملک سے یقین اٹھتا جا رہا ہے، ان کا بھی یقین بحال ہو جائے۔

یار حسان یہاں کے امراء کے لیے پاکستان ہو یا امریکہ یا برطانیہ سب ہی جنت ہے۔۔۔ جنہیں اس ملک کا باسی ہونے کی سزا ملتی ہے وہی جانتے ہیں اس کا کرب کہ اپنے ملک میں رہ کر بھی اجنبی ہونا کیسا۔۔ کیوں ہر بندہ باہر جانے کی کوششیں کرتا ہے؟ جب ملک کو برا کہنا لوگوں کو برا لگ جاتا ہے تو پھر کیوں جارہے ہیں میرے سارے دوست باہر؟ اگر ملک بہت اچھا ہے تو یہیں کیوں نہیں ریسرچ کر لیتے؟ یہیں کیوں نہیں کسی عورت سے پیپر میرج کر لیتے؟ یہیں کیوں نہیں پیٹرول پمپ پر نوکری کر لیتے؟ نہیں ہے نا اچھا جبھی تو بھاگ رہے ہیں۔ ملک اور قوم لازم و ملزوم ہیں۔ قوم افراد سے بنتی ہے، جیسے قطرہ قطرہ دریا۔۔۔ پھر وہی قوم ملک کا چہرہ ہوتی ہے۔
"جیسے لوگ ہیں ویسا ہے دریا" ۔۔۔

ابھی کل پرسوں اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری پاکستان غالبا انصاف کی بدترین فراہمی والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔۔۔ جب بھی اس طرح کی کوئی درجہ بندی ہوتی ہے تو "ملک" کا نام آتا ہے ملک میں رہنے والوں کا نہیں۔۔۔

زبیر مرزا بھائی میری باتیں آپ کو تلخ لگتی ہیں، آپ کے طنزیہ تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مجھے باغی سمجھتے ہیں۔۔۔ اگر میں باغی ہوں تو یہاں کا ہر شخص باغی ہے۔۔۔ کیوں کہ جو باتیں لوگ پاکستان کو گالیاں بکتے ہوئے بھی نہیں کہتے وہ میں بڑے آرام سے بک دیتا ہوں۔۔۔ میں حقائق کا نتیجہ پیش کر دیتا ہے۔۔چیزوں کو "انڈر دی کارپیٹ" نہیں کردیتا۔۔۔

گھر تو آخر اپنا ہے والا راگ تو ظاہر ہے کبھی ختم نہیں ہوگا مگر اس کا اعتراف ضرور کرنا چاہیے کہ ملک "برا ہوچکا ہے"۔۔۔ خراب ہوچکا ہے۔۔۔ اخلاق کے دائرے سے نکل چکا ہے۔۔ میں جتنی گالیاں اپنے ملک کو دے لوں مگر مجھے اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور جانا گوارا نہیں رہا کبھی۔۔ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میں اپنے ملک میں اپنی سکونت کو ترک کروں۔۔۔

میں تو سوچتا ہوں کہ کاش کبھی یہ ملک بھی ترقی کر سکے۔۔ یہاں کے لوگ بھی با شعور ہوسکیں، گھپلے، غبن، ڈکیتیاں، قتل، گندی سیاست ختم ہو سکیں۔۔ملاوٹ نہ ہو، جھوٹ نہ بولا جائے، اورنگی ٹاؤن کے بنے ہوئے کپڑے کو سنگاپور اور بینکاک کا کہہ کر نہ بیچا جائے۔۔ لوگ بازاروں میں سونا اچھالتے ہوئے گزریں اور کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔۔ جب کوئی اے ٹی ایم سے رقم نکالنے جائے تو خوف نہ ہو کہ کوئی چھین لے گا۔۔ سڑک پر کھڑے ہو کر موبائل فون پر آرام سے بات کر سکیں۔۔۔

اور شعور اس ھد تک پہنچ جائے کہ کوئی بیگناہ کسی ادارے کا فرد کی کوتاہی کی بناء پر جان، مال سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اس کو کڑی سزا ملے۔۔۔ مجرم کا تعین ہو، اوروہ لائقِ تعزیر ہو۔۔۔

کیا ہم نے یہ سب پاکستان میں کر لیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کئی سالوں سے روزانہ کی بنیادوں پر مارے جانے والے انسان اپنے پیچھے کتنی بیوائیں، نو بیاہتا دلہنیں، بہنیں، مائیں، بوڑھے باپ، چھوٹے بھائی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔۔۔ کیا ان ہزاروں پسماندگان (لاکھوں کہوں تو بیجا نہ ہوگا) کو پاکستان سے ویسی ہی محبت ہوگی جیسی تارکینِ وطن کو نیو یارک لنڈن یا پیرس میں رہ کر ہے؟ انہوں نے اپنے سپوتوں کو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے قربان کیا ہوتا تو اور بات تھی۔۔۔جب کہ یہاں تو لوگ بلاوجہ بے گناہ مارے جارہے ہیں، کوئی فیکٹری میں جل کر، کوئی کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی وجہ سے، کوئی سر پر پگڑی اور چہرے پر داڑھی کی وجہ سے تو کوئی یا حسین کہنے کی وجہ سے۔۔۔آج بھی 10 افراد مارے گئے۔۔۔

کل میرے سامنے قوم پرستوں نے بس کو آگ لگا کر فائرنگ کرتے ہوئے مارکیٹیں بند کرادیں۔۔۔ (رینجرز والا واقعہ آج کا ہے) کیا ہورہا ہے یہ سب؟ کب تک ہوتا رہے گا؟ کیا یہی ہمارا اور اس ملک کا مستقبل ہے؟؟

ان باتوں پر لوگ کہتے ہیں بیٹا باہر نکل جاؤ۔۔۔ عزت ملے گی، دولت ملے گی، جان کی قدر ہوگی، صحت ہوگی۔۔۔۔یعنی پاکستان "اچھا نہیں ہے" ۔۔۔دوسرے ممالک اچھے ہیں۔۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
بیرون ملک مقیم کمینہ جو ٹھہرا ( پاکستان میں کبھی رہا ہی نہیں ) میں تو بس اس ملک کے بارے میں اچھا سوچنا اوراچھا کرنا چاہتا ہوں
اس پر تھوکنا اوہردم تنقید کرنا مجھے نہیں آیا-

ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا۔۔۔
 

زبیر مرزا

محفلین
اب ذاتیات پر اُترکربات ہوگی :) لہذا میں مزید کیا کہوں:) ہاں ایک لقب اور ہے
عیاش یہ پیٹرول پمپ کی نوکری اور پیپرمیرج کچھ پُرانے ہوگئے ہیں
ایک بات سمجھ نہیں آتی میرے جاننے والے جو پاکستان میں ہیں باغی کیوں نہیں ہوگئے
امراء کے طبقے سے ہوں گے سمیت میرے مسلم ٹاؤن میں رہائش پذیرخالہ زاد بھائیوں کے:)
 

محمد امین

لائبریرین
اب ذاتیات پر اُترکربات ہوگی :) لہذا میں مزید کیا کہوں:) ہاں ایک لقب اور ہے
عیاش یہ پیٹرول پمپ کی نوکری اور پیپرمیرج کچھ پُرانے ہوگئے ہیں
ایک بات سمجھ نہیں آتی میرے جاننے والے جو پاکستان میں ہیں باغی کیوں نہیں ہوگئے
امراء کے طبقے سے ہوں گے سمیت میرے مسلم ٹاؤن میں رہائش پذیرخالہ زاد بھائیوں کے:)

ذاتیات کی بات نہیں ہے۔ بات ہے اس دکھ کو محسوس کرنے کی جو وطن کے لیے یہاں کے حالات جھیل کر رگوں میں اترتا ہے۔ کس کس چیز پر بات کروں میں؟ سڑکوں پر ہماری اپنے ہی شہر میں کیا عزت ہے؟ پولیس والا ہم سے "اوئے سائڈ میں آ" کہہ کر بات کرتا ہے جو کہ اس شہر کا باسی ہے بھی نہیں۔ میں جس علاقے میں بچپن سے رہ رہا ہوں اسی کے تھانے میں مجھے بند کردیا گیا تھا ڈبل سواری کے الزام میں اور کیا کیا گالیاں بکی گئی تھیں مجھے حوالات میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔۔کس لہجے میں بات کی گئی تھی مجھ سے بتا بھی نہیں سکتا۔۔۔مجھے لگ رہا تھا علاقے کے جرائم کا سرغنہ میں ہی ہوں اور تین چار بندے پھڑکانے کے بعد تھانے میں براجمان ہوا ہوں۔۔۔ کونسا ملک ہے بھائی یہ؟؟ جہاں ایک دوسرے شہر سے آیا ہوا بندہ میری ہی گلی سے مجھے پکڑ کر تھانے میں بند کر کے کہتا ہے "خود کو بہت بڑا بدمعاش سمجھتا ہے؟" ۔۔۔ سوال تو میرا ان لوگوں سے جن کے لیے پاکستان جنت ہے کہ اگر یہی جنت ہے تو آپ کو مبارک۔۔۔ہمیں برائے مہربانی سزائے موت دے دیجیے کہ ہمیں یہ جنت نہیں چاہیے تھی نہ ہمارے آباء کو چاہیے تھی۔۔۔
 

زبیر مرزا

محفلین
ایک بات تو طے ہے کہ ہم ماموں بھانجا(امین) جب ملیں گے توبحث خوب ہوگی:) یہ کڑوا بولے گا مجھے بُرالگے گا:)
ویسے امین بچے میں تم سے بدگمان ہوں نا تم کو باغی سمجھتا ہوں بس تمھارا کچھ تلخ لہجہ دل ہلادیتا ہے - ان شاءاللہ میں اب کراچی آیا تو
تم کو کچھ لوگوں سے ملواؤں گا
 

زبیر مرزا

محفلین
ارے بھائی امین گالیاں تو ہم نے بھی کھائیں لیکن بے مزا نا ہوئے :) کراچی یونیورسٹی میں ایک تنظیم کے کارکن گریبان پکڑکے
بہت کچھ فرماگئے تھے اس سمیت کہ تو پنجابی بولنے والاکتا کیسے کراچی کاہوسکتاہے؟
ہاں میں کراچی میں پیداہوا اسی شہرمیں اسکول گیا پڑھا لکھا مگر میں اس شہرکا کیسے بن سکتا ہوں؟
یہ ایک واقعہ ہے اور بہت سے ہیں - غاصب ،چوپائے ، جاہل اوربہت سے القاب پائے مگراس شہراورملک کی محبت میں کمی نہیں آئی
چاہے اس سے دورہی رہوں اس کی فلاح کے لیے کام کرتا رہوں گا کیونکہ مجھے ایسا کرنا ہے - میں گالی کے بدلے گالی نہیں دوں گا
میں اس کی اچھائیوں کوکیوں نا دیکھوں؟ مجھے پانی کا گلاس آدھا بھرا ہوا نظرآتا ہے آدھا خالی نہیں
میرے ایک دوست کا بھائی لاپتہ ہے مگرپاکستان کے بارے میں اب بھی وہ مثبت سوچتا ہے
اس کا نام لے کرگالیاں نہیں دیتا-
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ذاتیات کی بات نہیں ہے۔ بات ہے اس دکھ کو محسوس کرنے کی جو وطن کے لیے یہاں کے حالات جھیل کر رگوں میں اترتا ہے۔ کس کس چیز پر بات کروں میں؟ سڑکوں پر ہماری اپنے ہی شہر میں کیا عزت ہے؟ پولیس والا ہم سے "اوئے سائڈ میں آ" کہہ کر بات کرتا ہے جو کہ اس شہر کا باسی ہے بھی نہیں۔ میں جس علاقے میں بچپن سے رہ رہا ہوں اسی کے تھانے میں مجھے بند کردیا گیا تھا ڈبل سواری کے الزام میں اور کیا کیا گالیاں بکی گئی تھیں مجھے حوالات میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔۔کس لہجے میں بات کی گئی تھی مجھ سے بتا بھی نہیں سکتا۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا علاقے کے جرائم کا سرغنہ میں ہی ہوں اور تین چار بندے پھڑکانے کے بعد تھانے میں براجمان ہوا ہوں۔۔۔ کونسا ملک ہے بھائی یہ؟؟ جہاں ایک دوسرے شہر سے آیا ہوا بندہ میری ہی گلی سے مجھے پکڑ کر تھانے میں بند کر کے کہتا ہے "خود کو بہت بڑا بدمعاش سمجھتا ہے؟" ۔۔۔ سوال تو میرا ان لوگوں سے جن کے لیے پاکستان جنت ہے کہ اگر یہی جنت ہے تو آپ کو مبارک۔۔۔ ہمیں برائے مہربانی سزائے موت دے دیجیے کہ ہمیں یہ جنت نہیں چاہیے تھی نہ ہمارے آباء کو چاہیے تھی۔۔۔

او گاڈ

کیا ہوا امین بھائی، ایسا کیوں لکھا، اس طرح نہیں سوچیں، اللہ تعالٰی سے امید ہے کہ سب خیریت ہو گی۔ میں یہ دھاگہ نہیں پڑھا بس آپ کا ایک جملہ دیکھ کر ابھی یہاں لکھ رہی ہوں کیونکہ میں خود ان لوگوں میں سے ہوں جو پاکستان کو جنت کہتے ہی نہیں سمجھتے بھی ہیں۔ ابھی مجھے نہیں اندازہ کہ پیچھے اس دھاگہ میں کیا ہے۔ آج وقت نکال کر پڑھوں گی۔ آپ کی تلخی بے سبب نہیں ہو گی لیکن ہماری زندگی میں کچھ اصطلاحات، کچھ مقام، کچھ چیزیں، کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے ہمیں بہت کچھ ایثار اور قربان کرنا ہوتا ہے، ہمیں انہیں بہت کچھ دینا ہوتا ہے ورنہ ہم مقروض ہی اس دنیا سے چلے جائیں گے۔
 
بدقسمتی سے پاکستان ایک تنزلی کا شکار ہے
وہ ملک جو اپنے ھیروز کو بے عزت کرے کیسے اچھا ہوسکتا ہے
عبدلقدیر خان، عطا الرحمان، جاوید میاں داد۔ کیسے کیسے لوگ ہیں جو ان خوار ہورہے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ انھوں نے پاکستان کو عزت دی۔

حقیقت ہے کہ پاکستان کا نظام کرپٹ ہوچکا ہے۔ ظلم بڑھ رہا ہے۔ لوگ پس رہے ہٰیں۔ معاشرتی نظام کولیپس ہوچکا ہے۔ لوگوں میں نفسانفسی ہے۔ ظالم کی عزت ہے اور عزت دار کی پگڑی اچھلتی ہے۔

خصوصا کراچی میں یہ احساس زیادہ ہے کہ یہ لوگ ہیں جھنوں نے ملک بنایا ہے۔ اپ اپنے ملک میں اجنبی بن گئے ہیں۔

جو ٹریٹمنٹ مجھے کراچی ائیرپورٹ سے ملنا شروع ہوتا ہے وہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتا۔ پھر کیوں نہ باعزت طریقہ سے رہا جائے۔ کس کو اپنی بے عزتی کرانے کا شوق ہے
 

محمد امین

لائبریرین
ارے بھائی امین گالیاں تو ہم نے بھی کھائیں لیکن بے مزا نا ہوئے :) کراچی یونیورسٹی میں ایک تنظیم کے کارکن گریبان پکڑکے
بہت کچھ فرماگئے تھے اس سمیت کہ تو پنجابی بولنے والاکتا کیسے کراچی کاہوسکتاہے؟
ہاں میں کراچی میں پیداہوا اسی شہرمیں اسکول گیا پڑھا لکھا مگر میں اس شہرکا کیسے بن سکتا ہوں؟
یہ ایک واقعہ ہے اور بہت سے ہیں - غاصب ،چوپائے ، جاہل اوربہت سے القاب پائے مگراس شہراورملک کی محبت میں کمی نہیں آئی
چاہے اس سے دورہی رہوں اس کی فلاح کے لیے کام کرتا رہوں گا کیونکہ مجھے ایسا کرنا ہے - میں گالی کے بدلے گالی نہیں دوں گا
میں اس کی اچھائیوں کوکیوں نا دیکھوں؟ مجھے پانی کا گلاس آدھا بھرا ہوا نظرآتا ہے آدھا خالی نہیں
میرے ایک دوست کا بھائی لاپتہ ہے مگرپاکستان کے بارے میں اب بھی وہ مثبت سوچتا ہے
اس کا نام لے کرگالیاں نہیں دیتا-

پاکستان کی سب سے بڑی اچھائی تو یہ ہے کہ میں یہاں رہتا ہوں ؛) ۔۔۔ باقی علاقائی تعصب غلط ہے انتہائی غلط مگر اس کے پیچھے بھی ظاہر ہے ایک تاریخ ہے۔ مجھے تو خود بھی ایسی سوچ زہر لگتی ہے۔ ملک کی فلاح کے لیے سب سے بہتر کام جو میں کر سکتا تھا اس کے لیے پہلا قدم میں اٹھا چکا ہوں، یعنی اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں قدم رکھ چکا ہوں۔ اور اس ابتدائی منزل پر ہی میں وہ ساری باتیں سوچتا اور "برین اسٹورمنگ" کرتا ہوں کہ اعلیٰ تکنیکی تعلیم کا پاکستان میں کیسا مستقبل ہوسکتا ہے اور یہ تعلیم "سوشیو اکنامک" ترقی میں کیسا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر کوئی شخص تنقید کرتا ہے تو ضروری نہیں وہ نفرت ہی کرنا جانتا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ بذاتِ خود تبدیلی کی جانب قدم بڑھانے پر یقین رکھتا ہو۔۔پاکستان پر تنقید کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے بارے میں غلط ہی سوچا جا سکتا ہو۔۔ مگر جہاں "evil prevails" والی بات ہو تو انسان فطری طور پر برائی ہی دیکھتا اور اس کا بارے میں ذکر کرتا ہے۔ اگر پاکستان کے وسائل اور ترقی کے بارے میں بات کی جائے تو اس میں ہر جگہ ایول ہی ایول نظر آئے گا۔ ریکوڈک، اسٹیل ملز، پی آئی اے، تھر کول، ٹورازم، آبی ذخائر وغیرہ۔۔۔ سرکاری ادارے سرے سے ہی بدنام ہیں۔ میں پرفیکشنسٹ ہوں اور خامیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتا ہوں۔۔۔۔

میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کرچکا ہوں کہ میری تنقید صرف باتوں تک محدود نہیں ہے۔ میں لال بتی پر رکنا بھی جانتا ہوں چاہے میرے پیچھے ہزار ہورن بج رہے ہوں۔۔ پیٹرول پمپ پر قطار نہیں توڑتا نہ کسی کو توڑنے دیتا ہوں۔۔۔ روزانہ 60-65 کلومیٹر کا رستہ طے کرتا ہوں کراچی میں بہت تماشے دیکھتا ہوں۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتا ہوں اور واپس آتا ہوں تو گھر سے فقط ایک کلومیٹر قبل میری برداشت جواب دے جاتی ہے اور ذہن مسلسل لعنت لعنت کی گردان کر رہا ہوتا ہے۔۔ اور یہ لعنت بلاوجہ نہیں ہوتی ظاہر ہے جو تماشے مجھے تنگ کرتے ہیں وہ کسی بھی ذی ہوش کی دماغ کی چٹنی بنانے کو کافی ہوتے ہیں، خاص کر اس کی کہ جو پاکستان کو "پاکستان" دیکھنا چاہتا ہو۔۔۔۔اور جو فقط اسی پر اکتفا کرنا چاہتا ہے کہ جیسا ہے جہاں ہے پاکستان اپنا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔!
 
میرے پاس تو صرف دو باتیں ہیں کہنے کو
شکوۂ ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے!
اور دوسری
Imrovement Starts With I
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بے حد افسوسناک ہے، اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائے، اور ان کے لواحقین کو بہت زیادہ صبر و حوصلہ عطا ہو،آمین ۔ ان کے گھر والوں پر کیا گزر رہی ہو گی ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ حادثاتی موت واقع ہو توتمام عمر صبر بھی نہیں آتا اور زخم ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ امین بھائی مجھے پس منظر کا علم نہیں تھا آپ کی تحریر کے۔ یہ بہت دکھی اور افسوسناک ہی نہیں بلکہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، کتنا اچھا ہوتا کہ اگر کسی طرح جان بچائی جا سکتی ۔ یہ جو ہر ٹی وی چینل کو اپنی ریٹنگ بڑھانے کے جنون میں ہر وقت حادثات اور اور جرائم دکھانے سے فرصت نہیں ہے ناں تو ایک بہت بڑا ہاتھ ان تمام چینلز کا بھی ہے، یہ لوگ حادثات اور جرائم کو بھی ڈرامہ بنا کر چوبیس گھنٹے دکھاتے رہتے ہیں کہ عام افراد کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہوتی جا رہی ہیں حقیقی زندگی اور اس کے مسائل میں۔ اس سے بہتر کام یہ ہوسکتا ہے کہ یہ سب اپنی اپنی سطح پر معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کریں اور رہنمائی کرنے کے پروگرام پیش کریں کہ خدانخواستہ کسی بھی ایمرجنسی میں اس جگہ موجود لوگوں کو کس طرح اپنے حواس مجتمع رکھنا ہیں، یا کس طرح فوری طور پر کسی مشکل کا حل نکالنا ہے کہ نقصان سے بچا جا سکے یا اپنا اور دوسروں کا بچاؤ کیا جا سکے۔ حتی کہ نارمل حالات میں روزمرہ زندگی میں کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہییں کہ کسی مشکل یا سانحہ کے وقع پذیر ہونے کے امکانات موجود نہ ہوں یا انہیں کم کیا جا سکے۔ اگر سوچنے لگیں تو کتنی ہی باتیں کرنا ممکن ہے جن سے مجموعی طور پر معاشرے میں بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن ہم لوگ تقسیم در تقسیم ہیں، زبان میں ، علاقہ میں ، سیاسی وابستگیوں میں ، مسلک میں ، ، نسب میں، سوچ میں ، عمل میں، مادیت پرستی میں ، ہر ہر جگہ شاید بس تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں ورنہ پاکستان جیسے قدرت کی عطا کردہ نعمتوں، خوبصورتیوں اور وسائل و ذخائر سے بھر پور اس خطہ زمین سے بڑھ کر بھلا کیا جنت ہو گی!

آپ نے اپنے عمل کے حوالے سے جو لکھا ہے تو سچ بات تو یہی ہے کہ ایسی اچھی سوچ رکھنے والے اور اچھا عمل کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے بس ہم اگر اچھا سوچ سکتے ہیں اور اچھا کر سکتے ہیں تو یہی ہمیں کرنا ہے، ہمارے عمل سے ہمارے آس پاس کے افراد پر اثر پڑتا ہے ہمیں اچھے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ آپ اچھا سوچتے ہیں اور اچھا عمل کرتے ہیں تو میرا یقین بڑھتا ہے، مجھے پاکستان سے محبت بڑھتی ہے، ہمیں پاکستان سے محبت ہے ہمیں اسے بچانا ہے اس کی حفاظت کرنا ہے، اس میں تعلیم اور علم کو آسان بنانا ہے اور بہت کچھ اچھا کرنا ہے۔
 

محمد امین

لائبریرین
میرے پاس تو صرف دو باتیں ہیں کہنے کو
شکوۂ ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے!
اور دوسری
Imrovement Starts With I

مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں!

۔ ملک کی فلاح کے لیے سب سے بہتر کام جو میں کر سکتا تھا اس کے لیے پہلا قدم میں اٹھا چکا ہوں، یعنی اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں قدم رکھ چکا ہوں۔ اور اس ابتدائی منزل پر ہی میں وہ ساری باتیں سوچتا اور "برین اسٹورمنگ" کرتا ہوں کہ اعلیٰ تکنیکی تعلیم کا پاکستان میں کیسا مستقبل ہوسکتا ہے اور یہ تعلیم "سوشیو اکنامک" ترقی میں کیسا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر کوئی شخص تنقید کرتا ہے تو ضروری نہیں وہ نفرت ہی کرنا جانتا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ بذاتِ خود تبدیلی کی جانب قدم بڑھانے پر یقین رکھتا ہو۔۔پاکستان پر تنقید کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے بارے میں غلط ہی سوچا جا سکتا ہو۔۔ مگر جہاں "evil prevails" والی بات ہو تو انسان فطری طور پر برائی ہی دیکھتا اور اس کا بارے میں ذکر کرتا ہے۔ اگر پاکستان کے وسائل اور ترقی کے بارے میں بات کی جائے تو اس میں ہر جگہ ایول ہی ایول نظر آئے گا۔ ریکوڈک، اسٹیل ملز، پی آئی اے، تھر کول، ٹورازم، آبی ذخائر وغیرہ۔۔۔ سرکاری ادارے سرے سے ہی بدنام ہیں۔ میں پرفیکشنسٹ ہوں اور خامیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتا ہوں۔۔۔ ۔

میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کرچکا ہوں کہ میری تنقید صرف باتوں تک محدود نہیں ہے۔ میں لال بتی پر رکنا بھی جانتا ہوں چاہے میرے پیچھے ہزار ہورن بج رہے ہوں۔۔ پیٹرول پمپ پر قطار نہیں توڑتا نہ کسی کو توڑنے دیتا ہوں۔۔۔
 
Top