فریضہ ٔ زکوٰۃ فرض بھی ضرورت بھی

فارقلیط رحمانی نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 18, 2013

  1. فارقلیط رحمانی

    فارقلیط رحمانی لائبریرین

    مراسلے:
    1,933
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Festive
    فریضۂ زکوٰۃ عبادت بھی ضرورت بھی
    مولانا مفتی محمد عمر صاحب

    رفیق دارالافتاء مظاہرعلوم سہارنپور
    ماہ مبارک عنقریب اپنی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے، جس میں فرض کی ادائیگی کا ثواب ستر گنا اور نفل کا ثواب فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے، اس لیے اس ماہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام اہل خیر کے معمولات میں سے ہے، اسی مناسبت سے یہ مضمون شریک اشاعت ہے۔(ادارہ)
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ’’خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہَِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَہُمْ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘‘ (توبہ آیت:۱۰۳)
    آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ آپ ان کو پاک صاف کردیں گے اور ان کے لیے دعا کیجئے بلا شبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے، اور اللہ تعالی خوب سنتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔
    اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی زکوۃ کو باقاعدہ اسلامی حکومت کی تحویل میں دینے کا قانون نازل ہوا ہے، زکوۃ ایک مالی فریضہ اور عبادت ہے جو پچھلے تمام انبیاء اور ان کی شریعتوں میں بھی ایک دینی فریضہ کی حیثیت سے جاری رہا ہے، نصاب زکوۃ، مقدار زکوٰۃ اور مصرف زکوۃ کی صورتیں مختلف رہی ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال کا کچھ حصہ خرچ کرنے کا طریقہ قدر مشترک سب میں یکساں ہے۔
    امم سابقہ میں زکوۃ کا حکم:
    زکوۃ کی اسی غیر معمولی اہمیت اور افادیت کی وجہ سے اس کا حکم پچھلے پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی نماز کے ساتھ ساتھ ہی برابر رہا ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی مختلف آیتوں سے معلوم ہوتا ہے، چنانچہ سورۃ انبیاء میں حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسحق اور پھر ان کے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے
    ’’وَاَوْحَیْنَا اِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَاِقَامَ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَآءَ الزَّکَاۃِ وَکَانُوْا لَنَا عَابِدِیْن‘‘ (انبیاء آیت :۷۳) اور ہم نے ان کو حکم بھیجا نیکیوں کے کرنے کا (خاص کر) نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔
    ایسے ہی سورۂ مریم میں حضرت اسماعیلؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے ’’وَکَانَ یَأْمُرُ اَہْلَہُ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ‘‘ (مریم آیت:
    ۵۵) اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔
    اسرائیلی سلسلہ کے آخری پیغمبر حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے متعلق ہے، کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا
    ’’اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّْا، وَجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَاَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیًّْا‘‘ (مریم آیت:۳۰؍۳۱)میں اللہ کا ایک بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی، اور نبی بنایا اور جہاں کہیں میں ہوں مجھے اس نے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت فرمائی ہے۔
    قرآن مجید کی ان آیات سے ظاہر ہے کہ نماز اور زکوۃ ہمیشہ سے آسمانی شریعتوں کے خاص ارکان اور شعائر رہے ہیں، البتہ ان کے حدود اور تفصیلی احکام و تعینات میں فرق رہا ہے۔
    امت محمدیہ میں زکوۃ کا حکم:
    شریعت اسلامیہ کے ارکان خمسہ میں سے ایک رکن زکوۃ بھی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ نماز کے ساتھ ساتھ ہی زکوٰۃ فرض ہوئی ہے، پورے قرآن مجید میں اقیموا الصلوۃ کے ساتھ آتوا الزکوۃ کا جوڑ بھی یہ ہی بتلاتا ہے ، خصوصا ان سورتوں میں جو قبل از ہجرت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں ان میں بھی نماز کے ساتھ ہی زکوۃ کا حکم موجود ہے، سورۃ مزمل جو نزول قرآن کی بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس میں بھی اقیموا الصلوۃ وآتو الزکوۃ موجود ہے، البتہ زکوۃ کے تفصیلی احکام نازل ہونے سے قبل غالباً قانون زکوۃ یہ تھا کہ انسان کے پاس جو کچھ اپنی ضروریات سے بچ جاتا تھا وہ سب صدقہ کردیتا تھا جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیت ویسئلون ما ذا ینفقون میں ہے کہ صحابہ کرام نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم اللہ کی راہ میں کیا اور کس قدر خرچ کیا کریں، تو جواب میں قل العفو فرمایا گیا یعنی جو کچھ تمہاری ضرورتوں سے بچ رہا ہے وہ سب صدقہ کردیا کرو، تفسیر مظہری میں ہے کہ زکوۃ کے تفصیلی احکام نازل ہونے سے پہلے صحابہ کرام کی یہ ہی عادت تھی کہ جو کجھ کماتے اس میں اپنی ضروریات سے جو کچھ بچ جاتا وہ سب صدقہ کردیتے تھے۔ (مظہری
    ۱؍۴۵۱)اور ہر شخص اپنی اپنی زکوۃ خود ادا کرتا تھا، سورۃ التوبہ کی آیت مذکورہ نازل ہونے کے بعد زکوۃ وصول کرنا اور اس کے مصرف پر خرچ کرنا اسلامی حکومت کا فریضہ قرار دیا گیا یہاں تک پوری امت محمدیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت کریمہ میں اگر چہ خطاب خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر یہ حکم نہ تو آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ آپ کے زمانہ کے ساتھ محدود ہے، بلکہ ہر وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام مسلمانوں کا امیر ہوگا اس حکم کا مخاطب اور مامور ہوگا اس کے فرائض میں داخل ہوگا کہ مسلمانوں کی زکوۃ وصدقات وصول کرنے اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام و اہتمام کرے۔
    صدیق اکبرؓکی خلافت کے ابتدائی دور میں مانعین زکوٰۃ کے ساتھ جہاد کا جو واقعہ پیش آیااس میں بھی زکوٰۃ نہ دینے والے کچھ وہ لوگ تھے جو کھلم کھلا اسلام سے باغی اور مرتد ہوگئے تھے، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے تھے مگر زکوٰۃ نہ دینے کا یہ بہانہ کرتے تھے کہ اس آیت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زکوٰۃ اور صدقات وصول کرنے کا جو حکم تھا وہ صرف آپ کی حیات تک تھا ،ہم نے اس کی تعمیل کی ،اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو بکر صدیقؓ کو کیا حق ہے کہ ہم سے زکوۃ وصدقات طلب کریں اور شروع شروع میں حضرت عمرؓ کو ان پر جہاد کرنے سے اسی لیے تردد پیش آیا کہ یہ مسلمان ایک آیت کی آڑ لے کر زکوۃ سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ وہ معاملہ نہ کیا جائے جو عام مرتدین کے ساتھ کیا جاتاہے، مگر صدیق اکبرؓ نے پورے جزم و عزم کے ساتھ حضرت عمرؓ کو جواب دیتے ہوئے فرمایا جس کو صحیح بخاری ومسلم میں نقل کیا گیا ’’واﷲ لا قاتلن من فرق بین الصلوۃ والزکوۃ‘‘ خدا کی قسم نماز اور زکوۃ کے درمیان جو لوگ تفریق کریں گے میں ضرور ان کے خلاف جہاد کروں گا، پھر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس نقطہ نظر کو قبول کرلیا، اور اس پر سب کا اجماع ہوگیا۔
    مقدار زکوۃ کا تعین:
    قرآن کریم کی آیت
    ’’وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَعْلُوْمٌ لِلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘‘ میں اتنا بتلایا گیا ہے کہ مقدار زکوۃ اللہ تعالیٰ نے متعین فرمادی ہے یہ نہیں کہ جس کا جتنا جی چاہئے اتنی زکوۃ دیدے، اس آیت کریمہ میں دو باتیں بتلائیں گئی ہیں، اول یہ کہ زکوۃ فقراء و مساکین کا حق ہے، ان پر کوئی اختیاری احسان نہیں ہے، دوسرے یہ کہ اس حق کی مقدار اللہ تعالیٰ کے نزدیک متعین ہے کسی کو اس میں گھٹانے بڑھانے کا حق نہیں، مگر وہ مقدار متعین کیا ہے، اس کا بیان آیتوں میں نہیں آیا بلکہ اس کی تفصیلات جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الٰہی اور تعلیمات ربانی کی روشنی میں بیان فرمائی ہیں۔
    نظام زکوۃ:
    نظام زکوۃ سے متعلق کچھ اصولی ہدایات تو قرآن کریم کی مختلف آیات میں موجود ہیں، باقی سب تفصیلات بوحی الٰہی وتعلیمات ربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں، اور انھیں کے مطابق نظام زکوٰۃ جاری فرمایا، کیونکہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں کلی طور پر یہ بتلادیا ہے کہ احکام دین کے معاملہ میں جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ سب بذریعہ وحی فرماتے ہیں، آیت کریمہ
    ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَی، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُوْحَی‘‘ کا یہی مطلب ہے ،شریعت اسلامیہ کے پیشتر احکام میں یہی طریقہ رہا ہے، کہ اصولی ہدایات قرآن شریف میں صراحتاً آئیں، اور باقی تفصیلات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کی گئیں، وہ تفصیلات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے نہیں بلکہ بذریعہ وحی، حق تعالی کی طرف سے حاصل کرکے بیان فرمائیں، اس اعتبار سے حدیث رسول کو قرآن شریف کی تفسیر و شرح کہا جاتا ہے۔
    زکوۃ حکومت کا ٹیکس نہیں بلکہ عبادت ہے:
    قرآن کریم نے آیت مذکورہ ’’خذ من اموالہم‘‘ کے بعد جو ’’صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بہا ارشاد فرمایا اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ زکوۃ وصدقات کوئی حکومت کا ٹیکس نہیں جو عام حکومتیں نظام حکومت چلانے کے لیے وصول کرتی ہیں، بلکہ اس کا مقصد خود اصحاب اموال کو گناہوں سے پاک صاف کرنا ہے۔
    نیز زکوٰۃ وصدقات وصول کرنے سے دو فائدے ہوتے ہیں، ایک تو خود صاحب مال کا ہے کہ اس کے ذریعہ وہ گناہوں سے اور مال کی حرص و محبت سے پیدا ہونے والی اخلاقی بیماریوں کے جراثیم سے پاک صاف ہوجاتاہے، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ قوم کے ان ضعیف عناصر کی پرورش ہوتی ہے جو خود اپنی ضروریات مہیا کرنے سے مجبور یا قاصر ہیں، جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، اپاہج معذور مردو عورتیں اور عام فقراء و مساکین وغیرہ ،لیکن قرآن کریم نے لفظ تطہرہم بہا، صرف پہلا فائدہ بیان کرنے پر اختصار کرکے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ زکوۃ و صدقات کا اصل مقصد پہلا ہی فائدہ ہے، دوسرا فائدہ اس سے ضمنی طور پر حاصل ہوجاتاہے، اسی لیے اگر بالفرض کسی جگہ یا کسی وقت کوئی یتیم ،بیوہ، فقیر، مسکین موجود نہ ہو، جب بھی اصحاب اموال سے زکوۃ کا حکم ساقط نہیں ہوگا، اس مضمون کی تائید پچھلی امتوں کے طریقۂ ادائیگئ زکوٰۃ و صدقات سے پوری طرح ہوجاتی ہے ،کیونکہ احادیث کی صراحت کے مطابق پچھلی امتوں میں جو مال اللہ کے لیے نکالا جاتا تھا اس کا استعمال کسی کے لیے جائز نہیں تھا بلکہ اس وقت دستور یہ تھا کہ اس کو کسی علیحدہ جگہ پر رکھ دیا جاتا تھا، اور آسمانی بجلی آکر اس کو جلا دیتی تھی، اور یہ ہی علامت اس مال وصدقہ کے قبول ہونے کی تھی، اور اگر آسمانی آگ نہ آتی تو صدقہ کے غیر مقبول ہونا سمجھا جاتا تھا، پھر اس منحوس مال کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھا، اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکوٰۃ وصدقات کی اصل مشروعیت کسی کی حاجت روائی کے لیے نہیں کی گئی بلکہ وہ تو ایک مالی حق اور عبادت ہے، جیسے نماز روزہ جسمانی عبادات ہیں ایسے ہی زکوۃ مالی عبادت ہے، اور اس کو عبادت سمجھ کر ہی ادا کرنا چاہئے۔
    امت محمدیہ کی خصوصیت:
    اس امت کی خصوصیات میں سے ہے کہ یہ جو مال فی سبیل اللہ نکالا جائے اس امت کے فقراء و مساکین کے لیے اس کے استعمال کو جائز قرار کردیا گیا جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دوسرے انبیاء پر چھ خصوصیتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرے لیے اموال غنیمت حلال کردئیے گئے، اس سے پہلی امتوں میں تمام اموال غنیمت کو آسمانی آگ سے جلانے کا دستور تھا اور وہی اس کے مقبول ہونے کی علامت تھی۔
    زکوۃ کس مال میں واجب اور کس میں نہیں
    اس سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ نے مسلمانوں کے ہر مال پر زکوۃ کو فرض نہیں کیا بلکہ چند قسم کے اموال کو زکوۃ کے لیے مخصوص فرمایا ہے، مثلاً سونا چاندی، اموال تجارت، زرعی زمین کی پیداوار، اور معادن ورکاز، یعنی وہ چیزیں جو زمین کی مختلف کانوں سے نکلتی ہیں، یا کوئی قدیم دفینہ اور خزانہ جو زمین سے بر آمد ہو، اور ایسے ہی وہ مویشی جو برائے تجارت ہوں، اس طرح کے مالوں میں زکوٰۃ کوفرض قرار دیا گیا ہے، اور اس کے لیے ایک نصاب کو بھی متعین فرمایا گیاہے۔
    کتنے مال پر زکوۃ واجب ہوتی ہے
    جن اموال پر زکوٰۃ فرض کی گئی ہے ان میں بھی ایسا نہیں کہ ہر قلیل و کثیر پرزکوۃ فرض کردی جائے بلکہ اس کے لیے جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص مقدار مقرر فرمائی ہے جس کو فقہاء کی اصطلاح میں نصاب کہا جاتا ہے، اگر اس نصاب سے کم مال ہے، تواس پر زکوۃ نہیں، مثلاً چاندی کے لیے دو سو درہم نصاب مقرر ہے، جس کا وزن ہمارے مروجہ اوزان کے اعتبار سے باون تولہ چھ ماشہ پانچ رتی ہوتا ہے، اور سونے کے لیے بیس مثقال کا نصاب متعین ہے جو ہمارے موجودہ وزن کے اعتبار سے سات تولہ چھ ماشہ ہوتا ہے، اور اموال تجارت کا نصاب بھی چونکہ قیمت ہی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اس لیے اس کا نصاب بھی یہی سونے چاندی کا نصاب ہوگا۔ (جواہر الفقہ
    ۳؍۱۷۸ جدید)
    زکوٰۃ سال بھی میں ایک مرتبہ دی جائے گی
    نظام زکوۃ کا دوسرا بنیادی قاعدہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جب تک کسی مال پر سال پورا نہ گزر جائے اس وقت تک اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی، پھر سال کے ختم پر جتنا مال اس وقت ملک میں موجود ہوگا، اسی کی زکوۃ دی جائے گی۔
    زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر عذاب:
    قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے
    وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْن(توبہ آیت :۳۴۔۳۵)یعنی جو لوگ سونا چاندی جمع کرکرکے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوۃ نہیں نکالتے) آپؐ ان کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنادیجئے، جو کہ اس روز واقع ہوگی جب کہ اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں پہلے تپایا جائے گا پھر اس سونے چاندی سے ان لوگوں کی پیشانیوں، ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا (اور یہ جتلایا جائے گا) کہ یہ وہی (مال) ہے جس کو تم اپنے واسطے جمع کرکے رکھا تا، پس اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو،۔
    ان آیات میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو روپیہ پیسہ جمع کررہے ہیں، لیکن اس پر اللہ تعالیٰ نے جو فرائض مقرر کئے ہیں ان کو ٹھیک سے ادا نہیں کرتے، نیز صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن پاک کی مختلف آیات میں زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں مختلف دعیدیں بیان کی گئی ہیں، اور جس طرح قرآن پاک میں وعیدیں آئیں ہیں ایسے ہی بے شمار احادیث میں بھی زکوۃ ادا نہ کرنے پر وعیدیں آئیں ہیں، چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے
    ’’من اتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکوتہ مُثِّلَ لہ مالُہ یوم القیمۃ شجاعا اقرع لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیامۃ ثم یاخذ بلہز متیہ یعنی بشد قیہ ثم یقول انا مالک انا کنزک‘‘ (بخاری شریف ۱؍۸۸)
    یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو مال دیا اور اس نے زکوۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کے مال کو بڑا زہریلا گنجا سانپ بنادیا جائے گا اور اس کی گردن میں لپیٹ دیا جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔
    اور ایک جگہ اور ارشاد فرمایا گیا ’’ما منع قوم الزکوۃ الاابتلاہم اﷲ بالسنین‘‘ یعنی جو قوم زکوۃ نہیں نکالتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی یعنی ضروریات زندگی کی گرانی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ (مجمع الزوائد
    ۱؍۱۴۳)
    لہٰذا اس طرح کی وعیدوں کے پیش نظر تمام مسلمانوں کو چاہئے خاص کر جن لوگوں پر زکوۃ فرض ہے کہ وہ زکوۃ ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں، اور اس دینی فریضہ کو فریضہ و عبادت سمجھ کر ہی ادا کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,092
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جزاک للہ رحمانی صاحب۔
    زکوٰۃ کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ قرآن پاک میں جہاں جہاں نماز کا ذکر آیا ہے ساتھ ہی زکوٰۃ کا بھی ذکر آیا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عبدالباری شفیق السلفی

    عبدالباری شفیق السلفی محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    ماشاء اللہ اچھی تحریر ی ہے۔
     
  4. atta

    atta محفلین

    مراسلے:
    82
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جزاک اللہ خیرا.
     
  5. حافظ سجیل

    حافظ سجیل محفلین

    مراسلے:
    2
    اس موضوع پرخاکسارکاریسرچ کررہاہے
    براہِ مہربانی اس سوال کاجواب دلائل کےساتھ دیں۔
    آنحضورﷺ نےجن چیزوں پرزکوٰۃ واجب تھی ان کی تشریح فرمادی تھی۔لیکن آج کےدورمیں کچھ نئی چیزوں پربھی زکوٰۃ عائدکی جاتی ہے۔
    کیایہ سوال درست نہیں ہےکہ جن چیزوں پرآنحضورﷺ نےزکوٰۃ واجب نہیں فرمائی اب ان پرزکوٰۃ کیسےعائدکی جاسکتی ہے؟
    چاہے وہ چیزیں آنحضورﷺ کےزمانہ میں موجودتھیں یا نہیں تھیں۔
    کس بنیادپران پرزکوٰۃ لگائی جاتی ہے۔
    اس کاایک جواب جوملاہےوہ قیاس اوراجتہاد کوبنیادبناکردیاگیاہےاگرانہی اصولوں کوبنیادبناناہے توپھران کی حدودبھی بیان کردیں کہ کن کن معاملات میں قیاس اوراجتہاد کوبنیادبنایاجاسکتاہے کیاان کی کوئی حدودبھی ہیں یانہیں؟
     
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    27,330
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    ان کی کوئی حدود نہیں۔ وقت اور حالات کے مطابق قیاس و اجتہاد ہوتا رہنا چاہیئے کہ یہی ایک زندہ معاشرے کی پہچان ہے
     
    • متفق متفق × 1
  7. حافظ سجیل

    حافظ سجیل محفلین

    مراسلے:
    2
    حدودسےمیری یہ مرادہے کہ کن کن امورمیں قیاس اوراجتہاد کوجائزقراردیاجاسکتاہے؟
    کیااگرکل کوئی یہ کہے کہ نمازوں کےمتعلق قیاس واجتہادکرکےان کی تعدادکم یابڑھائی جاسکتی ہے توپھرآپ کاجواب اس کےحق میں جائے گا
    (ان کی کوئی حدود نہیں۔ وقت اور حالات کے مطابق قیاس و اجتہاد ہوتا رہنا چاہیئے کہ یہی ایک زندہ معاشرے کی پہچان ہے)
    اسی طرح اگرکسی اورشرعی مسئلے میں آپ کےجواب کوبنیادبناکروہ تبدیلی کرناچاہے توکیاشرعی روک ہےپھراسے؟
    دوسری بات یہ کہ میرےسوال کےدوسرے حصے کاہی جواب دیاآپ نے۔پہلےحصے کےجواب کامنتظرہوں۔
    کہ جس چیزپرزکوٰۃ واجب تھی اس کی وضاحت آنحضورﷺ نےکردی (بلغ ماانزل الیک من ربک)جس چیزکی وضاحت نہیں کی ہم کون ہوتے ہیں اس پرزکوٰۃ لگانےوالے؟
    جس طرح نمازاسلام کااہم رکن ہےاسی طرح زکوٰۃ بھی اہم رکن ہے اگراس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے توپھرباقی ارکان میں تبدیلی کرنےمیں کوئی روک نہیں؟
     

اس صفحے کی تشہیر