غزل: ۔۔۔ چلے جانا ۔۔۔

علی امان

محفلین
غزل: ۔۔۔ چلے جانا ۔۔۔
شب ہے ٹھہرو سحر چلے جانا
باندھ رختِ سفر چلے جانا

اپنی دنیا الگ بسانے کو
چھوڑ کر میرا گھر چلے جانا

میری تعمیرِ آس کو ہمدم
کر کے زیر و زبر چلے جانا

کتنا مشکل ہے تم سے یہ کہنا
کہہ رہا ہوں مگر، چلے جانا

ظلمتِ شب اماؔن کو دے کر
لے کے نورِ سحر چلے جانا
(علی اماؔن)
 
Top