غزل - دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہء ایماں ہونا -پنڈت برج نارائن

دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہء ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا

ہم کو منظور ہے اے دیدہء وحدت آگیں
ایک غنچہ میں تماشائے گلستاں ہونا

سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
میری تقدیر میں تھا بے سروساماں ہونا

گل کو پامال نہ کر لعل و گوہر کے مالک
ہے اسے طرہء دستارِ غریباں ہونا

ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

پنڈت برج نارائن
 

الف عین

لائبریرین
چکبست کا نام بھی لکھ دینا تھا، لوگوں کو شاید اصل نام معلوم نہ ہو۔ ان کا پورا نام تھا
پنڈت برج نارائن چکبست
 

مغزل

محفلین
بہت بہت شکریہ بابا جانی

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا

یہ شعر بچپن سے یاد ہے ، لیکن پورا کلام کبھی نہ دیکھ پایا ، آپ نے دل کی مراد پوری کردی ، بہت خوب صورت انتخاب ہے ، بہت شکریہ
 

فاتح

لائبریرین
دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

ہم کو منظور ہے اے دیدۂ وحدت آگیں
ایک غنچہ میں تماشائے گلستاں ہونا

سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا

گل کو پامال نہ کر لعل و گوہر کے مالک
ہے اسے طرۂ دستارِ غریباں ہونا

ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

پنڈت برج نارائن چکبست​
 

تلمیذ

لائبریرین
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

تو یہ ان کا شعر ہے، بہت خوب۔
 

محمد وارث

لائبریرین
درست کہا فاتح صاحب، ٹیگز کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسی قباحتیں ہو رہی ہیں، سعود صاحب شاید اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور ٹیگز کے بغیر ان کو ضم کرنا بھی کافی وقت طلب کام ہے، خیر قندِ مکرر ہی سہی ۔۔۔۔۔۔
 

کاشفی

محفلین
مکمل غزل پڑھیئے۔۔۔
غزل
(پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی)
دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
ہم کو منظور ہے اے دیدۂ وحدت آگیں
ایک غنچہ میں تماشائے گلستاں ہونا
سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا
دل اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا
ولولوں کے لئے ممکن نہیں زنداں ہونا
دفترِ حسن پہ مہرید قدرت سمجھو
پھول کا خاک کے تودہ سے نمایاں ہونا

گل کو پامال نہ کر لعل و گُہر کے مالک
ہے اسے طرۂ دستارِ غریباں ہونا
ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا
ہم اسیروں کی دعا ہے کہ چمن سے اک دن
دیکھتے خانہء صیّاد کا ویراں ہونا
 
Top