عمل کی رسی

بزم خیال

محفلین
سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھنے سے لے کر ذہنی یکسوئی تک توازن کا رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔کشتی بنانے والا اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پانی میں کشتی کا توازن قائم رہ سکے اور سفر کرنےوالے محفوظ بھی رہیں اور پار بھی لگ جائیں۔یہی سوچ اسے سفر کرنے والوں سے ممتاز رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے فن میں یکتا ہوتا ہے۔ تند وتیز لہروں سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی باریک سوراخ بھی در خوراعتنا نہیں سمجھے جاتے۔کیونکہ ناخدا کشتی سے باہر کی لہروں کے تھپیڑوں سے باآسانی نپٹ لیتے ہیں مگر فرش کے سوراخ سے اُبلتے پانی انہیں جلد ساحل پر اُترنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیونکہ لنگرانداز ہونا ڈوبنے سے بحر صورت بہتر ہوتا ہے۔کہنے والے کہہ چکے جان ہے تو جہان ہے۔ایسی جان جو ہمیشہ فن شناس کی قدردان رہتی ہے۔بے بہا دولت کا حصول بہترین کشتیوں اور تجربہ کار نا خداؤں کی خدمات کے حصول کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔جھیلوں دریاؤں آبشاروں پر سخت رسے پر چل کر پار کرنے کا زمانہ گزر چکا جب ایک وقت میں ایک انسان جان جوکھوں میں ڈال کر منزل مقصود تک رسائی پانے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کاغذی نوٹ اور علامتی سکے بننے اور ڈھلنے کے عمل سے شناسا نہیں تھے۔
وقت کے دھارے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تن آسانی کی عادت پروان چڑھتی گئی اور انفرادی محنت و مشقت سے توازن قائم رکھنے کی روایت کمزور پڑتی گئی۔فاصلوں کو قریب کرنے کے لئے اوروقت کو بچانے کے لئے ضرورتوں کو پھیلا دیا تو طرز طرز کی ایجادات نے جنم لینا شروع کر دیا۔جو یکبارگی کے فن کی محتاج تھی۔یہی وہ دور ہے جب انسان نے بے جان چیزوں کی کلوننگ کا آغاز کیا اور ایک ہی خدو خال ،اوصاف و صفات جیسی ان گنت ہمشکل اشیاء کو انسانی زندگانی کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنایا گیا۔قدرتی حسن و جمال میں اضافہ کرتے اشجار خود روئی کی بدولت جنگلات کی شان و شوکت تھے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کی بدولت انقلابات زمانے کے رحم و کرم پر ہیں۔
رات کی تاریکیوں میں جگمگاتے ستاروں کی روشنی سونے والوں کو بیدا رہنے پر مجبور رکھتی تھی۔جنہیں اندھیروں میں بھی راستے صاف دکھائی دیتے تھے۔راہزن پہاڑوں غاروں کو اپنا مسکن بناتے تھے۔جہاں روشنیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔قافلے رات کھلے میدانوں میں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے شمعیں روشن رکھتے تھےاور دن میں سفر کرتے تھے۔ ستاروں کی روشنیوں نے آبادیوں کو روشنی سے وابستہ کر دیا۔یہاں تک کہ آدھی رات کا پورا چاند بھی اپنی دلکشی و حسن کی رعنائیوں سے چاہنے والوں کی نظر التفات سے محروم ہونے لگا۔ رنگ و نور کی برسات جو آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی وہ انہیں دائرے میں روشنی کے ہالے بن کر رہ گئے۔توانائی کے استعمال سے حرارت نے دھوئیں کے بادل کے روپ اختیار کر لئےجو نظر اور نور کے درمیان چلمنِ رقیب ہو گئے۔حسن کے جلوے نظروں سے اوجھل کیا ہوئے عشق نے محبوب کے خدو خال ہی بھلا دیئے۔
محبت بدن کی حرارت نہیں جو قریب آنے پر تشنگی مٹا دے یہ تو روح کی بلاغت ہے جو قربت کے خیال سے رنگ و نور اور وجدانِ عشق کے درمیان حائل حرارت کو مٹا دے۔ عشق میں جلنے والے محبوب سے لاتعلق ہو جاتے ہیں ۔ محبوب تک رسائی چاہنے والے کشتیوں میں بیٹھ کر نہیں رسیوں پر چل کر آگ کے دریا پار کرتے ہیں کیونکہ یہ در نہیں جو دستک سےکھل جائیں۔ فطرت کا حسن جن کے اندر پہلی نظر کی محبت ،کونپل کی طرح کھلنے اور سخت تپتی جلتی ریت پر پانی کی گرتی بوندوں کی طرح ٹھنڈک کے احساس جیسا جاگزیں ہو، تو ہر رشتہ جو جسم و جاں سے نام و نسب کی منسوبیت رکھتا ہو بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ میان سے نکلی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کے سامنے مضبوط ڈھال کے ساتھ ساتھ مضبوط گرفت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سر پیش کرنے والے عاجزی کی مثال نہیں ہو سکتے ۔عشق زور کا طالب رہتا ہے۔جو کشش نہیں چاہت سے پروان چڑھتا ہے۔
مجازی محبت ایسی روشنی ہے جو آگ سلگانے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اختتام جلنے پر ہوتا ہے۔عشق حقیقی قلب میں محبوب کے قرب و وصال کی باہم کشمکش سے پیدا ہوتا ہے جو روح کو منورکرتا ہے۔عمل کی مضبوط رسی ارتکاز کی کھائیوں سے باآسانی گزار دیتی ہے۔علم سےعالم اور جاہل کا فرق نہیں جانا جا سکتا۔لفظ سوچ کی شناخت ہوتے ہیں اور مفہوم علم و فکر کے۔ علم سوچ کی کشتی کی بجائے عمل کی رسی پر توازن قائم رکھنے کا عادی ہو تو سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والے پار لگ جاتے ہیں۔جو توازن برقرار رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو قدموں کو لڑکھڑاہٹ سے باز رکھتی تو ذہن و سوچ کو قرآن و سنت پر یکسوئی پر آمادہ رکھتی ہے۔ بات علم کی ہو یا عمل کی عدم توازن سے گمراہی کی کھائیاں خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ایجادات کی کلوننگ نے وجدان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا سکھا دیا ہے ۔ جہاں حرارت کی غیر موجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی عدم دستیابی اندھیرے کی تعریف ہے۔وہیں اچھائی نہ ہونے کو برائی ہی مانا جائے گا۔زندگی کے مفہوم اندورنی و بیرونی فلسفہ حیات سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔زمین اور چاند کا کیا تعلق ہے ۔سورج کا زمین سے کیا رشتہ ہے ۔ اندھیرے روشنی سے روشن ہیں یا روشنی اندھیرے سے بندھی ہے ۔نئے پتے کھلنے کا موسم پت جھڑ کے موسم سے الگ ۔سورج کے ایک حصہ کے قریب پہنچ کر ہمیشہ سردی دوسرے حصہ کے قریب ہمیشہ گرمی کی شدت۔
سورۃ الانعام
اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۹۹

محمودالحق



12 people reached
Boost Post
 

bilal260

محفلین
ایک ماہ پہلے اس مضمون کو میں نے اپنے برائوزر میں ایڈ ٹو فیورٹ کیا تھا ۔آج اس مضمون کو پڑھنے کی توفیق ملی الحمد للہ ۔
یہ اللہ کا کرم اور احسان ہے جو اس تحریر کو پڑھ سکا اور اچھا بننے کی کوشش کر سکوں گا۔
یہ تحریر بہتر سے بہتر کی جستجو کی طرف لے جاتی ہے۔ما شاء اللہ الحمد للہ۔آپ جناب کا شکریہ جو اس تحریر کو عام کر دیا۔شکریہ۔
 
Top