عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم

محفلین
جس کسی کو بهی عشق کرنا ہو
سیکهئے ہم سے جو یہ مرنا ہو

ہر ادا آپ کو سکهائیں گے
حد میں رہنا اگر گزرنا ہو

اہل محفل کہ رند ہم ایسے
کب سدهرتے ہیں جب سدهرنا ہو

یا ہو نظروں میں آپ کی گرنا
یا ہمیں آپ میں ابهرنا ہو

دیکهئے کب ہماری نیندوں کا
اپنی آنکهوں سے بهی گزرنا ہو

اب سے رنجور ہو گئے صاحب
فتح غم کا حجاز کرنا ہو ؟؟؟؟
 

عظیم

محفلین
عشق کی آگ میں جلا ہوں میں
اہل دوزخ سنو چلا ہوں میں
÷÷کہاں چلے ہو؟ یہ بھی تو واضح ہو!!

جنت سے دہی لینے بابا - :p

ہوں کسی اور سے برا لیکن
آج اپنے سے کچھ بهلا ہوں میں
÷÷مفہوم؟

بابا شاعر کو ایک بیماری ہے وہ اپنے آپ کو کوستا رہتا ہے -
ڈاکڑ نے کہا ہے کہ اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو دوسروں سے رجو کرو ! شاعر اب رجو میں لگا ہے - اور دوسرے بیماروں کو کهانستا دیکه اپنے دل کو تسلیاں دے رہا ہے کہ بهائی ایک دو سے تو اچها ہوں -


عشق مجھ کو پکارتا ہے بول
صاحب اس جان کی بلا ہوں میں
÷÷مفہوم؟

بابا یہ تو آسان ہے اب بهی نہیں سمجهے - افففف - بابا شاعر نے ڈاکڑ کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کو دیکها تو اس نے پایا کہ ہر طرف عشق کا رونا ہے - وہ کلینک سے جیسے ہی باہر نکلا تو دیکهتا ہے کہ حضرت عشق سڑک کے دوسرے کنارے پر کهڑے موصوف کو بلا رہے ہیں اور ساته ہی ساته دهمکیاں دے کر ان کے منہ سے یہ اگلوانا چاہتے ہیں کہ محترم عشق صاحب جان کی بلا ہیں -



کوئی دیکهے یہ میرا مٹ جانا
کوئی دیکهے کہ مر چلا ہوں میں
÷÷درست

جی بابا مگر مجهے یقین ہے کہ آپ ٹهیک سے سمجهے نہیں ہونگے - چلئے میں ہی بتا دیتا ہوں - کہیں اپنے دوستوں میں میری برائیاں ہی نہ کرتے پهریں - جس کو چلنا سکهایا اب وہ دوڑتا ہے -

بابا اس شعر میں شاعر سڑک پار کرکے حضرت عشق کے پاس پہنچنا چاہتے تهے کہ اچانک ایک چنگ چی رکشہ نے انہیں ٹکر مار دی اور یہ بیچارے جا پڑے اسی پار جس پار سے چلے تهے - دوسرے مصرع میں جناب آخری دموں پر معلوم ہوتے ہیں - اور مرتے مرتے دوسروں کا بهی جینا حرام کرنا چاہتے ہیں - ظاہر ہے کوئی مرنے والے کو کیوں دیکهے تماشا تو زندہ لوگوں کا لگا ہے -

بابا شاعر لوگ اپنے شعر کی تشریح نہیں کرتے ایسا سنا تها میں نے مگر بابا آپ کی خاطر کر دی تاکہ آپ بهی تهوڑا بہت شاعری کے بارے جان لیں - :ROFLMAO:
 

الف عین

لائبریرین
سیکهئے ہم سے جو یہ مرنا ہو
۔÷÷سیکهے ہم سے جسے بھی مرنا ہو
اگر یہی مراد ہے تو واضح کہو نا

حد میں رہنا اگر گزرنا ہو

اہل محفل کہ رند ہم ایسے
کب سدهرتے ہیں جب سدهرنا ہو

یا ہو نظروں میں آپ کی گرنا
یا ہمیں آپ میں ابهرنا ہو
اب سے رنجور ہو گئے صاحب
فتح غم کا حجاز کرنا ہو ؟

÷÷کوئی واضح نہیں
ایک ہی شعر بچا؟ وہ تو بہت خوب ہے
 

الف عین

لائبریرین
آخری دو اشعار میں پہلا مصرع تقطیع کے حساب سے نا مکمل ہے۔ محض فعول آ رہا ہے جب کہ غزل کی بحر فعولن چار بار ہے۔
مشق کے لئے سمجھو اس غزل کو۔
 

عظیم

محفلین
سیکهئے ہم سے جو یہ مرنا ہو
۔÷÷سیکهے ہم سے جسے بھی مرنا ہو
اگر یہی مراد ہے تو واضح کہو نا

جی نہیں بابا -

حد میں رہنا اگر گزرنا ہو

اہل محفل کہ رند ہم ایسے
کب سدهرتے ہیں جب سدهرنا ہو

یا ہو نظروں میں آپ کی گرنا
یا ہمیں آپ میں ابهرنا ہو
اب سے رنجور ہو گئے صاحب
فتح غم کا حجاز کرنا ہو ؟

÷÷کوئی واضح نہیں
ایک ہی شعر بچا؟ وہ تو بہت خوب ہے

جی بابا -
 

عظیم

محفلین
بے سبب اضطراب میں رہنا
ہم نے دیکها ہے خواب میں رہنا

ہم سے کب ہو سکا کہ رہتے ہم
اس جہان خراب میں رہنا

اے غم زندگی ہوں بے چارہ
سنیو تهوڑا حساب میں رہنا

مانگنا غیر سے پناہیں اور
وائے ان کی جناب میں رہنا

ایسی معصومیوں سے خطرہ ہے
اس پہ ڈوبے شراب میں رہنا

میں بهی طالب ہوں دین حق تیرا
تم بهی میرے نصاب میں رہنا

صاحب آتا ہے یاد ہم کو اب
فکر اجر و ثواب میں رہنا
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
یاد رکها انہیں بهلایا بهی
ضبط اپنے کو آزمایا بهی

کهل سکا بهید کب کوئی ہم سے
ہم نے صحرا میں سر کهپایا بهی

پہلے اپنوں نے ساته چهوڑا تها
اب بنا غیر ہر پرایا بهی

داغ دل چشم نازنیں سے ہم
وا بهی رکها کیا چهپایا بهی

وائے حسرت یہ میری ناکامی
ہار جاوں پہ جیت آیا بهی

نغمہ اے کم سخن زمانے میں
تو سنا ہے کسی سنایا بهی

طول دیجے گا داستانوں کو
مختصر گر بیان آیا بهی

قصہء غم کسے کہیں یارو
کون سمجهے اگر سنایا بهی

ان کی راہوں پہ ہی لٹا دوں گا
میں جو صاحب قرار آیا بهی
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
گلہ تجھ سے کروں زاہد میں اپنی بے قراری کا
خمار ایسا نہیں مجھ کو جنوں کی بد خماری کا

رہا کیجے کن آنکهوں میں بصیرت دیکهنے پائے
الہی ماجرا ہے کیا ہماری انتظاری کا

کیا زخم جگر کو وا دکهائے چاک سینے کے
کهلا تب راز دنیا پر ہماری آہ و زاری کا

یہ فطرت ہے سلیموں کی سلیقہ چاہئے اعلی
کہیں کچھ ہوش باقی سا ہے ان میں ہوشیاری کا

کہا جائے بهی کیونکر اہل دنیا سے مخاطب ہو
جو ان روزوں ہوا ہے حال اس حالت ہماری کا

عظیم اس واسطے چپ تهے کہ کوئی کیا سمجهتا ہو
یہ جو مطلب نکلتا ہے کسی کی پاسداری کا
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
عشق کو بارہا خطا جانا
اپنے ہر جرم کی سزا جانا

جانتے تهے بتوں کی ہم خوبی
جانتے جانتے خدا جانا

دیکھ معصومیاں ہماری شیخ
کیا سمجهتے تهے اور کیا جانا

ہم جو پیروں کے پیر ہو بیٹهے
دنیا والوں نے بچپنا جانا

یاد آتا ہے ان کا یاد آنا
اور آکر ہمیں رلا جانا

وائے اس عشق کو ہمارے تم
روگ جانا بری بلا جانا

اے غم زندگی خدا حافظ
یار کے بن نہیں رہا جانا

سن چکے حال دل رقیبو کیا
ہم سے آگے نہیں کہا جانا

صاحب اس نازنیں کی خاطر لیک
چپ کا صدمہ نہیں سہا جانا
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
ایک اس کے ہی دهیان میں رہئے
آپ چاہے گمان میں رہئے

چلئے کچھ خاک اس طرح سے ہو
جیسے اس آسمان میں رہئے

ہے عجب اس مکان کا جهگڑا
آپ اس لامکان میں رہئے

کب ہے مردود غم بیاں قابل
ہم جو اہل زبان میں رہئے

کیجئے بیر ہم سے لیکن آپ
لوگ اپنی امان میں رہئے

روح میں بس چکے ہماری وہ
کیونکہ اب جسم و جان میں رہئے

اس اذیت سے آرزو جاگے
عمر بهر امتحان میں رہئے

ڈهونڈ لیتے ہیں ڈهونڈنے والے
لاکھ وہم و گمان میں رہئے

صاحب اس شوخ سے کہیں کیسے
آئیے اک مکان میں رہئے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مجھے بھی ضرورت ہے دعاؤں کی یقیناً۔ ویسے یہ غزل خوب کہی ہے۔ ماشاء اللہ
ایک اس کے ہی دهیان میں رہئے
آپ چاہے گمان میں رہئے
۔۔درست

چلئے کچھ خاک اس طرح سے ہو
جیسے اس آسمان میں رہئے
۔۔واضح نہیں ہوا۔ یوں کہا جائے تو
خاک بھی اس طرح زمیں پہ نہ ہو

ہے عجب اس مکان کا جهگڑا
آپ اس لامکان میں رہئے
۔۔درست

کب ہے مردود غم بیاں قابل
ہم جو اہل زبان میں رہئے
÷÷ہم جو؟؟ اس کی بجائے ’کیسے اہل زبان میں رہئے‘ ہو تو بات بن جائے

کیجئے بیر ہم سے لیکن آپ
لوگ اپنی امان میں رہئے
۔۔لوگ‘ مس فٹ ہے
کیجے ہم سے بیر، لیک جناب
آپ اپنی ا مان ۔۔۔۔
تو بہت خوب

روح میں بس چکے ہماری وہ
کیونکہ اب جسم و جان میں رہئے
÷÷واہ

اس اذیت سے آرزو جاگے
عمر بهر امتحان میں رہئے
۔۔خوب

ڈهونڈ لیتے ہیں ڈهونڈنے والے
لاکھ وہم و گمان میں رہئے
÷÷درست، خوب

صاحب اس شوخ سے کہیں کیسے
آئیے اک مکان میں رہئے
÷÷’اس مکان‘ کہیں تو بات بہتر ہو۔
 
Top