عربی خطاطی کی ورکشاپ

نبیل

تکنیکی معاون
کچھ روز قبل مجھے خبر ہوئی کہ ایک صاحب عربی خطاطی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کر رہے ہیں۔ میں نے بھی اس ورکشاپ کے لیے رجسٹر کر لیا۔ یہ ورکشاپ گزشتہ ہفتے کو منعقد ہوئی تھی۔ یہ ورکشاپ پیش کرنے والے صاحب زہیر ایلیا صاحب تھے جو کہ ملک شام سے تعلق رہتے ہیں اور بیس سال سے جرمنی میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے اداکاری اور تھیٹر سے متعلق تعلیم حاصل کی ہے اور خطاطی ان کا شوق ہے۔ وہ یہاں کی یونیورسٹی میں orientalistics کے کورس میں خطاطی کے لیکچر بھی دیتے ہیں۔

خطاطی کی اس ورکشاپ میں ورکشاپ کم تھی اور زیادہ تر عربی رسم الخط کے ارتقاء سے متعلق معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ میرے پاس اس ورکشاپ کا کوئی تفصیلی پروٹوکول یا ریکارڈنگ موجود نہیں ہے۔ میں صرف اپنی یادداشت سے اس کی چند ہائی لائٹس پیش کر رہا ہوں۔

۔ عربی رسم الخط اور عربی خطاطی کے ارتقا کا گہرا تعلق قران کی کتابت سے رہا ہے اور مسلمانوں کی قران سے محبت نے عربی خطاطی کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
۔ عربی کی سب سے زیادہ خوبصورتی خط ثلث میں نظر آتی ہے اور صرف خط ثلث‌ پر مہارت رکھنے والے کو خطاط ماننا چاہیے۔
۔ عربی خطاطی کے تمام قواعد ایک دائرے اور نقاط کے امتزاجات پر مشتمل ہیں۔
۔ اتاترک نے ترکی میں عربی رسم الخط کو ختم کرکے اسلامی خطاطی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا کیونکہ اس زمانے میں بہترین خطاط سلطنت عثمانیہ میں ہی پائے جاتے تھے

عربی خطاطی کی تاریخ بیان کرنے کے بعد زہیر ایلیا نے ہمیں خود سے عربی میں الفاظ لکھنے کی مشق کروائی۔ انہوں نے ہمیں چند صفحات دیے جس میں خط ثلث کے قواعد درج تھے۔ میں نے اپنا نام خط ثلث‌ میں لکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے اس میں دقت پیش آئی کیونکہ مجھے نستعلیق میں لکھنے کی عادت رہی ہے۔ میں نے اس موقعے پر کیلیگرافی مارکر بھی خریدا۔ یہ اگرچہ دیکھنے میں ایک عام مارکر کی طرح ہے جس کی نب ایک خاص زاویے پر کاٹی گئی ہو، لیکن یہ جرمنی میں عام دستیاب نہیں ہے۔ میں گزشتہ سال پاکستان گیا تھا تو وہاں بھی مجھے خطاطی سے متعلقہ لوازمات ڈھونڈنے میں بہت مشکل پیش آئی تھی۔ لاہور میں صرف اردو بازار میں پین کا ایک سیٹ ملا تھا جس کی نب خوشخطی کے لیے موزوں تھی۔ زہیر ایلیا نے لکڑی تراش کر خطاطی کے لیے قلم تیار کرنے کا طریقہ بھی پیش کیا۔ میں نے زہیر ایلیا سے دریافت کیا کہ کیا وہ کمپیوٹر اور ٹائپوگرافی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ کمپیوٹر کا استعمال بہت کم جانتے ہیں۔

مجموعی طور پر مجھے یہ ورکشاپ دلچسپ لگی۔ اگر اس نوعیت کی ورکشاپ مزید منعقد ہوئیں تو میں ان بھی شرکت کروں گا۔
 

مکی

معطل
دلچسب روداد ہے.. کچھ عرصہ قبل ایک صاحب کے ہاں عربی خطاطی کی تاریخ پر ایک عربی کتاب دیکھی تھی کتاب اتنی دلچسب اور معلومات و خطاطی کے نمونوں سے بھرپور تھی کہ میں باقاعدہ اس کا ترجمہ کرنے کے بارے میں سوچنے لگا مگر وہ صاحب کتاب دینے پر راضی نہ ہوئے حالانکہ انہیں عربی نہیں آتی تھی اور وہ کتاب ان کے کسی کام کی نہیں تھی.. :mad:
 

نبیل

تکنیکی معاون
جی مکی بھائی۔ مذکورہ بالا خطاطی کی ورکشاپ کے موقعے پر زہیر ایلیا نے اپنی خطاطی کے نمونے نمائش کے لیے پیش کیے ہوئے تھے اور خطاطی سیکھنے سے متعلق کچھ کتب بھی تھیں جو کہ عربی میں تھیں۔ یہ کتابیں صرف دیکھنے کے لیے تھیں اور یہ بھی جرمنی میں دستیاب نہیں تھیں۔ :(
 

مکی

معطل
ایک سال ریاض میں گزارا اور بیگ بھر کر کتابیں پاکستان لایا مگر خطاطی کی کسی کتاب کی طرف دہان ہی نہیں گیا.. :(
 

سویدا

محفلین
خلیج سے ایک بہت اعلی اور عمدہ قسم کا رسالہ خطاطی اور خطاطین کے موضوع پر چھپتا ہے
حروف عربیۃ
شائقین کے لیے قابل دید ہے
یہاں‌نیٹ پر اس کے کچھ شمارے موجود ہیں‌
 

سویدا

محفلین
اس رسالے کا ایک صفحہ

32.jpg
 

سویدا

محفلین
میرے پاس اس رسالے کے چھ یا سات شمارے موجود ہیں
خطاطی پر شاید اس انداز میں‌یہ میری ناقص معلومات کے مطابق دنیا کا واحد سہ ماہی جریدہ ہے
 

مکی

معطل
سویدا اس رسالے کی ویب سائٹ کا کوئی اتا پتہ دیں نہیں تو جو شمارے آپ کے پاس ہیں وہی دستیاب کردیں.. ان چند صفحات کو دیکھ کر مجھے تاریخ تو اتنی نظر نہیں آرہی بہرحال شاید کوئی ایک آدھ مضمون ہی نکل آوے..
 

ابوشامل

محفلین
نبیل بھائی! واقعی اتاترک کے اس عمل نے عربی خطاطی کو بہت نقصان پہنچایا۔ سلطنت عثمانیہ میں کتنے بڑے خطاط موجود تھے اس کا ایک اظہار تو اس بات سے ہوتا ہے کہ تقریباً تمام عثمانی سلاطین بہت بڑے خطاط تھے خصوصاً خط ثلث پر تو انہیں عبور حاصل تھا جو سب سے مشکل خط ہے۔ اس کے علاوہ عثمانی دور کی تعمیرات میں موجود خطاطی کے نمونے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ذوق خطاطی کتنا بلند تھا۔ عثمانیوں کے پہلے دارالحکومت بورصہ کی مرکزی جامع مسجد کی تمام دیواروں پر خطاطی کے بہت اعلیٰ نمونے پیش کیے گئے جو آج بھی خط ثلث کے بہترین اور قدیم نمونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آج بھی خطاطی کا سب سے اعلیٰ اعزاز ترکی کا خطاطی کا ادارہ ہی دیتا ہے جو "خط ثلث جلی" میں مہارت کا مظاہرہ کرنے والے کو "سال کا بہترین خطاط" قرار دیتا ہے۔ گو کہ ترکی زبان کے رسم الخط کی تبدیلی کو دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن عربی خطاطی سے اُن کا لگاؤ آج بھی ہے۔
شاید آپ یا دیگر ساتھیوں کو یاد ہو کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے معروف خطاط رشید بٹ صاحب پی ٹی وی 2 پر خطاطی سکھانے کا ایک پروگرام کیا کرتے تھے اور میرے خیال میں مجھ جیسے نو آموز خطاط کے لیے اس سے بہتر پروگرام کوئی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان تمام پروگرامز پر مشتمل ایک ڈی وی ڈی ہی جاری کر دی جائے تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔ ویسے رشید بٹ صاحب کی ویب سائٹ پر ڈی وی ڈی کے اجراء کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ فہد۔ مجھے اس پروگرام کے بارے میں یاد نہیں ہے۔ اگر رشید بٹ صاحب سے رابطہ ہو سکے تو انہیں ضرور اپنے علم کو عام کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ اگر ان کے پروگرامز کی ڈی وی ڈی کا اجراء‌ ہو سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ وہ اگر یوٹیوب یا اپنی ویب سائٹ پر ہی یہ ویڈیو لیکچر فراہم کر دیں تو اس سے بھی عوام الناس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
 

سعادت

تکنیکی معاون
شاید آپ یا دیگر ساتھیوں کو یاد ہو کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے معروف خطاط رشید بٹ صاحب پی ٹی وی 2 پر خطاطی سکھانے کا ایک پروگرام کیا کرتے تھے اور میرے خیال میں مجھ جیسے نو آموز خطاط کے لیے اس سے بہتر پروگرام کوئی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان تمام پروگرامز پر مشتمل ایک ڈی وی ڈی ہی جاری کر دی جائے تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔ ویسے رشید بٹ صاحب کی ویب سائٹ پر ڈی وی ڈی کے اجراء کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔

مجھے یہ پروگرام یاد ہے۔ خطاطی میں میری دلچسپی اسی پروگرام کی اقساط دیکھ کر پیدا ہوئی تھی۔ :) (یہ اور بات ہے کہ آجکل تو شاید میں قلم بھی صحیح طرح نہ پکڑ سکوں۔ :( )

اس پروگرام کی ویڈیوز کا جاری ہونا واقعی خطاطی کے طالبعلموں کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہو گی، لیکن شاید رشید بٹ صاحب کا اس پر کوئی اختیار نہ ہو کیونکہ پروگرام کے حقوق تو غالباً پی ٹی وی ہی کے پاس ہوں گے۔ لیکن خیر، آرزو کرنے اور رشید بٹ صاحب کو مشورہ دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
 
Top