رانا سعید دوشی کی شاعری(مہربانی فرما کر کمنٹس نہ دیں تاکہ قاری صرف شاعری سے لطف اندوز ہو سکے)

زباں کے ہوتے ہوئے بھی کہا نہیں جاتا
وہ اَن کہا جو کسی سے سنا نہیں جاتا

یہ روز روز مجھے کون توڑ جاتا ہے
کہ روز روز تو مجھ سے بَنا نہیں جاتا

یہی بہت ہے کہ اشکوں کو روک رکھا ہے
ہنسی کی بات پہ بھی اب ہنسا نہیں جاتا

بنا رہا ہے ہدف مجھ کو ایسا تیر انداز
کہ جس کا کوئی نشانہ خطا نہیں جاتا

یقین آئے نہ آئے مری وفا کا تجھے
مزید مجھ سے ذرا بھی جھکا نہیں جاتا

وہاں مجھے یہ جنوں ساتھ لے کے جاتا ہے
جہاں کہیں سے کوئی راستا نہیں جاتا

صدف نکال سمندر سے، پھر صدف سے مجھے
اب اور دیر مقیّد رہا نہیں جاتا
 
عام لوگوں نے تجھے خاص بنا رکھا ہے
کانچ کے ٹکڑے کو الماس بنا رکھا ہے

کیا کبھی ختم نہیں ہو گی یہ گردش میری
کیوں مجھے آپ نے کمپاس بنا رکھا ہے

باندھ کر ناچتا پھرتا ہوں سفر کے گھنگرو
وقت کی تال نے رقّاص بنا رکھا ہے

تازیانوں سے نشاں پڑتے ہیں آڑے ترچھے
کیوں مری پشت کو قرطاس بنا رکھا ہے

بات افلاک پہ بھی ہو تو میں سُن لیتا ہوں
اس قدر کانوں کو حسّاس بنا رکھا ہے

جانے کس آن بصارت کا خدا بن بیٹھے
یہ جو اک بت سا مرے پاس بَنا رکھا ہے
 
قریب ہوتے ہوئے، فاصلے سے گھومتے ہیں
یہ راستے بھی عجب زاویے سے گھومتے ہیں

مجھے اُڑا کے نہ جانے کہاں پہ لے جائیں
جو اِرد گرد مرے دائرے سے گھومتے ہیں

کبھی کبھی جو میں پنجوں پہ گھوم جاتا ہوں
تو سب نظارے مرے گھومنے سے گھومتے ہیں

کوئی بھی عکس مرے ذہن پر نہیں رُکتا
مری نظر میں فقط آئنے سے گھومتے ہیں

یہ کس گمان کی گردش میں آگیا ہوں میں
مرے ہر ایک طرف واہمے سے گھومتے ہیں

انہیں دیوں سے ذرا سا بھی ڈر نہیں لگتا
گھروں میں سائے بڑے حوصلے سے گھومتے ہیں

کوئی ہمارا بھی رشتہ ہے دشت سے دوشی
یہاں پہ ہم بھی کسی واسطے سے گھومتے ہیں
 
سانحہ جان پر گزر گیا تھا
تُو مجھے چھوڑ کر کدھر گیا تھا

دل مرا اتنی زور سے دھڑکا
اس کے دھڑکے سے میں تو ڈر گیا تھا

وہ تو سینہ چٹان تھا میرا
ورنہ یہ وار کام کر گیا تھا

چاندنی ہو گئی تھی گدلی سی
چاند تالات میں اُتر گیا تھا

تیرے اُس خواب کا تسلسل ہوں
جو کہیں ٹوٹ کر بکھر گیا تھا

مصلحت نے اسے بچایا ہے
ورنہ شانے سے اس کا سر گیا تھا

گھِر گیا تھا تمہاری یادوں میں
میں بڑی دیر بعد گھر گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تعبیر کسی خواب میں رکھے ہوئے ہے
میرا ساحل مجھے گرداب میں رکھے ہوئے ہے

میں تو آیا تھا یہاں دشت نوردی کرنے
تُو مجھے منبر و محراب میں رکھے ہوئے ہے

سرخرو ہونے تلک میں نہیں جانے والا
ایک تہمت مجھے احباب میں رکھے ہوئے ہے

میرا اثبات تری نفّی بھی کر سکتا تھا
بے سبب تُو مجھے اسباب میں رکھے ہوئے ہے

پھاڑ دے آج سے ہر ایک تعلق کا ورق
ویسے بھی تُو مجھے کس باب میں رکھے ہوئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے تم ٹھیک سے دیکھو یہ بالکل ٹھیک لکھا ہے
مگر تھوڑی سی خامی ہے ذرا باریک لکھا ہے

مٹا کر کوئی بھی اس کو اُجالا لکھ نہیں پایا
یہ کیسی روشنائی سے شبِ تاریک لکھا ہے

قلم کر دے مرا دستِ ہنر میں تجھ سے بدظن ہوں
تیقّن کاٹ کر میں نے یہاں تشکیک لکھا ہے

اگر توقیر لکھو گے تو ہم توقیر پڑھ لیں گے
سو، ہم تضحیک پڑھتے ہیں اگر تضحیک لکھا ہے

گداگر ہو کے بھی مجھ کو صدا کاری نہیں آئی
بنا کر اوک ان ہاتھوں کو میں نے ’’بھیک‘‘ لکھا ہے

اکیلے شخص کی مرضی مسلط ہو گئی دوشی
مؤرخ نے کسی کے حکم کو تحریک لکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا میں آدمی اُڑنے لگے ہیں
پرندے اس لیے سہمے ہوئے ہیں

زمیں پر پاؤں جلتے ہیں ہمارے
سَروں پر دھوپ کے سائے کھڑے ہیں

سٹرک شاید کشادہ ہو رہی ہے
شجر بے موت مارے جا رہے ہیں

میں جنگل میں اکیلا رہ گیا ہوں
مجھے یہ رابطے مہنگے پڑے ہیں

اندھیرا آسماں کو کھا گیا ہے
ستارے ٹوٹ کر بکھرے ہوئے ہیں

سمندر ساحلوں سے لڑ رہا ہے
سفینے ہچکیوں سے رو رہے ہیں

مجھے یہ کس جزیرے پر اُتارا
یہاں تو خوف کے خیمے گڑے ہیں

کبھی ہم سانس لے کر سوچتے تھے
مگر اب سانس لیتے سوچتے ہیں

اُٹھا مجھ کو بھی گودی میں زمانے
مرے پیروں میں بھی چھالے پڑے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت غیر فانی شے
یہ کوئی آسمانی شے

نہیں دھڑکا خسارے کا
منافع بے معانی شے

خداؤں کو تسلی دو
خدائی آنی جانی شے

خصوصاً آپ کا وعدہ
عموماً منہ زبانی شے

نئے انداز میں بوئی
زمینوں میں پرانی شے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو شفّاف سا اک عکس ابھی جھیل میں تھا
کوئی چہرہ تھا مگر چاند کی تمثیل میں تھا

بات کیا تھی یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں
ہاں، ترا ذکر بھی تھا اور بڑی تفصیل میں تھا

اس لئے بھی اُسے پہچاننے میں دیر لگی
وقت کا رخنہ کسی شکل کی تشکیل میں تھا


کوئی پیغام تھا آنکھوں میں سو، آنکھوں میں رہا
مسئلہ اصل تو پیغام کی ترسیل میں تھا

اس نئے نسخے میں تحریف ہوئی ہے ورنہ
ذکر میرا بھی کہیں پیار کی انجیل میں تھا

میں کوئی قیس نہ تھا پھر بھی مجھے سنگ پڑے
ہاں ترا نام مرے جسم کے ہر نیل میں
 
چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے
جو میرے جسم میں رہتا تھا میری جان سے پہلے

کوئی خاموش ہو جائے تو اس کی خامشی سے ڈر
سمندر چپ ہی رہتا ہے کسی طوفان سے پہلے

مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دو
نکل جائے نہ میری جاں مرے ارمان سے پہلے

مری آنکھوں میں آبی موتیوں کا سلسلہ دیکھو
کہ سو تسبیح کرتا ہوں میں اک مسکان سے پہلے

پرانا یار ہوں دوشی مرا یہ فرض بنتا ہے
تجھے ہشیار کر دُوں میں ترے نقصان سے پہلے
 
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس! مروت میں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا

میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہو گا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

حصص میں بانٹ رہے ہیں مجھے مِرے احباب
میں کاروبارِ شراکت میں مارا جاؤں گا

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا

بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا

نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا
 
Top