دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

واسطی خٹک

محفلین
ﮨﻮ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﺎ ﮨﯽ ﻣﺎﺩﮦ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ
ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﮐﻦ ﮐﺬﺏ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺳﺠﺎﺗﺎ ﮨﮯ

کذب
 

شمشاد

لائبریرین
ایک بات عرض کرتا چلوں کہ یہ لڑی ایک کھیل کی ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ کھیل جاری رہنا چاہیے۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ اگلے شعر کے لیے کوئی عام فہم لفظ ہو۔
یہاں کسی سے مقابلہ کرنا یا کسی کو ہرانا تو مقصود ہی نہیں کہ مشکل ترین لفظ دیا جائے کہ اگلا رکن زچ ہو کر رہ جائے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جو پیڑ پہ لکھی جاتی ہے جو گیلی ریت سے بنتا ہے
کون اُس تحریر کا وارث ہے !کون ایسے گھر میں رہتا ہے!
(امجد اسلام امجد)

پیڑ
 

ماہی احمد

لائبریرین
آپ نے لفظ دیا "کذب"
میں نے وہ شعر لکھا جس میں یہ لفظ تھا
اور ساتھ ہی اپنی باری کا لفظ "گھر" دیا۔ :)
ایک بات عرض کرتا چلوں کہ یہ لڑی ایک کھیل کی ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ کھیل جاری رہنا چاہیے۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ اگلے شعر کے لیے کوئی عام فہم لفظ ہو۔
یہاں کسی سے مقابلہ کرنا یا کسی کو ہرانا تو مقصود ہی نہیں کہ مشکل ترین لفظ دیا جائے کہ اگلا رکن زچ ہو کر رہ جائے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جو پیڑ پہ لکھی جاتی ہے جو گیلی ریت سے بنتا ہے
کون اُس تحریر کا وارث ہے !کون ایسے گھر میں رہتا ہے!
(امجد اسلام امجد)

پیڑ
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

آدم زاد
 

واسطی خٹک

محفلین
آپ نے لفظ دیا "کذب"
میں نے وہ شعر لکھا جس میں یہ لفظ تھا
اور ساتھ ہی اپنی باری کا لفظ "گھر" دیا۔ :)

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

آدم زاد


ﺑﻮﺋﮯ ﺁﺩﻡ ﺯﺍﺩ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﮔﮩﺎﮞ؟
ﺩﯾﻮ ﺍﺱ ﺟﻨﮕﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﻨّﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭘﺎ ﺧﻮﺩ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ !
۔۔ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﺮﻏﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺪﺍ
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﻭ ﻏﻢ ﺭﻗﺼﺎﮞ ﺭﮨﮯ
ﺁﺝ ﺍﺳﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺷﻞ ﮨﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﺮﺩ
ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ، ﭘﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺯﺭﺩ
ﺍﯾﺴﮯ ﺩﯾﻮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﺑﮩﺖ
ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺑﺎﺏِ ﻧﺒﺮﺩ؟
۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺝ
ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﮯ ﺻﺪﺍ، ﮊﻭﻟﯿﺪﮦ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُ ﺱ ﮐﯽ ﺑُﻮ ﺳﮯ ﺍﺑﺘﺮ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﻮ
ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻤﺜﺎﻝ ﺩﯾﻮ !
۔۔۔ ﮨﺎﮞ ﺍﺗﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺁﺩﻡ ﺯﺍﺩ ﺍﻥ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺕ
ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﻮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﺕ

ابتر حال
 

شمشاد

لائبریرین
نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
جہاں پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں
(انشاء اللہ خان انشاء)

یار / یارو
 

جاسمن

لائبریرین
اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گذر گئے
مجھ کو خیالِ یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہو
بے خودی
 

شمشاد

لائبریرین
جس وقت آئے ہوش میں کچھ بے خودی سے ہم
کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم
(داغ دہلوی)

ہوش
 

اوشو

لائبریرین
میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے

لہو
 

شمشاد

لائبریرین
اُس سے بچھڑا ہوں تو آنکھوں کا مقدّر ٹھہرا
دِل کے پاتال میں یخ بستہ لہو کا عالم(محسن نقوی)

مقدر
 

اوشو

لائبریرین
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ
اقبال

فرد
 

شمشاد

لائبریرین
رکھا کریں ہر ایک خطا اپنے دوش پر
ہر جرم اپنی فردِ عمل میں لکھا کریں(انور شعور)

خطا
 

اوشو

لائبریرین
تُم برابر کے خطاوار ھو اِس قصّے میں
تُم نے بھی ساتھ نِبھانے کی قسم کھائی تھی

برابر
 
Top