دنیا کے بڑے اسلامی ملک میں بچے بنانے کی ’فیکٹری‘، ایک بچہ کتنے میں خرید سکتے ہیں؟

کعنان نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 3, 2016

  1. کعنان

    کعنان محفلین

    مراسلے:
    769
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Amused
    دنیا کے بڑے اسلامی ملک میں بچے بنانے کی ’فیکٹری‘، ایک بچہ کتنے میں خرید سکتے ہیں؟ ایسی تفصیلات منظر عام پر کہ دنیا میں تہلکہ برپا ہو گیا
    02 دسمبر 2016

    کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) دولت کے پجاری ہوس زر کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، لیکن شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ درندے ایک ممتاز اسلامی ملک میں انسانی بچوں کی فروخت کا بازار بھی لگا سکتے ہیں، جہاں ہر رنگ اور نسل کے نوزائیدہ بچے فروخت کئے جا رہے ہیں۔

    الجزیرہ ٹی وی نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ملائیشیا میں نومولود بچوں کی فروخت کے لئے سپر مارکیٹ قائم ہے، جہاں قید میں رکھی گئی خواتین سے بچے پیدا کروا کر انہیں ہزاروں ڈالر کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اور ان بچوں کو فروخت کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر باقاعدہ مارکیٹنگ بھی کی جاتی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی نے اپنے پروگرام ”101 ایسٹ“ میں گزشتہ ہفتے اس تہلکہ خیز تحقیق پر مبنی رپورٹ نشر کی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالات سے مجبور اور ناجائز تعلقات کے نتیجے میں حاملہ ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ جاتی ہے۔ ان لڑکیوں اور خواتین کو مخصوص گروہ اپنی تحویل میں رکھتے ہیں اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔

    الجزیرہ کے صحافیوں نے گاہکوں کا روپ دھار کر دارالحکومت کے نواح میں مقیم ایک خاتون سے رابطہ کیا، جس نے بچوں کی فروخت کے لئے انٹرنیٹ پر اشتہارات دے رکھے تھے۔ اس خاتون نے بتایا کہ اس کے پاس مختلف نسلوں کے بچے دستیاب تھے جو چند سو سے لے کر چند ہزار ڈالر کی قیمت میں دستیاب تھے۔ یہ خاتون گاہکوں کے روپ میں آنے والے صحافیوں کو ایک بچہ ڈیڑھ ہزار ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) میں فروخت کرنے پر تیار ہو گئی۔ صحافیوں کی مخبری پر پولیس نے چھاپہ مار کر اس خاتون، اس کے بیٹے اور ایک میڈیکل اسسٹنٹ کو گرفتار کر لیا۔ ان سے کی گئی تفتیش میں خوفناک انکشاف ہوا کہ خاتون نے اپنے پاس 78 انڈونیشیائی خواتین اور لڑکیوں کو قید کر رکھا تھا۔ یہ سب کی سب حاملہ تھیں اور ان کے ہاں جنم لینے والے بچوں کو فروخت کے لئے پیش کیا جانا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کاروبار میں کئی منظم گروہ، ہسپتال اور ڈاکٹر ملوث ہیں۔ یہ گروہ سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر اپنی تشہیر کرتے ہیں اور گاہکوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی نسل، رنگت اور قابلیت کی خواتین کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ منتخب کی گئی خاتون کے ہاں پید اہونے والا بچہ گاہک کو طے شدہ قیمت میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ بچے کی قیمت کا تعین اس کی جنس، رنگت اور دیگر عوامل کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ قیمت 500 ڈالر (تقریباً 50 ہزار پاکستانی روپے) سے لے کر 8 ہزار ڈالر (تقریباً آٹھ لاکھ پاکستانی روپے) تک ہوتی ہے۔

    ح
     

اس صفحے کی تشہیر