1. اردو محفل سالگرہ دواز دہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

داعش کا فتنہ اور اہل توحید کی ذمہ داریاں

کعنان نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 1, 2016

  1. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,828
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جہاں تک عراق ميں فوجی کاروائ کی وجوہات کا تعلق ہے تو اس کا بنيادی مقصد عراق ميں جمہوريت يا کوئ اور نظام حکومت زبردستی نافذ کرنا نہيں تھا۔ يہ درست ہے کہ امريکہ نے عراق ميں جمہوری اقدار کی بحالی کی حوصلہ افزائ اور حمايت کی ہے ليکن اس ضمن ميں حتمی اور فيصلہ کن کردار بحرحال عراقی عوام نے خود ادا کرنا ہے۔ اسی خطے ميں ايسے بہت سے ممالک بھی ہيں جہاں جمہوری نظام حکومت نہيں ہے۔ جہاں تک عراق کا سوال ہے تو امريکہ اور عالمی برادری کو صدام حکومت کی جانب سے اس خطے اور عالمی امن کو درپيش خطرات کے حوالے سے شديد تشويش تھی۔ اس ضمن ميں عراق کی جانب سے کويت پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ميں ناکامی اور عالمی برادری کے خدشات کو نظرانداز کرنا ايسے عوامل تھے جو عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا سبب بنے۔​

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    www.state.gov

    DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos
     
  2. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,828

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ کے تجزيے ميں جس حقيقت کا سرے سے ذکر ہی موجود نہيں ہے وہ ہمارے ملک پر ان دہشت گردوں کا کيا جانے والا حملہ ہے جن کی تربيت اور کاروائ کی منصوبہ بندی افغانستان ميں موجود دہشت گرد گروہوں کے سرکردہ افراد کی جانب سے کی گئ تھی۔ اس حملے کے نتيجے ميں تين ہزار سے زائد امريکی شہری ہلاک ہوئے اور يہی وہ محرک تھا جو افغانستان ميں فوجی کاروائ کا سبب بنا۔
    ہم دنيا بھر ميں زبردستی جمہوری نظام نافذ کرنے کے مشن پر نہيں ہيں۔ ہماری فوجی کاروائیاں دہشت گردی کی ان کاروائيوں کے ضمن ميں حتمی ردعمل تھا جو ہمارے شہريوں کے خلاف کی گئ تھيں۔ ہمارا ہدف صرف يہی تھا کہ دنيا بھر کے عام شہريوں کو اسی قسم کی دہشت گردی سے محفوظ کيا جا سکے۔

    عراق اور افغانستان ميں فوجی کاروائ کا مقصد ان ممالک ميں زبردستی جمہوريت يا کوئ اور طرز حکومت مسلط کرنا ہرگز نہيں تھا۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ہم نے ان ممالک ميں عام عوام اور متعلقہ حکام کو اس بات کی ترغي۔ب ضرور دی ہے کہ وہ اقوام عالم کا حصہ بنيں اور آزمودہ جمہوری قدروں کو پروان چڑھائيں۔ ليکن اس ضمن ميں حتمی اور فيصلہ کن کردار بحرحال ان ممالک کے عوام نے خود ادا کرنا ہے۔ اسی خطے ميں ايسے بہت سے ممالک بھی ہيں جہاں جمہوری نظام حکومت نہيں ہے ليکن اس کے باوجود ہمارے ان ممالک کے ساتھ ديرينہ تعلقات استوار ہيں۔

    واقعات کا جو تسلسل افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ کا سبب بنا، وہ سب کے علم ميں ہيں۔ ميں آپ کو پورے يقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہزاروں کی تعداد ميں اپنے فوجيوں کی جانوں کو خطرات ميں ڈال کر اور مشکل معاشی حالات ميں اپنے وسائل کو بروئے کار لانے کا صرف يہ مقصد ہرگز نہيں تھا کہ ہزاروں ميل دور ايک بيرون ملک ميں زبردستی اپنی مرضی کا طرز حکومت نافذ کيا جا سکے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    www.state.gov

    DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter

    Security Check Required
     
  3. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فواد آپ کے جوابات اپنے اندر بہت سے مزید سوالات پیدا کرتے ہیں البتہ میں کمپیوٹر سے تحریر نہیں کر پا رہا فی الحال اس لیے خاموش ہوں اور موبائل پر تفصیلی سوالات بوجہ ڈیٹا لمٹس کر نہیں پا رہا
     
  4. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,828

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ نے بالکل درست کہا ہے کہ امريکی حکومت اپنے لوگوں اور خود اپنے مفادات کے تحفظ کے بنيادی ہدف کی سوچ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ بلکہ سچ تو يہ ہے کہ دنيا ميں کہيں بھی جمہوری طور پر منتخب حکومت اپنی بنيادی تعريف کے تحت اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ اپنے لوگوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داريوں اور مقاصد کو پورا کرے۔

    جو بھی حکومت اس ضمن ميں ناکام رہتی ہے وہ درحقيقت اپنے لوگوں کی مرضی کے خلاف کام کر رہی ہوتی ہے۔

    اصل مسلۂ اس غلط سوچ اور دليل کی صورت ميں سامنے آتا ہے جب بعض رائے دہندگان اس بات پر يقين کر ليتے ہيں کہ عالمی دہشت گردی ميں اضافہ، داعش جيسے عفريت کا عالمی منظر نامے پر ابھرنا اور مسلم دنيا ميں حکومتی نظاموں کی ناکامی کی صورت ميں افراتفری، بے چينی اور شکست وريخت ايسے عوامل ہيں جو کسی بھی طور امريکی عوام کے مفادات کے تحفظ کے ہمارے واضح اور تسليم شدہ مقصد کو پورا کرنے کا سبب بنتے ہيں۔

    اس سوچ کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ آج کے دور ميں جبکہ دنيا ايک ايسے گلوبل وليج کی صورت اختيار کر چکی ہے جہاں سياسی، معاشرتی اور معاشی مفادات ايک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو چکے ہيں، اب امريکہ سميت کسی بھی ملک کے ليے يہ ممکن نہيں رہا کہ وہ دنيا کو ايک غير محفوظ جگہ بنا کر اپنے مفادات کے تحفظ کے مقصد کو حاصل کر سکے۔

    ستم ظريفی ديکھيں کہ ايک جانب تو آپ يہ دليل پيش کر رہے ہيں کہ امريکہ صرف اپنے مفادات اور فوجيوں کے تحفظ کو اہميت ديتا ہے اور دوسری جانب بعض رائے دہندگان اس بات پر بضد ہيں کہ دنيا بھر ميں عالمی دہشت گردی کے بڑھتے ہو‎ئے اثرات سے امريکہ شہريوں اور مفادات کو کوئ خطرات نہيں ہيں کيونکہ يہ خطے ميں ہمارے اہداف سے متصادم نہيں ہے۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ واضح کر دوں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں کی تعداد ميں امريکی فوجيوں نے افغانستان اور عراق ميں اپنی جانوں کے نذرانے پيش کيے ہيں۔ ايک رپورٹ کا لنک پيش ہے جس ميں عراق اور افغانستان ميں اتحادی افواج کی قربانيوں کو اجاگر کيا گيا ہے۔

    iCasualties: Operation Iraqi Freedom and Operation Enduring Freedom Casualties

    يہ دعوی کيسے کيا جا سکتا ہے کہ خطے ميں تشدد کے بڑھتے ہو‎ئے رجحان سے ہميں کوئ لينا دينا نہيں ہے يا ہميں اس ضمن ميں کوئ تشويش نہيں ہے کيونکہ ہمارے تو اپنے فوجيوں نے خطے ميں امن کے قيام کو يقينی بنانے کے ليے اپنی جانيں قربان کی ہيں؟

    جيسا کہ آپ نے خود يہ دعوی کيا کہ امريکہ صرف اپنے مفادات کے فروغ اور تحفظ ميں دلچسپی رکھتا ہے تو پھر تو اس منطق کے تحت بھی ہميں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ان امريکی اور اتحادی فوجيوں کی قربانياں رائيگاں نا جائيں جنھوں نے خطے ميں ہمارے ديگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ بنانے کے ليے انتھک محنت اور کاوشيں کی ہيں۔

    خطے ميں اپنے عالمی شراکت داروں کے تعاون اور اشتراک عمل کے ساتھ آئ ايس آئ ايس کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے اور دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کی اجتماعی خواہش کے پيچھے بھی يہی محرک ہے کہ اس دشمن کے خلاف اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کيا جائے جس نے ہر اس ملک اور فرد کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے جو ان کی دقيانوسی سوچ اور غير انسانی طرز فکر سے متفق نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    www.state.gov

    DOTUSStateDept (@USDOSDOT_Urdu) | Twitter
     
  5. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بی
    جی حضور آپ کا یہ بیان تو صدر بش کے اعلان آغاز حرب سے میل نہیں کھاتا جس میں انہوں نے عراق پر حملے کے بنیادی مقاصد کا اعلان کیا تھا یہ بیان اوول آفس سے بین الاقوامی طور پر جاری ہوا تھا۔ اس میں صدر بش یہ کہتے ہوئے کہ امریکی اور اتحادی فوجوں نے اپنے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے تاکہ (1) عراق کو غیر مسلح کیا جا سکے (یہ مقصد جھوٹا ثابت ہوا کیونکہ عراق کے پاس کوئی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار تھے ہی نہیں)
    (2) اسکی عوام کو آزادی دلائی جا سکے (ایسی آزادی دلوائی عراق کو کہ ابوغریب کے مظالم سے لے کر آئی ایس کے قیام تک سب کچھ اظہر من الشمس ہے وہ ملک جو ایک ملک تھا آپ نے اسے کئی حصوں میں تقسیم کر دیا اور ایران کی جھولی میں ڈال دیا )
    (3) دنیا کو ایک عظیم خطرے سے بچایا جا سکے ( وہ خطرہ جس سے آپ نے دنیا کو بچایا ہے ذرا ہمیں بھی بتائیں)

    اسی تقریر میں بش نے اپنی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو آپ آزاد کروائیں گے وہ دیکھیں گے معزز اور باوقار روح تعامل کو جو امریکی فوج کی جانب سے ان کے ساتھ روا رکھی جائے گی (اور دنیا نے ابو غریب میں اس کا مشاہدہ کیا اور میڈیا نے بھی اپنے رپورٹرز کو امریکی ہیلی کاپٹرز سے قتل ہوتے دیکھا اور امریکی اور اتحادی افواج کے حسن سلوک کی اور بھی بے شمار داستانیں صرف میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود ہیں یہ کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں ہے )
     
  6. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کے
    بہت اچھے آپ دنیا میں زبردستی جمہوری نظام کو مسلط کرنے کے مشن پر نہیں ہیں لیکن لیبیا میں ، عراق میں، افغانستان میں آپ کی شروع کردہ جنگوں سے یہی نتائج نکلے ہیں ۔ جنہیں آپ کی حکومت نے رکاوٹ سمجھا وہ ڈکٹیٹر کہلائے اور ان پر جنگ مسلط کر دی گئی ۔ ایک طرف دہشت گردی کا شکار ملکوں پر جنگیں مسلط کی گئیں اور دوسری طرف ان جنگوں کے لیئے رنگ برنگے نعرے تراشے گئے ۔

    افغانستان پر آپ کے حملے کا یہ جواز بودا اور ناقابل ثبوت ہے ۔ جب دو ہزار ایک میں آپ کی حکومت نے اسامہ اور اس کے ساتھیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تو آپ سے اس سلسلے میں ثبوت طلب کیئے گئے تھے جو ان کا بنیادی حق تھا وہ ثبوت کب پیش کیئے گئے ذرا بتائیں گے۔۔؟؟؟ آپ لوگوں نے ثبوت فراہم کرنے سے انکار کیا ۔تھا اور پھر سات اکتوبر دو ہزار ایک کو اپنی غیر مشروط اتحادی حکومت برطانیہ کے ساتھ مل کر حملہ کیا جسے آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کا نام دیا تھا۔ جنہیں آپ نے مجرم سمجھا وہ طلب کیئے گئے اور ثبوت کے سوال پر آپ نے انکار کرنے کے بعد جنگ چھیڑی لہذا یہ بیانیہ سوائے جذباتی گپ شپ کے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ کا اتحاد شمالی اتحاد کے ساتھ ہوا اور اس کے بعد ایساف کا قیام عمل میں اس طرح آیا۔ ٹائم لائن کچھ اور بیان کرتی ہے۔ حقائق کو ملمع کاری سے مسخ مت کیجئے۔

    جن ممالک میں ڈکٹیٹرز سے آپ کے تعلقات ہیں کیا ان کے ملکوں کے عوام آپ کے معیار کے مطابق اپنی حکومتوں سے خوش ہیں یا پھر جن ڈکٹیٹروں سے آپ کا پنگا ہے وہی بیڈ ڈکٹیٹرز ہیں باقی گڈ پیپل۔۔۔؟؟؟

    اس کے علاوہ آپ کی چھیڑی گئی جنگوں سے حاصل وصول کیا ہوا سوائے بد امنی اور دنیا کو مزید غیر محفوظ کرنے کے،۔۔۔؟؟؟؟
     
  7. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اپنے گھر سے ہزاروں میل دور آگ لگا کر دونوں تینوں یا تمام فریقیوں کو آگ اور ایندھن فراہم کرنا یقینا ایک عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد آپ تھوڑے سے ردو بدل سے بیان کر چکے ہیں

    امریکہ یہ کہتا ہے

    ''خطے ميں اپنے عالمی شراکت داروں کے تعاون اور اشتراک عمل کے ساتھ آئ ايس آئ ايس کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے اور دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کی اجتماعی خواہش کے پيچھے بھی يہی محرک ہے کہ اس دشمن کے خلاف اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کيا جائے جس نے ہر اس ملک اور فرد کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے جو ان کی دقيانوسی سوچ اور غير انسانی طرز فکر سے متفق نہيں ہے''

    جبکہ دہشت گرد یہ کہتے ہیں کہ
    "دنیا ميں اپنے عالمی شراکت داروں کے تعاون اور اشتراک عمل کے ساتھ امریکیوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے اور امریکی دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کی اجتماعی خواہش کے پيچھے بھی يہی محرک ہے کہ اس دشمن کے خلاف اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کيا جائے جس نے ہر اس ملک اور فرد کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے جو ان کی دقيانوسی سوچ اور غير انسانی طرز فکر سے متفق نہيں ہے۔"

    ہم عوام الناس کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔۔۔؟؟؟؟
     
  8. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
  9. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    1,828

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ کی رائے سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ داعش کے خلاف امريکی کاوشيں اور پاليسیاں صرف ہمارے اپنے ايجنڈے يا مفادات کے ليے ہيں اور باقی ممالک کے عام شہری گويا امريکی موقف کا "خميازہ" بھگت رہے ہيں۔

    اس تاثر کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    دنيا کے مختلف ممالک جنھوں نے داعش کے خلاف جاری کاوشوں ميں اپنے وسائل فراہم کرنے کی حامی بھری ہے، ان کی لسٹ پر ايک نظر ڈاليں۔ اتحادی ممالک کا يہ وسيع ہوتا ہوا نيٹ ورک انھی دہشت گرد کاروائيوں اور عام شہريوں کے خلاف داعش کی بربريت کو روکنے کے ليے ہے جس پر آپ اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہے ہيں۔

    Partners – The Global Coalition Against Daesh

    يقينی طور پر آپ يہ توقع نہيں کر سکتے کہ يہ تمام ممالک محض امريکی مفادات اور اہداف کے حصول کے ليے اپنے وسا‏ئل صرف کريں گے۔

    اور جہاں تک اس رائے کا تعلق ہے کہ امريکہ داعش سے درپيش خطرات کے ضمن ميں مبالغہ آرائ سے کام کر رہا ہے تو اس ضمن ميں سال 2015 کی ايک رپورٹ کا لنک پيش ہے جس کے مطابق دنيا بھر ميں متحرک تمام دہشت گرد گروہوں ميں داعش ہی سر فہرست ہے۔

    Terrorism: terrorist groups responsible for the most attacks worldwide in 2015 | Statisitic

    اس تناظر ميں يہ ايک منطقی ردعمل ہے کہ دنيا بھر کے عام شہريوں کو اس عفريت سے محفوظ رکھنے کے ليے عالمی برادری مشترکہ لائحہ عمل اور کاوشوں کے ضمن ميں اپنے وسائل استعمال کرے۔

    يہ دليل بالکل لغو ہے کہ امريکی اور اتحادی افواج کی کاوشوں کے نتيجے ميں لامحالہ عام شہريوں کی زندگيوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

    ميں اس بات کا اعادہ کردوں کہ ہم فضائ حملے کے دوران تمام تر عمل ميں ہر ممکن احتياط برتتے ہيں جن ميں ميسر اينٹيلی جنس کا درست تجزيہ، مشن کی ضرويات کی مناسبت سے ہتھيار کا انتخاب تا کہ شہری زندگيوں کو نقصان سے بچايا جا سکے، خاص اہمیت کے حامل ہيں۔

    امريکی فوج بے گناہ شہريوں کی دانستہ ہلاکت کی متمنی ہرگز نہيں ہے اور نا ہی ہم شہريوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہيں۔ تاہم جب بھی کبھی ايسا واقعہ پيش آتا ہے تو دنيا کی کئ دوسری فوجوں کے برعکس ہم ہر واقعے کی مکمل تحقيقات بھی کرتے ہيں اور اس ضمن ميں نتائج کو باقاعدہ رپورٹ بھی کيا جاتا ہے۔ علاوہ ازيں ہم اس بات کو بھی يقینی بناتے ہيں کہ ايسے واقعات کی مستقبل ميں روک تھام کے ليے ہر ممکن قدم اٹھايا جائے۔

    يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ داعش کے جنگجو عام شہريوں کو باقاعدہ ايک حکمت عملی کے تحت انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہيں۔ تاہم اتحادی فوجی آپريشنز کے دوران شہری زندگيوں کو محفوظ کرنے کے ليے ہر ممکن اقدامات اٹھاتے ہيں۔

    آپ اس طريقہ کار اور لائحہ عمل کا موازنہ داعش کے دہشت گردوں سے کريں جو اپنے حملوں کی "افاديت" اور اس کا "کامياب" بنانے کے ليے دانستہ زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بناتے ہيں۔

    يقینی طور پر داعش کو اس بات کی اجازت دينا کہ وہ بغير کسی روک ٹوک کے عام شہریوں پر اپنی بربريت جاری رکھيں ايسا "حل" نہيں ہے جسے امن کے پائيدار حصول کے ليے کوئ ذی شعور شخص تجويز کر سکتا ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  10. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    2,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کچھ سوالات اس سے پہلی پوسٹس میں بھی موجود ہیں ان کا جواب کہاں ہے. یہ تو الزامی بٹا الزامی برابر ہے چونچ لڑائی والی آخری پوسٹ کا جواب ہے براہ کرم اس سے پہلے والی پوسٹس کا جواب دے دیجئے اس جواب کا آپریشن میں بعد میں کرونگا.

    تیاری فواد صاحب تیاری میری جان
     

اس صفحے کی تشہیر