داستانِ امیر حمزہ انگریزی میں

زیک

مسافر
سنا ہے کہ اگلے سال رینڈم ہاؤس والے داستانِ امیر حمزہ کا انگریزی ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ یہ ترجمہ مشرف علی فاروقی نے کیا ہے اور اس کا اقتباس آپ کتاب کی سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ناقابل یقین۔ لگتا ہے کہ یہ خلاصے کا ترجمہ ہوگا۔ اصل تو کئی ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔ ابھی تو اس کا پرانی اردو (جو عربی اور فارسی سے بھری ہوئی تھی) سے موجودہ سلیس اردو میں‌منتقل ہونی باقی تھی :)

خیر لنک دیکھتے ہیں کہ کیا کہتا ہے
 

شہزاد وحید

محفلین
ایک جو مقبول جہانگیر نے بچوں کے لئیے ترجمہ کیا تھا داستان امیر حمزہ ۔ جس کا پہلا ناول "بادشاہ کا خواب" دوسرا "پراسرار جزیرہ" تیسرا "نوشیرواں کی بیٹی چوتھا "امیر حمزہ میدان جنگ میں پانچواں" امیر حمزہ کوہ قاف میں" چھٹا " شداد جادوگر" ساتواں "شہزادہ شہریار" آٹھواں "عیاروں کی‌حکومت" نواں "جادو کا شہر" اور دسواں "آخری مہم" تھا۔ میں نے کوئی تیسری کلاس میں پڑھے تھے یہ ناول۔ آج بھی مجھے ان کی سٹوری یاد ہے۔ جب ہم بہن بھائی ابو کے ساتھ باہر جاتے تھے تو باقی بھائی کھلونے وغیرہ لیتے تھے اور میں کہانیوں کی کتابیں۔ میں اوّل اور دوئم کلاس میں بھی بہت اچھی اردو پڑھ لیتا تھا۔

ویسےمیں جب‌آج کل کے ناول دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ جو دلچسپ انداز بیاں عربی داستانوں اور خود ہمارے پرانے اردو ادب میں پایا جاتا تھا وہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ ایک سحر سا چھا جاتا تھا ان ناولز کو پڑھتے ہوئے۔
 
داستان امیر حمزہ ایک اتنی طویل اور پر پیچ داستان ہے کہ اس کی مثال میرے خیال میں اور کسی زبان کے ادب میں ملنی مشکل ہے۔ ایک زمانے میں مجھے بڑا شوق چرایا تھا کہ یہ پوری داستان پڑھوں۔شہزاد وحید کی طرح میں نے بھی اس کا خلاصہ جو فیروز سنز نے شائع کیا اور جس کے ابتدائی دس حصے مقبول جہانگیر اور بعد کے دس حصے اختر رضوی (اس کا پہلا حصہ عمرو کی غداری کے عنوان سے شائع ہوا)نے بچوں کے لیے خلاصہ کیے تھے متعدد بار پڑھ چکا تھا۔نیز اس داستان کا ایک اور خلاصہ شیخ غلام علی اینڈ سنز نے بھی بچوں کے لیے کیا تھا جو چھ حصوں میں شائع ہوا تھا۔وہ بھی میری نظر سے گزرا تھا تاہم مقبول جہانگیر مرحوم اور اختر رضوی کی کاوش زیادہ بہتر تھی۔بہر حال کوشش کے باوجود میں پوری داستان نہ پڑھ پایا البتہ اس طویل داستان کا پانچواں جزو جو خود کوئی سات حصوں اور آٹھ جلدوں پر مشتل تھا، یعنی طلسم ہوش ربا، پورا پڑھ ڈالا(یہ کتاب سنگ میل والوں نے شائع کی ہے ) اور ساتھ ہی داستان امیر حمزہ کے مزید چند جزو بھی پڑھ ڈالے۔کافی عرصہ کے بعد جب گیان چند کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان اردو کی نثری داستانیں نظر سے گذرا تب کہیں جا کر اس داستان کے سارے حصوں اور مزید تفصیلات کا علم ہوا۔بہر حال یہ داستان بقول مجنوں گورکھ پوری افیون کے نشے کا اثر رکھتی ہیں ادھر آپ نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی ادھر گئے آپ دیگر کاموں سے۔
اردو میں داستان امیر حمزہ کے علاوہ فسانہ آزاد جس کا ایک دلچسپ کردار خوجی تھا اس کا خلاصہ فیروز سنز نے شائع کیا ہےاور اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور نہایت دلچسپ داستان جو میر تقی خیال نے فارسی میں لکھی تھا اس کا بھی ترجمہ اور خلاصہ مقبول جہانگیر نے کیا تھا یہ بوستان خیال تھی۔بوستان خیال فاطمین مصر کے بادشاہوں کی فرضی داستانوں کا مجموعہ ہے۔یہ خلاصہ پانچ حصوں میں شائع ہوا اس کا پہلا حصہ سات رنگوں کا شہر ہے۔ساتھ ہی الف لیلہ و لیلہ کا بھی خلاصہ فیروز سنز شائع کر چکے ہیں۔
اس لحاظ سے فیروز سنز کا بچوں کے ادب کی ترقی میں بڑا حصہ رہا ہے اردو کی کلاسیکل داستانوں کا خلاصہ ، خود بچوں کے لیے بڑا بہتریں طبع زاد ادب تخلیق کرانا اور پھر یہی نہیں ایک زمانے میں فیروز سنز نے دنیا کے مختلف حصوں کے کلاسیکل ادب کا بچوں کے لیے ترجمہ کرایا تھا ،عرب ، ہند، روم ، یونان، ناروے، وغیر ہ۔ان کہانیوں کے مجموعوں میں تانبے کے تین پیسے ، ایک بوند شہد، وغیرہ کی کچھ کہانیوں تو آج بھی مجھے یاد ہیں۔
 

شہزاد وحید

محفلین
داستان امیر حمزہ ایک اتنی طویل اور پر پیچ داستان ہے کہ اس کی مثال میرے خیال میں اور کسی زبان کے ادب میں ملنی مشکل ہے۔ ایک زمانے میں مجھے بڑا شوق چرایا تھا کہ یہ پوری داستان پڑھوں۔شہزاد وحید کی طرح میں نے بھی اس کا خلاصہ جو فیروز سنز نے شائع کیا اور جس کے ابتدائی دس حصے مقبول جہانگیر اور بعد کے دس حصے اختر رضوی (اس کا پہلا حصہ عمرو کی غداری کے عنوان سے شائع ہوا)نے بچوں کے لیے خلاصہ کیے تھے متعدد بار پڑھ چکا تھا۔نیز اس داستان کا ایک اور خلاصہ شیخ غلام علی اینڈ سنز نے بھی بچوں کے لیے کیا تھا جو چھ حصوں میں شائع ہوا تھا۔وہ بھی میری نظر سے گزرا تھا تاہم مقبول جہانگیر مرحوم اور اختر رضوی کی کاوش زیادہ بہتر تھی۔بہر حال کوشش کے باوجود میں پوری داستان نہ پڑھ پایا البتہ اس طویل داستان کا پانچواں جزو جو خود کوئی سات حصوں اور آٹھ جلدوں پر مشتل تھا، یعنی طلسم ہوش ربا، پورا پڑھ ڈالا(یہ کتاب سنگ میل والوں نے شائع کی ہے ) اور ساتھ ہی داستان امیر حمزہ کے مزید چند جزو بھی پڑھ ڈالے۔کافی عرصہ کے بعد جب گیان چند کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان اردو کی نثری داستانیں نظر سے گذرا تب کہیں جا کر اس داستان کے سارے حصوں اور مزید تفصیلات کا علم ہوا۔بہر حال یہ داستان بقول مجنوں گورکھ پوری افیون کے نشے کا اثر رکھتی ہیں ادھر آپ نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی ادھر گئے آپ دیگر کاموں سے۔
اردو میں داستان امیر حمزہ کے علاوہ فسانہ آزاد جس کا ایک دلچسپ کردار خوجی تھا اس کا خلاصہ فیروز سنز نے شائع کیا ہےاور اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور نہایت دلچسپ داستان جو میر تقی خیال نے فارسی میں لکھی تھا اس کا بھی ترجمہ اور خلاصہ مقبول جہانگیر نے کیا تھا یہ بوستان خیال تھی۔بوستان خیال فاطمین مصر کے بادشاہوں کی فرضی داستانوں کا مجموعہ ہے۔یہ خلاصہ پانچ حصوں میں شائع ہوا اس کا پہلا حصہ سات رنگوں کا شہر ہے۔ساتھ ہی الف لیلہ و لیلہ کا بھی خلاصہ فیروز سنز شائع کر چکے ہیں۔
اس لحاظ سے فیروز سنز کا بچوں کے ادب کی ترقی میں بڑا حصہ رہا ہے اردو کی کلاسیکل داستانوں کا خلاصہ ، خود بچوں کے لیے بڑا بہتریں طبع زاد ادب تخلیق کرانا اور پھر یہی نہیں ایک زمانے میں فیروز سنز نے دنیا کے مختلف حصوں کے کلاسیکل ادب کا بچوں کے لیے ترجمہ کرایا تھا ،عرب ، ہند، روم ، یونان، ناروے، وغیر ہ۔ان کہانیوں کے مجموعوں میں تانبے کے تین پیسے ، ایک بوند شہد، وغیرہ کی کچھ کہانیوں تو آج بھی مجھے یاد ہیں۔
بوستان خیال میں نے بھی پڑھی ہے۔ اس وقت جتنے بھی ایسے سلسلے موجود تھے وہ سب کے سب میں نے پڑھے ہیں۔ ہمارے یہاں گوجرانوالہ میں ایک بہت پرانی گوورنمنٹ پبلک لائبریری ہے۔ جہاں کی کتابیں اس سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ وہاں طلسم ہوشربا کی سرخ جلد والی آٹھ بڑی بڑی خوفناک کتابیں موجود ہیں۔ جن کے صفحے پرانے ہو جانے کی وجہ سے جلد سے میچنگ ہو گئے ہیں۔ ایک بار پہلا حصہ میں نے پڑھنے کی کوشش کی تھی تو اس کی اردو پڑھ کر ایسا لگا کہ میں کوئی انگلش ناول پڑھ رہا ہوں کیوں کہ انگلش ناول پڑھتے ہوئے بھی اضافی دماغ کھپانا ہوتا ہے کیوں کہ ساتھ ساتھ ذہن میں ترجمہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ خیر اس ذرا ہٹ کے اردو کی وجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔

آپ کی بات درست ہے۔ ان داستانوں کو پڑھنے کے لئیے ضروری ہے کہ کم از کم ایک سال کے لئیے ہر کام سے چھٹی لے لی جائے۔ مجھے خود اندازہ ہوتا ہے کہ بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد سے میں اس طرح کتب پڑھنے کے سلسلے کو جاری نہیں رکھ پایا۔ ایک ہمارے محلے میں بھی لائبریری ہوتی تھی۔ اب تو خیر بہت سے پرائیویٹ لائبریریز کی طرح وہ بھی بند ہوگئی ہے۔ اس کا آنر بھی حیران ہوتا تھا کہ اس لڑکے کو زندگی میں اور کوئی نہیں۔ سارا دن میرے پاس چکر کاٹتا رہتا ہے۔ لیکن آج اتنی ہی دلچسپی ہونے کے باوجود ٹائم نہیں نکال پاتا۔ کبھی یونیورسٹی کی اسائینمنٹ بنانی ہیں، کبھی پیپر آگئے، کبھی ٹیسٹ یاد کرنا ہے۔ کبھی کوئی وقت ملا تو چھوٹی موٹی کتاب پڑھ لی یاعمران ڈائجسٹ اور سب رنگ ڈائجسٹ پڑھ کے اپنے شوق کو تسلی دے لی۔ اب ایم کام ختم ہوگا تو جاب تلاش کروں یہ کرو وہ کرو۔ ذمہ داریاں اور لوڈ بڑھتا جا رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کبھی دوبارہ وہ وقت آسکے گا کہ جب میں موجیں کیا کرتا تھا۔:rolleyes: مجھے گھومنے پھرنے کا بھی اتنا شوق ہے اس کے بھی مستقبل میں کوئی آثار نہیں نظر آتے۔
 
Top