خونی انقلاب

۔

خونی انقلاب ۔۔۔۔۔۔ مختصر افسانہ

کیا یہ وہ ہی انقلاب ہے جس کا ہم خواب دیکھتے تھے، یااللہ! ہم پر رحم فرماء! ہمیں یہ انقلاب نہیں چاہئیےتھا۔۔

قیامت سا منظر ہے، انسان کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔

وہ لوگ جو پیٹ بھر کے کھانا کھاتے تھے، جو اونچے محل نماں مکانات میں رہتے تھے،جو انقلاب کو جھٹلاتے تھے، ان کے مکان وہ مفلس لوگ جلا رہے تھے، جو کل تک کہتے تھے کہ ہم احتجاج کرنے سڑکوں پر نکلیں گے تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا۔۔

آج وہ سب ایک تھے جو کل تک اپنا حق لینے کو اکٹھے نہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔

دکانیں لوٹی جارہی تھیں، جس کے جو ہاتھ آتا وہ اس کی ملکیت تھی۔۔۔۔

جس میں شرافت تھی، وہ سہما بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کاش لوگ اس آنے والے قہر کی آواز کو پہلے ہی سن لیتے کہ بھوک اتنی ظالم ہے جو انسانیت کو بھی کھا جاتی ہے۔

اس مٹی کو پانی سے تر کرلیتے تو آج خون کی ضرورت نہ ہوتی۔۔۔۔

۔

عبدالباسط
 
Top