1. گوگل کروم کے حالیہ نسخہ 53 میں محفل کا اردو ایڈیٹر بعض مقامات پر درست کام نہیں کر رہا۔ جب تک اس کا کوئی حل نہ دریافت کر لیا جائے، احباب گوگل کروم کے پچھلے نسخوں یا دیگر کسی براؤزر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس بلائے نا گہانی سے ہم کافی پریشان ہیں اور جلدی ہی اس کا کوئی حل دریافت کرنے کی کوشش جاری ہے۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیں!

    اعلان ختم کریں

حیاء پر خوفناک حملہ - کالم از ذوالفقار احمد چیمہ سابقہ آئی جی موٹروے پولیس

عبدالقیوم چوہدری نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2017

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    25,557
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Drunk
    سکول میں ڈریس کوڈ ہوتا ہے لیکن ان صاحب کے مطابق وہ بھی کافی بیہودہ ہی کہلائے گا۔ ہر دفتر کا ماحول فرق ہوتا ہے اور اسی حساب سے یہ توقع بھی کہ کیا پہننا ٹھیک ہے
     
    • متفق متفق × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    25,557
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Drunk
    امریکہ میں مسلم خواتین کی اکثریت حجاب نہیں کرتی۔ جو حجاب کرتی بھی ہیں وہ مغربی لباس میں۔ یورپ میں بھی شاید ایسا ہی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    7,645
    موڈ:
    Cheerful
    آپ کا مطلب ہے کہ سرکاری سکول ؟
     
  4. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    25,557
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Drunk
    بازو سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شارٹس یا سکرٹ کی کم از کم لمبائی مقرر ہے
     
    • متفق متفق × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    6,204
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مضمونِ ہٰذا میں پروفیسر زیک صاحب کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہیں یہ اپنے زیک صاحب تو نہیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    6,204
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    پیشگی معذرت کے ساتھ کچھ نکات عرض کرنا چاہوں گا

    ۔ مضمون نگار کسی خیالی اور تصوراتی دنیا کے باسی لگتے ہیں۔ نیز یہ کہ ان کا خیال ہے کہ ان کے علاوہ کسی نے دنیا یا مغرب نہیں دیکھا۔ ایسے قصے کہانیاں نصف صدی قبل کے زمانے میں چل جاتے تھے جب مصنفین (ابنِ انشا، تارڑ وغیرہ) اپنے سفرناموں میں دیگر ممالک کی اخلاق سوزی کے قصے بڑھا چڑھا کر پیش کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس وقت عام عوام کا باقی دنیا کے ساتھ ربط تھا ہی نہیں سوائے ان کتب، اخبارات یا فلموں کی ویڈیو کیسٹ کے۔ مضمون نگار ہنوز پرانی روش پہ چلنے پر بضد ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ منجن ابھی بھی اچھا بکتا ہے ہمارے ہاں۔
    ۔ مغرب کے بارے میں کچھ یونیورسل ٹرتھ ہمارے ہاں ایجاد کر لئے گئے ہیں، جن کی نہ تصدیق کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے نہ تحقیق کی۔ جیسے کہ سارے بوڑھوں کو اولڈ ہوم میں چھوڑ آتے ہیں۔ ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے پہ سزا ہے۔ فحاشی عام ہے۔ سارے مغرب کو اور کوئی کام نہیں سوائے ہمارے خلاف سازش کرنے کے۔ سارا علم اور سائنس وغیرہ ہسپانیہ سے لوٹا گیا تھا۔ وغیرہ وغیرہ
    ۔ ان سب سے بڑھ کر جارج آرویل کے الفاظ میں مضمون نگار "دو خیالی" یعنی ڈبل تھنک کے شکار ہیں۔ اسی بات کا تذکرہ زیک بھائی پہلے کر چکے ہیں۔ خود بیس سال گزارنے کے بعد اچانک مغربی معاشرے کی خرابیاں ان پہ آشکار ہو گئیں۔
    ۔ ایک ایسے دور میں کہ جب گلوبلائیزیشن کے بغیر گزارہ ہی مشکل ہے، وہ معاشرے کو آہنی پردوں کے پیچھے دھکیلنے میں بہتری دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے بچوں کو اے لیول ہی کرانا ہے۔

    کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے۔ لیکن فی الحال اتنا ہی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    18,148
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    پاکستان میں برطانوی نظامِ تعلیم کے تحت چلنے والے اسکولز اور سرکاری اسکولز کے علاوہ بھی بہت سارے ادارے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    18,148
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    آپ کی بات درست کہ پاکستان میں ایسا سمجھا جاتا ہے اور کچھ زیادہ ہی سمجھا جاتا ہے ۔تاہم یہ سب باتیں بالکل بے بنیاد بھی نہیں ہیں۔

    ہمارے ہاں سے جب کوئی شخص کمانے کی غرض سے باہر جاتا ہے تو عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تو وہاں بالغ ہو کر پہنچا تھا اور اُسے اس بات کا شعور تھا کہ وہ اس معاشرے کا کتنا اثر لے اور کتنا نہ لے۔ لیکن وہیں پیدا ہونے والے کہ جنہوں نے کبھی مشرقی طور طریقے دیکھے ہی نہ ہوں اُن کے ہاں یکطرفہ رُجحانات کا نمو پا جانا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔

    بلاشبہ، گلوبلائزیشن کے اثرات سے بچنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

    اس بات کی طرف ہم نے بھی اشارہ کیا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر