حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام

حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام​
اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صورت وسیرت ہر لحاظ سے بے مثل مثال پیدا فرمایا،آپ کو اخلاق عالیہ کے بلند ترین مراتب پرفائز فرمایا،آپ کے خصائل حمیدہ و اخلاق عالیہ کا مبارک تذکرہ صرف قرآن کریم ہی میں نہیں بلکہ دیگر کتب سماوی میں بھی آپ کی صفات جمیلہ واخلاق کریمہ کا حسین تذکرہ فرمایا،جو برگزیدہ صفات اور فضائل وکمالات مختلف پیغمبروں کو عطا کئے گئے وہ تمام حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مجمع کمالات میں جمع کردئے گئے،آپ کے اخلاق کی رفعتوں کے بیان میں قرآن کریم ناطق ہے،ارشاد الہی ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ۔​
ترجمہ:اور ائے نبی !بیشک آپ اخلاق کے اعلی مرتبہ پر فائز ہیں-(سورۃ القلم:4)
اخلاق کی بلندی یہ ہے کہ جو ہم سے کٹ جائیں ہم ان کے ساتھ تعلقات استوار کریں،جو قطع تعلق کریں ہم ان سے صلہ رحمی کریں،جو ہمارے حقوق تلف کریں ہم ان کے بھی حقوق ادا کریں،جو ہم پر ظلم وزيادتی کریں ہم ان کے ساتھ عفوو درگزر کا معاملہ کریں ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہوگا جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو۔
آپ نے ارشاد فرمایا: انما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق .مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گيا-(سنن کبری للبیہقی،ج:10،ص:192)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاق عالیہ سے متعلق سیدنا انس بن مالک رضي اللہ عنہ فرماتے ہيں:
خَدَمْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِى أُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِشَىْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ .
میں نے دس برس تک حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا،آپ نے مجھے کبھی "اف"تک نہیں فرمایا،اور کسی معاملہ میں یہ نہيں فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا-(جامع ترمذی، باب ما جاء فى خلق النبى صلى الله عليه وسلمحدیث نمبر:2147)
صحیح بخاری میں روایت ہے:
فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِى الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ .
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضي اللہ عنہا آپ کے اخلاق کریمہ سے متعلق بیان فرماتی ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کی شان بلند رکھے گااور اپنی مدد کو نہیں روکے گا ، آپ تورشتہ داروں کے ساتھ بہتر سلوک کرتے ہیں ، ناداروں کابوجھ اٹھاتے ہیں ، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں ، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور مصیبتوں کے وقت لوگوں کے کام آتے ہیں۔(صحیح بخاری ، حدیث نمبر:3)
بدخلقی آدمی کے اندر سب سے بڑا عیب ہے،اور خوش اخلاق شخص اگرچکہ وہ سیاہ رو وبدصورت ہو'محبوب وپسندیدہ ہوتا ہے۔
از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر
 
Top