جیو کی مزاحیہ سیریز مزاح یا اسماءالحسنی کا استہزاء

ایک اچھی بحث جاری ہے۔ دیکھتے ہیں کن کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ لوگ ام النورین صاحبہ سے کہاں تک اتفاق کرتے ہیں۔
 
ایک اچھی بحث جاری ہے۔ دیکھتے ہیں کن کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔
بحث اچھی ضرور ہے، لیکن یہ کوئی مقابلہ نہیں ہورہا جو پلڑا بھاری یا ہلکا ہونے کی بات کی جائے۔ فریقین اپنے اپنے مخصوص نقطہ نظر سے بات کر رہے ہیں۔ ایک معاملے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جارہا ہے۔
 
بہت عمدہ سعادت بھائی اللہ آپ کو دین و دنیا کی سعادتیں نصیب فرمائے آپ کا نرم لہجہ دھیما انداز اور تحریر کی نفاست اور سلجھا ہوا علمی انداز آپ کی خاندانی شرافت و نجابت کو آشکارا کرتا ہے اور اس بات کا مظہر ہے کہ آپ کی تربیت بہت عمدہ ماحول اور ہاتھوں میں ہوئی ہے جزاک اللہ۔
بس اتنا یاد رکھیئے کہ کمپنی صرف لاتوں کے بھوت ہیں یہ باتوں سے نہیں مانتے ہیں۔ یہ شق القمر کے بعد بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
جناب روحانی بابا کے آخری جملے سے ان کی اپنی خاندانی شرافت و نجابت بخوبی آشکار ہوتی ہے ۔
 
جناب روحانی بابا کے آخری جملے سے ان کی اپنی خاندانی شرافت و نجابت بخوبی آشکار ہوتی ہے ۔
Thank you پزیرائی کا شکریہ اوراپنے خاندان کے تعارف کا بھی شکریہ
بی بی آپ عورت ذات ہیں کیچڑ میں پتھر مت ماریں ورنہ اپنا دامن بھی آلودہ ہونے سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔
نہ آپ مجھے جانتی ہیں اور نہ میں آپ کو جانتا ہوں پھر خاندان کے حوالے سے بات کرنا چہ معنی دارد؟؟؟؟؟؟
اللہ کا فضل ہے میرے والد صاحب اپنے علاقے کی ایک ہردلعزیز شخصیت ہیں اور اتنے دھیمے اور نرم مزاج کے ہیں کہ آج تک کسی نے اُن کو غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا آپ کے تبصرہ سے مجھے واقعی دلی رنج ہوا ہے۔
جہاں تک خاندان کی شرافت و نجابت کے معاملات ہیں تو دنیا جانتی ہے کہ ولیوں کے گھر گناہ گارہ اور معاصیوں کے گھر ولی پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اکثر وہ مشہور زمانہ فقرہ ضرور سنا ہوگا کہ لائق اور صاحبِ حسنات اولاد پر دنیا دار والدین یوں کہتے ہیں کہ پتہ نہیں کونسی نیکی یا ادا اللہ کو پسند آگئی ہے کہ ایسی اولاد سے نوازا ہے اور بعینہٍ ولی صفت والدین معاصی اولاد کے پیدا ہونے پر کہتے ہیں پتہ نہیں اللہ نے کس گناہ میں پکڑ لیا ہے کہ ایسی اولاد دے دی ہے۔
بہرحال موڈیٹرز سے گزارش ہے کہ اس مراسلے کو تحلیل نہ کیا جائے۔ شکریہ
 
بحث اچھی ضرور ہے، لیکن یہ کوئی مقابلہ نہیں ہورہا جو پلڑا بھاری یا ہلکا ہونے کی بات کی جائے۔ فریقین اپنے اپنے مخصوص نقطہ نظر سے بات کر رہے ہیں۔ ایک معاملے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جارہا ہے۔
مطلب یہ تھا کہ اب فریقین میں سے ایک تو ایسا ہوگا جو لازمی اپنی بحث کوا ختتام تک پہنچائے گا۔ مگر بغیر کسی نتیجے کے
 
Top