جنگ، مذاکرات یا دونوں ساتھ ساتھ؟

Latif Usman

محفلین
افغان طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کے دو رشتہ داروں کو باغی تحریک میں سینیئر عہدے دے دیےگئے ہیں۔ تقریباً تین ہفتے قبل ملا اختر منصور نے اپنے پیروکاروں کو ’آخری دھکے‘ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا اور اُن کو ’آنے والے مہینوں میں فتح‘ کی امید دلائی تھی۔ کیا یہ پرانی اور نئی قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ کے خاتمے کا اشارہ تو نہیں ہے؟​
اہم رہنماؤں کی واپسی اور گروہ میں اختلافات کے خاتمے سے ممکنہ امن مذاکرات اور مستقبل میں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اثرات مرتب ہوں گے۔
اب تک طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کیا تھا، اُنھوں نے غیر ملکی افواج کے انخلا، فہرستوں سے رہنماؤں کے نام ہٹانے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ افغانستان میں ایک اور اہم سال جنگ اور مذاکرات، یا کم سے کم مذاکرات کے حوالے سے باتیں، ساتھ ساتھ جاری رہتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 
آخری تدوین:

Latif Usman

محفلین
طالبان نےا فغانستان کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا ہے۔ اب مذاکرات کی کامیابی ہی امن کی ضمانت ہے۔ طالبان قیادت ملک میں جنگ و جدل کے بجائے صلح جوئی سے کام لیتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے۔
اسلام امن و شانتی کا دین ہے اور اسلام نے ہمیشہ صلح اور سلامتی کو جنگ وجدال پر برتری دی ہے۔ اور پیغمبر اسلام (ص) اور صحابہ کرام نے ہمیشہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی ہے قرآن کریم میں بھی صلح قبول کرنے پر واضح دستورات موجود ہیں۔

اسلام قیام امن کا سب سے بڑا داعی:
بے شک مسلمان تو (آپس میں) بھائی بھائی ہیں (حقیقی بھائی کی طرح ہیں) پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ “ (الحجرات، 49 : 10) سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے​
 
Top