جستجو۔۔۔!

متلاشی

محفلین
جستجو!​
وہ صحرا کی تپتی ریت پر دنیا و مافیہا سے بے خبر چلا جا رہا تھا …آفتاب کی تپش اپنے جوبن پر تھی …دُوردُور تک کوئی ذی روح موجودنہ تھا …دھوپ کی تمازت سے اُس کی سرخ و سفید رنگت سیاہ پڑ چکی تھی … پیاس کی شدت سے اُس کا حلق کسی ویران کنوئیں کی مانند خشک ہو چکا تھا …اُس کی ٹانگیں اس کے وجود کا ساتھ نہ دے رہی تھیں …مگر وہ چلے جا رہا تھا … کیونکہ چلنا ہی اُس کا مقدر تھا …ہاں…وہ اَزلی مسافر تھا …وہ اک نامعلوم منزل کا راہی تھا … اسے گِرد و بیش کی کچھ خبر نہ تھی … نہ معلوم کب سے وہ اس ویرانے بھٹک رہا تھا … شاید اس کی یاداشت دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی تھی …یا شاید بے نام منزل کی جستجو نے اُسے دیوانہ بنا دیا تھا … ہاں …شاید وہ دیوانہ ہی تھا … نامعلوم منزل کی لگن میں پھرنے والا …جسے اپنے آپ کی بھی کچھ خبر نہ ہو… تو لوگ ایسے شخص کو دیوانہ ہی تو کہتے ہیں … وہ اس عالم دیوانگی میں نہ جانے کہاں کہاں سے گزرا تھا …اور نہ جانے کتنی مسافتیں ابھی اس کی راہ میں حائل تھیں …مگر اُسے کسی چیز کی پروا نہ تھی … اُسے تو بس منزل پر پہنچنے کی لگن تھی… اک نامعلوم منزل کی لگن …!
وہ چل رہا تھا …مگراُس کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے … بالآخر اس کی قوت صحرا کی وسعتوں کے سامنے بے بس ہو گئی …وہ نڈھال سا ہو کر بیٹھ گیا …اس کی منزل ابھی بہت دُور تھی … بہت دُور …! شاید میں اپنی منزل کو نہ پاسکوں …! وہ سوچنے لگا …دنیا میں بے شمار انسان بستے ہیں …سب اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں …وہ بہت خوش قسمت ہیں … انہیں کوئی فکر ہے نہ غم …کتنی پرسکون اور پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں … اک میں ہی وہ بد نصیب ہوں جسے اس بھری پری دنیا میں چین نہ ملا … ہاں …شاید میری قسمت ہی کھوٹی تھی …جو نا معلوم منزلوں کی جستجو میں چل نکلا …مگر میں کیا کرتا…؟ میری روح بے چین تھی … مجھے سکون درکار تھا … مگر لوگ بھی تو پر سکون زندگی گزارتے ہیں … و ہ کتنے آرام سے رہتے ہیں … بڑے بڑے بنگلے ، لمبی لمبی کاریں ،فیکٹریاں ، بینک بیلنس … ان کے پاس سب کچھ ہے …وہ آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں … پھر مجھے سکون کیوں نہ ملا…؟ میرے پاس بھی تو یہ سب کچھ تھا … مگر میں بے کُل تھا …بے قرار تھا … بے چین تھا …کوئی ہے جو مجھے دائمی سکون کا راز بتا دے … مگر کوئی نہیں … ہاں … کوئی نہیں …! شاید میں اس دنیا میں اکیلا ہوں … کوئی میرا ہم نوا نہیں … کوئی میرا دوست نہیں … کوئی میرا ہمددر نہیں … کوئی نہیں جو میرے درد کا درماں کرے … کو ئی نہیں جو میرے احساسات کو سمجھ سکے … کوئی نہیں جو میرے خیالات کا ادراک کر سکے … ہاں … میں اکیلا ہوں … اس بھری پری دنیا میں اکیلا … کوئی میرا ہم سفر نہیں … کوئی نہیں جو مجھے میری منزل تک پہنچائے … مجھے میری منزل تک کون پہنچائے گا …؟ مگر کوئی پہنچا بھی کیسے سکتا ہے …! کیوں کہ میں تو اک نامعلوم منزل کا راہی ہوں … اک ان دیکھی منزل کا مسافر … ! مگر میں اپنی منزل پر پہنچوں گا … ہاں … مجھے یقین ہے میں اپنی منزل پر ضرور پہنچوں گا … کوئی میرا ہم سفر نہیں تو کیا ہوا…کوئی میرا ہمدرد نہیں تو کیا ہوا …! میری لگن … میرا جذبہ … میری تڑپ … اور میری جستجو ہی مجھے میری منزل تک پہنچائے گی …!
اس سوچ نے اس کے اندر اک نئی طاقت بھر دی …وہ اک نئے عزم…نئے جذبے …کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوا …اور چلنے لگا …چلتے چلتے اسے دور ریت میں چمکتی ہوئی کوئی چیز نظر آئی … شاید وہ پانی ہے … اُس نے سوچا … اس کے قدم تیزی سے اس طرف بڑھنے لگے …پانی دیکھتے ہی اُس کی پیاس بھڑک اُٹھی تھی … وہ جلد از جلد وہاں تک پہنچ جانا چاہتا تھا … مگر جوں جوں آگے بڑھتا … پانی دور سے دور ہوتا چلا جاتا…تب اُسے پتہ چلا کہ وہ پانی نہیں تھا … وہ تو نظر کا دھوکہ تھا … وہ تو محض اک سراب تھا … تیز تیز چلنے کے بعد وہ تھک چکا تھا … پانی دیکھتے ہی جو قوت اُس کے اندر اُبھری تھی وہ ماند پڑ چکی تھی … وہ نڈھال سا ہو کربیٹھ گیا …اس حالت میں بھی اس کا ذہن مصروف تھا … وہ کچھ سوچ رہا تھا … یہ دنیا بھی تو دھوکے کا اک گھر ہے … یہ بھی تو محض اک سراب ہے … جب انسان دنیا میں ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے اس کے پاس بہت کچھ ہے … اُس کے پاس مکان ہے … دکان ہے … رقم ہے … اس کے پاس محبت کرنے والی بیوی اور فرماں بردار اولاد ہے … اُس کے دوست ہیں … اُس کے رشتہ دار ہیں … وہ سب اس کے اپنے ہیں … وہ سب اُس کے پیارے ہیں … وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ سب اُس کا اپنا ہے … مگر جب اس دنیا میں اس کی سانسیں پوری ہو چکتی ہیں … جب وہ اس عالمِ فانی سے دارِ آخرت کی طرف کوچ کرتا ہے … توا ُس کے اپنے ہی اُسے منوں مٹی کے نیچے اکیلا دفن کر آتے ہیں … کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں رہتا … سب اسے چھوڑ آتے ہیں … پھر چند دن کے سوگ کے بعد… وہ اُسے اس طرح بھول جاتے ہیں… جیسے وہ اس دنیا میں آیا ہی نہ تھا …! تب جا کر انسان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ یہ دنیا بھی اک فریب خانہ ہے … یہ دھوکے کا گھر ہے … یہ بھی محض اک سراب ہے … اس کی کچھ حقیقت نہیں … اس میں کوئی کسی کا نہیں … سب اپنی اپنی راہ پر چل رہے ہیں … ہاں … یہ دنیا اک راہ گزر ہے … اس
میں بسنے والے سب مسافر ہیں … سب راہی ہیں … !
تھوڑی دیر سستانے کے بعد وہ چل پڑا … کیونکہ کہ اُسے ہر صورت اپنی گمنام منزل پر پہنچنا تھا … دن ڈھل رہا تھا …سورج کی تماز ت کم پڑ رہی تھی … وہ چلے جا رہا تھا… مگر صحرا تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا … یوں لگتا تھا جیسے وہ ساری عمر اس صحرامیں بھٹکنے میں گزار دے گا … اور یہ وسیع و عریض صحرا ہی اس کا مدفن بنے گا … وہ چلتا رہا …بالآخر وہ اک ٹیلے کے قریب پہنچا … اور بیٹھ گیا … وہ بہت تھک چکا تھا … اب اس کے پاؤں میں مزید چلنے کی سکت باقی نہ رہی تھی … شام ہونے کو تھی … وہ سورج کو دیکھنے لگا … جو رفتہ رفتہ دور افق میں غائب ہو رہا تھا …اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا … دفعتاً ایک خیا ل اس کے ذہن میں کوندا … کیا میں بھی سورج کی طرح غروب ہو جاؤں گا…؟ یا اپنی منزل کو حاصل کر لوں گا … سورج …! آگ کا اتنا بڑا گولا … جو سارا دن روشنی دیتا ہے … اور پھر بالآخر غروب ہو جاتا ہے …شاید میری زندگی کا ٹمٹاتا چراغ بھی سورج کی طرح بجھنے کو ہے … وہ سوچ رہا تھا … کیا واقعی سورج بھی غروب ہوجاتا ہے …؟ اس کے ذہن میں اک سوال ابھرا …لوگ تو یہی کہتے ہیں … مگر جب یہ اک خطہ ٔ ارض پر بسنے والوں کی نظر سے غائب ہوتا ہے … تو وہ کہتے ہیں کہ سورج غروب ہو گیا … مگر وہی سورج اُسی وقت کسی دوسرے خطہ ٔ ارض پر طلوع ہو رہا ہوتا ہے… اور کسی اور خطہ ٔ ارض پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہوتا ہے … اس کی سوچ کا سلسلہ جاری تھا … تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں سورج غروب نہیں ہوتا … بلکہ زمین کا وہ حصہ جہاں شام ہوتی ہے …وہ حرکت کرتے کرتے سورج کے سامنے سے ہٹ جاتا … سورج تو ازل سے چل رہا ہے … اس کا کام تو چلنا ہے … وہ سوچ رہا تھا … کیا سورج بھی میری طرح اک مسافر ہے …؟ اک راہی ہے …؟ کیا اسے بھی کسی کی تلاش ہے …؟ کیا وہ بھی کسی کی جستجو میںپھر رہا ہے …؟ وہ سوچ رہا تھا … رات ڈھل رہی تھی … پھر آسمان پر سیاہ بادلوں کی اوٹ سے چاند نے چپکے سے اپنا سر باہر نکالا …تو اس کی سوچ کا رُخ آفتاب سے ماہتاب کی طرف مڑ گیا …اس نے سوچا… یہ ماہتاب بھی تو آفتاب کی طرح اک مسافرہی ہے … یہ بھی تو ازل سے کسی کی تلاش میں سر گرداں ہے … ؟ ہاں … شاید یہ چاند… سورج … ستارے …یہ سب کے سب مسافر ہیں … یہ بھی میری طرح اپنی اپنی منزل کی طرف از ل سے چل رہے ہیں … ہاں … اب میں اکیلا نہیں ہوں … یہ آفتاب … یہ ماہتاب … اور یہ ستارے … سب کے سب میرے ہمراہی ہیں … یہ سب میرے ہم سفر ہیں … اب میں اکیلا نہیں ہوں … ہاں … اب میں اکیلا نہیں ہوں … !
وہ انہی سوچوں میں مگن تھا … نیند اس سے کوسوں دور تھی … وہ سونا چاہتا تھا … وہ آرام کرنا چاہتا تھا … مگر شاید نیند اس سے رُوٹھ گئی تھی … اس کا ذہن خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا … سو چتا سوچتا وہ اپنے ماضی میں کھو گیا … !
جب سے اُس نے لڑکپن کے بعد شعور کی منزل پر قدم رکھا تھا … اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ اک عجیب صورتحال سے دوچار تھا … اُسے اپنی زندگی میں کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی تھی … اُس کے پاس سب کچھ تھا … حد سے زیادہ مہربان والدین … بہت زیادہ محبت کرنے والے بھائی بہن … اچھے دوست …مگر زندگی کی حقیقی خوشی سے وہ محروم تھا … شاید وہ اک احساسِ محرومی تھا… جس نے اس کی زندگی سے سکون چھین لیا تھا … وہ بہت اداس تھا … اس کی زندگی ادھوری تھی … اُس کی آنکھوں میں ہر وقت ویرانیاں سی چھائی رہتی تھیں … اس کا چہرہ ہر وقت مرجھائی ہوئی کلی کی مانند ہو تا تھا … اسے کوئی خوشی … خوشی محسوس نہ ہوتی … خوشی کے ان لمحات میں اگروہ مسکرا بھی لیتا …تو اس کی مسکراہٹ بھی اک غم زدہ مسکراہٹ ہوتی … اسے حقیقی خوشی حاصل نہ تھی … شاید دنیا میں دائمی خوشی کا حصول نا ممکن ہے … اُس کی روح بے چین تھی … وہ مضطرب تھا … اُسے سکون چاہیے تھا … اُسے سکھ درکار تھا … مگر اُس کی روح کو تسکین نہ ملتی … اس کی زندگی میں شاید کسی چیز کی کمی تھی … مگر اُسے اس چیز کے بارے میں معلوم ہی نہ تھا … اسے محسوس ہوتا تھا کہ اس کی زندگی ادھوری ہے … مگراس ادھورے پن کا سبب اسے معلوم نہ تھا… وہ اک عجیب صورتحال سے دوچار تھا … اُس کے دوست اُسے کہتے تھے کہ … شاید اُسے کسی سے محبت ہو گئی ہے … ایک لمحہ کے لئے وہ سوچتا … مگر پھر وہ خود ہی اس خیال کو رَد کر دیتا … کیونکہ اُس کے ذہن میں کوئی نام نہ تھا … کوئی ایسا چہرہ نہ تھا …جسے وہ اپنی محبت کہتا … جسے وہ اپنی منزل ٹھہراتا … جسے وہ اپنی جستجو کا سبب سمجھتا … پھر … وہ بے چین کیوں تھا … ؟ بے سکون کیوں تھا …؟ کوئی ہے …؟ جو اُسے اُس کی بے چینی کا سبب بتلائے … کوئی ہے جو اُسے سکون دے سکے … ؟کوئی ہے جو اس کے احساسات کو سمجھ سکے …؟ کوئی ہے جو اس کی زندگی میں حقیقی خوشی بھر دے …؟ کوئی ہے …؟ کوئی ہے …؟ مگر … کوئی نہیں … یہ دنیا اک صحرا ہے … جس میں وہ اکیلا بھٹک رہا ہے … بظاہر تو وہ اس بھری پُری دنیا میں رہ رہا ہے … مگر یہ دنیا اُس کے لئے اک صحرا کی مانند ہے … جس میں کوئی اس کا اپنا نہیں … کوئی اس کا دوست نہیں … کوئی اس کا ہمدرد نہیں … کوئی اس کا ہم سفر نہیں … کوئی اس کا ہم نوا نہیں … کوئی اس کا ہم مزاج نہیں … کوئی اس کا غمخوار نہیں … وہ … وہ اکیلا ہی اس بھری پُری دنیا کے ویرانے میں بھٹک رہا ہے … مگر اس کا حوصلہ پختہ ہے … اس کا جذبہ جوان ہے … اس کی لگن سچی ہے … اس کی تڑپ کامل ہے … اس کا شوق ، اس کا ذوق دیدنی ہے … اُس جستجو اُس کی امنگوں کی گواہ ہے … اس کی یہی سوچ … اس کا یہی جذبہ…اس کا یہی شوق … اس کا یہی ذوق …اس کی یہی لگن … اس کی یہی تڑپ … اس کا یہی ولولہ … اس کی یہی امنگیں … اس کی یہ کوششیں … اس کی یہی کسک… اس کی یہی تلاش … اور اس کی یہی جستجو … ہی اُسے اُس کی منزل تک پہنچائے گی … وہ اپنی منزل تک ضرور پہنچے گا … یہ اُس کا ایمان ہے…یہ اُس کا یقین ہے … اور یہی اس کا مقصدِ حیات ہے … یہی اس کی منزل مرُادہے … اور یہی اس کی جستجو کا حاصل ہے … ہاں …یہی ہے اس کا حاصلِ جستجو … !
بتحریر… محمد ذیشان نصر…لاہور​
22-06-2010​
 

متلاشی

محفلین
Bht zabrdast tahrer hai...or bht ummda ilfaz ka istamal kya hai.khush rahen...mazed ka intezar rahe ga
مانو! پسندیدگی کے لئے آپ کا شکریہ ۔۔۔! میری مزید تحریریں آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں ۔۔۔!
آشنائے محبت
اس کے علاوہ میرے بلاگ پر بھی میری تحاریر موجود ہیں ۔۔۔ میرے بلاگ کا لنک میری ہر پوسٹ کے نیچے موجود ہے ۔۔۔!
 
جنابِ متلاشی ۔
زبان بہت عمدہ ہے! سادہ اور آسان۔ اسلوب بہت دل پذیر ہے! چھوٹے چھوٹے سیدھے سادھے جملے۔ منظر نگاری بھی خوب ہے، اندر اور باہر کے مناظر کا رچاؤ اچھا ہے۔ کیفیات کا بیان بھی عمدہ ہے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ مگر ۔۔۔ اس ساری جد و جہد اور ان ساری بے چینیوں کو کوئی رُخ نہیں مل سکا۔ عین ممکن ہے کہ یہی بے سمتی اس تحریر کی محرک رہی ہو، تاہم قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے اِن ڈھیر سارے سوالوں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا ہو اور کہانی شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گئی ہو۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ افسانہ ہے، کہانی ہے، انشائیہ ہے یا کیا ہے، اکائی گویا مکمل نہیں ہو رہی۔ اس کو کوئی رخ دیجئے، قاری کو کچھ سجھائیے تا کہ وہ کہانی کار کا ساتھ دے سکے۔ اور اس اکائی کی تکمیل ہو سکے۔
 

متلاشی

محفلین
جنابِ متلاشی ۔
زبان بہت عمدہ ہے! سادہ اور آسان۔ اسلوب بہت دل پذیر ہے! چھوٹے چھوٹے سیدھے سادھے جملے۔ منظر نگاری بھی خوب ہے، اندر اور باہر کے مناظر کا رچاؤ اچھا ہے۔ کیفیات کا بیان بھی عمدہ ہے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ مگر ۔۔۔ اس ساری جد و جہد اور ان ساری بے چینیوں کو کوئی رُخ نہیں مل سکا۔ عین ممکن ہے کہ یہی بے سمتی اس تحریر کی محرک رہی ہو، تاہم قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے اِن ڈھیر سارے سوالوں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا ہو اور کہانی شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گئی ہو۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ افسانہ ہے، کہانی ہے، انشائیہ ہے یا کیا ہے، اکائی گویا مکمل نہیں ہو رہی۔ اس کو کوئی رخ دیجئے، قاری کو کچھ سجھائیے تا کہ وہ کہانی کار کا ساتھ دے سکے۔ اور اس اکائی کی تکمیل ہو سکے۔
شکریہ استاذ گرامی !
پسندیدگی کے لئے آپ کا شکر گذار ہوں۔۔۔!
استاذ گرامی یہ نہ کوئی کہانی نہ افسانہ بلکہ یہ میں نے اپنے احساسات اور اپنی کیفیات کو قلم بند کرنے کی سعی نا تمام کی ہے ۔۔۔! وہ شخص جس کی یہ کہانی ہے ۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں ۔۔۔ حقیقتا میں خود بالکل انہی کیفیات کا شکار ہوں۔۔۔!(اسی لئے میں نے یہاں پر اپنا نام متلاشی رکھا ہوا ہے ) مگر چونکہ میں خود ابھی اپنی منزل سے دُور ہوں۔۔۔ اس لئے اپنی اس کہانی کو کوئی انجام نہیں دے سکا۔۔۔!
کیا آپ میری ان کیفیات کو سمجھ کر میری جستجو کا سبب مجھے بتا سکتے ہیں۔۔۔۔؟ میں نے ان احساسات کو قلم بند ہی اس لئے کیا تھا کہ شاید کوئی میرے ان احساسات کو سمجھ کر میری رہنمائی کردے ۔۔۔ ! مگر ابھی تک تو کہیں سے رہنمائی نہیں ملی ۔۔۔!
اور آپ کی یہ بات بالکل درست ہے ۔۔۔!

عین ممکن ہے کہ یہی بے سمتی اس تحریر کی محرک رہی ہو
 
کیا آپ میری ان کیفیات کو سمجھ کر میری جستجو کا سبب مجھے بتا سکتے ہیں۔۔۔ ۔؟ میں نے ان احساسات کو قلم بند ہی اس لئے کیا تھا کہ شاید کوئی میرے ان احساسات کو سمجھ کر میری رہنمائی کردے ۔۔۔ ! مگر ابھی تک تو کہیں سے رہنمائی نہیں ملی ۔۔۔ !​

شاید کچھ کچھ بات یہ فقیر پا گیا تھا، اور اِسی لئے عرض کیا تھا کہ:
اس بحث سے قطع نظر کہ یہ افسانہ ہے، کہانی ہے، انشائیہ ہے یا کیا ہے، اکائی گویا مکمل نہیں ہو رہی۔​


یہاں کچھ فلسفہ در آتا ہے۔
متدبر انسان کی سوچ کی شاید دو سطحیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو اس کے اندر ہی اندر طوفان بپا کئے رہتی ہے اور ایک وہ جس میں وہ دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ ’’شاید‘‘ اس لئے کہا ہے کہ بقول انور مسعود انسان اتنی سادہ چیز بھی نہیں کہ ہم اس کا کیمیائی تجزیہ کر کے بتا سکیں کہ اس میں محبت اتنی ہے، نفرت اتنی ہے، بے یقینی اتنی ہے، یقین اتنا ہے، فکری گہرائی اتنی ہے، اور جذبہ اتنا ہے، غصہ اتنا ہے؛ وغیرہ۔
آپ کے اندر ہی اندر کیا طوفان برپا ہیں، وہ آپ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں یا آپ کے وہ دوست اور متعلقین جو بالمشافہ آپ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ کچھ کچھ اندازہ البتہ اس قلمی نام متلاشی سے ہو جاتا ہے۔
اس کا علاج (اگر یہ واقعی بے سمتی کی کیفیت ہے تو) یہ ہے کہ انسان اپنے اللہ کی طرف یکسو ہو جائے اور ہر اُس چیز اور عمل سے کنارہ کش ہو جائے جسے وہ سمجھتا ہے کہ اس کی توجہ تقسیم کر کے ایک خطِ مستقیم کو قوس کی اور پھر دائرے کی شکل دے دیتی ہے۔

دوسرا مرحلہ ایک کیفیت کو بیان کرنے کا ہے۔
 
دوسرا مرحلہ ایک کیفیت کو بیان کرنے کا ہے۔

یہ مرحلہ یہاں میرے لئے شاید آپ کی نسبت مشکل تر ہے۔ آپ ایک تجربے سے گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں اور مجھے آپ کے لفظوں سے اس کا ادراک کرنا ہے۔ اس لئے کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکوں گا۔ ہاں، یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا قاری آپ کے داخل کے مقابلے میں آپ کے خارج کو نسبتاً آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ داخل سے خارج کا سفر آپ اور میں لفظوں کے راستے سے طے کرتے ہیں۔ قاری کو جہاں تک آپ کی لفظیات سے روشنی ملتی ہے وہ آپ کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہے (ضروری نہیں کہ ساتھ چل بھی رہا ہو)۔ اور جہاں آپ کے لفظ اسے آپ کے داخل تک کا راستہ نہیں دیتے، وہ فکری سطح پر خاموش ہو جاتا ہے۔ اسے آگے بڑھنے کا راستہ آپ دکھائیں گے اگر دکھائیں گے تو!۔ اس راستے کو اگر ’’سمت‘‘ قرار دیا جائے تو شاید کچھ زیادہ غلط نہیں ہو گا۔ سو، ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ آپ کا قاری ’’سمت‘‘ کا ادراک بھی آپ ہی سے لے گا۔

اس سے زیادہ کھول کر بیان کرنا شاید میرے لئے ممکن نہیں۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
 
Top