تھری جی ۔۔۔ ویڈیو کال ٹیکنالوجی کا انقلاب اور پاکستان

فخرنوید

محفلین
ملک کی مشہور ترین پانچ سیلولر کمپنیوں میں سے تقریبآ چار نے اس ٹیکنالوجی کے حصول اور اس کی لائسنس کے حصول کے لئے غیر دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق کچھ سرکاری پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن افسران کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی کمپنی اس ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشش نہیں کر رہی ہے۔
جس کے وجہ سے اس کے لائسنس کے نیلامی میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مقامی کمپنیوں کی جانب سے اس میں غیر دلچپسی کی باعث اب مذید بین الوقوامی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کروانے کے لئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سے رابطے شروع کر دئے ہیں۔ ان میں ووڈا فون ۔۔۔قطر ٹیلی کام ۔۔۔۔ملائیشیا ٹیلی کام۔۔۔ سنگ ٹیل اور کمپنیاں شامل ہیں
واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان سے پہلے تقریبآ 50 مما لک میں اپنائی جا چکی ہے۔

3G ٹیکنالوجی:

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سیلولر سہولیات استعمال کرنے والے لوگ ویڈیو اور آڈیو کے ساتھ ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے۔

سماجی و فلاحی اداروں کی جانب سے اس ٹیکنالوجی پر تبصرہ جات:


رپورٹ کے ٹیلی نار کمپنی اس کے حصول میں پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں اور انفرادی طور پر لوگوں سے لی گئی رائے کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے پاکستان میں لانچ کرنے سے پاکستان کی نئی نسل میں سمجای بے راہ روی اور ان کے مستقبل پر خاطر خواہ اثر پڑے گا ۔ جس سے وہ رات رات بھر ویڈیو کالز کے زریعے برائی کی جانب راغب ہوں گے۔
لوگ اس ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں ۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کے آنے سے بے راہ روی میں اضافہ ہو گا تو ساتھ ساتھ لوگوں کی زاتیات پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔
ابھی اس سے پہلے تو لوگ ایم ایم ایس کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہی کافی پریشان تھے اور اوپر سے اب یہ اس السمای معاشرے کے لئے مزید تباہی کا سبب بنے گا۔


سورس: انمول اردو ڈاٹ انفو
 

محمدصابر

محفلین
فخر بھائی ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی اس کا استعمال برا ہوتا ہے۔ اور یہاں اکثر ٹیکنالوجیز بغیر کسی ہوم ورک اور مناسب تعارف کے آتی ہیں اس لئے لوگ انہیں اپنا وقت گزارنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
 

فخرنوید

محفلین
اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے ااستعمال کے لئے قوانین اور حدود و قیدو مقرر کرے۔ اور ساتھ ساتھ اس کے بہترین استعمال کے لئے ان کمپنیوں سے کہے کہ وہ لوگوں میں آگاہی پیدا کریں۔
 

mfdarvesh

محفلین
غلط استعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تیکنالوجی کو متعارف ہی نہ کروایا جائے۔ جیسے کہ ایس ایم ایس کو بند کیا جارہا ہے کہ زرداری صاحب کے خلاف ایس ایم ایس جارہے ہیں
 

ساجداقبال

محفلین
کافی بے ڈھنگا مضمون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام کمپنیاں تھری جی سروسز شروع کروانے کیلیے بیتاب تھیں لیکن ٹیکسوں کے بوجھ اورکساد بازاری کے باعث کم ریونیوکیوجہ سے دلچسپی کم ہوئی ہے، پر ختم نہیں۔ آپکو شاید معلوم نہ ہو کہ موبی لنک پاکستان کا سب سے بڑا وائرلیس انٹرنیٹ(غالبآ وائی میکس ذریعے) نیٹ ورک قائم کرنا چاہتا تھا لیکن سرخ فیتے نے باز رکھا، یہی حال وطین کا بھی ہو رہا ہے۔ شیڈول کے مطابق پی ٹی اے کو تھری جی لائسنسز کی نیلامی 2007 میں کرنی تھی۔
 

arifkarim

معطل
ہاہہااہہاہا۔۔۔ آپ لوگ 3G سے پریشان ہیں جبکہ ہمارے ہاں 3G کا ’’ابا‘‘ HSDPA بھی آگیا ہے۔ یعنی اصلی براڈ بینڈ اب موبائل پر!!!
الحمد للہ خاکسار کے اس موبائلSony Ericsson W980 میں اسکی اسپورٹ ہے:
img_46961_w980i_walkman.jpg
 
Top