تحریکِ انصاف کا منشور

شمشاد

لائبریرین
خان صاحب کے ان الفاظ پر سخت اعتراض ہے بہتر ہوگا انتظامیہ ان الفاظ کو حذف کر دے
اب ہمت خان صاحب کو کوئی کیا کہے۔
ماشاء اللہ پڑھے لکھے ہیں، یونیورسٹی کے لیول پر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اگر وہی اس قسم کے الفاظ استعمال کریں گے تو ہم جیسوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

کسی کو کسی سیاہ سی لیڈر کی اندھی تقلید میں اتنا بھی حد سے نہیں گزرنا چاہیے۔
 
اب ہمت خان صاحب کو کوئی کیا کہے۔
ماشاء اللہ پڑھے لکھے ہیں، یونیورسٹی کے لیول پر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اگر وہی اس قسم کے الفاظ استعمال کریں گے تو ہم جیسوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

کسی کو کسی سیاہ سی لیڈر کی اندھی تقلید میں اتنا بھی حد سے نہیں گزرنا چاہیے۔

کوئی بات نہیں ڈیلیٹ کردیں۔ میرے اختیار میں نہیں ہے۔
مطلب یہ تھا کہ عمران نے مشرف کے کتے کے بچے گود لیے تھے۔ اب درست ہے؟
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
عمران خان صاحب اگر عاجزی کا پیکر بن جائیں تو بلاشک و شبہ عوام ان کو اس سے بھی زیادہ پذیرائی دیں گے، اُن کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کو سامنے دیکھ کر خود کو بھٹو سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ عمران خان صاحب ایک ایسے رہنما ہرگز نہیں جو بابصیرت ہوں، وہ ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ضرور ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ایک ہجوم کو قوم بنانا ان کے بس کی بات نہیں لگتی ۔۔۔ وہ سب کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتے ۔۔۔ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی خامی ہے ۔۔۔ ان کو چاہیے کہ وہ دوسری پارٹی کے رہنماؤں کے بارے میں سخت الفاظ کہنے سے گریز کریں ۔۔۔ کل کلاں اگر وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہ ان لوگوں کو اہم داخلی و خارجی معاملات کے حوالے سے کیسے اکھٹا کر پائیں گے؟ بڑے شہروں میں ان کو خوب پذیرائی مل رہی ہے لیکن چھوٹے شہروں میں ابھی ان کے نام کا ڈنکا نہیں بج رہا ۔۔۔ شاید اس بار وہ چند سیٹیں جیت جائیں لیکن یہ سیٹیں بھی وہی لوگ جیتیں گے جو پہلے ہی سے جیتتے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔ نئے لوگوں کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے ۔۔۔ اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ عمران خان صاحب غیر روایتی انداز میں "روایتی" سیاست ہی کر رہے ہیں ۔۔۔ ان کے پاس بھی کوئی نئی بات نہیں ہے جو عوام کی بڑی اکثریت کو غیر روایتی سیاست کی طرف مائل کر دے۔۔۔ ان کے "پیروکار" سوشل میڈیا پر جس "انقلابی دانش" کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خود خان صاحب بھی اپنے جلسوں میں جس طرح دوسرے سیاست دانوں کو "منافق" اور "نورے" کہہ کر پکارتے ہیں، اس سے بھی کافی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کسی انقلاب کی داغ بیل نہیں ڈال رہی ۔۔۔ یہ محض لاہوری تھیٹر کی طرز کا "انقلاب" ہے۔۔۔ جو کسی سنجیدہ فرد اور گروہ کے لیے قابل قبول نہیں ۔۔۔
 

زرقا مفتی

محفلین
عمران خان صاحب اگر عاجزی کا پیکر بن جائیں تو بلاشک و شبہ عوام ان کو اس سے بھی زیادہ پذیرائی دیں گے، اُن کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کو سامنے دیکھ کر خود کو بھٹو سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ عمران خان صاحب ایک ایسے رہنما ہرگز نہیں جو بابصیرت ہوں، وہ ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ضرور ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ایک ہجوم کو قوم بنانا ان کے بس کی بات نہیں لگتی ۔۔۔ وہ سب کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتے ۔۔۔ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی خامی ہے ۔۔۔ ان کو چاہیے کہ وہ دوسری پارٹی کے رہنماؤں کے بارے میں سخت الفاظ کہنے سے گریز کریں ۔۔۔ کل کلاں اگر وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہ ان لوگوں کو اہم داخلی و خارجی معاملات کے حوالے سے کیسے اکھٹا کر پائیں گے؟ بڑے شہروں میں ان کو خوب پذیرائی مل رہی ہے لیکن چھوٹے شہروں میں ابھی ان کے نام کا ڈنکا نہیں بج رہا ۔۔۔ شاید اس بار وہ چند سیٹیں جیت جائیں لیکن یہ سیٹیں بھی وہی لوگ جیتیں گے جو پہلے ہی سے جیتتے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔ نئے لوگوں کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے ۔۔۔ اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ عمران خان صاحب غیر روایتی انداز میں "روایتی" سیاست ہی کر رہے ہیں ۔۔۔ ان کے پاس بھی کوئی نئی بات نہیں ہے جو عوام کی بڑی اکثریت کو غیر روایتی سیاست کی طرف مائل کر دے۔۔۔ ان کے "پیروکار" سوشل میڈیا پر جس "انقلابی دانش" کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خود خان صاحب بھی اپنے جلسوں میں جس طرح دوسرے سیاست دانوں کو "منافق" اور "نورے" کہہ کر پکارتے ہیں، اس سے بھی کافی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کسی انقلاب کی داغ بیل نہیں ڈال رہی ۔۔۔ یہ محض لاہوری تھیٹر کی طرز کا "انقلاب" ہے۔۔۔ جو کسی سنجیدہ فرد اور گروہ کے لیے قابل قبول نہیں ۔۔۔
عمران خان کی شخصیت میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں اب وہ اینگری ینگ مین نہیں رہے۔
عاجزی کا پیکر بننے کے لئے آپ کے خیال میں اُنہیں کیا کرنا چاہیئے ؟
سادہ لباس پہنتے ہیں، حفاظتی حصار نہیں بنواتے، سادہ چارپائی پر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں اللہ سے مدد مانگتے ہیں
ہجوم کو قوم تو بھٹو صاحب بھی نہیں بنا سکے تھے اس کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے اور تعلیم عمران خان کی اولین ترجیہات میں شامل ہے
یہ محض ایک اندازہ ہے کہ وہ چند سیٹیں لے جائیں گے وہ ایک بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ میرے خیال میں پرانے لوگوں سے زیادہ نئے لوگوں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے اندر اور باہر پرانے سیاستدانوں کی شمولیت پر ہی تنقید ہو رہی ہے
وہ روایتی سیاست ہر گز نہیں کر رہے یہ محض الزام ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آصف احمد علی رشید بھٹی اور دیگر کچھ لوگ پارٹی سے علیحدہ نہ ہوتے یہاں وہ روایتی ماحول نہ تھا جس کے یہ لوگ متمنی تھے
جلسوں میں شہباز شریف زرداری کو کیا کیا نہیں کہتے یا دیگر راہنما کیا کیا ڈرامے نہیں کرتے عمران خان اگر دوسروں کی بدعنوانی یا غیر اصولی مفاہمت پر اُنگلی اُٹھاتا ہے تو لوگ بُرا مان جاتے ہیں۔ یعنی بُرے کو بُرا نہ کہو
اب آپ سے ایک سوال ہے سنجیدہ گروہ کے لئے کیسا لیڈر یا جماعت قابلِ قبول ہے کچھ صفات گنوا دیجیے
 

دیکھیے بہن
جو لوگ سیاست پر نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ عمران کو سیاست میں لانے والا حمید گل تھا۔ عمران کے اردو میں لکھے گئے کالم جس میں مسٹر براون پر تنقید کی جاتی تھی کون لکھتا تھا۔ پھر بعد میں دونوں الگ ہوگئے۔

اس کے بات عمران مشرف کا حامی بن گیا۔ ہر ٹی وی پروگرام میں ریفرینڈم کی تعریف کرتا تھا ۔ بعد میں توبہ کی۔

یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جنھیں اپ بھی تسلیم کریں گے۔

اس کے بعد عمران نے پارٹی بنائی۔ جلسے کیے۔ جو لوگ اس کی پارٹی میں ائے وہ وہی تھے جن ایجنسیوں کی گائیڈ لائن پر چلتے ہیں یعنی قریشی، قصوری، ہاشمی ، مزاری وغیرہ

یقینا اس بات سے اپ بھی متفق ہوں گی۔

ٌہم تو سانپ کے ڈسے ہوئے ہیں ۔

یہ رائے قائم کرنا کہ عمران کے پیچھے کون ہے بہت مشکل نہیں رہتا۔
 

زرقا مفتی

محفلین
دیکھیے بہن
جو لوگ سیاست پر نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ عمران کو سیاست میں لانے والا حمید گل تھا۔ عمران کے اردو میں لکھے گئے کالم جس میں مسٹر براون پر تنقید کی جاتی تھی کون لکھتا تھا۔ پھر بعد میں دونوں الگ ہوگئے۔

اس کے بات عمران مشرف کا حامی بن گیا۔ ہر ٹی وی پروگرام میں ریفرینڈم کی تعریف کرتا تھا ۔ بعد میں توبہ کی۔

یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جنھیں اپ بھی تسلیم کریں گے۔

اس کے بعد عمران نے پارٹی بنائی۔ جلسے کیے۔ جو لوگ اس کی پارٹی میں ائے وہ وہی تھے جن ایجنسیوں کی گائیڈ لائن پر چلتے ہیں یعنی قریشی، قصوری، ہاشمی ، مزاری وغیرہ

یقینا اس بات سے اپ بھی متفق ہوں گی۔

ٌہم تو سانپ کے ڈسے ہوئے ہیں ۔

یہ رائے قائم کرنا کہ عمران کے پیچھے کون ہے بہت مشکل نہیں رہتا۔
آپ کے مراسلے میں ایک بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ عمران خان کوئی ان پڑھ نہیں کہ کالم کسی سے لکھوائے اُس نےایچیسن کالج اور آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی ہے۔
مشرف نے جب سات نکاتی ایجنڈا بنایا تو بہت لوگ اُس کے حامی بنے عمران خان بھی اُن میں شامل تھے مگر وہ اُس کی دعوت کے باوجود شریکِ اقتدار نہیں ہوئے۔
آپ بھول رہے ہیں تحریک انصاف سترہ سال پہلے بنی تھی مشرف کے بعد نہیں بنی
قریشی ، قصوری اور ہاشمی لاہور میں اکتوبر کے جلسے کے بعد شامل ہوئے جب تحریک ِ انصاف کی مقبولیت عروج پر تھی
ان میں سے کسی پر بدعنوانی کے الزامات نہیں اس لئے سانپ کے ڈسے ہوئے کی مثال ان پر صادق نہیں آتی
 
آپ کے مراسلے میں ایک بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ عمران خان کوئی ان پڑھ نہیں کہ کالم کسی سے لکھوائے اُس نےایچیسن کالج اور آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی ہے۔
مشرف نے جب سات نکاتی ایجنڈا بنایا تو بہت لوگ اُس کے حامی بنے عمران خان بھی اُن میں شامل تھے مگر وہ اُس کی دعوت کے باوجود شریکِ اقتدار نہیں ہوئے۔
آپ بھول رہے ہیں تحریک انصاف سترہ سال پہلے بنی تھی مشرف کے بعد نہیں بنی
قریشی ، قصوری اور ہاشمی لاہور میں اکتوبر کے جلسے کے بعد شامل ہوئے جب تحریک ِ انصاف کی مقبولیت عروج پر تھی
ان میں سے کسی پر بدعنوانی کے الزامات نہیں اس لئے سانپ کے ڈسے ہوئے کی مثال ان پر صادق نہیں آتی

چلیں خوش رہیں
11 مئی کے بعد دیکھیں گے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
Nawaz Sharif’s Corruption highlighted in Raymond Baker’s book on Dirty Money


Source: http://www.defence.pk/forums/national-political-issues/171080-nawaz-sharif-s-dirty-money-book-highlights-corruption.html#ixzz2PzkhqO1Q


Raymond Baker in his book Capitalism’s Achilles Heel: Dirty Money and How to Renew the Free-Market System tried to understand the dynamics of how dirty money works, in his book he elboarately covers the Corruption in Pakistan and takes a swing at both Benazir Bhutto & Nawaz Sharif to say

Corruption and criminality run from the top down, with the political class constantly looting the national treasury and distorting economic policy for personal gain. Bank loans are granted largely on the basis of status and connections. The rich stash much of their money abroad in those willing western coffers, while exhibiting little inclination to repay their rupee borrowings. Pakistan’s recent history has been dominated by two families—the Bhuttos and the Sharifs—both merely tolerated by the military, the real power in the country. When it comes to economic destruction, there’s not a lot of difference among the three.

Pages 82-85 of the book cover the section on Nawaz Sharif: While Benazir Bhutto hated the generals for executing her father, Nawaz Sharif early on figured out that they held the real power in Pakistan. His father had established a foundry in 1939 and, together with six brothers, had struggled for years only to see their business nationalized by Ali Bhutto’s regime in 1972. This sealed decades of enmity between the Bhuttos and the Sharifs. Following the military coup and General Zia’s assumption of power, the business—Ittefaq—was returned to family hands in 1980. Nawaz Sharif became a director and cultivated relations with senior military officers. This led to his appointment as finance minister of Punjab and then election as chief minister of this most populous province in 1985. During the 1980s and early 1990s, given Sharif ’s political control of Punjab and eventual prime ministership of the country, Ittefaq Industries grew from its original single foundry into 30 businesses producing steel, sugar, paper, and textiles, with combined revenues of $400 million, making it one of the biggest private conglomerates in the nation. As in many other countries, when you control the political realm, you can get anything you want in the economic realm.

With Lahore, the capital of Punjab, serving as the seat of the family’s power, one of the first things Sharif did upon becoming prime minister in 1990 was build his long-dreamed-of superhighway from there to the capital,Islamabad. Estimated to cost 8.5 billion rupees, the project went through two biddings. Daewoo of Korea, strengthening its proposals with midnight meetings, was the highest bidder both times, so obviously it won the contract and delivered the job at well over 20 billion rupees.
A new highway needs new cars. Sharif authorized importation of 50,000 vehicles duty free, reportedly costing the government $700 million in lost customs duties. Banks were forced to make loans for vehicle purchases to would-be taxi cab drivers upon receipt of a 10 percent deposit. Borrowers got their “Nawaz Sharif cabs,” and some 60 percent of them promptly defaulted. This left the banks with $500 million or so in unpaid loans. Vehicle dealers reportedly made a killing and expressed their appreciation in expected ways. Under Sharif, unpaid bank loans and massive tax evasion remained the favorite ways to get rich. Upon his loss of power the usurping government published a list of 322 of the largest loan defaulters, representing almost $3 billion out of $4 billion owed to banks. Sharif and his family were tagged for $60 million. The Ittefaq Group went bankrupt in 1993 when Sharif lost his premiership the first time. By then only three units in the group were operational, and loan defaults of the remaining companies totaled some 5.7 billion rupees, more than $100 million.

Like Bhutto, offshore companies have been linked to Sharif, three in the British Virgin Islands by the names of Nescoll, Nielson, and Shamrock and another in the Channel Islands known as Chandron Jersey Pvt. Ltd. Some of these entities allegedly were used to facilitate purchase of four rather grand flats on Park Lane in London, at various times occupied by Sharif family members. Reportedly, payment transfers were made to Banque Paribas en Suisse, which then instructed Sharif ’s offshore companies Nescoll and Nielson to purchase the four luxury suites.

In her second term, Benazir Bhutto had Pakistan’s Federal Investigating Agency begin a probe into the financial affairs of Nawaz Sharif and his family. The probe was headed by Rehman Malik, deputy director general of the agency. Malik had fortified his reputation earlier by aiding in the arrest of Ramzi Yousef, mastermind of the 1993 World Trade Center bombing. During Sharif ’s second term, the draft report of the investigation was suppressed, Malik was jailed for a year, and later reportedly survived an assassination attempt, after which he fled to London. The Malik report, five years in the making, was released in 1998, with explosive revelations:

The records, including government documents, signed affidavits from Pakistani officials, bank files and property records, detail deals that Mr. Malik says benefited Mr. Sharif, his family and his political associates:


At least $160 million pocketed from a contract to build a highway from Lahore, his home town, to Islamabad, the nation’s capital.

At least $140 million in unsecured loans from Pakistan’s state banks.
More than $60 million generated from government rebates on sugar exported by mills controlled by
Mr. Sharif and his business associates.


At least $58 million skimmed from inflated prices paid for imported wheat from the United States and Canada. In the wheat deal, Mr. Sharif ’s government paid prices far above market value to a private company owned by a close associate of his in Washington, the records show. Falsely inflated invoices for the wheat generated tens of millions of dollars in cash.

he report went on to state that “The extent and magnitude of this corruption is so staggering that it has put the very integrity of the country at stake.” In an interview, Malik added: “No other leader of Pakistan has taken that much money from the banks. There is no rule of law in Pakistan. It doesn’t exist.”

What brought Sharif down in his second term was his attempt to acquire virtually dictatorial powers. In 1997 he rammed a bill through his compliant parliament requiring legislators to vote as their party leaders directed. In 1998 he introduced a bill to impose Sharia law (Muslim religious law) across Pakistan, with himself empowered to issue unilateral directives in the name of Islam. In 1999 he sought to sideline the army by replacing Chief of Staff Pervez Musharraf with a more pliable crony. He forgot the lessons he had learned in the 1980s: The army controls Pakistan and politicians are a nuisance. As Musharraf was returning from Sri Lanka, Sharif tried to sack him in midair and deny the Pakistan International Airways flight with 200 civilians on board landing rights in Karachi. Musharraf radioed from the aircraft through Dubai to his commander in Karachi, ordering him to seize the airport control tower, accomplished as the plane descended almost out of fuel. Musharraf turned the tables and completed his coup, and Sharif was jailed.

But Sharif had little to fear. This, after all, is Pakistan. Musharraf needed to consolidate his power with the generals, and Sharif knew details about the corruption of most of the brass. Obviously, it is better to tread lightly around the edges of your peer group’s own thievery. So Musharraf had Sharif probed, tried, convicted, and sentenced to life in prison, but then in 2000 exiled him to Saudi Arabia. Twenty-two containers of carpets and furniture followed, and, of course, his foreign accounts remained mostly intact. Ensconced in a glittering palace in Jeddah, he is described as looking “corpulent” amidst “opulent” surroundings. Reportedly, he and Benazir Bhutto even have an occasional telephone conversation, perhaps together lamenting how unfair life has become.


Source: http://www.defence.pk/forums/national-political-issues/171080-nawaz-sharif-s-dirty-money-book-highlights-corruption.html#ixzz2PzlKDPbI

Source: http://www.defence.pk/forums/national-political-issues/171080-nawaz-sharif-s-dirty-money-book-highlights-corruption.html#ixzz2PzlDOv11
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
آپ کے لیے تو اچھا موقع تھا، یہ الزامات لے کر الیکشن کمیشن میں چلے جاتے تحریک انصاف والے ۔۔۔ :eek:
 
Top