بے پر کی

بعد جاگنے کے از عرصہ طویل بیہوشی و غفلت کے۔ دیکھا تو رنگ سماں بدلا تھا۔ کہ ہر شے تھی چادر اجنبیت کا اوڑھے سوائے کچھ زنانہ خاکوں کے کہ جن کا لباس بے تار تھا اور شفاف منظر آر پار تھا۔ کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ زبان اجنبی سبھی کے منھ میں تھی کہ لفظ مفہوم سے عاری تھے جو کہ لگاتار جاری تھے۔ ما سوا اشاروں کے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ تاریخ پوچھا تو سن عیسوی میں تین سیکڑے زیادہ تھے۔ عرصہ چند اجنبیت کے دور ہونے، فکر و فن سے آشنائی اور زبان سمونے میں لگے۔ دوست یار بنے تو داستان آگے بڑھی۔

القصہ بعد بہزار اصرار یاراں راضی بر شمولیت تقریب ہوئے کہ جشن سال نو تھا۔ بھیڑ مرد و زن کی جمع ایک نیچی چھت کے کمرے میں ہوئی لباس زریں زیب تن کئے ہوئے۔ ہر چہار جانب مخملیں قالین بچھے تھے اور مسندیں لگی تھیں کہ مکھن تازہ کی ملائمیت بھی ان پر شرمسار تھی۔ سالخوردہ مصوری کے نمونے زینت دیوار تھے۔ مومی شمعیں کمرے کے گوشوں میں جا بجا روشن تھیں کہ ملگجا سا اندھرا زخمی زخمی سا دکھتا تھا۔ موسیقی کی لہریں مدھم سروں میں محو رقص تھیں۔ مشروبات و نمکیات سے ضیافت جاری تھی بدست غلمان کے۔ پوچھا کہ یہ گوشہ بشاہانہ ناز ونعم ہے کیا؟ جواب اس اجنبی زبان میں کوئی پب یا بار تھا۔

القصہ ابھی حیران حیران سے کسی گوشے کی تلاش میں تھے کہ اچانک موسیقی اونچی ہونے لگی کہ بڑھ کر نا قبل برداشت ہو گئی۔ حاضر تمام پاؤں موسیقی کے ساتھ از خود ہم آہنگ ہو گئے۔ مسندوں پر ڈھر مرد و زن شکار بے خودی کے ہوئے کہ ان کے بدن تیرتے ہوئے یکجا خالی جگہ میں ہوئے۔ اور محو رقص بے ہنگم ہوئے۔

از بس کہ مصروف مشاہدہ تھا۔ ایک گوشے میں بیٹھا سب سے علیحدہ تھا۔

بوتل سبز رنگ و جام زرد رنگ کہ ان کا عرق آنکھوں میں رنگ سرخی بھرتا تھا کہ یہ رنگ باعث دلپسندی یار تھا۔ انسان کہ زیب تن لباس بے شکن لحظے بھر میں وحشی ہوتا تھا۔ حلق سوکھے تو شفاف پانی بھی مشکوک و مشتبہ ہو۔ دعوت و ترغیب کہ عالم یہ کہ گرنا تھک کر اور پھر سے کھینچا جانا کہ شریک ہنگامہ ہو۔ فرق شاہ و غلام، ادنیٰ و اولیٰ غرض مرد و زن تک سے مٹ چکا تھا۔ کہ خمار مشروبات و جنس مخالف دو چند تھا۔ بے ہنگم اچھل کود کہ ہم آہنگی جن کی مخزن تھی ہنگامے کی۔ اللہ، خدا، رام، رحیم، بھگوان، کرشنا، گاڈ کہ یہ الفاظ عاری از مفہوم تھے بجز لے، سر اور تال کی خانہ پری کے۔ آنا کئی زاویوں سے روشنی اور اندھیرے کے سایوں کا مسکراتے چہروں کو خبیث کر دیتا تھا۔ چیخ کہ دیواروں سے نکلتی تھی اور سکون ہوا کی پرتوں کا ہوتا تھا غارت کہ اس کی کراہ اس اجنبی زبان میں نام پاتی تھی میوزک کا۔

وقت نکلنے کے اس مقام نیم تاریک سے ایک کوندا بجلی کا وارد خیال ہوا کہ جس کی زبان بھی اجنبی تھی "آئی ایم ٹو اولڈ ٹو ڈانس"۔۔۔۔

یار کیا خوب لکھا ہے بلکہ عمدہ ہے کاش کے فارسی سلیس ہوتی
:cry:
 

نایاب

لائبریرین
السلام علیکم
محترم جناب ابن سعید جی
ماشااللہ
مجھے تو یہ طلسم ہوش ربا 2009 کا ایڈیشن لگتا ہے ،
(کہیں آپ بیتی تو نہیں)
انداز بیان و اسلوب بہت خوب ہے ،
(اب سمجھ نہ آئے تو میرا ہی دماغ ناقص)
سدا خوش رہیں آمین
نایاب
 
برادرم نایاب۔ پسندیدگی کا شکریہ۔

خیر یہ طلسم ہوش ربا تو کیا اس کا بایاں بازو بھی نہیں کیوں کہ ایک بار طلسم ہوشربا لائبریری سے نکلوائی تھی اور 4-5 دنوں میں کوئی 50 صفحات پڑھ سکا تھا۔ اس لئے نہیں کہ بہت سست پڑھتا ہوں بلکہ اس وجہ سے کہ اس کا انداز بیان ہی اتنا سحر انگیز تھا کہ ایک ایک پیراگراف کم از کم تین تین بار پرھتا تھا اور سر دھنتا تھا۔

اور آپ بیتی کیا ہے بھئی آدمی لکھتا ہے تو کچھ نہ کچھ تو ماحول کا اثر حاوی ہوتا ہی ہے ورنہ لکھنے کی ترغیب کہاں سے ملے۔ لیکن خاص کر اس دھاگے کے مراسلے عموماً بے سر پیر اور موضوع کے ہی ہوتے ہیں۔ در اصل یہ وہ گوشہ ہے جہاں میں کچھ بھی لکھ کر محفوظ کر لیتا ہوں۔ اگر پچھلے مراسلے دیکھے ہوں‌گے تو ضرور اندازہ ہو گیا ہوگا۔

والسلام
 

طالوت

محفلین
تو "الف لیلہٰ" کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ابن سعید ؟ میں بمشکل سو ڈیڑد سو صفحات پڑھ پایا اور رکھ دی ۔۔ "قصہ چہار درویش" (باغ و بہار) تو بالکل بھی نہ پڑھی گئی ۔۔
وسلام
 
قصہ چہار درویش یا باغ و بہار کم و بیش ڈیڑھ بار پڑھ چکا ہوں۔ یہ طلسم کے مقابلے عام فہم ہے یا یوں کہیں کہ اس میں طلسم جیسی پیرا کلاسک اردو نہیں ہے۔

الف لیلہ کبھی ہاتھ نہیں لگی۔ بہت چھوٹا تھا تو گھر میں تھی پر اسے پڑھنے کی عمر کو پہونچتا اس سے پہلے وہ زمانے کی نذر ہو چکی تھی۔

اس کے علاوہ گل بکاؤلی، گل صنوبر، صبر ایوب، یوسف زلیخا اور ابن بطوطہ جیسی داستان گوئی کی کتابیں پڑھی ہیں پر ان کی زبان میں وہ بات نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
ابن بظوطہ کو اس میں کہاں شامل کر رہے ہو سعود۔ سفرنامہ ابن بطوطہ تو ترجمہ ہوتا ہے عربی کا۔ ممکن ہے کہ کسی نے کلاسیکی اردو میں کیا ہو اسی زمانے میں۔ میں نے تو موجودہ اردو میں پڑھا ہے، یاد نہیں کس کا ترجمہ تھا، مکتبہ جامعہ کا چھپا میرے پاس تھا (نہ جانے کہاں گیا) ۔ یہ صبرِ ایوب میں نے نہ پڑھی نہ سنی کہ کون سی کتاب ہے،
 
ابن بطوطہ کو ان داستانوں میں بے پرکیت لانے کے لئے لکھا تھا۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور اسے محسوس کر پاتا اتنی آسانی سے۔ :grin: در اصل اکثر احباب کو اس کے داستان یا سفرنامہ ہونے کے معاملے میں مشکوک پایا ہے۔ اور صبر ایوب یوسف زلیخا قسم کی کتاب ہے۔ یہ حضرت ایوب علیہ السلام کی داستان پر مشتمل ہے۔ پر لغویات اتنی ہی بھری ہیں جتنی یوسف زلیخا میں۔ بس ذرا رومانس کم ہے۔ اور ہاں داستانوں کی بات چلی اور میں طوطا مینا کی کہانی کو فراموش کر بیٹھا۔

خیر میرے بچپن کے دنوں تک ہمارے یہاں گاؤں میں لڑکیوں کی شادیاں طے ہوتی تھیں اور پڑھائی لکھائی کی بات آتی تھی تو یہ ضرور ہوتا تھا کہ لڑکی نے کلام پاک، شاہ نامہ، جنگ نامہ، دلہن نامہ، گل بکاؤلی، گل صنوبر، یوسف زلیخا اور صبر ایوب پڑھا ہے۔ خط لکھنا جانتی ہے۔ بلکہ محلے کے سارے خط وہی پڑھتی ہے۔
 
شام کو تھکے ہارے آفس سے گھر کو لوٹے تو پایا کہ چھوٹے صاحبزادے رموٹ کنٹرول پر قبضہ جمائے ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہیں۔ ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے سوفے پر ڈھیر ہوکر ادھ کھلی آنکھوں سے ٹی وی پر نظریں جما دیں۔ اچانک انتہائی فحش منظر ٹی وی کے پردے پر چھا گیا، غالباً کوئی اشتہار تھا۔ یکبارگی دل کو جھٹکا سا لگا اور بچے کی طرف دیکھا جو کہ انتہائی انہماک سے ٹی پر پھیلے منظر کے نشیب و فراز کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔ خاموشی سے اٹھ کر بالکنی میں آگئے اور سوچنے لگے کہ یہ کیسی بلا گھر میں پال رکھی ہے۔ زمانے کی ضرورت کے نام پر ہم نے خود کو کہاں لا پٹخا ہے۔ نئی نسل کی کردار کشی کے لئے یہ کیسی زہریلی شے رکھ چھوڑی ہے۔ اس سے قبل کہ کچھ اور بھاری بھرکم فلسفیانہ خیال ذہن میں وارد ہوتے، ایک صدا آتی ہے۔۔۔

ابو اب آ جائیے وہ ایڈ ختم ہو گیا۔
 
چھڑی ٹیکتے ہوئے خاصی سست رفتار سے دادا جی پگڈنڈی پر آگے بڑھ رہے تھے اور اس سست روی سے ان کی اقتدا کرنا میرے لئے صبر آزما ہو رہا تھا۔ کوئی چار کوس کا فاصلہ تھا جسے پگڈنڈیوں کے ذریعہ پیدل ہی طے کرنا تھا۔

آج دادا جی بہت خوش تھے۔ سفید کرتے پر کتھئی صدری پہن رکھی تھی کندھے پر رمال اور منھ میں پان کی گلوری بھی تھی۔ خوش ہوں بھی کیوں نا آخر کو ان کی اکلوتی پوتی کے آنگن میں بڑی منتوں دعاؤں کے بعد ایک پھول کھلا تھا۔ پان کی پیک سنبھال سنبھال کر باتیں بھی کر رہے تھے کہ بیٹا آج پورے نو سال تین ماہ بعد اس راستے پر جا رہا ہوں اس سے پہلے پوتی کی شادی کے بعد جب ایک بار طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تھی تب گیا تھا اور وہ پھاگن کا مہینہ تھا۔ ارے چھوٹو اس وقت بھی تو تو ہی تھا ساتھ اور میری انگلی پکڑ آگے آگے چل رہا تھا۔

کوئی ڈیڑھ کوس چلے ہونگے کہ اچانک دادا جی نے ایک ہاتھ اوپر اٹھایا اور قدرے جھک کر کوئی پانچ قدم بڑھے ہونگے کہ پھر سیدھے ہو کر چلنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی اور پوچھ بیٹھا کہ دادا جی آپ جھکے کیوں تو بولے بیٹا میرا قد لمبا ہے۔ اور پچھلی بار یہاں سے گزرتے ہوئے تو نے ہی تو کہا تھا کہ دادا جی جھک جائیے نہیں تو پگڈنڈی کے قریب والے پیپل کی شاخ جو کہ سر کے ٹھیک اوپر سے گزر رہی ہے اس سے چوٹ لگ جائے گی۔

وہ پیڑ تو کوئی پانچ سال پہلے کالی آندھی کی زد میں آکر جڑ سے اکھڑ گیا تھا اور اب تو لوگ اسے بھول بھی چکے ہیں۔ قدرت نے دونوں آنکھوں سے محروم کیا تو دوسری صلاحیتیں اس قدر بڑھا دیں کہ عقل حیران ہے۔
 
پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ سارہ بٹیا اور شمشاد بھائی۔ بس کیا ہے کہ کبھی کبھی الاؤ تاپتے ہوئے سنی گئی باتیں دماغ میں کلبلا اٹھتی ہیں تو انگلیاں کلیدی تختے پر دوڑ پرتی ہیں۔
 
بیٹا جو بھی نازل ہو جاتا ہے لکھ دیتا ہوں۔ اسی کو غنیمت سمجھئے۔ ویسے آپ نے خاصے پر دار طریقے سے توجہ دلائی ہے اس لئے سوچنا پڑے گا۔
 
Top