کاشفی

محفلین
بٹیاں
(منظر بھوپالی)
ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بٹیاں تو بڑی معصوم ہیں جذباتی ہیں

اپنی خدمت سے اُتر جاتی ہیں دل میں سب کے
ہر نئی نسل کو تہذیب یہ سکھلاتی ہیں

ان سے قائم ہے تقدس بھی ہمارے گھر کا
صبح کو اپنی نمازوں سے یہ مہکاتی ہیں

لوگ بیٹوں سے ہی رکھتے ہیں توقع لیکن
بٹیاں اپنی برے وقت میں کام آتی ہیں

بٹیاں ہوتی ہیں پُرنور چراغوں کی طرح
روشنی کرتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں

اپنی سسرال کا ہر زخم چھپا لیتی ہیں
سامنے ماں کے جب آتی ہیں تو مسکاتی ہیں

بٹیوں کی ہے زمانے میں انوکھی خوشبو
یہ وہ کلیاں ہیں جو صحرا کو بھی مہکاتی ہیں

ایک بیٹی ہو تو کھل اُٹھتا ہے گھر کا آنگن
گھر وہی ہوتا ہے پر رونقیں بڑھ جاتی ہیں

فاطمہ زہرا کی تعظیم کو اُٹھتے تھے رسول
محترم بٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں

اپنے بابا کے کلیجے سے لپٹ کر منظر
زندگی جینے کا احساس دلا جاتی ہیں
 

سید زبیر

محفلین
لا جواب شراکت
فاطمہ زہرا کی تعظیم کو اُٹھتے تھے رسول
محترم بٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں

اپنے بابا کے کلیجے سے لپٹ کر منظر
زندگی جینے کا احساس دلا جاتی ہیں
 

کاشفی

محفلین
بیٹیاں
(منظر بھوپالی)
ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بیٹیاں تو بڑی معصوم ہیں جذباتی ہیں

اپنی خدمت سے اُتر جاتی ہیں دل میں سب کے
ہر نئی نسل کو تہذیب یہ سکھلاتی ہیں


ان سے قائم ہے تقدس بھی ہمارے گھر کا
صبح کو اپنی نمازوں سے یہ مہکاتی ہیں


لوگ بیٹوں سے ہی رکھتے ہیں توقع لیکن
بیٹیاں اپنی برے وقت میں کام آتی ہیں


بیٹیاں ہوتی ہیں پُرنور چراغوں کی طرح
روشنی کرتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں


اپنی سسرال کا ہر زخم چھپا لیتی ہیں
سامنے ماں کے جب آتی ہیں تو مسکاتی ہیں


بیٹوں کی ہے زمانے میں انوکھی خوشبو
یہ وہ کلیاں ہیں جو صحرا کو بھی مہکاتی ہیں


ایک بیٹی ہو تو کھل اُٹھتا ہے گھر کا آنگن
گھر وہی ہوتا ہے پر رونقیں بڑھ جاتی ہیں


فاطمہ زہرا کی تعظیم کو اُٹھتے تھے رسول
محترم بیٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں


اپنے بابا کے کلیجے سے لپٹ کر منظر
زندگی جینے کا احساس دلا جاتی ہیں

 

کاشفی

محفلین
ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بٹیاں تو بڑی معصوم ہیں جذباتی ہیں

بیٹیاں ہوتی ہیں پُرنور چراغوں کی طرح
روشنی کرتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں
 

کاشفی

محفلین
بیٹیوں کے بھی لیئے ہاتھ اُٹھاؤ منظر
صرف اللہ سے بیٹا نہیں مانگا کرتے

(منظر بھوپالی)
 

یوسف سلطان

محفلین
بٹیاں
(منظر بھوپالی)
ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بٹیاں تو بڑی معصوم ہیں جذباتی ہیں

اپنی خدمت سے اُتر جاتی ہیں دل میں سب کے
ہر نئی نسل کو تہذیب یہ سکھلاتی ہیں

ان سے قائم ہے تقدس بھی ہمارے گھر کا
صبح کو اپنی نمازوں سے یہ مہکاتی ہیں

لوگ بیٹوں سے ہی رکھتے ہیں توقع لیکن
بٹیاں اپنی برے وقت میں کام آتی ہیں

بٹیاں ہوتی ہیں پُرنور چراغوں کی طرح
روشنی کرتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں

اپنی سسرال کا ہر زخم چھپا لیتی ہیں
سامنے ماں کے جب آتی ہیں تو مسکاتی ہیں

بٹیوں کی ہے زمانے میں انوکھی خوشبو
یہ وہ کلیاں ہیں جو صحرا کو بھی مہکاتی ہیں

ایک بیٹی ہو تو کھل اُٹھتا ہے گھر کا آنگن
گھر وہی ہوتا ہے پر رونقیں بڑھ جاتی ہیں

فاطمہ زہرا کی تعظیم کو اُٹھتے تھے رسول
محترم بٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں

اپنے بابا کے کلیجے سے لپٹ کر منظر
زندگی جینے کا احساس دلا جاتی ہیں
بہت خوب
 
Top