برائے اصلاح (غزل)

منذر رضا

محفلین
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے

الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
محمد خلیل الرحمٰن
محمد وارث

دل کو جلوہ گہِ جاناں ہی بنائے رکھا
ہر گھڑی ہم نے اسے خود میں بسائے رکھا
تھا جبیں کو مری واللہ سزاوار یہی
آستانے پہ تیرے سر کو جھکائے رکھا
وصل کی شب کا یہ احسان نہ بھولوں گا کبھی
اس نے سینے سے مجھے اپنے لگائے رکھا
یاد تیری کے سہارے ہی تو گزری یہ حیات
شکر تیرا کہ تو نے بار اٹھائے رکھا
گرچہ وعدہ تھا ترا صبح کو آنے کا مگر
رات بھر دل میں تلاطم سا مچائے رکھا
غیر نے یاد کرائے تھے مسلسل ترے ظلم
ہر ستم ہم نے مگر دل سے مٹائے رکھا
خار کم تو نہ تھے اس عشق کی راہ میں جاناں
تو نے بھی ناوکِ مژگاں کو بچھائے رکھا
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
دل کو جلوہ گہِ جاناں ہی بنائے رکھا
ہر گھڑی ہم نے اسے خود میں بسائے رکھا
۔۔ ہم نے تجھے خود میں ۔۔۔ زیادہ بہتر ہے ۔۔۔ دوسرے شعر سے مطلع کا ویسے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن بہتر یہ ہے کہ جو صیغہ پہلے استعمال ہواہے، وہی آگے بھی چلے۔۔۔
تھا جبیں کو مری واللہ سزاوار یہی
آستانے پہ تیرے سر کو جھکائے رکھا
۔۔ آستانے پہ ترے ۔۔۔
وصل کی شب کا یہ احسان نہ بھولوں گا کبھی
اس نے سینے سے مجھے اپنے لگائے رکھا
۔۔۔درست
یاد تیری کے سہارے ہی تو گزری یہ حیات
شکر تیرا کہ تو نے بار اٹھائے رکھا
۔۔۔ تیری یادوں کے سہارے ہی تو گزری ہے حیات ۔۔۔ بہتر ہوگا ۔۔
۔۔۔ دوسرے مصرعے میں 'تو' محض یک حرفی تقطیع ہورہا ہے، میں اسے جائز نہیں سمجھتا۔

گرچہ وعدہ تھا ترا صبح کو آنے کا مگر
رات بھر دل میں تلاطم سا مچائے رکھا
۔۔۔ درست ۔۔۔
غیر نے یاد کرائے تھے مسلسل ترے ظلم
ہر ستم ہم نے مگر دل سے مٹائے رکھا
۔۔۔ یاد دلائے تھے زیادہ بہتر ہے اور ستم ظلم کے مقابلے میں زیادہ فصیح لگتا ہے پہلے مصرعے میں۔ دل سے مٹائے کی جگہ دل سے بھلائے ۔۔ بہتر ہے ۔۔
خار کم تو نہ تھے اس عشق کی راہ میں جاناں
تو نے بھی ناوکِ مژگاں کو بچھائے رکھا
۔۔۔ راہ کی جگہ رہ ۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
شکر تیرا کہ تو نے بار اٹھائے رکھا
کو
شکریہ تیرا، کہ یہ بار....
یا
تیرا صد شکر کہ یہ بار.....
کیا جا سکتا ہے
باقی شاہد سے متفق ہوں
 
Top