تیز پانی سا بہاؤ رہتا ہے۔
یوں تری جانب کچھاؤ رہتا ہے۔

تیری صورت ڈھونڈنا ہر شعر میں۔
شاعری سے اب لگاؤ رہتا ہے۔

جب بچھڑ جائے کوئی تیرا خیال۔
میری سوچوں میں تناؤ رہتا ہے۔

پیار کا آغاز ہے جومانگ لو۔
بعد میں کب رکھ رکھاؤ رہتا ہے۔

ڈوبتا کیوں جا رہا ہے دل مرا؟
پانی تو اب زیرِ ناؤ رہتا ہے۔

فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف۔
آپ کی جانب جھکاؤ رہتا ہے۔

چھوڑ ڈالا گھر بدلنا بار بار۔
اک جگہ اپنا پڑاؤ رہتا ہے۔

بات اس سے جب تلک میری نہ ہو۔
تب تلک دل پر دباؤ رہتا ہے۔

دل لگا کر دل نہیں لگتا مرا۔
اک طبیعت میں کھچاؤ رہتا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
آحر اس کے افاعیل فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہے تو ردیف 'رہتا ہے' رہ ت ہے تقطیع ہوتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا، کچھ اشعار میں 'سا ہے کچھ' ردیف کی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں، ایک زبان کی غلطی جس کی نشاندہی کی جا چکی، کے علاوہ اس غزل میں خیال آرائی بھی اچھی ہے، اس لیے میں محض فارم کی تبدیلی کا مشورہ دوں گا، یعنی ردیف کی تبدیلی۔ اور اس تبدیلی کے بعد خدا نخواستہ کچھ خامیاں ہوئیں تب دیکھی جائیں گی۔
 
آحر اس کے افاعیل فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہے تو ردیف 'رہتا ہے' رہ ت ہے تقطیع ہوتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا، کچھ اشعار میں 'سا ہے کچھ' ردیف کی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں، ایک زبان کی غلطی جس کی نشاندہی کی جا چکی، کے علاوہ اس غزل میں خیال آرائی بھی اچھی ہے، اس لیے میں محض فارم کی تبدیلی کا مشورہ دوں گا، یعنی ردیف کی تبدیلی۔ اور اس تبدیلی کے بعد خدا نخواستہ کچھ خامیاں ہوئیں تب دیکھی جائیں گی۔
مہربانی سر۔۔۔ میں کچھ اس طرح بدل کر دیکھتا ہوں۔
تیز پانی کا بہاؤ سا رہا۔
یوں تری جانب بڑھاؤ سا رہا۔
 
آخری تدوین:
آحر اس کے افاعیل فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہے تو ردیف 'رہتا ہے' رہ ت ہے تقطیع ہوتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا، کچھ اشعار میں 'سا ہے کچھ' ردیف کی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں، ایک زبان کی غلطی جس کی نشاندہی کی جا چکی، کے علاوہ اس غزل میں خیال آرائی بھی اچھی ہے، اس لیے میں محض فارم کی تبدیلی کا مشورہ دوں گا، یعنی ردیف کی تبدیلی۔ اور اس تبدیلی کے بعد خدا نخواستہ کچھ خامیاں ہوئیں تب دیکھی جائیں گی۔
اب سر الف عین نظر ثانی کریں۔

تیز پانی کا بہاؤ سا رہا۔
یوں تری جانب کھچاؤ سا رہا۔

تیری صورت ڈھونڈنا ہر شعر میں۔
شاعری سے اک لگاؤ سا رہا۔

مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال۔
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا۔

پیار واپس کر دیا مانگا ہوا۔
پھر کہاں وہ رکھ رکھاؤ سا رہا۔

فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف۔
آپ کی جانب جھکاؤ سا رہا۔

چھوڑ ڈالا گھر بدلنا بار بار۔
اک جگہ اپنا پڑاؤ سا رہا۔

جب تلک تم سے نہ ہو پائی تھی بات۔
تب تلک دل پر دباؤ سا رہا۔

دل لگا کر دل نہ لگتا تھا مرا۔
اک طبیعت میں بجھاؤ سا رہا۔

کیوں یہاں ہر شخص چیزوں کی طرح۔
تیری بستی میں بکاؤ سا رہا۔

اک شجر کا سایہ میری ڈھال تھا۔
اس کے ہوتے بچ بچاؤ سا رہا۔

بوجھ سے میری کمر جھکتی گئی۔
آپ کے قد میں اٹھاؤ سا رہا۔

آپ نے عمران کیا چھوڑا مجھے۔
ربط دنیا سے کٹاؤ سا رہا۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
کچھاؤ کھچاؤ کھنچاؤ۔ میں محض تیسری شکل کو درست مانتا ہوں ۔ مجھے یہ املا کی غلطی ہی لگ رہی ہے، ٹائپنگ کی نہیں۔ اب غزل کی بات۔۔۔۔۔
تیز پانی کا بہاؤ سا رہا۔
یوں تری جانب کھچاؤ سا رہا۔
/// درست

تیری صورت ڈھونڈنا ہر شعر میں۔
شاعری سے اک لگاؤ سا رہا۔
///اگرچہ بات مکمل نہیں ہو رہی پہلے مصرع میں
اگر دوسرا مصرع ہو
یوں غزل سے اک ۔۔۔۔ تو شاید کچھ بہتر ربط بن جائے۔

مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال۔
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا۔
۔۔ٹھیک

پیار واپس کر دیا مانگا ہوا۔
پھر کہاں وہ رکھ رکھاؤ سا رہا۔
///شاید چل جائے۔

فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف۔
آپ کی جانب جھکاؤ سا رہا۔
///درست

چھوڑ ڈالا گھر بدلنا بار بار۔
اک جگہ اپنا پڑاؤ سا رہا۔
///یہاں ردیف کا 'سا' نہیں فٹ ہو رہا

جب تلک تم سے نہ ہو پائی تھی بات۔
تب تلک دل پر دباؤ سا رہا۔
///درست

دل لگا کر دل نہ لگتا تھا مرا۔
اک طبیعت میں بجھاؤ سا رہا۔
/// بجھاو بطور اسم؟ یہ محاورے کے خلاف ہے

کیوں یہاں ہر شخص چیزوں کی طرح۔
تیری بستی میں بکاؤ سا رہا۔
///قافیے غلط ہے ۔ باقی قوافی 'او' والے ہیں جب کہ بکاو میں واو پر التا پیش لگنا چاہیے۔ (ٹیبلیٹ پر لکھ رہا ہوں اس لیے اعراب اور واو پر ہمزہ نہیں لگا سکتا)

اک شجر کا سایہ میری ڈھال تھا۔
اس کے ہوتے بچ بچاؤ سا رہا۔
/// یہ بھی خلاف محاورہ ہے۔

بوجھ سے میری کمر جھکتی گئی۔
آپ کے قد میں اٹھاؤ سا رہا۔
/// ٹھیک ہے

آپ نے عمران کیا چھوڑا مجھے۔
ربط دنیا سے کٹاؤ سا رہا۔
//واضح نہیں ۔ صرف دنیا سے کٹاو ہی کافی ہے، ربط دنیا سے چہ معنی دارد؟
 
کچھاؤ کھچاؤ کھنچاؤ۔ میں محض تیسری شکل کو درست مانتا ہوں ۔ مجھے یہ املا کی غلطی ہی لگ رہی ہے، ٹائپنگ کی نہیں۔ اب غزل کی بات۔۔۔۔۔
تیز پانی کا بہاؤ سا رہا۔
یوں تری جانب کھچاؤ سا رہا۔
/// درست

تیری صورت ڈھونڈنا ہر شعر میں۔
شاعری سے اک لگاؤ سا رہا۔
///اگرچہ بات مکمل نہیں ہو رہی پہلے مصرع میں
اگر دوسرا مصرع ہو
یوں غزل سے اک ۔۔۔۔ تو شاید کچھ بہتر ربط بن جائے۔

مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال۔
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا۔
۔۔ٹھیک

پیار واپس کر دیا مانگا ہوا۔
پھر کہاں وہ رکھ رکھاؤ سا رہا۔
///شاید چل جائے۔

فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف۔
آپ کی جانب جھکاؤ سا رہا۔
///درست

چھوڑ ڈالا گھر بدلنا بار بار۔
اک جگہ اپنا پڑاؤ سا رہا۔
///یہاں ردیف کا 'سا' نہیں فٹ ہو رہا

جب تلک تم سے نہ ہو پائی تھی بات۔
تب تلک دل پر دباؤ سا رہا۔
///درست

دل لگا کر دل نہ لگتا تھا مرا۔
اک طبیعت میں بجھاؤ سا رہا۔
/// بجھاو بطور اسم؟ یہ محاورے کے خلاف ہے

کیوں یہاں ہر شخص چیزوں کی طرح۔
تیری بستی میں بکاؤ سا رہا۔
///قافیے غلط ہے ۔ باقی قوافی 'او' والے ہیں جب کہ بکاو میں واو پر التا پیش لگنا چاہیے۔ (ٹیبلیٹ پر لکھ رہا ہوں اس لیے اعراب اور واو پر ہمزہ نہیں لگا سکتا)

اک شجر کا سایہ میری ڈھال تھا۔
اس کے ہوتے بچ بچاؤ سا رہا۔
/// یہ بھی خلاف محاورہ ہے۔

بوجھ سے میری کمر جھکتی گئی۔
آپ کے قد میں اٹھاؤ سا رہا۔
/// ٹھیک ہے

آپ نے عمران کیا چھوڑا مجھے۔
ربط دنیا سے کٹاؤ سا رہا۔
//واضح نہیں ۔ صرف دنیا سے کٹاو ہی کافی ہے، ربط دنیا سے چہ معنی دارد؟
بہت شکریہ سر الف عین ۔۔۔ غزل میں تبدیلیاں کی ہیں۔

تیز پانی کا بہاؤ سا رہا۔
یوں تری جانب کھچاؤ سا رہا۔

تیرا چہرہ ڈھونڈنا ہر شعر میں۔
یوں غزل سے اک لگاؤ سا رہا۔

مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال۔
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا۔

پیار واپس کر دیا مانگا ہوا۔
پھر کہاں وہ رکھ رکھاؤ سا رہا۔

فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف۔
آپ کی جانب جھکاؤ سا رہا۔

جب تلک تم سے نہ ہو پائی تھی بات۔
تب تلک دل پر دباؤ سا رہا۔

دل لگا کر دل نہ لگتا تھا مرا۔
اک طبیعت میں کھچاؤ سا رہا۔

بوجھ سے میری کمر جھکتی گئی۔
آپ کے قد میں اٹھاؤ سا رہا۔

آپ نے عمران جب چھوڑا مجھے۔
میرا دنیا سے کٹاؤ سا رہا۔
(یا یہ مصرعہ ایسے کر دیا جائے)
زندگی میں چل چلاؤ سا رہا۔

باقی جو آپ کی صلاح
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
آخری شعر میں
ساری دنیا سے کٹاؤ سا رہا
مجھے زیادہ بہتر محسوس ہو رہا ہے۔
باقی اشعار تو حذف ہی کر دئے ہیں اس لیے غزل درست ہو گئی ہے
 
سر الف عین کیسا ہے یہ شعر

اس طرف کی سرد مہری میں یہاں
پیار کا جلتا الاؤ سا رہا

مقطع میں ذرا تبدیلی کی ہے

آپ نے عمران کیا چھوڑا مجھے
ساری دنیا سے کٹاؤ سا رہا
 
آخری تدوین:
Top