ایم ٹی وی سے مکّہ تک (مستنصر حسین تارڑ)

ایک زمانے میں تہمینہ درانی کی خود نوشت ’’مائی فیودل لارڈ‘‘ کا بہت چرچا ہوا۔۔۔ تو میں نے بھی اسے پڑھنا یا پرکھنا ضروری سمجھا۔۔۔ اس کتاب کی خوبیاں اگرچہ کم تھیں لیکن اسے پڑھنے کے بعد ملک غلام مصطفی کھر کے بارے میں میری رائے پہلے سے بہت بہتر ہو گئی۔۔۔ بلکہ میں کسی حد تک ان کے کردار کے ایک پہلو کا معترف ہو گیا جس کی تفصیل اس مختصر تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کچھ اس طور پر میں نے جب جرمن نو مسلم خاتون کر سٹین بیکر کی ضخیم کتاب ’’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ‘‘ کا مطالعہ کیا تو میری نظروں میں اس کے سابقہ محبوب عمران خان کا وقار بڑھ گیا۔ اگر کراچی لٹریری فیسٹول میں اس کتاب کی ترویج کرنے والے ایک صاحب مجھے اس کے تحفے سے نہ نوازتے تو میں یقیناًایک نہایت دلچسپ اور اسلام کی ہمہ گیر سچائی کی تلاش میں سر گرداں ایک خاتون سے بے خبر رہ جاتا۔
کرسٹین یورپ کے سب سے پسندیدہ میوزک چینل ایم ٹی وی میں ایک کھلنڈری، اپنے بدن کی نمائش کرنے والی ایسی چلبلی میزبان تھی جس کی ایک دنیا مداح تھی۔۔۔ مغرب کے ایسے گلوکار اور موسیقار جن کی پوجا کی جاتی ہے اس کے شوز میں مہمان ہوتے تھے اور وہ شب و روز اس شہرت اور چکا چوند میں رقصاں تھی۔۔۔ اس دوران کسی پارٹی میں اس کی ملاقات ہمارے عمران خان سے ہو جاتی ہے اور وہ یورپ کی دیگر حسیناؤں کی مانند اس پر مر مٹتی ہے۔ بقول کرسٹین، عمران خان ایک ماڈل، ایک سپورٹس مین اتنا ہینڈ سم تھا کہ لڑکیاں مکھیوں کی مانند اس پر گرتی تھیں کہ کاش یہ میری ایک شب سنوار دے۔ چنانچہ شدید محبت کی ایک کہانی شروع ہو جاتی ہے۔ کرسٹین کا کہنا ہے کہ ہم دونوں اتنے سنجیدہ تھے کہ ہمارے درمیان طے پا چکا تھا کہ ہمارے بچے مسلمان ہوں گے۔
کرسٹین متعدد بار عمران خان کے ہمراہ پاکستان آئی، اُس کے ہاں زمان پارک کی رہائش گاہ میں قیام کیا۔ اُس کی ہمشیرگان سے ملاقات کی اور پھر خان صاحب کے ہمراہ پاکستانی شمال میں کوہ نوروی کے لیے گئی اور اکثر مرتے مرتے بچی۔۔۔ مجھے یاد ہے ایک بار جب میں اپنی کوہ نورد ٹیم کے ہمراہ شمال کے راستے میں اپنے محبوب دریائے سندھ کے کنارے بشام کے پی ٹی ڈی سی موتل میں شب بسری کے لیے رُکا تو وہاں کے منیجر اور میرے دوست شیرستان نے مجھے بتایا کہ ابھی چند روز پیشتر عمران خان بھی آئے تھے اور حسب معمول نہایت دل کش مغربی خواتین کے ہمراہ آئے تھے۔ میں نے پوچھا، سندھ کے کنارے شام ہو تو اُس شام میں خان صاحب کچھ شغل وغیرہ بھی تو کرتے ہوں گے تو شیرستان کہنے لگے ’’نہیں وہ کم از کم شراب نہیں پیتے تھے‘‘۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ہمارا یہ کاسا نووا مئے لالہ فام کا ایک گھونٹ بھی نہ بھرتا ہو یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔ میرے مرحوم کوہ نوروساتھی میاں فرزند علی اکثر کہتے ’تارڑ صاحب۔۔۔ بشام میں جو آپ کا دوست موٹل انچارج ہے، اُس کا نام یاد نہیں آ رہا لیکن اس کا مطلب بہت سارے شیر ہیں‘‘ یہ شیرستان تھا۔
کرسٹین کا کہنا ہے کہ عمران نے کہا تم میرے ساتھ پاکستان کے شمال کی بلندیوں میں چلو میں گارنٹی کرتا ہوں کہ تم وہاں پہنچ کر میری محبت میں مبتلا ہو جاؤ گی اور ایسا ہی ہوا کوئی ایک شام تھی بلند پہاڑوں میں جب وہ برفیلی بلندیوں کے سائے میں خیمہ زن تھے اور سورج ڈوب رہا تھا اور تب کرسٹین نے اقرار کیا کہ میں عمران خان کے عشق میں فنا ہو گئی۔ کرسٹین اس دوران خان صاحب کے پر تعیش فلیٹ میں منتقل ہو چکی تھی اور وہ شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور پھر جانے کیوں خان صاحب یکدم بدگمان ہو گئے، اُن کی محبت سرد پڑنے لگی اور پھر یورپ کے تمام اخباروں اور ٹی وی پر ایک ہی شہ سرخی تھی کہ پلے بوائے عمران خان نے کھرب پتی خاندان کی خوش شکل جمائما سے شادی کر لی۔۔۔ کرسٹین یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی۔ علیل ہو گئی، شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گیا اور اس نے ہارلے سٹریٹ لندن کی ایک نہایت معروف نفسیات دان ڈاکٹر سے رجوع کیاجو ایک محل نما رہائش گاہ میں رہتی تھیں اور ملکہ الزبتھ سے ملاقات کا وقت آسانی سے مل سکتا تھا لیکن اُن سے اپائنٹ سینٹ حاصل کرنا زیادہ دشوار تھا۔ جب کرسٹین نے اُن سے اپنی داستان محبت کی ناکامی بیان کی تو اُس انگریز خاتون ڈاکٹر نے اقرار کیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں بھی اسلام قبول کر چکی ہوں اور میرا اسلامی نام ڈاکٹر امنیہ ہے۔۔۔ ڈاکٹر امنیہ، کرسٹین کے لیے ایک معجزہ ثابت ہوئیں اور بعد ازاں ان دونوں نے اکٹھے حج کیا اور روضۂ رسول پر حاضری دی۔
آپ یہ جاننے کے لیے شاید کچھ بے قرار ہوں کہ آخر اس سارے قصے میں وہ کونسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے عمران خان کا وقار میری نظروں میں بلند ہوا۔۔۔ کرسٹین کا کہنا ہے کہ عمران خان ان دنوں میں نہایت باقاعدگی سے۔۔۔ ہم سب سے الگ ہو کر پانچوں وقت نماز پڑھتا تھا۔ اسلام کے ساتھ اُس کی وابستگی مکمل تھی۔ ماہ رمضان میں پورے روزے رکھتا تھا۔۔۔ اور وہ مکمل طور پر شراب سے پرہیز کرتا تھا۔ جن شبینہ محفلوں میں بہت ہلا گلا ہوتا تھا، شراب اور شباب کا خمار ہوتا تھا ان سے گریز کرتا تھا۔ وہ ہمہ وقت مجھے اسلام کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔۔۔ ایک بار وہ مارٹن لنگز کی تحریر کردہ سیرت رسول اللہؐ مجھے پڑھ کر سنا رہا تھا تو وہ رونے لگا۔۔۔ میرے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔۔۔ عمران جس کے جذبات کبھی اُس کے چہرے پر عیاں نہ ہوتے تھے، ہمیشہ وہ لکڑی کے چہرے کے ساتھ نہایت سنجیدگی سے دوستوں میں حرکت کرتا تھا۔۔۔ وہ عمران کیسے بے خود ہو کر آنسو بہا سکتا ہے۔ میں نے سبب پوچھا تو اُس نے کہا ’’کرسٹین مجھے اپنے پیغمبر سے اتنی محبت ہے کہ اُن کے تذکرے سے میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں‘‘۔۔۔ کیا آپ اب بھی مجھے مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں کہ میری نظروں میں عمران خان کا وقار اس کتاب کے پڑھنے سے مزید بلند ہو گیا۔ ایک بار کرسٹین کچھ ’مدت بعد عمران کے لنڈن کے فلیٹ میں داخل ہوتی ہے۔۔۔ شدید سردی ہے اور سنٹرل ہٹینگ کام نہیں کر رہی اور وہ سیگ ہیٹر جلانے کے لیے دیا سلائی روشن کرتی ہے۔ ایک شعلہ بھڑکتا ہے جو پورے فلیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے کر جلا ڈالتا ہے۔ کر سٹین بمشکل اپنی جان بچاتی ہے لیکن فکر مند ہے کہ جب میں عمران کو بتاؤں گی کہ میری کوتاہی کے باعث تمہارا شاہانہ فلیٹ راکھ ہو چکا ہے تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ کچھ عرصہ بعد وہ ہمت کر کے اُسے فون کرتی ہے اور فلیٹ کی آتش زدگی کے بارے میں ڈرتے ڈرتے خبر کرتی ہے تو عمران کا ردعمل اُسے حیران کر دیتا ہے۔ وہ نہایت متانت سے لکھتا ہے ’’کرسٹین، شکر ہے کہ میرے گناہوں کی آماجگاہ آگ کے سپرد ہو گئی۔۔۔ شکر ہے‘‘۔
عمران سے علیحدگی کے باوجود کرسٹین کے رگ و پے میں وہ شعلہ بھڑکتا رہتا ہے جسے عمران نے ہوا دی تھی، وہ اپنے آپ کو قرآن پاک کی قربت میں لے جا کر اسلام کے راستے پر چلنے کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ (جاری ہے)
 
چنانچہ عمران خان سے علیحدگی کے باوجود ایم ٹی وی کی میزبان، یورپ بھر میں مقبول گلیمرس کرسٹین بیکر کے رگ و پے میں وہ شعلہ بھڑکتا رہتا ہے جسے عمران نے ہوا دی تھی، وہ اپنے آپ کو قرآن پاک کی قربت میں لے جا کر ان سوالوں کے جواب تلاش کرتی ہے جو ہمیشہ سے اس کے ذہن میں ابھرتے تھے۔۔۔ ایک بار وہ عمران کے فراق میں دل گرفتہ ہے تو اس کا ایک نومسلم دوست اسے کہتا ہے ’’اگر تمہاری ملاقات کسی متشرع باریش اور نہایت سنجیدہ مسلمان کے ساتھ ہوتی تو کیا تم پھر بھی اسلام کی طرف راغب ہوتی؟‘‘ تو کرسٹین نے فوراً کہا کہ ۔۔۔نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔ اس پر اس نومسلم دوست نے اسے سمجھایا کہ تمہاری زندگی میں عمران صرف اس لئے آیا کہ اس کے حوالے سے تم اسلام کے قریب آؤ۔۔۔ قدرت کی جانب سے اس کے ذمے بس یہی فرض تھا اور اس نے یہ فرض ادا کیا اور چلا گیا۔۔۔ اس کے ذمے بس اتنا ہی کام تھا تو پھر اس کی جدائی میں دل گرفتہ ہونا جائز نہیں۔
کرسٹین کے والدین ظاہر ہے اپنی بیٹی کے اسلامی رجحان کو پسند نہ کرتے تھے کہ وہ یورپ میں مروج اسلام دشمنی کے زیراثر تھے۔ انہوں نے کرسٹین سے کہاکہ دیکھو عمران تو چلا گیا جس کی خاطر تم اس مذہب کی جانب مائل ہوئی تھیں۔۔۔ تو اب تو کوئی جواز باقی نہیں، یہ پاگل پن ترک کر دو۔۔۔ اس پر کرسٹین کا جواب تھا کہ بے شک عمران مجھے اسلام کے قریب لایا لیکن اس کے چلے جانے سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ قرآن کی روشنی میرے دل میں اتر چکی ہے۔ اسلام کی جستجو میری زندگی میں شامل ہو چکی ہے۔۔۔ جہاں انگریز ڈاکٹر امینہ کرسٹین کے لئے راہبر ثابت ہوئیں وہاں ایک عجیب و غریب انگریز کردار گائے ایٹن، شکل سے مسخرہ لگتا، عجیب سے تنکوں کے ہیٹ میں، گلے میں مفلر ڈالے ایک سرپھرا انگریز ہر مشکل مقام پر اس کی رہنمائی کرتا کہ وہ ایک مدت سے اسلام قبول کر کے پارسائی کے صراطِ مستقیم پر چل رہا تھا۔۔۔ اسلامی تاریخ اور فقہہ پر اسے عبور حاصل تھا۔۔۔ ایک بار کرسٹین نے گائے ایٹن سے کہا ’’اسلام قبول کرنے میں کچھ رکاوٹیں ہیں۔۔۔ میں میوزک ترک نہیں کر سکتی، مجھے شمپین پسند ہے، میں پورک چاپس شوق سے کھاتی ہوں اور بھلا جنسی تعلق کے بغیر کیسے زندگی گزر سکتی ہے‘‘ تو گائے نے کیا ہی خوب صورت اور قابل عمل حل پیش کیا ’’دیکھو کرسٹین۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے آپ کو بدلنے کے لئے بہت برس دیئے۔۔۔ اس نے قرآن پاک کی پہلی آیت میں ہی تمام احکام صادر نہیں کئے کہ بس شب بھر میں تم اپنی گزشتہ زندگی اور عادتوں کو ترک کر دو۔۔۔ قرآن درجنوں برس نازل ہوتا رہا، تحمل اور بردباری سے بنی نوع انسان کو وقفے وقفے سے سمجھاتا رہا کہ تمہارے لئے بہتر کیا ہے۔۔۔ چوبیس پچیس برس میں اس نے اپنا پیغام مکمل کیا۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو کچھ جلدی نہ تھی، دھیرے دھیرے تبدیلی رونما ہوتی رہی۔۔۔ تو تم بھی آغاز کرو اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دو اور پھر آہستہ آہستہ وقت کے گزرنے سے تم اپنی موجودہ زندگی سے جدا ہو کر اس دین کو مکمل طور پر اختیار کر لوگی۔۔۔ بس آغاز کر لو‘‘۔
کرسٹین بیکر کیسی خوش نصیب تھی کہ اسے گائے ایٹن جیسا منطقی مسلمان ملا۔۔۔ ورنہ ہماری قسمت میں تو یہی پُرخشونت اور ہولناک لوگ ہیں جو ہمیں اسلام کی روح سے برگشتہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گائے ایٹن بسترِ مرگ پر پڑا ہے اور مسکرا رہا ہے۔۔۔ وہ ایک خواب دیکھتا ہے، سرسبز وادیوں کے درمیان میں ایک نیلی جھیل ہے جس پر رنگ رنگ کے پرندے اُڑان کرتے چہچہا رہے ہیں اور وہ کرسٹین سے کہتا ہے، میں مرنے کے لئے تیار ہوں کہ مجھے جنت کی نوید مل گئی ہے۔۔۔ ڈاکٹر امینہ اس کے سرہانے سورۃ یٰسین کی تلاوت کرنے لگتی ہے اور اس کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ پھوٹتی ہے اور وہ اپنے اللہ کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس کی تدفین اسلامی رسوم کے مطابق کی جاتی ہے۔۔۔ قصہ مختصر کرسٹین بالآخر اپنے تمام سوالوں کے پُرتشفی جواب پا کر مسلمان ہو جاتی ہے۔ اور اس کی زندگی میں بھونچال آ جاتا ہے۔ والدین کی ناراضی، پوری جرمن قوم کا طیش، دوستوں کی علیحدگی لیکن وہ ثابت قدم رہتی ہے۔ عمران خان تک جب اس کے قبول اسلام کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے مبارکباد کا پیغام بھیجتا ہے۔
کرسٹین بیکر کی ’’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ‘‘ پڑھتے ہوئے میں نے اس کے نصیب پر بار بار رشک کیا بلکہ کسی حد تک حسد میں مبتلا ہوا کہ کیسے کیسے شاندار لوگوں سے اس کی قربت رہی۔۔۔ مثلاً یوسف اسلام ۔۔۔ پورے یورپ اور امریکہ کے نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن، ایک سپرسٹار، ایسا گلوکار جس کے گیتوں کے البم چھ کرو ڑ سے زیادہ فروخت ہوئے۔ تب اس کا نام کیٹ سٹیونز تھا۔۔۔ ایک بار چھٹیوں کے دوران سمندر میں پیراکی کے لئے اترتا ہے اور ایک بڑی لہر اسے اچھال کر گہرے پانیوں میں لے جاتی ہے اور وہ تقریباً ڈوب جاتا ہے۔ ڈوبتے ہوئے پانیوں کے اندر صرف ایک سانس کے لئے جدوجہد کرتا کیٹ سٹیونز پکارتا ہے کہ اے خدا۔۔۔ اگر تو ہے تو مجھے بچا لے۔۔۔ میری مدد کر۔۔۔ اگر میں بچ گیا تو پوری زندگی تیرے لئے وقف کر دوں گا۔۔۔ اور اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اسلام قبول کر کے درویشی اختیار کی لیکن راہب نہ ہوا ۔۔۔برطانیہ میں اس نے ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد کی، عدالتوں میں اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا۔۔۔ اگر برطانوی حکومت آئین کے مطابق عیسائی اور یہودی مذاہب کے سکولوں کی معاونت کرتی ہے تو اسے اسلامی تدریس کے سکولوں کے لئے بھی مدد کرنا چاہئے۔۔۔ آج برطانیہ میں درجنوں اسلامی سکول قائم ہیں جو باریش ایک چوغے میں ملبوس یوسف اسلام کی سربراہی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے برطانوی مسلمانوں کے بچوں کو اپنے مذہب کی بنیادی اقدار سے روشناس کروا رہے ہیں۔۔۔ کرسٹین بیکر کو بھی یوسف اسلام سے قربت کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ لیکن یہ مارٹن لنگز تھے، کرسٹین بیکر کے مرشد اور دوست جن کی رفاقت نے مجھے حسد کی آگ میں جلایا۔۔۔ ان کی سیرت کی تحقیقی کتاب ’’محمدؐ۔۔۔ قدیم حوالوں سے ان کی حیات‘‘ میری پسندیدہ ترین سیرت النبی ہے۔۔۔ جی ہاں وہی کتاب جسے پڑھتے ہوئے عمران خان آبدیدہ ہو جاتا تھا۔ ایک زمانے میں برٹش میوزیم کے اسلامی گوشے کے انچارج یہ انگریز بابا جنہیں بہت لوگ ولی اللہ مانتے ہیں۔۔۔ جن کے دراز گیسو، سفید داڑھی اور طویل چوغہ انہیں ایک ایسا روحانی روپ عطا کرتا تھا کہ وہ شکل کی وجہ سے کوئی موٹے لگتے تھے۔۔۔ ہمارے اور اپنے پیغمبرؐپر ان کا غیرمتزلزل یقین کہ جب پوچھا جاتا کہ اے الحاج ابوبکر سراج الدین کہ یہی ان کا اسلامی نام تھا، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بالآخر دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو گا تو کہتے ’’چونکہ میرے پیغمبرؐ کا یہ وعدہ ہے‘‘۔
مارٹن لنگز ابوبکر سراج الدین، کرسٹین بیکر کو بہت عزیز جانتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اس کا نکاح پڑھا۔۔۔ اور پھر کرسٹین نے انہیں مرشد مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی، وہ صوفیائے کرام کے حلقے میں داخل ہوئی اور اس ’’شیخ‘‘ کی مرید ہوئی۔۔۔ مارٹن لنگز ایک مرتبہ لاہور تشریف لائے اور انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس میں لیکچر دیا۔۔۔ دعوت نامہ مجھے بھی آیا لیکن اس دوپہر کچھ ایسی بدبختی ہوئی کہ میں کوشش کے باوجود وہاں پہنچنے سے قاصر رہا۔۔۔ میرے نصیب میں نہ تھا کہ میں اس عظیم صوفی کا دیدار کر سکتا جس کی شباہت آپ کے ایمان کو مستحکم کر دیتی ہے۔۔۔ ذرا ان ’’شباہتوں‘‘ پر غور کیجئے جو ہمارے ٹیلی ویژن چینلز پر اسلام کے نام پر ہمیں مسلسل خوفزدہ کرتی ہیں۔۔۔ میں نے اپنے اولین سفرنامے کا نام علامہ اقبال کے مصرعے ۔۔۔ نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُو۔۔۔ سے مستعار لیا تھا۔۔۔ ہم جیسے اس کی تلاش میں نکلتے تو ہیں لیکن زندگی بھر بھٹکتے رہتے ہیں، سوائے نامرادی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا جب کہ کرسٹین بیکر ایسے جب اس کی تلاش میں نکلتے ہیں، اس محبوب کے لئے جستجو کرتے ہیں تو بالآخر اسے پا لیتے ہیں،قسویٰ کے سوار کا دیدار کر لیتے ہیں اور اس کے پاؤں کی دھول میں دھول ہو جاتے ہیں۔۔۔ کیسے خوش نصیب ہوتے ہیں!
 

یوسف-2

محفلین

ایم ٹی وی سے مکہ تک عمران خان
از مستنصر حسین تاڑڑ
ایک زمانے میں تہمینہ درانی کی خود نوشت ’’مائی فیودل لارڈ‘‘ کا بہت چرچا ہوا۔۔۔ تو میں نے بھی اسے پڑھنا یا پرکھنا ضروری سمجھا۔۔۔ اس کتاب کی خوبیاں اگرچہ کم تھیں لیکن اسے پڑھنے کے بعد ملک غلام مصطفی کھر کے بارے میں میری رائے پہلے سے بہت بہتر ہو گئی۔۔۔ بلکہ میں کسی حد تک ان کے کردار کے ایک پہلو کا معترف ہو گیا جس کی تفصیل اس مختصر تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کچھ اس طور پر میں نے جب جرمن نو مسلم خاتون کر سٹین بیکر کی ضخیم کتاب ’’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ‘‘ کا مطالعہ کیا تو میری نظروں میں اس کے سابقہ محبوب عمران خان کا وقار بڑھ گیا۔ اگر کراچی لٹریری فیسٹول میں اس کتاب کی ترویج کرنے والے ایک صاحب مجھے اس کے تحفے سے نہ نوازتے تو میں یقیناًایک نہایت دلچسپ اور اسلام کی ہمہ گیر سچائی کی تلاش میں سر گرداں ایک خاتون سے بے خبر رہ جاتا۔

کرسٹین یورپ کے سب سے پسندیدہ میوزک چینل ایم ٹی وی میں ایک کھلنڈری، اپنے بدن کی نمائش کرنے والی ایسی چلبلی میزبان تھی جس کی ایک دنیا مداح تھی۔۔۔ مغرب کے ایسے گلوکار اور موسیقار جن کی پوجا کی جاتی ہے اس کے شوز میں مہمان ہوتے تھے اور وہ شب و روز اس شہرت اور چکا چوند میں رقصاں تھی۔۔۔ اس دوران کسی پارٹی میں اس کی ملاقات ہمارے عمران خان سے ہو جاتی ہے اور وہ یورپ کی دیگر حسیناؤں کی مانند اس پر مر مٹتی ہے۔ بقول کرسٹین، عمران خان ایک ماڈل، ایک سپورٹس مین اتنا ہینڈ سم تھا کہ لڑکیاں مکھیوں کی مانند اس پر گرتی تھیں کہ کاش یہ میری ایک شب سنوار دے۔ چنانچہ شدید محبت کی ایک کہانی شروع ہو جاتی ہے۔ کرسٹین کا کہنا ہے کہ ہم دونوں اتنے سنجیدہ تھے کہ ہمارے درمیان طے پا چکا تھا کہ ہمارے بچے مسلمان ہوں گے۔

کرسٹین متعدد بار عمران خان کے ہمراہ پاکستان آئی، اُس کے ہاں زمان پارک کی رہائش گاہ میں قیام کیا۔ اُس کی ہمشیرگان سے ملاقات کی اور پھر خان صاحب کے ہمراہ پاکستانی شمال میں کوہ نوروی کے لیے گئی اور اکثر مرتے مرتے بچی۔۔۔ مجھے یاد ہے ایک بار جب میں اپنی کوہ نورد ٹیم کے ہمراہ شمال کے راستے میں اپنے محبوب دریائے سندھ کے کنارے بشام کے پی ٹی ڈی سی موتل میں شب بسری کے لیے رُکا تو وہاں کے منیجر اور میرے دوست شیرستان نے مجھے بتایا کہ ابھی چند روز پیشتر عمران خان بھی آئے تھے اور حسب معمول نہایت دل کش مغربی خواتین کے ہمراہ آئے تھے۔ میں نے پوچھا، سندھ کے کنارے شام ہو تو اُس شام میں خان صاحب کچھ شغل وغیرہ بھی تو کرتے ہوں گے تو شیرستان کہنے لگے ’’نہیں وہ کم از کم شراب نہیں پیتے تھے‘‘۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ہمارا یہ کاسا نووا مئے لالہ فام کا ایک گھونٹ بھی نہ بھرتا ہو یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔ میرے مرحوم کوہ نوروساتھی میاں فرزند علی اکثر کہتے ’تارڑ صاحب۔۔۔ بشام میں جو آپ کا دوست موٹل انچارج ہے، اُس کا نام یاد نہیں آ رہا لیکن اس کا مطلب بہت سارے شیر ہیں‘‘ یہ شیرستان تھا۔

کرسٹین کا کہنا ہے کہ عمران نے کہا تم میرے ساتھ پاکستان کے شمال کی بلندیوں میں چلو میں گارنٹی کرتا ہوں کہ تم وہاں پہنچ کر میری محبت میں مبتلا ہو جاؤ گی اور ایسا ہی ہوا کوئی ایک شام تھی بلند پہاڑوں میں جب وہ برفیلی بلندیوں کے سائے میں خیمہ زن تھے اور سورج ڈوب رہا تھا اور تب کرسٹین نے اقرار کیا کہ میں عمران خان کے عشق میں فنا ہو گئی۔ کرسٹین اس دوران خان صاحب کے پر تعیش فلیٹ میں منتقل ہو چکی تھی اور وہ شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور پھر جانے کیوں خان صاحب یکدم بدگمان ہو گئے، اُن کی محبت سرد پڑنے لگی اور پھر یورپ کے تمام اخباروں اور ٹی وی پر ایک ہی شہ سرخی تھی کہ پلے بوائے عمران خان نے کھرب پتی خاندان کی خوش شکل جمائما سے شادی کر لی۔۔۔ کرسٹین یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی۔ علیل ہو گئی، شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گیا اور اس نے ہارلے سٹریٹ لندن کی ایک نہایت معروف نفسیات دان ڈاکٹر سے رجوع کیاجو ایک محل نما رہائش گاہ میں رہتی تھیں اور ملکہ الزبتھ سے ملاقات کا وقت آسانی سے مل سکتا تھا لیکن اُن سے اپائنٹ سینٹ حاصل کرنا زیادہ دشوار تھا۔ جب کرسٹین نے اُن سے اپنی داستان محبت کی ناکامی بیان کی تو اُس انگریز خاتون ڈاکٹر نے اقرار کیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں بھی اسلام قبول کر چکی ہوں اور میرا اسلامی نام ڈاکٹر امنیہ ہے۔۔۔ ڈاکٹر امنیہ، کرسٹین کے لیے ایک معجزہ ثابت ہوئیں اور بعد ازاں ان دونوں نے اکٹھے حج کیا اور روضۂ رسول پر حاضری دی۔

آپ یہ جاننے کے لیے شاید کچھ بے قرار ہوں کہ آخر اس سارے قصے میں وہ کونسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے عمران خان کا وقار میری نظروں میں بلند ہوا۔۔۔ کرسٹین کا کہنا ہے کہ عمران خان ان دنوں میں نہایت باقاعدگی سے۔۔۔ ہم سب سے الگ ہو کر پانچوں وقت نماز پڑھتا تھا۔ اسلام کے ساتھ اُس کی وابستگی مکمل تھی۔ ماہ رمضان میں پورے روزے رکھتا تھا۔۔۔ اور وہ مکمل طور پر شراب سے پرہیز کرتا تھا۔ جن شبینہ محفلوں میں بہت ہلا گلا ہوتا تھا، شراب اور شباب کا خمار ہوتا تھا ان سے گریز کرتا تھا۔ وہ ہمہ وقت مجھے اسلام کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔۔۔ ایک بار وہ مارٹن لنگز کی تحریر کردہ سیرت رسول اللہؐ مجھے پڑھ کر سنا رہا تھا تو وہ رونے لگا۔۔۔ میرے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔۔۔ عمران جس کے جذبات کبھی اُس کے چہرے پر عیاں نہ ہوتے تھے، ہمیشہ وہ لکڑی کے چہرے کے ساتھ نہایت سنجیدگی سے دوستوں میں حرکت کرتا تھا۔۔۔ وہ عمران کیسے بے خود ہو کر آنسو بہا سکتا ہے۔ میں نے سبب پوچھا تو اُس نے کہا ’’کرسٹین مجھے اپنے پیغمبر سے اتنی محبت ہے کہ اُن کے تذکرے سے میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں‘‘۔۔۔ کیا آپ اب بھی مجھے مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں کہ میری نظروں میں عمران خان کا وقار اس کتاب کے پڑھنے سے مزید بلند ہو گیا۔ ایک بار کرسٹین کچھ ’مدت بعد عمران کے لنڈن کے فلیٹ میں داخل ہوتی ہے۔۔۔ شدید سردی ہے اور سنٹرل ہٹینگ کام نہیں کر رہی اور وہ سیگ ہیٹر جلانے کے لیے دیا سلائی روشن کرتی ہے۔ ایک شعلہ بھڑکتا ہے جو پورے فلیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے کر جلا ڈالتا ہے۔ کر سٹین بمشکل اپنی جان بچاتی ہے لیکن فکر مند ہے کہ جب میں عمران کو بتاؤں گی کہ میری کوتاہی کے باعث تمہارا شاہانہ فلیٹ راکھ ہو چکا ہے تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ کچھ عرصہ بعد وہ ہمت کر کے اُسے فون کرتی ہے اور فلیٹ کی آتش زدگی کے بارے میں ڈرتے ڈرتے خبر کرتی ہے تو عمران کا ردعمل اُسے حیران کر دیتا ہے۔ وہ نہایت متانت سے لکھتا ہے ’’کرسٹین، شکر ہے کہ میرے گناہوں کی آماجگاہ آگ کے سپرد ہو گئی۔۔۔ شکر ہے‘‘۔
عمران سے علیحدگی کے باوجود کرسٹین کے رگ و پے میں وہ شعلہ بھڑکتا رہتا ہے جسے عمران نے ہوا دی تھی، وہ اپنے آپ کو قرآن پاک کی قربت میں لے جا کر اسلام کے راستے پر چلنے کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ (جاری ہے)

 
آخری تدوین:

یوسف-2

محفلین
کرسٹین اس دوران خان صاحب کے پر تعیش فلیٹ میں منتقل ہو چکی تھی اور وہ شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور پھر جانے کیوں خان صاحب یکدم بدگمان ہو گئے، اُن کی محبت سرد پڑنے لگی اور پھر یورپ کے تمام اخباروں اور ٹی وی پر ایک ہی شہ سرخی تھی کہ پلے بوائے عمران خان نے کھرب پتی خاندان کی خوش شکل جمائما سے شادی کر لی۔۔۔


جن دنوں عمران خان کی شادی ہوئی، یہ احقر روزنامہ جنگ لندن سے وابستہ تھا۔ واضح رہے کہ لندن سے پاکستان کا یہ واحد روزنامہ شائع ہوتا ہے۔ بعد میں اسی اخبارمیں اسی ادارے سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ”دی نیوز“ کے کچھ صفحات بھی شائع ہونے لگے۔ ابتدا میں جنگ والے یہ اخبار لندن سے نکالنے کے لئے پاکستان سے عملہ لے کر گئے تھے۔ لیکن جب اخبار چل پڑا تو ان صحافیوں کو مقامی قانون کے مطابق دی جانے والی ”اُجرت“ منتظمین کو بھاری لگنے لگی۔ چنانچہ انہوں نے جنگ کراچی کے ایک فلور پر ”جنگ لندن ڈیسک“ قائم کرلیا۔ جنگ لندن اخبار کے لئے اول تا آخر صحافتی کام یہیں تیار ہوتا ہے اور الیکٹرونک ذریعہ سے جڑی ہوئی کاپیاں لندن دفتر پہنچا دی جاتی ہیں۔ جہاں صرف مقامی اشتہارات اور کچھ لوکل خبریں شامل کرکے نسبتاً بہت کم عملہ کی مدد سے اخبار کی پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ میں کراچی کے اسی لندن ڈیسک پر تھا۔ خیر یہ تو ایک ضمنی لیکن ضروری بات تھی، جو آگے کی کہانی کو سمجھنے میں یقیناً مدد دے گی۔

اصل کہانی یہ ہے کہ جب عمران خان کی شادی (1994 یا 1995 میں) ہوئی، اور وہ ہنی مون پر روانہ ہوا، تب میں یہیں لندن ڈیسک پر تھا۔ گو اس شادی کی خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شائع ہوئی، لیکن صرف جنگ کو یہ ”اعزاز“ حاصل تھا کہ لندن سے بھی اس کا اپنا اخبار شائع ہورہا تھا۔ لہٰذا جنگ کے لندن اخبار کے ذرائع کے حوالہ سے اس شادی سے متعلق سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خبریں جنگ میں ہی شائع ہو رہی تھیں۔ اور بہت سے پاکستانی اخبارات جنگ سے ہی ”نیوز لفٹ“ کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ ان دنوں پاکستان میں نہ تو انٹر نیٹ موجود تھا اور نہ ہی سوشیل میڈیا کا کوئی وجود تھا۔ ڈش پر انٹرنیشنل ٹی وی چینلز کی سہولیات خاص خاص تھیں۔ (جنگ لندن ڈیسک کے نیوز روم میں بھی تھیں) اورپاکستان میں پی ٹی وی کے علاوہ کوئی ٹی وی چینل موجود نہ تھا۔ ان تمام پس منظر میں ۔ ۔ ۔ ۔

عمران خان کی شادی کی خبر اخباری دفاترمیں یوں ”بریک“ ہوئی کہ عمران خان لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میں کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے کہ انہیں ایک فون کال ملی۔ اس فون کے ذریعہ انہیں یہ ”اطلاع“ دی گئی کہ لندن میں جمائما کے والد ایک پریس کانفرنس میں
یہ اعلان کر رہے ہیں (یا کر چکے ہیں) کہ ان کی بیٹی نے عمران خان سے شادی کر لی ہے۔ عمران خان یہ فون کال سنتے ہی اجلاس ملتوی کر کے پہلی دستیاب فلائیٹ سے لندن روانہ ہوگئے۔ صحافیوں نے پاکستان سے روانگی کے موقع پر عمران سے اس شادی کے بارے میں گفتگو کرنے کی کوشش کی، لیکن عمران خان صحافیوں سے کوئی گفتگو کئے بغیر، اس شادی کی تصدیق یا تردید کئے بغیر لندن روانہ ہوگئے۔ لند ن کے ہوائی اڈے پر بھی عمران خان صحافیوں سے باضابطہ ملے بغیر روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں جنگ لندن نے اپنے ”ذرائع“ سے یہ خبر دی کہ عمران خان جمائما کے ساتھ ”ہنی مون“ پر روانہ ہوگئے ہیں۔ اب برطانوی میڈیا بھی عمران خان کے ”تعاقب“ میں تھا۔ برطانوی پریس عمران خان سے متعلق مختلف اقسام کی خبریں شائع کرنے لگا۔ برطانوی پریس سے یہ خبریں براہ راست ”لفٹ“ کرکے، جنگ لندن اور جنگ کے پاکستان ایڈیشنوں میں شائع ہونے لگیں۔ اور پاکستان کے دیگر اخبارات جنگ سے اسٹوری لفٹ کرنے لگے۔

اُنہی دنوں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ۔۔۔ جب عمران خان برطانیہ میں بطور ”پلے بوائے“ مشہور تھے اور لندن کے امراء کی مجلسوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے تو اُن کے ”فرینڈ سرکل“ میں جمائما کی والدہ تھیں، خود جمائما نہیں۔ جمائما سے عمران خان کی ”ملاقات“ بہت بعد میں ان کی والدہ نے کروائی تھی۔ خیر قصہ مختصر عمران اُدھر ”ہنی مون ورلڈ ٹور“ پر نکلے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے بین الاقوامی رپورٹرز اور فوٹو گرافرز۔ اسی ٹور میں ایک برطانوی فری لانس فوٹو گرافر نے عمران-جمائما کی کسی ”بیچ “ پر ایسی تصاویر اتار لیں، جس میں دونوں صرف ہیٹ پہنے ہوئے تھے (خبروں کے مطابق)۔ جب ان تصاویر کی خبر برٹش میڈیا میں چھپی تو ان تصاویر کی بولیاں لگنے لگیں۔ اخبارات مذکورہ پریس فوٹو گرافر کو آفرز دینے لگے۔ اب مجھے ان آفرز کی مالیت تو یاد نہیں لیکن انٹرنیشنل میڈیا سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی ”نادر تصاویر“ کتنی مہنگی فروخت ہوتی ہیں۔ کئی دنوں تک اس تصویر کی بولیوں کی خبریں چھپتی رہیں۔ اور آخر میں ایک خبر چھپی کے جمائما کے والد نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے برٹش میڈیا کو عمران-جمائما کی ایسی متنازعہ تصاویر چھاپنے سے روکنے پر ”رضامند“ کرلیا ہے۔ یوں مذکورہ فوٹو گرافر مالا مال ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ سب خبریں جنگ میں اور جنگ کے ذریعہ پاکستانی اخبارات میں چھپ رہی تھیں کہ ۔۔۔ انہی دنوں لندن میں موجود جنگ کے مالک میر شکیل الرحمٰن کا فون جنگ لندن ڈیسک کے انچارج اور سینئر صحافی ہمایوں عزیز کے پاس آیا۔ میر صاحب نے ہمایوں عزیز سے کہا کہ ان کے پاس عمران خان کا فون آیا ہے۔ اور عمران نے مجھ (میر شکیل صاحب) سے پوچھا ہے کہ آپ اور جنگ یہودی لابی کے ساتھ ہیں یا میرے (عمران کے) ساتھ۔ میر صاحب نے جواب دیا کہ وہ یقیناً عمران کے ساتھ ہیں۔ تب عمران نے کہا کہ پھر جنگ میرے خلاف (جانے والی) خبریں کیوں شائع کر رہا ہے۔ عمران نے شکیل صاحب سے درخواست کی کہ جنگ ایسی خبریں نہ شائع کرے جن سے عمران اور پاکستان کی ”ریپوٹیشن“ کو نقصان پہنچے اور یہودی لابی کو فائدہ (وغیرہ وغیرہ)۔ ہمایوں عزیز صاحب نے پھر جملہ اسٹاف کو میر شکیل الرحمٰن کی یہ ”ہدایت“ پہنچائی کہ آج کے بعد سے عمران اور عمران کی شادی سے متعلق کوئی ”منفی خبر“ شائع نہ کی جائے اور ہم نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ”موصولہ خبروں“ کو ایڈیٹ کرنے لگے۔

انہی دنوں یہ خبریں بھی چھپیں کہ عمران اور جمائما کی شادی برطانوی قانون کے تحت اس کے عیسائی نام سے رجسٹرڈ ہوئی۔ پھر یہ خبر چھپی یا چھپوائی گئی کہ شادی سے قبل جمائما مسلمان ہوگئی۔ اور اس کا اسلامی نام جمائما رکھا گیا ہے۔ اوراس نام کے ساتھ باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا ہے۔ تبھی یہ خبریں بھی چھپیں کہ عمران کے سسر نے برطانیہ میں ”جسٹس پارٹی“ بنائی ہے۔ اور کچھ ہی دنوں بعد عمران خان نے (مبینہ طور پر اپنے سسر کے کہنے پر ہی) پاکستان میں اسی نام (کے اردو ورژن) سے، ”تحریک انصاف“ بنالی، جس میں اولاً پاکستان کے ”برگر کلاس“ کے لوگ شامل ہوئے ۔ ۔ ۔ عمران کے حوالہ سے یہ ”منفی خبریں“ یا تو پالش ہوکر چھپتی رہیں یا کِل ہوتی رہیں۔۔۔ حتیٰ کہ عمران خان کے سسر اچانک آنجہانی ہوگئے۔ پھر خبریں آنے لگیں کہ اب عمران خان ”نامعلوم دباؤ“ سے آزاد ہونے لگے ہیں۔ عمران نے پھر پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس سے جمائما متفق نہ ہوئیں۔ وہ مستقلاً عمران کے ساتھ لندن میں رہنے پر بضد تھیں۔ یوں یہ اختلافات بڑھتے گئے اور ان میں علیحدگی ہوگئی۔

اس کے بعد عمران خان ایک تبدیل شدہ عمران کی صورت میں نظر آنے لگے۔ اور آج عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان میں مثبت تبدیلی کا سمبل بن چکی ہے۔ آج کے عمران خان کی ذات میں ماضی کی خامیوں کا کوئی عکس نظر نہیں آتا اور ان کی پارٹی پالیسی بھی پاکستان کی حمایت میں ہی نظر آتی ہے۔ گو کہیں کہیں ان کےخیالات اور پارٹی سرگرمیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کی نیک نیتی پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ اگر اس محفل پر موجود کوئی صحافی نوے کی دہائی کے وسط میں فعال رہا ہو تو ان دنوں پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی متذکرہ بالا خبروں کی تصدیق یا تصحیح کرسکتا ہے، اگر مجھ سے کہیں کوئی سہو ہوگیا ہو تو۔
 

عثمان

محفلین
جن دنوں عمران خان کی شادی ہوئی، یہ احقر روزنامہ جنگ لندن سے وابستہ تھا۔ واضح رہے کہ لندن سے پاکستان کا یہ واحد روزنامہ شائع ہوتا ہے۔ بعد میں اسی اخبارمیں اسی ادارے سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ”دی نیوز“ کے کچھ صفحات بھی شائع ہونے لگے۔ ابتدا میں جنگ والے یہ اخبار لندن سے نکالنے کے لئے پاکستان سے عملہ لے کر گئے تھے۔ لیکن جب اخبار چل پڑا تو ان صحافیوں کو مقامی قانون کے مطابق دی جانے والی ”اُجرت“ منتظمین کو بھاری لگنے لگی۔ چنانچہ انہوں نے جنگ کراچی کے ایک فلور پر ”جنگ لندن ڈیسک“ قائم کرلیا۔ جنگ لندن اخبار کے لئے اول تا آخر صحافتی کام یہیں تیار ہوتا ہے اور الیکٹرونک ذریعہ سے جڑی ہوئی کاپیاں لندن دفتر پہنچا دی جاتی ہیں۔ جہاں صرف مقامی اشتہارات اور کچھ لوکل خبریں شامل کرکے نسبتاً بہت کم عملہ کی مدد سے اخبار کی پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ میں کراچی کے اسی لندن ڈیسک پر تھا۔ خیر یہ تو ایک ضمنی لیکن ضروری بات تھی، جو آگے کی کہانی کو سمجھنے میں یقیناً مدد دے گی۔

اصل کہانی یہ ہے کہ جب عمران خان کی شادی (1994 یا 1995 میں) ہوئی، اور وہ ہنی مون پر روانہ ہوا، تب میں یہیں لندن ڈیسک پر تھا۔ گو اس شادی کی خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شائع ہوئی، لیکن صرف جنگ کو یہ ”اعزاز“ حاصل تھا کہ لندن سے بھی اس کا اپنا اخبار شائع ہورہا تھا۔ لہٰذا جنگ کے لندن اخبار کے ذرائع کے حوالہ سے اس شادی سے متعلق سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خبریں جنگ میں ہی شائع ہو رہی تھیں۔ اور بہت سے پاکستانی اخبارات جنگ سے ہی ”نیوز لفٹ“ کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ ان دنوں پاکستان میں نہ تو انٹر نیٹ موجود تھا اور نہ ہی سوشیل میڈیا کا کوئی وجود تھا۔ ڈش پر انٹرنیشنل ٹی وی چینلز کی سہولیات خاص خاص تھیں۔ (جنگ لندن ڈیسک کے نیوز روم میں بھی تھیں) اورپاکستان میں پی ٹی وی کے علاوہ کوئی ٹی وی چینل موجود نہ تھا۔ ان تمام پس منظر میں ۔ ۔ ۔ ۔

عمران خان کی شادی کی خبر اخباری دفاترمیں یوں ”بریک“ ہوئی کہ عمران خان لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میں کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے کہ انہیں ایک فون کال ملی۔ اس فون کے ذریعہ انہیں یہ ”اطلاع“ دی گئی کہ لندن میں جمائما کے والد ایک پریس کانفرنس میں
یہ اعلان کر رہے ہیں (یا کر چکے ہیں) کہ ان کی بیٹی نے عمران خان سے شادی کر لی ہے۔ عمران خان یہ فون کال سنتے ہی اجلاس ملتوی کر کے پہلی دستیاب فلائیٹ سے لندن روانہ ہوگئے۔ صحافیوں نے پاکستان سے روانگی کے موقع پر عمران سے اس شادی کے بارے میں گفتگو کرنے کی کوشش کی، لیکن عمران خان صحافیوں سے کوئی گفتگو کئے بغیر، اس شادی کی تصدیق یا تردید کئے بغیر لندن روانہ ہوگئے۔ لند ن کے ہوائی اڈے پر بھی عمران خان صحافیوں سے باضابطہ ملے بغیر روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں جنگ لندن نے اپنے ”ذرائع“ سے یہ خبر دی کہ عمران خان جمائما کے ساتھ ”ہنی مون“ پر روانہ ہوگئے ہیں۔ اب برطانوی میڈیا بھی عمران خان کے ”تعاقب“ میں تھا۔ برطانوی پریس عمران خان سے متعلق مختلف اقسام کی خبریں شائع کرنے لگا۔ برطانوی پریس سے یہ خبریں براہ راست ”لفٹ“ کرکے، جنگ لندن اور جنگ کے پاکستان ایڈیشنوں میں شائع ہونے لگیں۔ اور پاکستان کے دیگر اخبارات جنگ سے اسٹوری لفٹ کرنے لگے۔

اُنہی دنوں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ۔۔۔ جب عمران خان برطانیہ میں بطور ”پلے بوائے“ مشہور تھے اور لندن کے امراء کی مجلسوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے تو اُن کے ”فرینڈ سرکل“ میں جمائما کی والدہ تھیں، خود جمائما نہیں۔ جمائما سے عمران خان کی ”ملاقات“ بہت بعد میں ان کی والدہ نے کروائی تھی۔ خیر قصہ مختصر عمران اُدھر ”ہنی مون ورلڈ ٹور“ پر نکلے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے بین الاقوامی رپورٹرز اور فوٹو گرافرز۔ اسی ٹور میں ایک برطانوی فری لانس فوٹو گرافر نے عمران-جمائما کی کسی ”بیچ “ پر ایسی تصاویر اتار لیں، جس میں دونوں صرف ہیٹ پہنے ہوئے تھے (خبروں کے مطابق)۔ جب ان تصاویر کی خبر برٹش میڈیا میں چھپی تو ان تصاویر کی بولیاں لگنے لگیں۔ اخبارات مذکورہ پریس فوٹو گرافر کو آفرز دینے لگے۔ اب مجھے ان آفرز کی مالیت تو یاد نہیں لیکن انٹرنیشنل میڈیا سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی ”نادر تصاویر“ کتنی مہنگی فروخت ہوتی ہیں۔ کئی دنوں تک اس تصویر کی بولیوں کی خبریں چھپتی رہیں۔ اور آخر میں ایک خبر چھپی کے جمائما کے والد نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے برٹش میڈیا کو عمران-جمائما کی ایسی متنازعہ تصاویر چھاپنے سے روکنے پر ”رضامند“ کرلیا ہے۔ یوں مذکورہ فوٹو گرافر مالا مال ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ سب خبریں جنگ میں اور جنگ کے ذریعہ پاکستانی اخبارات میں چھپ رہی تھیں کہ ۔۔۔ انہی دنوں لندن میں موجود جنگ کے مالک میر شکیل الرحمٰن کا فون جنگ لندن ڈیسک کے انچارج اور سینئر صحافی ہمایوں عزیز کے پاس آیا۔ میر صاحب نے ہمایوں عزیز سے کہا کہ ان کے پاس عمران خان کا فون آیا ہے۔ اور عمران نے مجھ (میر شکیل صاحب) سے پوچھا ہے کہ آپ اور جنگ یہودی لابی کے ساتھ ہیں یا میرے (عمران کے) ساتھ۔ میر صاحب نے جواب دیا کہ وہ یقیناً عمران کے ساتھ ہیں۔ تب عمران نے کہا کہ پھر جنگ میرے خلاف (جانے والی) خبریں کیوں شائع کر رہا ہے۔ عمران نے شکیل صاحب سے درخواست کی کہ جنگ ایسی خبریں نہ شائع کرے جن سے عمران اور پاکستان کی ”ریپوٹیشن“ کو نقصان پہنچے اور یہودی لابی کو فائدہ (وغیرہ وغیرہ)۔ ہمایوں عزیز صاحب نے پھر جملہ اسٹاف کو میر شکیل الرحمٰن کی یہ ”ہدایت“ پہنچائی کہ آج کے بعد سے عمران اور عمران کی شادی سے متعلق کوئی ”منفی خبر“ شائع نہ کی جائے اور ہم نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ”موصولہ خبروں“ کو ایڈیٹ کرنے لگے۔

انہی دنوں یہ خبریں بھی چھپیں کہ عمران اور جمائما کی شادی برطانوی قانون کے تحت اس کے عیسائی نام سے رجسٹرڈ ہوئی۔ پھر یہ خبر چھپی یا چھپوائی گئی کہ شادی سے قبل جمائما مسلمان ہوگئی۔ اور اس کا اسلامی نام جمائما رکھا گیا ہے۔ اوراس نام کے ساتھ باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا ہے۔ تبھی یہ خبریں بھی چھپیں کہ عمران کے سسر نے برطانیہ میں ”جسٹس پارٹی“ بنائی ہے۔ اور کچھ ہی دنوں بعد عمران خان نے (مبینہ طور پر اپنے سسر کے کہنے پر ہی) پاکستان میں اسی نام (کے اردو ورژن) سے، ”تحریک انصاف“ بنالی، جس میں اولاً پاکستان کے ”برگر کلاس“ کے لوگ شامل ہوئے ۔ ۔ ۔ عمران کے حوالہ سے یہ ”منفی خبریں“ یا تو پالش ہوکر چھپتی رہیں یا کِل ہوتی رہیں۔۔۔ حتیٰ کہ عمران خان کے سسر اچانک آنجہانی ہوگئے۔ پھر خبریں آنے لگیں کہ اب عمران خان ”نامعلوم دباؤ“ سے آزاد ہونے لگے ہیں۔ عمران نے پھر پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس سے جمائما متفق نہ ہوئیں۔ وہ مستقلاً عمران کے ساتھ لندن میں رہنے پر بضد تھیں۔ یوں یہ اختلافات بڑھتے گئے اور ان میں علیحدگی ہوگئی۔

اس کے بعد عمران خان ایک تبدیل شدہ عمران کی صورت میں نظر آنے لگے۔ اور آج عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان میں مثبت تبدیلی کا سمبل بن چکی ہے۔ آج کے عمران خان کی ذات میں ماضی کی خامیوں کا کوئی عکس نظر نہیں آتا اور ان کی پارٹی پالیسی بھی پاکستان کی حمایت میں ہی نظر آتی ہے۔ گو کہیں کہیں ان کےخیالات اور پارٹی سرگرمیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کی نیک نیتی پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ اگر اس محفل پر موجود کوئی صحافی نوے کی دہائی کے وسط میں فعال رہا ہو تو ان دنوں پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی متذکرہ بالا خبروں کی تصدیق یا تصحیح کرسکتا ہے، اگر مجھ سے کہیں کوئی سہو ہوگیا ہو تو۔
ماخذ ؟
 

عثمان

محفلین
عثمان بھائی ماخذ مستنصر حسین تارڑ کی کتاب "ایم ٹی وی سے مکہ تک" ہے۔

دوسری صورت میں یہاں دیکھ لیں۔
یہ ابتدائی مراسلہ کا ماخذ ہے۔ یوسف-2 کا دوسرا مراسلہ مستنصر حسین تارڑ کا کالم نہیں بلکہ کچھ اور تقریر ہے جس کا ماخذ انھوں نے اب تک واضح نہیں کیا۔
 
یہ ابتدائی مراسلہ کا ماخذ ہے۔ یوسف-2 کا دوسرا مراسلہ مستنصر حسین تارڑ کا کالم نہیں بلکہ کچھ اور تقریر ہے جس کا ماخذ انھوں نے اب تک واضح نہیں کیا۔
مآخذ تو وہ خودہیں۔۔۔۔۔آپ بس اس دور کی کوڑی کی شانِ نزول سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ Hint میں دینا نہیں چاہتا:D
 
Top