اٹلی اور اٹالین

دنیا کے گنے چنے ممالک کی طرح اٹلی ایک مشہور اور جانا پہچانا ملک ہے ، جسکی بہت سی وجوہات ہیں ، مثلاُ سلطنتِ روم اور روم، مسولینی اور دوسری جنگِ عظیم کی کُٹ، لاطینی دانتے اور پیزا کا مینار، مافیا، سسلی کے پکوان اور پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑہ ان کے علاوہ سب سے بڑی وجہ اٹلی مابدولت کی موجودگی ہے، یاد رہے کہ پرویز مشرف کو مابدولت کے بعد اٹلی کی سرزمین پر قدمِ رنجہ فرمانے کو شرف حاصل ہوا۔

باقی کا تعارف ساتھ ساتھ چلتا رہے گا اسوقت ذرا باقی کے فورمز سے دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ جی
 

جہانزیب

محفلین
یعنی دو ہی پاکستانی سپوت اٹلی پر قدم رنجا فرمانے کا اعزاز رکھتے ہیں یا آپ نے ملتی جلتی خصویات کی وجہ سے اپنا اور بادشادہ سلامت کا ذکر خیر اکھٹا کیا ہے :haha:
 
ہیں یہ آپ کو کس نے بتا دیا، بھئی اب تو اپنی زبان پر قابو رکھنا ہوگا، آپ اور میرے بارے میں کیا کیا جانتے ہیں؟
 

جہانزیب

محفلین
بھئی بات سے بات سے جانتا ہوں آپ کو دوسرا بلاگ سے تیسرا میں نے جتنے راجے دیکھے ہیں سب جہلم کے نکل آتے ہیں یا سرائے عالمگیر کے :lol: اب راجہ اندر کمار بھی کیا جہلم سے تھا؟ :shock:
 
جی نہیں ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں میں اور راجہ اندرکمار دونوں ایک ساتھ جہلم کے نہیں ہو سکتے۔
خیر میں تو وہاں پیدا ہوا ہوں اور میرے پاس برتھ سرٹیفیکیٹ موجود ہے آپ راجہ اندرکمار کو کہیے کہ وہ بھی اپنا برتھ سرٹیفیکیٹ دکھائے مگر مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی بھی نہیں دکھائے گا آپ کو،

گارنیٹی یا شرط لگا لو :newbie:
 

جہانزیب

محفلین
نہیں جی وہ ایک ساتھ نیام میں نہیں ہیں نا۔۔۔ وہ آپ کے نیام میں آنے سے پہلے نیام سے باہر ہو گئے تھے۔۔ :mrgreen:
 
شکر ہے

شکر ہے کہ وہ میرے آنے سے پہلے ہی باہر ہو گئے تھے اسی لیے میری انسے ملاقات جہلم میں نہیں ہوئی ویسے اگر ہو بھی جاتی تو میں انکا کیا کر لیتا، جہلم تو راجپوتوں سے بھرا پڑا ہے ہم نے کونسے سارے مار دیئے ہیں اور پھر ضرورت تو تب پیش آتی جب وہ خود سے آپس میں لڑ نہ رہے ہوتے۔
ویسے میں نے سنا ہوا کہ راجہ اندر ایک نیک آدمی تھا لڑائی جھگڑا سے دور رہتا اور چرس پی کر ایک کونے میں پڑا رہتا تھا۔ دروغ بر گردنِ دریائے راوی۔
 
یہ کیا لفظ ہے جو آپ نے لکھا ہے اور اسکا اردومیں مترادف بھی بتائیں؟

نیز اسکو پانچ کر تقسیم کرکے حاصل کو محصول بنا کر دیکھائیں :idea:
 

اجنبی

محفلین
راجہ صاحب بچی نے امریکیوں نے انگریزی کی ایک ٹانگ توڑی اور بچی نے اس کی دوسری ٹانگ توڑ دی ۔ اس دوران کیمیائی تعامل ہوا اور وہ لفظ وجود میں آیا جس کا نہ سر نہ پیر ، وہی بچی نے لکھ دیا
 
ہاں تو ٹھیک ہے میں نے کب انکار کیا ہے مگر اب اس حاصل کے محصول کو بنائیں اور اسے جمع بھی کروا کر دیکھائیں تو بات بنتی ہے
 

اجنبی

محفلین
ویسے خواتین ہار مانتی تو نہیں ہیں ۔ یہ سب راجہ صاحب کا کمال ہے کہ انہوں نے آنٹی کو ہار ماننے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ہا ہا ہا
 
Top