امجد اسلام امجد اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے

عمر سیف

محفلین
اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے
جھُک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

تیرا غم، اس فشارِ شب و روز میں
ہونے دیتا نہیں بے سہارا مجھے

ہر ستارے کی بجھتی ہوئی روشنی
میرے ہونے کا ہے استعارا مجھے

اے خدا کوئی ایسا بھی ہے معجزہ
جو کہ مجھ پر کرے آشکارا مجھے

کوئی سورج نہیں کوئی تارا نہیں
تو نے کس جھٹپٹے میں اُتارا مجھے

عکسِ امروز میں نقشِ دیروز میں
اک اشارا تجھے اک اشارا مجھے

ہیں ازل تا ابد ٹوٹتے آئینے
آگہی نے کہاں لا کے مارا مجھے

امجد اسلام امجد
 

منصور مکرم

محفلین
میرے خیال میں شعر کا حقیقی مزہ لینے کیلئے عاشق ہونا ضروری ہے،تاکہ درد دل میں محسوس ہو۔
کیا خیال ہے۔
 
لو جی بادِ سرسر بھی پہنچ گیا۔
بھائی جان! اول تو یہ لفظ ”ص“ کے ساتھ ہے، یعنی ”بادِ صرصر“ ، دوسری بات یہ کہ یہ آندھی کو کہتے ہیں، اگر ”سرسری“ کی مناسبت سے کچھ کہنا ہی تھا تو کسی اچھی ہوا سے تو تشبیہ دیتے ، آپ یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ”لو جی بادِ صبا بھی سرسراتی پہنچ گئی۔“ تیز و تند ہوا سے تشبیہ دینا تو ”سراسر“ زیادتی ہے، ہم تو صرف ”سرسری“ طور پر گزرجانے کے عادی ہیں۔:)
 

منصور مکرم

محفلین
بھائی جان! اول تو یہ لفظ ”ص“ کے ساتھ ہے، یعنی ”بادِ صرصر“ ، دوسری بات یہ کہ یہ آندھی کو کہتے ہیں، اگر ”سرسری“ کی مناسبت سے کچھ کہنا ہی تھا تو کسی اچھی ہوا سے تو تشبیہ دیتے ، آپ یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ”لو جی بادِ صبا بھی سرسراتی پہنچ گئی۔“ تیز و تند ہوا سے تشبیہ دینا تو ”سراسر“ زیادتی ہے، ہم تو صرف ”سرسری“ طور پر گزرجانے کے عادی ہیں۔:)
اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ:noxxx::noxxx::noxxx:

مجھے ایسے ہی کہنا چاہئے تھا جس طرح آپ نے فرمایا ۔

آپکی بات سے متفق ہوں۔
معلومات میں اضافے کا بہت شکریہ
 
آخری تدوین:
Top