انتخاب قابل اجمیری

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعسروں کے تاثرات

قابل صاحب کی غزلوں کے موضوعات محدود نہیں ہیں۔ان کے یہاں تو موضوعات کے تنوع کا حساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔عشق ان کی شاعری کا اہم موضوع ضرور ہے لیکن چونکہ وہ زندگی کے دوسروں پہلووں سے الگ نہیں ہے اس لئے عشقیہ موضوعات بھی ان کے یہاں خاصے پہلو دار اور متنوع کیفیت کے حامل نظر آتے ہیں لیکن ان کی غزلوں میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔زندگی کے عام سیاسی اور سماجی حالات کی ترجمانی وہ بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ قابل صاحب پر اپنے زمانے کے حالات کا گہرا اثر ہے۔وہ خود ان حالات سے ہو کر گزرے ہیں جن سے اس زمانے کی زندگی دوچار ہے۔خیر ان موضوعات کو غزلوں میں پیش کرنا ،ایسی کوئی اہم بات نہیں ہے یہ کام تو ہر شاعر کر سکتا ہے لیکن ان حالات کو شدت کے ساتھ محسوس نہ کیا جائے اور جب تک انہیں مزاج کا جزو نہ بنا لیا جائے اس وقت تک ان میں جان پیدا نہیں ہوتی۔
قابل صاحب نے ان موضوعات کو اپنے مزاج میں شامل کر لیا ہے ۔ اس لئے وہ ان کو غزل کی صنف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

(ڈاکٹر عبادت بریلوی)
 

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعسروں کے تاثرات

یہی ہے دل کی ہلاکت، یہی ہے عشق کی موت
نگاہِ دوست پر اظہارِ بے کسی ہو جائے

زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
خدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ہو جائے

اس قسم کے ایک دو نہیں سیکڑوں انمول اور آبدار موتی، قابل اجمیری مرحوم نے اردو شاعری کو دئے ہیں۔اور صرف تیس سال کی عمر میں اور زندگی کے یہ تیس سال بھی انہوں نے جس طرح گزارے ہیں اس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ان کو دیکھا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ اڑنے سے پہلے ہی ان کا چہرہ زرد تھا، قوٰی مضمحل ہو چکے تھے، مسلسل علالت کے سبب عناصر میں اعتدال باقی نہ تھا، ان کے چہرے، ان کی آواز اور ان کی رفتار سب سے ان کے جسمانی ضعف کا اندازہ ہوتا تھا، لیکن اس سے یہ خیال کرنا کہ مرحوم نے اپنی زندگی کے یہ تیس سال جوں توں، طوعاّ کرھاّ چاروناچار عالمِ یاس میں کاٹ دئے ہونگے، درست نہیں ہے۔ ان کا جسم جتنا نحیف تھا،ان کی روح اتنی ہی قوی تھی، وہ باہر سے جتنے پژمردہ تھے اندر سے اتنے ہی زندہ تھے۔ ان کے چہرے پر نقاہتِ جسمانی کی زردی تو تھی، بے دلی کے آثار نہ تھے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ دق جیسے موذی مرض اور افلاس کے پے درپے حملوں کے باوجود ان پر اضمحلال یا ضعف کی کیفیت کبھی طاری نہیں ہوئی، زندگی ان سے لاکھ مایوس رہی ہو، لیکن وہ زندگی سے ایک لمحے کے لئے بھی مایوس نہیں ہوئے، تبھی تو انہوں نے کہا ہے اور بہت صحیح کہا ہے:

گزاری نزع کے عالم میں تو نے عمر اے قابل
ترے شعروں میں لیکن زندگانی رقص کرتی ہے


(ڈاکٹر فرمان فتح پوری)
 

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعسروں کے تاثرات

قابل اجمیری نے اپنے پیچھے جو شعری ترکہ چھوڑا ہے، وہ مختصر ہونے کے باوجود اتنا مختصر بھی نہیں کہ اس سے قابل اجمیری کے جوہر کا اندازہ نہ ہو سکے۔ ایک اور جواں مرگ شاعر شکیب جلالی کا جموعہ بھی تقریباّ اتنا ہی ہے۔ان دونوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں شاعری کی۔ شکیب جلالی کے بعض مسائل کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، مگر قابل اجمیری سے ملنے کا شرف مجھے کبھی حاصل نہ ہوا۔ جس زمانے میں ہم نے آغاز کیا تھا، قابل اجمیری کا نام خاصا معروف تھا اور ان کا کلام ہم مختلف رسالوں میں پڑھا کرتے تھے۔ مگر اس سے پہلے کہ ان سے ملنے کا کوئی موقع نکلتا ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ اب یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ قابل اگر زندہ رہتے تو کس طرح کی شاعری کرتے، مگر جو کچھ موجود ہے اس کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اپنے عہد کے نمائندہ شاعر تھے۔ اور ان کے کلام میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک شاعر کو دیر تک زندہ رکھ سکتی ہیں۔

( شہزاد احمد)
 

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعسروں کے تاثرات

قابل اجمیری اردو کے جدید غزل گو شعراء میں جوہرِ قابل کی حیثیت رکھتے ہیں۔غزل کی اس قدر طویل اور عظیم روایت میں شامل ہو کر اپنا ایک انفرادی رنگِ سخن پیدا کر لینا شاید ہر غزل گو کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے غزل گو شعراء کی اتنی کثیر تعداد کے باوجود چند ایک ہی ایسے ہیں جن کی انفرادیت اور لب و لہجہ کو مختلف اور سب سے الگ کہا جاسکے۔
قابل اجمیری نے اپنی دردمندی، سوزوگداز اور حساس طبیعت کو غزل کے لوازم سے اس طرح ہم آہنگ کر دیا تھا کہ ان کی آواز نہ صرف سب سے الگ اور نمایاں تھی بلکہ اس کی تقلید بھی شروع ہو گئی تھی۔
قابل اجمیری اس مرض میں مبتلا تھے جسے رومانی شاعروں کا مرض کہا گیا ہے۔ یعنی تپ دق۔اگر یہ مہلک بیماری ان کو بزمِ سخن سے چھین کر نہ لے جاتی تو بلاشبہ اس انفرادیت کو نکھار کر اور معتبر اور اثر انگیز بنا دیتے جسے انہوں نے بہت کم عرصے میں نمایاں کر لیا تھا۔

(سحر انصاری)
 

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعسروں کے تاثرات

قابل نے اپنی پوری زندگی عجیب کشمکش میں گزاری۔ ان کی زندگی حادثوں اور سانحوں کا مجموعہ رہی، غیروں سے بڑھ کر اپنوں کی بے اعتنائی ان کے لئے سوہانِ روح تھی۔لیکن قابل کو اپنوں سے شکایت رہی نہ بیگانوں سے شکوہ۔ وہ اپنی آگ میں جلتے رہے اور خون تھوکتے تھوکتے اپنی جان دے دی۔ماضی میں بھی لوگ ان کے فن سے محبت کرتے تھے اور آج بھی ان کے کلام کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔قابل مرحوم ایک ایسے انسان تھے جو دوسروں کی دل شکنی کبھی پسند نہ کرتے تھے اور اگر کبھی اس قسم کی گفتگو آتی تو وہ طرح دے جاتے۔
سانولی سلونی رنگت، کتابی چہرہ، روشن آنکھیں، چوڑی پیشانی، بال نہایت سلیقے سےجمے ہوئے، لہجہ دھیما، ہر وقت منہ میں پان، شیروانی میں ملبوس، سادہ مزاج اور سادہ لباس، کان کے کچے اور دل کے پکے ۔ طبیعت کے نرم تھے اور آنکھوں میں شرم تھی۔ زندگی کے دن نہایت احتیاط سے گزار دئے۔ موت کے ظالم ہاتھوں سے کسے نجات ملی جو وہ بچ جاتے، زندہ رہے اور بڑے اعتماد کے ساتھ۔

(ڈاکٹر نظر کامرانی)
 

نوید صادق

محفلین
قابل کے کلام پر ہمعصروں کے تاثرات

قابل صاحب آخری دم تک موت سے لڑتے رہے ۔ ان کو زندگی سے پیار تھا، وہ زندہ رہنا چاہتے تھے ۔ باوجودیکہ انہوں نے بدترین حالات کا مقابلہ کیا، معاشی حالات تو پہلے ہی خراب رہے، مگر آخری وقت میں کچھ لوگوں نے ان کے دل پر ایسے گھاو لگائے کہ وہ ان کی تاب نہ لا سکے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ٹی۔بی جیسے مرض کا قابل صاحب نے مقابلہ کیا لیکن وہ الفاظ کے نشتروں کو برداشت نہ کر سکے کیونکہ کچھ عرصے سے ایک شاعر پرست حلقہ ان کو طرح طرح سے زک پہنچانے میں مصروف تھا اور یہاں تک کہ ان کے سامنے تنقیدی نشستوں میں ان کی شاعری کو لغو اور فضول قرار دیا۔
ان کا یہ شعر ان کی اچھی ترجمانی کرتا ہے:

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے

مگر موت ہمیشہ کی طرح زندگی سے بازی لے گئی۔

(حسن ظہر)
مدیر زاوئیے
حیدر آباد۔ سندھ
 
Top