اسکین دستیاب افسانہء نادر جہاں

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 3

فرہنگ افسانہ ء نادر جہاں
واسطے آگاہی عام کے وہ چند لغات اردو مع معانی لکھے جاتے ہیں جو اور اور شہروں میں دوسری طرح پر بولے جاتے ہیں یا نہیں بولے جاتےیا غیر مانوس ہیں۔
(الف)
الغاروں۔۔۔ ڈھیروں
اینچ پینچ۔۔۔کاواک
اکلوتا۔۔۔ اکیلا بچہ
انّا۔۔۔ دودھ پلانے والی
اُورچھور۔۔۔ حد ، انتہا
آخور۔۔۔ واہیات، بُرا ، خراب
امی جمی۔۔۔ خیر و عافیت
اٹالا۔۔۔ کرکری خانہ۔ اسباب
اچنبھا۔۔۔تعجب و حیرت
انگلیٹ۔۔۔ خلقت
ادھیڑ بن۔۔۔ تردد و انتشار
المل ٹلمل۔۔۔ضروری کام کو ترک کر دینا
اُت گُت۔۔۔" ا" و "گ" پر پیش۔ ہندی کی چندی کرنا
آگا تاگا۔۔۔خبر گیری
انگنائی۔۔۔آنگن صحن مکان
آنی کانی دینا۔۔۔ ٹالنا یا آبا کانی بتانا
انمل۔۔۔" ا" مفتوح اور "م" مکسور ، بے جوڑ
اُٹو۔۔۔ بہ وزن اٹھو، مخفف اوٹنی
اوٹ پٹانگ۔۔۔" ا" مضموم " پ "مفتوح۔ نا ہموار
الگ تھلگ۔۔۔" ا" و "ت" مفتوح ، جدا جدا
اَلَسنا بِلَسنا۔۔۔" ا" و "ب" مکسور ، ہر دو "ل" مفتوح عیش و راحت کرنا
اُچاپت۔۔۔"ا" پر پیش۔ تکلیف و محنت شاقہ
اچانک۔۔۔" ا"۔ "چ " ۔"ن" مفتوح، بے اطلاع دفعتاً
آؤبدا۔۔۔" ا" ۔"ب" ۔"د" مفتوح خواہ مخواہ
انچھر۔۔۔"ا" ۔"چ " پر زبر آوازے یا کلام بےجا
انڈوِیان۔۔۔"ا" اور "و"کے نیچے زیر۔ بانکے لوگ یا ڈنڈ پیل کپڑےکی بنا کر بازو پر پہنتے ہیں۔
اینڈنا۔۔۔ تنکا چلنا
اول فول۔۔۔" ا" و "ف" پر زبر، سخت سست
آرام پائی۔۔۔ پُھندنے دار زنانہ جوتا
اوٹ یا آڑ۔۔۔ پردہ حجاب اور اوٹ لکڑی کا بھی بنایا جاتا ہے جس پر کپڑا ڈال کر پردہ کرتے ہیں۔
اکڑوں یا اکرد۔۔۔دو زانو پاؤں پر بیٹھنا
اجیرن۔۔۔پہلے زبر پھر زیر، گراں یا دوبھر
اُڑا۔۔۔ "ا" پر پیش، کمیاب نایاب
اَکھِل کُھری۔۔۔ "ا" مفتوح کام مضموم روکھی دماغدار
آہر جاہر۔۔۔بار بار آنا جانا
اچوک۔۔۔"ا" مفتوح "چ" مضموم نہ چوکنے والا۔
(ب)
بُھنگا۔۔۔"ب "پر پیش، بہت چھوٹا جانور پردار
بکھیڑے۔۔۔"ب" اور "ک" پر زبر، کار لاطامل
بیتی۔۔۔ "ب" اور "ت" مکسور۔ گزری ہوئی
بھولی بسری۔۔۔ پہلی "ب" مضموم دوسری مکسور، از یاد رفتہ سہو محو
بھرت۔۔۔ خواہ آخور کے ساتھ تم ہو خواہ نہ ہو۔ اکلام زائد طولانی کو کہتے ہیں۔
بات چیت۔۔۔ عورتوں کی گفتگو
بول چال۔۔۔ کلام مرداں
بندی۔۔۔ "ب" پر زبر۔ بندہ کی تانیثاور قید کے معنوں پر بھی آتا ہے۔
بڑاپا۔۔۔ حرف اول دوم و چہارم پر زبر۔ بزرگی
بگاڑ۔۔۔ "ب "کے نیچے زیر۔ لڑائی
بسورنا۔۔۔ رونے کی شکل بنانا
بِس کی گانٹھ۔۔۔ "ب" مکسور، زہر کی گرہ
بھاویں نہونا۔۔۔ "ب" مفتوح، خاطر میں نہ لانا، قدر نہ کرنا
بوڑھ سہاگن۔۔۔" ب" اور "س" مضموم، عمر اور سہاگ باقی رہنے کی دعا دینا
بکھان کرنا۔۔۔اچھالنا یا کہنا بیجا بات کا
بچورنا۔۔۔"ب" مکسور "چ "مضموم بالوں کے ساتھ آتا ہے
بال بچورنا۔۔۔ یعنی اچھی طرح دیکھنا
بھلک بھلک۔۔۔ ہر دو" ب"ا ور " ل "مفتوح زیادہ رونا
بوغ بند۔۔۔ دہرا کپڑا جو بہت سے کام آتا ہے
بیری۔۔۔ "ب" مفتوح "ر " مکسور ، دشمن۔ بھیڑ بھڑکا۔ مجمع جماؤ
بوڑھا ڈھونک۔۔۔" ب" اور " ڈ "مضموم۔ وہ لڑکی جس کا قد لمبا ہو جائے اور عمر کم ہو
بھلکڑ۔۔۔"ب "مضموم،" ل "مفتوح، "ک" مشدد، بھولنے والا خواہ بھولنے والی
بلون بلون پڑ نا۔۔۔ ہر دو "ب" مکسور، "ل مضموم۔ خرچ کی زیادتی اور آمد کی کمی
براؤ۔۔۔ بر وزن پڑاؤ۔ پرہیز
بات کا بتنگڑ۔۔۔ بات بڑھانا ، طول دینا
بَر کا پائجامہ۔۔۔یعنی عرض کا پائنچہ۔ بَر کپڑے کے عرض کو کہتے ہیں۔
بارہ وفات۔۔۔ بارہ ربیع الاول کا مہینہ

ریختہ صفحہ 5
(پ)
پھیر پھار۔۔۔ پہلی "پ" مکسور دوسری مفتوح۔ چکر
پیر مغاں بن کر سمجھانا۔۔۔یعنی بزرگانہ نصیحت کرنا
پرکھنا۔۔۔ جانچنا
پھول کھلنا۔۔۔ شادی ہونا
پھل پانا۔۔۔ اولاد ہونا
پروان چڑھنا۔۔۔ شادی ہونا
پودا۔۔۔ "پ" مفتوح چھوٹا درخت
پالا۔۔۔میدان
پھشی۔۔۔ "پ" کو زیر " ش" مکسور مشدد ۔ مُوت
پنپنا۔۔۔"پ" اور " ن" مفتوح بڑھانا، موٹا ہونا
ٹپے باز۔۔۔"ب" مفتوح۔ ایک کھلونا
پیرا۔۔۔ "پ" مفتوح، قدم
پٹ سے بولنا۔۔۔"پ "مفتوح ، بیچ میں کسی کا بول اٹھنا
پن کٹی۔۔۔"پ " مفتوح۔ "ک" مضموم "ٹ" مشدد، بوڑھوں کی گلوری کوٹنے کا چھوٹا سا ہاون دستہ
پوچھ گچھ۔۔۔"پ" مضموم۔ "گ" مفتوح دریافت
پہلوٹھی۔۔۔"پ" مفتوح "ٹ "کے بعد ہائے مختفی لکھی جاتی ہے اور بخیال تلفظ نہیں بھی لکھی جاتی۔ پہلے لڑکے یا لڑکی کو پہلوٹھی کا کہتے ہیں۔
پھلاسڑے۔۔۔"پ "مضموم بھلاوے یا دھوکے یعنی مغالطے
پہ پٹ۔۔۔ہر دو "پ" مفتوح، ضد اور کد، چھوٹوں کے لئے مچلنا اور بڑوں کے واسطے پہ پٹ مچانا کہتے ہیں۔
پن کپڑا۔۔۔ پانی میں بھیگا کپڑا
پنبئی۔۔۔ بروزن بمبئی روئی دار دو تہ کپڑے کے پردے
(ٹ)
ٹوٹی پھوٹی۔۔۔کم از کم
ٹھکانا۔۔۔"ٹ" مکسور، مقام
ٹھوسانا۔۔۔ زیادہ کھلا دینا
ٹہوکا دینا۔۔۔"ٹ" مفتوح، چھپا ہوا اشارہ کرنا
ٹخا سے دیدے کھلنا۔۔۔ "ٹ "مفتوح، "خ" مشدد پوری آنکھوں کا کھلا ہونا
ٹبر۔۔۔ "ٹ" مفتوح "ب" مشدد "و" مفتوح اسباب
ٹوٹی بانہہ گل جندڑے پڑنا۔۔۔ مثل ہے، گلجندڑے، گ مفتوح اس کپڑے کو کہتے ہیں جو گلے میں بیکار ہاتھ رکھنے کے لئے ڈالا جائے۔ خلاصہ معنی اپنا بیکار ہو جانا
ٹھنکنا۔۔۔ "ٹ" مضموم بچوں کا لاڈ سے رونا
ٹکر ٹکر دیدم۔۔۔دونوں "ٹ "مضموم، خاموش بیٹھ کر دیکھنا
ٹوہ۔۔۔ "ٹ " مضموم، کھوج خبر

(ت)
توبہ تلّا۔۔۔پہلی "ت" مفتوح، دوسری مکسور "ل" مشدد، ہائے وائے
تھوتھو وبا۔۔۔ ہر دو تے مضموم، ہیضے کا نام لیتے وقت عورتیں تھوتھو کر دیتی ہیں اور تھتھکارا کرتے وقت تھوتھو نہیں کہتیں۔
تھتھکارا۔۔۔ "ت" مضموم ہیضے کو بھی کہتے ہیں اور سر کے درد کو بھی۔
تھلیان دھرنا یا رکھنا۔۔۔ "ت" مفتوح بچے کے مسوڑھوں کا پھولنا یا ابھرنا دانت نکلنے سے پہلے
تجنا۔۔۔ "ت" مضموم "ج" ساکن لاغر ہونا
تُر تریا۔۔۔ ہر دو "ت" مضموم زبانداز باتونی عورت کو کہتے ہیں۔
تھوپنا۔۔۔ "ت" مضموم لگانا
تھڑی تھڑی۔۔۔ ہر دو "ت" مضموم لعنت ملامت کرنا
تانبے تاثیر۔۔۔ بہت کم یا کم سے کم
(ج)
جھپا جھپ۔۔۔ ہر دو "ج" مفتوح جلدی جلدی
جوڑ گانٹھ۔۔۔"ج " مضموم تھوڑا تھوڑا جمع کرنا
جہندم۔۔۔ بر وزن بمعنی جہنم
جزبی ۔۔۔ "ج "مضموم "ب" مکسور جزئی یعنی ہزار میں ایک
جھٹپٹا۔۔۔ "ج" اور" پ" مضموم۔ سر شام دونوں وقت ملنے کا ہنگام
جھونتڑے۔۔۔ "ج" مضموم ڑ مکسور ریشے یا پھوسڑے
جز بز۔۔۔ "ج" و "ب" مکسور مکدر و افسردہ
جمی جم ہیں۔۔۔ دونوں ج مفتوح یعنی نہیں ہیں بڑی بوڑھیاں نہیں کہنا منحوس جانتی ہیں اسی سے جمی جم کہتے ہیں۔
جم جم ہو۔۔۔ ہر دو "ج " مفتوح یعنی ضرور ہو خدا کرے ہو۔
جتن۔۔۔ اول و دوم مفتوح۔ تدبیر
(چ)
چڑھاؤاتار۔۔۔نشیب و فراز، اونچ نیچ
چھٹی چلّا۔۔۔ پہلی "چ" مفتوح دوسری مکسور "ل" مشدد زچہ اور بچہ کے نہانے کی تقریبوں کے دن
چوٹی کا مضمون۔۔۔ عمدہ مضمون
چھٹاپا۔۔۔"چ " مضموم، خردی
چھٹ جانا اور چھنٹ جانا۔۔۔ دونوں جگہ "چ" مفتوح، لاغر ہو جانا ، گھل مل جانا اور منتخب ہو جانا، چُن لیا جانا
چھی چھی۔۔۔دونوں "چ" مکسور، اور چھچھی پاخانہ
چچوڑنا۔۔۔پہلی "چ" مکسور دوسری مضموم چوسنا
چم چچڑ۔۔۔ روگ، پہلی "چ "مفتوح دوسری مکسور، تیسری مفتوح مشدد۔ مرض سخت
چھوکری چھاکری۔۔۔ لونڈی باندی
چہکوں پہکوں رونا۔۔۔ "چ " اور "پ" مفتوح شدت سے رونا
چپی کرنا۔۔۔ "چ" مفتوح "پ" مکسور مشدد ۔ پاؤں دبانا

ریختہ صفحہ 7
چوپہلا۔۔۔چ اور پ مفتوح، بڑی ڈولی اسی کو میانہ بھی کہتے ہیں کیونکہ؟؟؟؟؟ اور ڈولی کے درمیان میں ہے
چھڑے چھٹانک۔۔۔ہر دو "چ" مفتوح ، یکہ و تنہا، بے اولاد عورتیں
چھچھورے۔۔۔پہلی "چ "مکسور، دوسری مضموم ، کم ظرف ، بے وقر
چڑھی بارگاہ ہونا۔۔۔مرتبہ بڑھنا، اوج پانا
چونڈا۔۔۔"چ " مضموم، بوڑھیوں کے سفید سر کو کہتے ہیں
چندرا کر پوچھنا، یا چندرانا۔۔۔"چ" مفتوح۔ جان کر انکار کرنا یا مکرانا
چکّٹ۔۔۔"چ" مکسور، "ک" مفتوح مشدد، میلے کپڑے

(د)
دوب۔۔۔" د "مضموم ، سبزہ چھوٹی چھوٹی گھاس
دین۔۔۔" د" مکسور ، "ے" مجہول عنایت، دیوتا، بت
دُھن۔۔۔"د "مضموم، خیال
دان۔۔۔جہیز
دو عشرے نہ گزرنا۔۔۔یعنی بیس برس سے قبل مر جانا
دھموکا۔۔۔"د "مفتوح "م" مضموم، گھونسا
دھین دھوکڑ۔۔۔پہلا "د" مکسور دوسرا مفتوح، آزاد خود سر
دھوم کا کام۔۔۔" د" مضموم، چکن کی ایک قسم
دیدہ دلیل۔۔۔پہلا "د "مکسور دوسرا مفتوح، بے شرم
دھل دھل خون بہنا۔۔۔دونوں" د "مفتوح۔ بہت خون نکلنا
دھڑلے کی لڑائی۔۔۔"د "مفتوح "ل" مکسور مشدد، زور و شور کی لڑائی
دھاڑ۔۔۔ "د "مفتوح جلدی
دیدوں کا پانی ڈھلنا۔۔۔پہلا "د" مکسور ، بے غیرتی اور بے شرمی
درمن۔۔۔ "د" اور "م" مفتوح۔ مخفف درماں
دُردسا۔۔۔پہلا "د"مضموم دوسرا مفتوح۔ عزت پر حرف آنا، بدنامی اور ضرابی ہونا
(ڈ)
ڈینگ کی لینا۔۔۔"د" ہندی مکسور، شیخی کرنا، ڈھکوسلے، بیہودہ کلام
ڈھائی۔۔۔ وہ فرضی جگہ جسے لڑکے کھیل میں چھو کر آزاد ہو جاتے ہیں۔
ڈھڈھو۔۔۔(1) دال ہندی مفتوح دوسری مضموم مشدد، پرانی جہاں دیدہ عورت
(ر)
رویاں رویاں۔۔۔چھوٹے چھوٹے بال
رویّہ۔۔۔ "ر" اور "و" مفتوح، "ے" مفتوح مشدد۔۔طریقہ ، طرز
روٹھنا۔۔۔ "ر" مضموم، بگڑ جانا
رُکنا۔۔۔ "ر" مضموم۔ ترک کرنا، چھوڑنا
رُلنا گھلنا۔۔۔ "ر" اور "گ" مضموم۔ قریب مرگ ہونا
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 8
(ز)
زبان سے پھول جھڑنا۔۔۔غیر مناسب کلام، ؟؟؟؟ کے کلمے
(س)
سگی یا سگا۔۔۔"س"مفتوح حقیقی بہن بھائی وغیرہ۔
سوت۔۔۔ "س" مفتوح ۔ اپنے شوہر کی جورو۔
سُن گُن لینا۔۔۔"س" اور "گ" مضموم، بھید یا خبر چھپ کر لینا
سماندھانی۔۔۔"س"، "م" ، "د" مفتوح آہستگی یا بے گھبراہٹ کے کام کرنا
(ش)
شُد بُد۔۔۔"ش" "ب" مضموم قدرے قلیل
شان میں جفتے پڑنا۔۔۔"ج" مضموم بات یا عزت کا جانا
شمشو کرنا یا دھونا۔۔۔ پہلی "ش" مفتوح دوسری مضموم کنکر یا چھلکے نکالنے کے لئے اناج کو کچھ دیر بھگو کر بار بار ایک برتن سے دوسرے میں گرانا
شمسی۔۔۔پہلا "ش" مفتوح دوسرا مکسور رخصت
شرمائی بلی۔۔۔ایک قسم کی بلی ہوتی ہے۔
(ق)قلتین۔۔۔ "ق" مضموم "ل" مشدد اور "ت" مفتوح۔ ناپاک، نجس
قدری۔۔۔"ق"مضموم۔ قدری کرنا، اصرار سے کہنا، کد کرنا
قلاقنا۔۔۔"ق" اول مفتوح۔ ہنسی میں کسی بات کو اڑانا۔
(ک)
کھڑے تڑے۔۔۔ "ک" و "ت" مفتوح۔ گاہ گاہ، کبھی کبھی
کھرّا۔۔۔"ک" مضموم، "ر" مشدد مفتوح، بے فرش کا تخت یا پلنگ
کالی بی۔۔۔ بچوں کے ڈرانے کا فرضی نام
کھٹائی میں پڑنا۔۔۔"ک" مفتوح۔ کسی چیز کے ملنے میں دیر ہونا۔
کسنا۔۔۔ "ک" مفتوح ،آزمانا۔ سالن کسنا یعنی بھوننا ، اور جس میں خوان باندھا جاتا ہے اسے بھی کسنا کہتے ہیں۔
کلنک کا ٹیکا۔۔۔"ک" و "ل" مفتوح۔ "ٹ" کو زیر۔ کسی برائی کا اپنی طرف منسوب ہو جانا
کھوسڑا۔۔۔"ک" مفتوح، پرانا ٹوٹا ہوا جوتا
کھوج۔۔۔"ک" مضموم، بھید یا راز کا دریافت کرنا۔
کبھی کبھار۔۔۔گاہ گاہ
کُڑھنا۔۔۔ "ک" مضموم ۔ غمگین ہونا۔
کھلم کھلا۔۔۔ہر دو "ک" مضموم۔ صاف صاف کہہ دینا۔
(گ)
گھوم گھام۔۔۔پہلا "گ" مضموم ، دوسرا مفتوح، جس راہ میں پھیر ہو۔
گھس پس کے اترنا۔۔۔ "گ" و " پ" مکسور۔ صدقے ہو جانا، زندگی اور صحت میں کسی کپڑے کا پھٹ جانا۔
گیند دھڑکا۔۔۔ گل بازی
گھرّیاں گھسنا۔۔۔"گ" اول مضموم، دوم مکسور۔ ایڑیاں رگڑ نا
گودکڑا۔۔۔ "گ" مضموم، "د" مفتوح، "ک" مفتوح مشدد۔ طعن سے گود کا نام لینا
گھولوا۔۔۔"گ" مضموم۔ ایک بات کا مکرر ذکر کرنا۔
گھنیرے۔۔۔"گ" مفتوح،"ن" و " ر" مکسور
گولہ لاٹھی۔۔۔"گ" مضموم، ہاتھ پاؤں سمیٹ کر لیٹنا
گڈرخیلی۔۔۔"گ" مضموم۔ "خ" مکسور۔ بیہودہ اور احمق مفلس اور نیچ قوم
گون متھون۔۔۔"گ" مضموم، "م" مفتوح، "ت" مضموم۔ منہ پُھلا کر چپ ہو جانا
گستا نگر۔۔۔دونوں "گ" مفتوح۔ احمق بیوقوف کلّے دراز
گرہستی۔۔۔"گ" اور "ت" مکسور "ر" مفتوح سلیقے سے گھر کرنا
گل گوتھنا سے بچے۔۔۔ خوبصورت گورے چٹے بچوں کو کہتے ہیں۔
گاؤ گھپ۔۔۔ہر دو "گ" مفتوح ، کسی چیز یا بات کو چھپا ڈالنا
(ل)
لوتھڑے۔۔۔"ل" مضموم "ڑ" مکسور مضغہء گوشت
لگور۔۔۔بروزن چکور، کاٹنے والا
لشتم پشتم۔۔۔"ل" و "ت" مفتوح۔ افتاں و خیزاں
لہلہاتی۔۔۔ ہر دو "ل" مفتوح تر وتازہ نوجوان للک۔۔۔ بر وزن چمک، ہر دو "ل" مفتوح۔ اشتیاق و شوق وغیرہ
لتھڑنا۔۔۔ "ل" مکسور "ت" مفتوح۔ بھرنا
لٹ بھر۔۔۔ "ل" و "ب" مفتوح دنیا کے تعلقات وغیرہ یا کام اور ضرورتیں
(م)
مامتا۔۔۔ "م" و "ت" مفتوح محبت و الفت
مول چیز۔۔۔ "م" ضروری شے
منو بلائی۔۔۔ "م" و "ب"مکسور "ن" مضموم غریب بے زبان
مُل۔۔۔"م" مضموم مگر
مسا کر کے۔۔۔ "م" و "س" مفتوحانتہا کر کے
ملیا میٹ۔۔۔ پہلی "م" مفتوح دوسری مکسور برباد کرنا، کھو دینا ضائع کرنا
مہنامت۔۔۔ ہر دو "م" مفتوح۔ رونا پیٹنا تڑپنا بلبلانا وغیرہ
مائیوں بٹھانا۔۔۔ لڑکی کو زرد کپڑے مانجھے کے پہنا کر پردے کے اندر بٹھانا
منڈیا مروڑ کے پڑ رہنا۔۔۔(1) مضموم (2) مفتوح یعنی چپ ہو کر سمٹ سمٹا کے لیٹ رہنا۔
(ن)
نت نئے۔۔۔ پہلا "ن" مکسور دوسرا مفتوح۔ نو بنو
نِک سُک۔۔۔ "ن" مکسور، "س" مضموم

ریختہ صفحہ 10
سر سے پاؤں تک خوبصورت ہونا
ناتا۔۔۔"ن" و "ت" مفتوح۔ رشتہ، عزیز داری۔
نوج۔۔۔ "ن" مفتوح خدا نہ کرے
نابر۔۔۔"ن" و " ب" مفتوح انکار کرنا
نکو۔۔۔ "ن" مفتوح "ک" مشدد مضموم۔ بدنام
ننھی چھمنوا۔۔۔ پہلا "ن" مفتوح دوسرا مشدد ومکسور "چ" ۔ "م"۔ اور "و" مفتوح ننھی بچہ اور ننھی چھمنوا کے ایک معنی ہیں۔
نموہی۔۔۔ "ن" اور "ہ" مکسور، "م " مضموم۔ بے منہ کی۔ یعنی کم گو، غمخوار۔ بے زبان وغیرہ
(و)
ور۔۔۔ بروزن سر، یعنی غالب
ورغلانا ۔۔۔ بہکانا، "و" مفتوح
(ہ)
ہپا۔۔۔ اول مفتوح دوم مشدد۔ طعام اطفال
ہپو۔۔۔ اول مفتوح دوم مضموم مشدد ۔ افیون
ہمکنا۔۔۔ اول مضموم دوم مفتوح ۔ قصد کرنا
ہواؤ یا ہیاؤ۔۔۔ حوصلہ حجاب وغیرہ
ہوں سے چوں نہ کرنا۔۔۔ ذرا سی بات بھی نہ کر سکنا
ہڑکنا۔۔۔ رنج کھا کر کڑھنا
ہکا بکا۔۔۔ حیران پریشان
ہبک دھبک۔۔۔ چالاکی اور مستعدی سے کام کرنا
ہڑواڑ۔۔۔ "ہ" اور "و" مفتوح۔ قبرستان خاندانی
ہڑدنگا۔۔۔ "ہ" مضموم "د" مفتوح کھیل کود
ہک دھک۔۔۔ متعجب و متردد
اطلاع
بخیالِ اختصار صرف غیر مانوس و غیر مشہور لغت لکھے گئے۔ انھیں کے معنی سے ہر ایک لغت حل ہو سکتی ہے۔ مثلاً (سگے سوجھڑے) (کام دھندا) جو سگے کے معنی ہیہں وہی سوجھڑے کے۔ اور جو کام کے معنی ہیں وہی دھندے کے۔ اسی طرح سگھڑاپا یا میل کچیل یا الٹ پلٹ یا رتی ریزے یا پیار دلار یا چپلی چاپڑ الفاظ زائیدہ وہ ہیں جو ایک لفظ کے بعد آتے ہیں اور ان کے کچھ معانی نہیں لئے جاتے۔ جیسے گر کے بعد (ور) یا آسودہ کے بعد (واسودہ) یا حقہ کے بعد (وقہ) اگر کوئی لفظ دو طرح سے بولا جاتا ہے تو حتے الامکان اس کتاب میں دو شخصوں کی بات چیت میں اس کا اختلاف دکھایا گیا ہے۔ ( جیسے ڈھائی اور دھائی، دھابلی اور ڈھابلی) یہ لفظ سمجھ دار عورتوں میں دونوں طرح پر بولے جاتے ہیں۔ بخلاف کدھی کدھا۔ اور کبھی کبھار یا شمسی اور شمشی کے کہ انھیں جاہل نا سمجھ عورتیں کدھی کدھا اور شمشی بولتی ہیں۔ یہ دونوں نفطین داخل اردوئے معلیٰ نہیں سمجھی جائیں گی کیونکہ کدھی اور شمشی نیچ قوم کی زبان ہیں
(مصنفہ)
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 12
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خدائے پاک کی حمدرسول مقبو ل کی نعت آلؔ اطہار کی منقبت اصحاؔب اکبار کی تعریف یہ چاروں ایسے مشکل کام ہیں کہ بڑے بڑے عالم فاضل حیران و سرگرداں رہے ۔ ان میں سے ایک کو بھی شمہ بھر نہ ادا کر سکے۔ نادان کے نادان رہے۔ میں تو عورت ما فی ناقص العقل ہونے کے علاوہ بالکل ان پڑھ اگر شُد بُد جانتی یا نام چار کو پڑھی ہوں تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ چھوٹے منہ سے بڑی بات کیونکر کہوں کیا جان جو چُپ نہ رہوں۔ میں کیا میری حقیقت کیا۔ میری فکر کیا میری طبیعت کیا۔ لیکن زینت کلام اور درستی انجام کے لئے اہلِ اسلام کے یہی دو چار سہارے ہیں یہی نجات و بخشش کے اشارے محنت رائیگاں نہیں ہوتی۔ امید بر آتی ہے۔ کام ابتر نہیں رہتا۔ بات تمام ہو جاتی ہے۔ عبد کو معبود کی بندگی خادم کو مخدوم کی یاد خرد کو بزرگ

ریختہ صفحہ 13
کی اطاعت شاگرد کو استاد کی تقلید فرض و واجب ہے۔ اس لئے یہ بندی حق کی طالب عنوان پر اللہ پاک کا نام ہے اپنے مطلب سے کام ہے۔ اُسی کی دی ہوئی زندگی نے وفا کی اُسی نے صحت و طاقت عطا کی، اسی کے صدقے سے میرا ارادہ پورا اور قصد تمام ہوا بخیر انجام ہوا۔ اسی کی دی ہوئی عقل نے رہبری کی، اسی کی توفیق نے جلوہ گری کی، آنکھوں نے نیک راہ پر لگایا۔انھیں کے ذریعے سے علم آیا پھر علم کو عمل ملا۔ اور درخت کو پھل لکھنے میں ہاتھوں نے کوتاہی نہ کی۔ میرے کہنے کے بموجب ساتھ دیا۔اسی کی دی ہوئی بینائی اور دانائی سے کام لیا، بات کہنے کے لئے زبان گویا کی۔ اور سمجھنے کو فکر رسا دماغ کو خزانہء خیال بنایا اور دل کو ٹکسال تصور خیال سے کام لینے کو فرمایا۔ ایک کو روّنہ ایک کو ہرکارہ بنایا۔ذہن کو مخبری کی خدمت سپرد فرمائی اور شوق کو رہبری کی طبیعت میں رنگ بھرنے کا مادہ دیا۔ بہزاد دمانی سے افضل کیا جو خیال نے چربہ اتارا اس نے رنگ بھر کر سنوارا۔ گویائی میں ہر طرح کی قدرت دی اور کلام میں تاثیر کی لذت جو دل سے زبان پر آیا زمین سے آسمان پر آیا بات نے معراج پائی دہان سے دل میں جا بیٹھی۔دوسری بزرگی ہاتھ آئی۔ کہنے والے کو مرتبہ ء پیغامبر ملا اور اس کو خدا کا گھر۔ اپنی باتیں وہ آپ ہی جانتا ہے ، دوسرا کب پہچانتا ہے۔ ذرا سا ہونٹ ہلانے میں کس کس کی مدد درکار ہے۔ کون کون زور لگاتا ہے۔ جب انسان ایک بات کہہ جاتا ہے۔بے جان پہچان اتنوں کا احسان ہوتا ہے جب کہیں سماں بندھنے کا سامان ہوتا ہے۔ سچ ہے بے ھکم پتا نہیں ہلا بے اس کی مرضی کے کوئی پھول نہیں کھلا۔ وہی درخت کو پھل دیتا ہے، وہی پھول کو بو۔ وہی دہن میں زبان بنائے وہی

ریختہ صفحہ 14
تقریر میں جادو، کہیں سرو بے ثمر ہے کہیں صنوبر بے پر۔چنار میں آگ بھر دی دہک رہا ہے۔ سبزے کو نہال کر دیا، لہک رہا ہے۔ شبنم کو بے ثباتی کی خبر دے کر نرم دل کیا ، رو رہی ہے۔ دنیا سے قیامت کا حال کہہ دیا جھپا جھپ تمام ہو رہی ہے۔ روح اسی کے حکم سے آتی ہے اور ہر ذی روح کی اسی کی طلب پر جان جاتی ہے۔ شہروں میں اسی کی صنعت نے دھوپ چھاؤں کا بچھونا بنایا ہے اور جنگلوں میں اسی نے اپنی قدرت سے مشجّر کا فرش کرایا ہے۔ کہیں دوب سبز مخمل پر طعنہ زن ہے کہیں سرسبزیں رشک چمن پھولوں کے پیڑ بے پھل کے ہیں۔ مگر اس کے دین سے پھولوں نہیں سماتے۔ اہلِ دنیا انھی پھولوں سے دنیا بھر کے مزے پاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میں پھول نہیں فقط ثمر ہیں، گنبد بے در ہیں جو بھنگون کے گھر ہیں۔ بے راہ پائے یہ کدھر سے آتے ہیں۔ کیونکر سما جاتے ہیں۔ پھر ایک نہیں ہزاروں دس بیس نہیں الغاروں۔ آسمان بیچو بہ سرکار ابد اقرار ہے اور زمین اسی کی خزانہ دار ابر آبدار خانے کا مہتمم ہے اور رعد نوبت خانے کا منتظم آفتاب باورچی ہےاناج پکاتا ہے، ماہتاب مشعلچی ہے روشنی دکھاتا ہے۔ پانی سے ہر ایک کو زندگی بخشی اور ہوا کو ہر جگہ جانے کی طاقت دی اسی کے خوان کرم سے دوست دشمن وظیفہ پاتا ہے اور اسی کے باورچی خانے کا سارا عالم نمک خوار کہلاتا ہے۔ وہی پتھر میں کیڑے کو رزق پہنچائے وہی پانی میں مچھلی کے بچے کو تیرنا سکھائے، کہیں صنعت دکھائی ہے کہیں قدرت کہیں زور دکھایا ہے کہیں طاقت ۔ جانوروں میں نطق نہیں عطا فرمایا مگر انھیں میں سے ایک کو ہزار داستان کر دکھایا طوطی ہو یا بلبل توتا ہو یا مینا پڑھانے سے گویا ہو جاتے ہیں۔ آدمی کی طرح باتیں بناتے ہیں۔

ریختہ صفحہ 15
داماؔ اور شاماؔ پپیہاؔ اور بن چڑاؔ مالچیؔ اور اگنؔ نہ اٌپنے گھروں سے سیکھے سکھائے آتے ہیں۔ نہ ماں باپ سے تعلیم پاتے۔ لیکن چار دن کے بتانے میں کہیں سے کہیں ہو رہتے ہیں جو کہو وہ کہتے ہیں۔ انسان کی صحبت سے بے زبانوں کا صاحب زبان بنانا اپنی توانائی اور اخلاقی کا جلوہ دکھانا ہے۔ آدمی کا تو درست کر دینا اس کے نزدیک کوئی بات نہیں۔ کچھ عاجز اس کی ذات نہیں۔ وہ سب کی بہتری چاہتا ہے۔ اور سیدھے رشتے سے دنیا پر لاتا ہے جس میں اینچ پینچ ہے نہ پھیر بھار نہ گھوم گھام ہے نہ چڑھاؤ اتار، خشکی میں اپنی ناؤ ڈبانے کا ہم کو اختیار ہے کیونکہ ہر شخص اپنے فعل کا مختار ہے۔گو ہمیں عباددت ہی کے لئے پیدا کیا مگر ذات اس کی بے نیاز ہے/ ہمیں نہ سمجھیں تو بیحیائی کی عمر دراز وہ قوی بھی ہے قادر بھی۔ عادل بھی ہے قاہر بھی۔ جس طرف نظر کیجئیے اس کی قدرت کے ہزاروں کرشمے ہیں جس طرف آنکھ اٹھائیے اس کی طاقت کے لاکھوں جلوے ہیں۔ بچوں کی مامتا ماں ے پیٹ میں ڈالی۔ گوشت کے لوتھڑے پلوانے کی یہ حکمت نکالی وہی کیڑے چار دن میں انسانوں کی قطار میں آئے اور آدمیوں کے شمار میں۔ اگر چشم بینا ہو اور عقل رسا دنیا کے بکھیڑوں سے الگ ہو کر آدمی ذرا غور کی نگاہ اور فکر کی نظر سے دیکھے تو ماں کے پیٹ سے (جو نئی دنیا میں اس کے لئے عبرت دلانے کو پہلی قید ہے)بے فکری کے زمانے اور وہان سے جوانی کے عالم پھر قبر سامنے آنے کے وقت تک خود اسی پر کیا کیا نہیں گذر جاتا اور کیا کیا نہیں نظر آتا۔ عالم اپنے حادثوں سے حادث ہونے کی خبر دیتا ہے اور زمانہ نت نئے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 16
انقلاب سے روز خبر لیتا ہے۔ ہر روز ایک نیا دن سامنے آتا ہے اور طرح طرح کے گرم و سرد دکھا جاتا ہے۔ کبھی کالی ڈراؤنی کبھی تاروں بھری سہانی رات ہے کبھی مہتاب کی چاندنی بچھی ہے کبھی برسات کی ظلمات ہے کبھی غسل میت کبھی برات کے لئے نہانا دھونا ہے کبھی شادی کا ہنسنا کبھی ماتم میں رونا ہے کہیں بچہ پیدا ہوا ہے چھٹی چلا ہے کہیں پیٹ گرا ہے توبہ تلّا ہے وہی ایسا حاکم و قادر ہے کہ اگر چاہے تو نو مہینے کی معیاد کاٹنے کے اندر ہی طلب فرمائے اور چاہے تو نو سو برس بعد بلائے۔ نہ وہاں چوں و چرا کا محل نہ یہاں دم مارنے کی مجال۔ ہزاروں بے ماں باپ کے بچے جنگل بیابان میں پال پوس کر اس کی قدرت کاملہ نے یوں پروان چڑھا دئیے جن کے ذکر پر اپنے ماں باپ کے چہیتے اور اکلوتے بچے دل کھول کھول کر ہنس لئے کوئی بھیڑئیے کے بھٹ سے نکلا کوئی فرعون کے گھر سے کائی بحر سے صحیح سلامت آیا کوئی بر سے۔ کہیں شیرنی نے دودھ پلایا شیر نے گود میں کھلایا صاحب تاب و توان ہوئے جنگل میں شیر جوان ہوئے بیوی انّا بنی میاں دادا ہوا کہیں ریچھ نے پالا نہ چھیڑا نہ چھوا، ہتھنیاں کھلائی بن کر درختوں میں جھولا جھلاتی پھریں۔ خدا کا دیا سر پر دکھاتی پھریں۔ حق یہ ہے کہ اس کی قدرت کا اُور چھور نہیں۔ اگر وہ چاہے تو کوئی جانور موذی نہیں کوئی لگور نہیں۔ چیتے کو چیتے یار کر دے اور سانپ کو یارِ غار ۔ زہر کو امرت کر دے اور دشمن کو محبت۔ وہی مارے وہی جلائے وہی بھیجے وہی بلائے نہ اپنے اکتیار سے آتے ہیں نہ اپنی خوشی سے جاتے ہیں اس کی قدرت مجبور کر کے لاتی ہے اور اس کی رحمت آ کر لے جاتی ہے۔

ریختہ صفحہ 17
سر سے پاؤں تک زمین سے آسمان تک ماں کی گود سے آغوش قبر تک جوجو ہم نے پایا اسی کے تفصل اور تصدق سے ہاتھ آیا یہی فضل و کرم اس کا کیا کم ہے کہ عدل مجسم سر تا پا رحمت آدم کے فخر عالم کی زینت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اس کے پیارے تھے حبیب تھے محبوب تھے قریب تھے انھیں کو ہمارا نبی بھی بنایا اپنی محبت میں ہمیں بھی شریک فرمایا جو اس کا پیارا ہے وہی ہمارا پیارا ہے جو اس کا پیغمبر ہے وہی نبی فرمایا ہے۔ اگر کسی اور نبی کی امت ہوتے تو نہ خیر الامم ہونے کا شرف پاتے نہ اس کی شفاعت کے ذریعہ سے جنت میں جاتے۔ اس کے ایک ایک لطف و عنایت پر لاکھوں جانیں قربان اور اس کی ہر ایک عطا و نعمت پر کروڑوں زبانیں صدقے۔ میرا تو منہ نہیں جو اس کی ایک عطا و نعمت کا بھی شکر ادا کر سکوں جیسا مجھے نوازا عزت افزائی فرمائی سرفراز کیا آبرو بڑھائی اگر رویاں رویاں زبان ہو اور ہر رویاں ہزاروں تسبیحیں روز پڑھے تو بھی اس کا شکر ادا نہ ہو۔ بالکل نہ ہو۔ ذرا نہ ہو۔ اے میری ہم وطن بیویو ( عریضہ ء طاہرہ) نیک زنون کا دلچسپ قصہ جو تمہارے سامنے ہدیے کے طور پر میں نے پیش کیا ہے اس سے یہ میرا مطلب نہیں کہ میں ایسی اور ویسی تالیف کے قابہ اور تعریف کے لوئق ہوں۔ یا تمہاری اور اپنی فضیلت منظور ہے یا پیر مغاں بن کر سمجھانے کو بیٹھی ہوں۔ بلکہ میری خاص غرض یہ ہے کہ میرے خاوند و مالک نے جیسا مجھے سرفرازا اور کنیز نوازی فرمائی وہ ت، پر بھی ظاہر ہو تا کہ یہ بھی اک قسم کا شکر میرے نامہ ء اعمال میں لکھا جائے اور خداوند عالم اس کے بدلے میں میرا

ریختہ صفحہ 18
مرتبہ اور بڑھائے۔ یہ میری ساری عمر کی آپ بیتی ہے جو انکسار و محبت کے ساتھ ہاتھ پھیلائے سر جھکائے تمہیں نذر دے رہی ہوں مانو تو دیوتا نہیں پتھر چاہو اس کا چربہ دل پر اتار دو چاہو میرے منہ پر پھینک مارو۔ اگر کچھ سمجھ کر عمل کیا تو مجھ کو مول لے لیا۔ تمہارے دل شاد کرنے کو میں نے یہ غم پالا ہے۔ تمہیں بلاؤں سے نکالنے کو اپنے تئیں مصیبت میں ڈالا ہے۔ تمہاری گلو خلاصی کے لئے اپنا گلا پھنساتی ہوں۔ تمہیں ٹھنڈا رکھنے کے لئے اپنا دل جلاتی ہوں۔ جب کا لیپا دوبھا اب کا لیپا دیکھو آگومیں ٹوٹی پھوتی پڑھی لکھی تھی لیکن نہ تصنیف کے قابل اور نہ تالیف کے لائق۔ سچ کہوں یہ بوجھ مجھ سے نہ اٹھ سکتا۔ خدا بھلا کرے میرے استاد مرزا محمد عباس حسین صاحب ہوش کا جنھوں نے تمہارے درد سے میرے دل کو دکھایا اور یہ نسخہ لکھوایا۔ انھیں کے تصدق سے مجھے غیرت آئی۔ انھیں کی بدولت تم نے یہ دولت پائی۔ انصاف اور قدر سے دیکھو اور پرکھو گی تو ان دو رسالون کو دو خزانے پاؤ گی جن کے گرے پڑے جواہر ( بھولی بسری باتیں بھی) دل میں رہ جانے سے مالا مال ہو جاؤ گی۔ تمہاری محبت کی دھن میں لشتم پشتم میں نے یہ دونوں حصہ تو لکھ ڈالے لیکن دیباچے پر پہنچ کر اٹک گئی۔ منزل کے قریب تھک گئی۔ جو لکھا تھا، ترتیب دیا۔ جوڑ گانٹھ کر مرتب کیا۔ چوٹی کا مضمون جوڑی کی مول چیز ( دیباچے ) کو جو دیکھتی ہوں بالکل کچھ نہیں۔ الٹ پلٹ کر کئی دفعہ لکھامگر پسند نہ آیا۔ اونچا نہ کر سکی ہزار زور لگایا۔آخر کو چپ نہ رہی۔ استاد سے یہ دل کی بات کہی کہ لیجئیے کتاب تو بن گئی مگر سر نہیں سراسر عیب ہے ہنر نہیں۔ نک سک سے درست کر دیجئیے۔ تصویر میں رنگ بھر دیجئیے۔ انھوں نے طلب فرما کر قلم اٹھا کر کچھ کاٹا کچھ بنایا۔

ریختہ صفحہ 19
کچھ گھٹایا کچھ بڑھایا۔ مبتدا کو خبر کیا ادھر سے ادھر کیا۔ آخور کی بھرتی نکالی فقروں میں جان ڈالی۔ طول کو کم کیا فضول کو قلم کیا۔ کانٹے پھینک دئیے پھول چن لئے۔ جو کاٹا وہ چور کے ہاتھوں کی طرح کٹنے ہی کے قابل تھا۔ جو بنایا وہ نور و ضیا میں تصویر ماہ کامل۔ رنگ بھر کر زور دکھایا طبیعت سے باغ لگایا اب خطا کی جگہ صواب ہے اور چراغ کے مقام پر آفتاب۔ وہ زنانی بات چیت تھی یہ مردانی بول چال ہے۔ وہ جادو تھا یہ سحرِ حلال ہے۔ پہلے الجھی ہوئی عبارت تھی اب سلجھی ہوئی مسلسل فصاحت۔ میں نے بگاڑا انھوں نے بنایا۔ ساری گتھی کو سلجھایا ۔ نہ وہ اس طرح دیباچے میں محنت فرماتے میرا بگڑا کام بناتے نہ میری محنت ٹھکانے لگتی۔ دل کی کلی کھلتی نہ وہ اپنا عزیز وقت میرے کہنے سے دیتے نہ چار غیروں میں مجھے عزت ملتی۔ نہ تم سے ہاتھ ملانے کی نوبت آتی نہ دینے کے قابل یہ چیز ہوتی نہ دی جاتی ۔ سارے منصوبے زیرے کی طرح غنچہ ء دل میں رہ جاتے۔ کسی کام نہ آتے۔ ایک دن ایسا آتا کہ میرے ساتھ ان کا بھی خاتمہ ہو جاتا۔ مجھے اپنے اور جملہ جہان کے خدا سے امید ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس کو مقبولیت اور تاثیر کے دہرے دہرے خلعت عطا فرمائے گااور حق ڈھونڈنے والوں کو نفع پہنچائے گا۔اگر کوئی بات اچھی معلوم ہو ، دعائے خیر سے یاد کر لینا۔ کتاب بہت بڑی ہے۔ بھولی چوکی ہوں تو معاف کر دینا میں نے تم صاحبوں کے دل لگنے اور جی نہ گھبرانے کے خیال سے اس کتاب کے دو حصے کر دئیے۔ پہلے کا نام تم سن چکی ہو دوسرے کا لقب صحیفہ ء نادرہ ہے۔ پہلے حصہ میں میری ابتدائے عمر اور کنوار پنے کی باتیں ہیں جو اول سے آخر

ڑیختہ صفحہ 20
تک طرح طرح کی خوبیوں اور نیکیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کسی حصے میں نہ میں نے تمہیں مخاطب بنایا ہے اور نہ خطاب کر کے سمجھایا ہے کہ بہن خبردار تم وہ کام نہ کرنا اور میری بہن میں قربان یہ بات ضرور کرنا۔ ہاں راہیں نیکی بدی عذاب ثواب خیر شر اونچ نیچ کی بخوبی دکھلا دی ہیں نہ تو میرا منہ نصیحت کرنے کے قابل تھا اور نہ کوئی نصیحت کے نام سے سنتا جسے کتاب کا نام دیکھ کر پیار آتا وہ نصیحت سے بگڑ جاتا سیدھے دل کی ایک آدھ خدا کی نیک بندی ایسی بھی ہوتیں جو نصیحت کے مزے کو کڑوا کسیلا نہ بتاتیں۔ ساری کتاب پڑھ جاےیں۔ میرا مقصود اصلی جو تھا کہ سب پڑھیں یا دیکھیں سُنیں۔ وہ فوت ہو جاتا اس لئے میں نے اپنے باغ میں کڑوے پھل کا درخت نہیں لگایا مزیدار شے کو قے کے قابل نہیں بنایا۔ دوسرے جس عمر کا حال لہے وہ خود اس قابل نہ تھی جو کوئی نصیحت کا نام لے اور کمزوری کے زمانے میں اپنے سر اتنا بھاری کام لے دوسرے حصے میں بیاہ جانے اور تجربہ حاصل کر چکنے کے بعد البتہ میں نصیحت کر سکتی تھی لیکن وہاں بھی مصلحتاً میں نے وہ رویہ اختیار نہیں کیا فقط نام بدل دیا۔ پہلا عریضہ ہے جس سے انتہا کا چھٹاپا پایا جاتا ہے اور دوسرا صحیفہ ہے جو اپنا بڑاپا دکھاتا ہے۔ اس حصے میں پھول کھلنے کے روز سے پھل پانے کے دن اور پھر اولاد کے پرون چڑھانے تک کا رتی ریزہ حال لکھا ہے۔ اس کی بھی ویسی ہی حالت تھی اور قصہ کے پردے میں نصیحت سسرال جانے کا زمانہ اس میں مشکلو کا پیش آنا طرح طرح کے غموں کا سامنا ایک ایک کا روکنا تھامنا کسی کی برائی نہ لینا دل پر آنچ نہ آنے دینا جی نہ جلانا غصہ نہ دکھانا عقل سے کام نکالنا مصیبت کے پہاڑ ٹالنا ایک خوبی
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 21
کے ساتھ لکھا ہے جو سچ ہونے کے علاوہ مختصر و بامزا ہے خدا میری اس تالیف کو تصنیف کا مرتبہ دے اور تم سب کا دستور العمل کرے۔ اے میری منہ بولی بہنو! لو یہ نیا جوڑا پہنو۔ تمہارے کپڑے پرانے اور میلے ہی نہیں ہو گئے بلکہ داغ پڑنے سے کچھ نجس بھی معلوم ہوتے ہیں۔ انھیں گھس پس کے اترنے دو۔ اور یہ پاک صاف اجلی پوشاک بدلو۔ اب مین تمہیں خدا کو سونپتی ہوں اور یہ دعا دیتی ہوں کہ انجام بخیر ہو نہ کسی سے دشمنی ہو نہ بیر۔ زندگی امی جمی سے گذارو دولت پر لات نہ مارو۔ بے کھٹکے بسر کرو۔ راھت سے سفر کرو پھولو پھلو عیش اٹھاؤ عقبٰی میں جنت پاؤ۔ سر پر سخت گھڑی نہ آئے افتاد منہ نہ دکھائے۔ وہم سے میل جول نہ ہو زبان پر بڑا بول نہ ہو۔ شان میں جفتے نہ پڑیں زبان سے پھول نہ جھڑیں آبرو کے ساتھ بات رہے پالا تمہارے ہاتھ رہے۔ شوہروں کی اطاعت سے کام ہو مرتے دم زبان پر خدا کا نام ہو ایمان کی دولت ساتھ لے جاؤ اپنی جگہ نیکی کو دے جاؤ اللہ بس باقی ہوس لو رخصت کی آخری بندگی لو اور سرے سے میری کہانی سنو۔
رباعی
لو کہتی ہے طاہرہ کہانی اپنی
دکھلاتی ہے آشفتہ بیانی اپنی
وہ ہو کہ نہ ہو تم سے ملے یا نہ ملے
چھوڑے جاتی ہے یہ نشانی اپنی
پیاری بیبیو ! میں تمہاری نئی لونڈی ایک غریب خاندان کی لڑکی پوں میرا نام میری سگی ماں نے نادر جان اور عرف طاہرہ مقرر کیا تھا۔ عزت دینے والے بزرگوں نے جس کے ساتھ بیگم ملا کر طاہرہ بیگم اور نادر جہان بیگم کر دیا۔ خدا بخے میرے والد نے اولاد کی تمنا میں مدتوں انتظار کرنے کے بعد دوسرا عقد ایک سید بزرگ کی صاحبزادی سے کیا ، ان کی پہلی بیوی ہماری دوسری ماں بڑے مالدار گھرانے

ڑیختہ صفحہ 22
کی تھیں۔ خوب دان جہیز لائیں سارا گھر بھر دیا میری ماں امام ضامن کا پیسہ لینے والے کی بیٹی محتاج گھر کی لڑکی تھیں۔ تھوڑے دن تو اس دوسری شادی کی خبر ہماری پہلی اماں جان کو بالکل خبر نہ ہوئہ اور اباجان نے راز چھپانے میں ان کی خاطر اور خیال سے کوشش بھی بڑی کی لیکن سال نہ پلٹنے پایا تھا کہ گل کھلا اور راز کھلا جس کا خاص سبب میں بختاور قدم تھی پھر تو رنجش اور بے لطفی بڑھی آخر کو لڑائی پڑی۔ سوت بریہ چون کی مشہور ہے۔ بڑی اماں سے سوتاپے کا دکھ نہ اٹھ سکا بگڑ کر میکے چلی گئیں لیکن میاں کے منہ پر کچھ نہ کہا۔ اسباب لے جانے میں راز کھلنے اور بات بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ اس سے وہ سارا اٹالا اپنے ساتھ نہ لے گئیں۔ گھر جا کر روٹھ کر بیٹھ رہیں نہ اباجان کے بلوانے سے آئیں نہ جانے سے۔ آخر کو وہ بھی رک رہے۔ بگاڑ پڑا۔ دونوں طرف دلوں میں غبار آیا مجھ ناشاد کو دو برس دنیا میں آئے گذرے تھے کہ تھوتھو وبا کی شدت ہوئی۔ اور وہ ہمارے گھر میں بھی گھسی۔ سب میں سے اماں جان کو چن لیا۔ دو دست اور ایک قے میں چھٹ گئیں۔ تین پہر میں آنکھ بند ہو گئی۔ دل کی دل میں رہی۔ نہ کسی کی سنی نہ اپنی کہی۔ پورے دو عشرے دنیا میں نہ گذرے تھے کہ لہلہاتے باغ جنت میں پہنچیں۔دودھ چھٹنے کے ساتھ ہی چھٹا اور ان کا سایہ ہمارے سر سے اٹھا۔ انھیں جوان مرگی ملی ہم کو بے برگی۔ پھپھکتا ہوا پودا بڑھتا ہوا پیڑ قلم ہوا گلچیں پر ستم ہوا۔ ہم انھیں کے سائے سے نہال تھے۔ ان کے جدا ہوتے ہی بے حال، چھوٹی اماں جان کی دوری بڑی اماں جان کی جدائی کا ایسا دہرا صدمہ نہ تھا کہ دو برس کی جان پر دشوار نہ گزرے یا اس کی نازک حالت پر سختی نہ پہنچے۔ نہ کوئی خبر گیران تھا

ریختہ صفحہ 23
نہ حال پُرسان نہ الٹ پلٹ تھی نہ دیکھ بھال نہ پاس تھا نہ خیال۔ لاڈ پیار کو کون کہے اور رکھ رکھاؤ کیا شے۔ باپ کی محبت چھوٹے بچے سے اس کے منہ نہ لگنے اور عدم تعلق سے ایک تو یوں ہی کم ہوتی ہے قابل اولاد بیوی کا مر جانا تو اس پر بھی طُرّہ ہے۔ اولاد کو دیکھ کر اس کی ماں یاد آتی ہے ۔ خانہ بردی قطع امید دل دکھاتی ہے۔ہم تو ہم ایسے ہی خیال و ملال نے اباجان کو بھی قدرے افسردہ اور پژمردہ کر دیا کہ دل قابو سے نکل گیا مزاج چل گیا۔ دو دو تین تین پہر یار دوستوں میں باہر رہنے لگے ان کے ساتھ ہماری جدائی کا غم بھی سہنے لگے۔ نہ ہمارے پیٹ بھرنے کا کیال تھا نہ فاقے کرنے کا ملال۔ ہم نادان دوستوں کے ہاتھ پڑ کر گیند دھڑکا ہو گئے۔ اعجوبہ اور خیراتن نے ہم کو جس بے ڈھنگے پن سے پالا وہ عبرت خیز کہانی ہے۔ کھرے کھٹولے پر پڑے اپنے ہاتھ پاؤں کے چُسنی جھنجھنے سے کھیلا کرتے تھے اور دنیا کی ابتدائی مصیبت جھیلا کرتے تھے۔ پھشی اور چھی چھی کی شدت تھی اور میل کچیل کی کثرت۔ ہزاروں مکھیاں دھوپ میں آ کر بدن پر سایہ کر دیتی تھیں کبھی سوتے وقت منہ ٖٓڈھانک لیتی تھیں۔ چارپائی کے باند ننگے بدن پر بدھیاں ڈالتے تھے نازک کھال پر اپنا نقش جما کر حوصلہ نکالتے تھے۔ ڈھیلی ادوائن کبھی جھولا جھلاتی تھی کبھی پاؤں کی زنجیر بن جاتی تھی۔ چین کے بدلے بیچینی تھی اور سیروا پتی تکئیے تکینی۔ کبھی چیخ کر مچھر مزاج پوچھتے تھے کبھی چپکے چپکے کھٹمل خبر لیتے تھے۔ نہالچے پر نہال ہونے کے بدلے کمہلاتے تھے اور پنپنے کے عوض سوکھے جاتے تھے۔ پھر یہی نہ تھا بلکہ ہر روز دو چار مرتبہ اس اونچے پاؤں کے کھٹولے سے زمین پر

ریختہ صفحہ 24
گر پڑتے تھے۔ افتاد پر افتاد تھی اور چوٹ پر چوٹ دنیا جہان کے بچے پھول پان ہوتے ہیں۔ اُلٹ پلٹ کی جاتی ہے۔ یہاں گر پڑ کے ہم آپ اپنی الٹ پلٹ کر لیتے تھے۔ کبھی اوس ہم کو نہلاتی تھی اور کبھی دھوپ چوٹ کے مقام سینکتی تھی۔ سال بھر اس کسمپرسی اور بے عنوانی سے ہماری زندگی بسر ہوئی۔ آٹھ آٹھ روز منہ پر پانی نہ پڑا۔ طہارت کیسی ہپے کے بدلے ہپو کی کسرت تھی اور آسودگی کے بدلے غفلت ۔ جب دونوں میں کوئی ادھر آ نکلا ایک آدھ دھموکا اور اپنی طرف سے دے کر چلا گیا۔ دلداری کے بدلے آزاری تھی اور پیار کے عوض مار چھوٹے بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ ہم اپنے گھر میں بوڑھوں کے کھلونے تھے۔ لونڈی اور ماما دونوں ہمارے ناسمجھ رکھوالے تھے۔ جن کے پیار اخلاص سے اچھی خاصی مار دھاڑ کی لذت و کیفیت نکلتی تھی۔ گھرداری سے دونوں میں جس کو فرصت ہوئی اور اتفاق سے ہم اس کے ہاتھ لگ گئے پھر کیا تھا دمڑی کے پٹے باز اور دھیلے کے لنگور کی طرح نچائے گئے خوب خوب اچھالے کُدائے گئے۔ کبھی ان کے سر سے دو ہاتھ اونچے ہو جاتے تھے اور کبھی ان کے پیروں پر اپنا سر پاتے تھے۔ کبھی دھوئی دال کی طرح شمشو ہوتا تھا اور کبھی جامنوں کی طرح بگھارے جاتے تھے دل بھر کر ہاتھ پاؤں توڑے مروڑے۔ ملا وال کھڑے قد سے اٹھا کر پلنگ پر پھینک دیا ۔ اگر پھول تھے تو ان دونوں کی بازی کے لئےتھے۔ جب سوکھ جانے سے کانٹا ہو گئے تو اور نظروں میں کھٹکنے لگے۔ جن کے لال تھے ان کو ہمارا یہ رنگ دیکھنے کی پرواہ نہ تھی۔ جن کی جان تھے ان کو ہمارے نیم جان ہونے کی اعتنا نہ تھی۔ بے دردوں کو ہمارا درد تھا

ریختہ صفحہ25
اور نا فہموں کا ہمارا خیال کبھی بھوک سے جاں بلب ہو جاتے تھےمگر ایک ٹکڑا روٹی کا نہ ملتا تھا جسے چچوڑ کر ننھے سے کلیجے کی آگ بجھاتے کبھی اس قدر ٹھونسا دیا جاتا تھا کہ نتھنوں سے نکل جاتا تھا۔ ہینگ ہگتے تھے دست آتے تھے ڈاک لگتی تھی پیٹ کے درد سے مرے جاتے تھے۔ تھلیان دھرنے تک تو خیریت تھی دانت نکلنے کے زمانے میں تو موت ہی کا سامنا تھا، رُلنے گھلنے کا وقت گیا یہ وہ چم چچڑ روگ تھا کہ جینے ہی کے لالے پڑ گئے۔ اس ہنگام میں ابا جان اسی قلق و اندوہ کی حالت میں گھر سے دل برداشتہ ہو کر حج کو چلے گئے۔ اب تو جو کھڑے تڑے آ کر ان کے دیکھنے اور پوچھنے کا ڈر تھا وہ بھی انھیں کے ساتھ ساتھ سدھارا۔ پھر کیا تھا بی خیراتن اور اعجوبہ نے رہا سہا کام تمام کر ڈالا۔ ادھر تو دانت نکلنے کی تکلیفیں اور ایذائیں ادھر ان دونوں کی بے غوری اور خوشی خوابانہ حرکتیں کہیبدی کر کے کچھ اس طرح ہمارے پیچھے پڑیں کہ ہمارے بھی خدا کے گھر چلنے کے سامان ہو گئے۔ لیکن طلب تو تھی نہیں تیاری کیا کئے۔ چھ مہینے ایڑیاں رگڑیں، گھریاں گھسیں۔ دل کی تقویت اور سہارا باقی نہ رہنے سے اور بھی پتلا حال تھا۔ جب اباجان حج سے پھر کر چھ مہینےبعد گھر آئے اور مجھے دیکھا۔ دیر تک گلے لگا کر روئےدوست احباب ملنے کو آئے۔ ایک ایک نے کہا کہ ہائیں یہ اس لڑکی کا کیا حال ہوگیا پہچان نہیں پڑتی ۔ ہم تو برابر دوسرے تیسرے خیر و عافیت پوچھنے آتے تھے۔ ہم سے ایک دن نہ کہا کہ لڑکی ماندی ہے۔ جب آئے خیر سلا کی آواز آئی۔ آپ کے آدمی سخت نالائق اور انتہا کے بےہودہ ہیں۔ دیکھئیے تو بیچاری کی کیا حالت
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 26
کروا ڈالی۔ ( چار برس کے بچے کو بات بخوبی یاد رہتی ہے) ان کے اس کہنے سے رحیم بخش نے جو کچھ کہا وہ میں اوپر لکھ چکی ہوں ۔ رحیم بخش دادا جان کے وقت کا چیلا تھا اور کبھی جھوٹ نہ بولتا تھا۔ اباجان کو اور زیادہ رنج ہوا یہ خبر سن کر کہا کہ افسوس دیکھئے کیا شکل پڑی ہے۔ ہم آٹھ پہر گھر میں ٹانگ توڑ کر بیٹھ نہیں سکتے اور وہ دونوں ہماری جان کے ساتھ تھے۔ ان کی حرکتیں ان کی جان کے ساتھ۔ کیا کریں کیا نہ کریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ کسی عزیز کے پاس رکھ دیجئیے۔ میر شہامت علی صاحب نے کہا کہ صاحب خدا کے واسطے اب غصے کو تھوک دیجئیے اور اس بن ماں کی بچی پر رحم کر کے ہم کو اجازت دیجئیے کہ آپ کی سسرال جا کر کچھ صلح کی گفتگو کریں۔ خانہ بربادی کا تو رنج آپ کو اس قدر ان بلاؤں کا ایسا ڈر اور باوجود اختیار اس کی آبادی کی فکر نہیں کرتے۔ یہ کیا بات ہے۔ وہ زمانہ گزر گیا، سب فساد مٹ گیا یقیناً اب ان لوگوں کو بھی رنج نہ رہا ہو گا، آپ کو چاہئیے کہ خود جا کر ان کو لے آئیے۔ ایسے میں حج کر کے آپ آئے بھی ہیں ۔ کچھ تبرکات ساتھ لیجئیے اور ابھی ابھی چلئیے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ نواب سبحان اللہ خاں صاحب قادر جنگ ( ہماری بڑی اماں کے اباجان) کی بیماری کی خبرِ بد آئی۔ پھر کیا پوچھنا تھا۔ میر صاحب مجھے گود میں لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ لے جلدی سے کپڑے تو پہن آئیے ابھی چلیں۔ سب نے ہاں میں ہاں ملانے کی کی اور تبرک ایک قاب میں لگا کر رحیم بخش کو دیا۔اباجان کالی عبا اوڑھ کر ساتھ ہوئے، فی الحقیقت اس سے بہتر وقت میل ملاپ کا اور نہ ملتا۔ الغرض ہم وہاں پہنچے۔ پہلے خبر ہوئی پھر پردہ ، بعد کو سب اندر گئے۔ نواب صاحب باہر رہتے تھےلیکن

ڑیختہ صفحہ 27
اس وقت اتفاق سے زنانہ تھا۔ اباجان نواب صاحب کو تسلیم کر کے بیٹھ گئے۔ مزاج پوچھا، دعا پڑھی۔ امام ضامن باندھا، تبرک رحیم بخش نے سامنے لا کر کرسی پر رکھ دیا۔ نواب صاحب نے مجھے دیکھا نہ تھا۔ میر صاحب سے پوچھا یہ کس کا بچہ ہے۔ میر صاحب نے کہا کہ حضور کی نواسی ہے، دیکھنے کو آئی ہے۔ انھوں نے ہاتھ پھیلائے میں جھک کر ان پر گر پڑی۔ اس محبت کا انداز دیکھ کر خدا نے ان کے دل میں نیکی ڈالی سینے پر بٹھا ئے دیر تک پیار کیا کئے۔ ابا جان نے کہا بھی کہ حضور کے دشمنوں کا مزاج ناساز ہے۔ پہلو میں بٹھا کر باتیں کیجئیے۔ سینے سے اتار دیجئیے۔ نواب صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ نواب دہلیا تمہارے سر کی قسم اس کے بٹھا دینے سے میرے دل میں طاقت آ گئی اور ماندگی جاتی رہی۔ کیوں بھئی تم اسے چھوڑ جاؤ گے؟ اباجان نے سر جھکا کر کہا کہ حضور یہ کیا فرماتےہیں شوق سے رہنے دیجئیے۔ میں جانتا ہوں اس کے دن پھرے، قسمت راہ پر آئی جو یہ سبب پیدا ہوا۔ میر شہامت علی صاحب نے وقت پایا، ابا جان کی خانہ بربادی کی تاب نہ لانا حج کو جانا، مکان کا خالی رہنا میرا دکھ پر دکھ سہنا جو جو یاد آیا ، سب کہہ سنایا۔ نانا جان نے اٹھ کر داماد کو گلے سے اور تبرک کو آنکھوں سے لگایاا اور خرمہ نوش فرمایا۔ پھر رنجہدہ ہوئے، کچھ سوچ کر آبدیدہ ہوئے اور زیادہ مجھ پر پیار آیا۔ دوبارہ کلیجے سے لگایا۔ یہ چوتھے سال کے خاتمے کا زمانہ تھا جو خداوند عالم نے میری تکلیفوں کو راحت سے بدلا۔ تھوڑی ایذاؤں کی لذت سے زبان آشنا ہوئی تھی کہ آرام کے سامان ہو گئے۔ نواب صاحب کو فوراً خدا کی قدرت سے فرحت جو ہوئی تو اباجان سے پھر فرمایا کہ بھئی میں اسے یوں نہ لوں گا

ڑیختہ صفحہ 28
میری فرزندی میں دے دو۔اباجان نے کہا آپ کی کنیزی میں دینا فخر ہے۔ فرزندی کیسی ہے۔ نواب صاحب نے دانتوں سے زبان دبا کر کہا کہ توبہ توبہ اس کی خدمت سعادت بلکہ سبب نجات ہے۔ یہ کیا کہا بھئی نواب دہلہا۔ یہ سیدانی ہےابا جان چپ ہو رہے۔ نواب صاحب نے کہا کہ میر شہامت علی صاحب خدا جانتا ہے اس کے بدن کی خوشبو سے دل کو طاقت اور دماغ کو قوت پہنچتی ہے۔ میں جو خیال کرتا ہوں تو آدھا مرض اپنے میں باقی نہیں پاتا۔اس وقت اس کا آنا میرے حق میں اکسیر ہو گیا جو جو اس کے پھول سے جسم کی نکہت میرے دماغ میں آتی ہے روح باغ باغ ہوتی جاتی ہے۔ یہ لڑکی بڑی خوش نصیب معلوم ہوتی ہے۔ اس کا پیر بقول عورتوں کے بہت ہی اچھا ہے۔ وہاں مکہ معظمہ کے تبرک نے ان کو صحت دے کر توانائی پہنچائی۔ میری تقدیر راہ پر آنے سے نانا باوا کے دل میں یہ بات آئی ۔ الغرض مجھے لے کر نواب صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور اباجان کو جانے پر آمادہ دیکھ کر رخصت کیا۔ دیوان خانے سے محل سرا میں جا کر میری بڑی اماں کا نام عصمت آرا بیگم لے کر پکارا۔ وہ مریض باپ کی آواز سن کر بے اختیار دوڑتی ہوئی آئیں اور ان کے چلنے پھرنے پر ایک اچنبھا سا ہوا کہ ابھی تو دشمنوں سے اٹھا نہ جاتا تھا۔ ناناباوا نے فرمایا کہ تردد نہ کرو ، خدا میں سب طرح کی قدرت ہے۔ لو اس بچی کو گود میں لو۔ یہی میری صحت کا نسخہ اور یہی میرے مرض کی دوا ہے۔ وہ بھی انجان تھیں۔ میری بھولی صورت سادی وضع، سُتا ہوا چہرہ دُبلے ہاتھ پاؤں دیکھ کر (ای ہی یہ کس کی بچی ہے کہتی ہوئیں) ہاتھ پھیلا کر گود میں لینے کو بڑھیں۔ میں ہمک کر ان کی گودی میں جانے کو جھکی۔ اس

ریختہ صفحہ 29
للک پر بے اختیار ہو کر انھوں نے دل کھول کر مجھے پیار کیا۔ یہ پہلی ملاقات اماں بیوی سے مجھے بخوبی یاد ہے باور پھر نواب صاحب کا یہ فرمانا کہ عصمت آرا یہ تو ہو بہو تمہاری لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ آج تک دل پر لکھا ہو ا ہے۔ الغرض بیگم صاحب مجھے لے کر اپنی اماں کے پاس گئیں رئیسوں میں بیگم کا خطاب بے سید ہوئے رواج پا گیا تھا جس کی دیکھا دیکھی اب سینکڑوں محتاج گھروں میں شیخانیاں اور مغلانیاں بھی بیگمیں بن بیٹھیں۔ پہلے عموماً بیگم سید زادی ہی کو کہتے تھے۔ یہاں معنوں سے خانم اور بیگم کے کچھ بحث نہیں ہے۔ اس تقریر سے میرا یہ مطلب ہے کہ ہماری بڑی اماں سیدانی نہ تھیں۔ خلاصہ یہ کہ اماں جان نے یہ کہہ کر ہمیں نانی جان کی گود میں دے دیا کہ دیکھئیے یہ بہشت کا پھول دنیا کی ناساز ہوا سے کیسا کملایا ہوا ہے (نانی جان) عصمت یہ کس کی بچی ہے۔ کیا کچھ ماندی تھی۔ (وہ) جی ہاں کچھ تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ (نانی جان) ای ہی جبھی اور تج گئی یا اس کی انگلیٹ ہی کچھ ضعیف ہے چھوئی موئی ہو رہی ہے۔ دیکھو ہاتھ کے سائے سے مرجھائی جاتی ہے۔ ابھی تک ان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ میں ان کی اکلوتی بچی کی سوت کی بیٹی ہوں ورنہ وہ اور ایسے محبت کے کلمے کہتیں۔ خیر ہم گودیوں میں رہنے لگے۔ رئیس کا گھر اولاد کی تمنا سارا گھر بچے کا بھوکا صبح سے رات کے بارہ بج گئے اور ہمیں گودیوں کی یوں معراج سے اپنے بستر پر آنے کی نوبت نہیں آئی۔ پانچ چھ روز اسی طرح سے گزرے۔ ایک دن نواب صاحب گھر میں آئے اور مجھے گود میں لے کر پیار کیا پھر بیوی بیٹی سے خطاب کر کے کہا کہ دنیا عالم الاسباب ہے اور زمانے کو ہر گھڑی انقلاب۔ جو خدا چاہے وہ ہوتا ہے۔ انسان اور اس کا ارادہ

ریختہ صفحہ 30
لاکھ مضبوط ہو پھر بودا ہے۔ دنیا غم کا گھر ہے۔ نہ امیر کو اس سے نجات ہے نہ غریب کو مفر ہے۔ نہ رنج کو بقا نہ خوشی کو ثبات۔ نہ موت پر قابو نہ قبضہ میں حیات۔ ہزاروں حسرتیں خاک میں مل جاتی ہیں اور سینکڑوں امیدیں بر آتی ہیں۔ ہر بات تقدیر سے تعلق رکھتی ہے اور تقدیر قادر مطلق کے دستِ قدرت میں ہے۔ ہزار لکھا پڑھا آدمی ہو خطِ قسمت نہیں پڑھ سکتا۔ کیا معلوم کل کیا ہو گا۔ اچھا یا برا۔ ہم ہزار اپنی بہتری چاہئیں اگر خدا کو منظور ہے تو ہو گی۔ ورنہ لاکھ سر پٹکا کریں کچھ نہ ہو گا۔ نہ کسی کی برائی چاہے برائی ہوتی ہے نہ کسی کی دشمنی سے کچھ بگڑتا ہےصرف اپنی سمجھ کا قصور ہے جو ہم اس کے خلاف تصور کریں۔ بے حکم خدا اور اس کی مشیت کے ایک پتہ نہیں ہل سکتا۔انسان تو ایک بھاری چیز ہے۔ کیا معلوم کس کے دل میں کیا ہے اور کس قصد سے اس نے کام کیا ہے۔ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس کا نتیجہ نکالتا ہے۔ حالانکہ بعد چندے وہ نتیجہ بالکل غلط اور وہ خیال سراسر مہمل ٹہرتا ہے جس سے اپنی جگہ پر ندامت ہوتی ہے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ چار روز اور صبر کر جاتے تو اچھے رہتے۔ افسوس رنج بھی اٹھایا بنی بنائی بات بھی بگاڑی اور اب پچھتا رہے ہیں ۔ ایسی ہی کچھ کیفیت اس بچی کی بھی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ ساری دنیا اس کو معصوم کہے گی اور جب معصوم ہے تو بے خطا ہے جب بے خطا ہے تو اس سے بیر بغض ہر مذہب و ملت میں حرام ہو گا اب رہا یہ خیال کہ جس کی وجہ سے یہ لڑکی پیدا ہوئی جو اس کے دنیا میں آنے کا سبب اور اس کی دوسری ماں کے دل جلانے کا سبب ہوا وہ تو ضرور ہی خطا وار ہے۔ نہ ایسا کرتا نہ ایسا ہوتا۔ میرے نزدیک یہ خیال نہین بلکہ وہم ہے اور کیا عجب ہے جو تم بھی ایسا ہی سمجھتی ہو
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 31
جس کو خدا نے تھوڑی سی بھی عقل دی ہےوہ کہہ سکتا ہے کہ جب کھانا پینا، مرض صحت، موت زیست اس کے قبضہء قدرت میں ہے تو اولاد سی شے یا اس کے اسباب کی درستی اور سامان کیوں کسی کے ہاتھ میں دے گا۔ ہم نے تمہارے یہاں اولاد ہونے میں کوئی کوتاہی کی؟ یا تمہاری ماں نے کچھ اٹھا رکھا؟ نواب دولہا نے غفلت کی؟ کہو نہیں۔ پھر کیوں نہ ہوئی؟ یہی کہو گی نا کہ خدا کی مرضی اور جہاں ہوئی یہی کہا جائے گا نا کہ اس کی دین، پھر جیسا اور جگہ خیال ہوتا ہے ویسا ہی ہر شخص کو اپنے ہاں بھی خیال کر لینا چاہئیے۔ اس کے خلاف عقل کے خلاف بلکہ حکم خدا کے خلاف ہو گا۔ اگر میری خوشی چاہتی ہو اور میری اطاعت واجب جانتی ہو، میری صحت منظور ہے ماندگی میں رنجش کے درپے نہیں ہو تو عصمت آرا کان کھول کر سنو کہ " یہ لڑکی نواب دولہا کی ہےجس کو میں نے اپنی فرزندی میں لیا ہے۔اب تمہاری عقل و فراست اور جو میرے ساتھ محبت ہے اس کا مقتضا یہ ہے کہ تم اس کو اپنے پیٹ کی لڑکی سمجھو۔ اور جو کچھ پیٹ میں ہے اسے نکال ڈالو۔سیدانی سمجھ کےاس کی خدمت سعادت جانو میرا کہا مانو۔ خدا وند عالم نے دوسری بیوی سے نواب دولہا کی تقدیر میں اولاد لکھ دی تھی اس وجہ سے انھیں مجبور ہو کر عقد کرنا پڑا جو جو امر شدنی تھے تڑ پڑ واقع ہوئے۔ ان کا نیا رشتہ جوڑنا تمہاراساتھ چھوڑنا اس معصوم کا پیدا ہونا ان سیدانی کا جان کھونا خواب تھا یا خیال نہ ان کو آتے کوئی روک سکتا تھا نہ جاتے روک سکا۔ فرض کرو کہ وہ زندہ رہتیں اور نواب دولہا خوشامد درآمد کر کے مجھے سمجھاتے اور میری سعی سے تم کو لے جاتے تو کیا تم نہ جاتیں اور اپنا گھر

ریختہ صفحہ32
خاک میں ملاتیں۔ ایمان کی تو یہ بات ہے کہ کچھ چارا نہ ہوتا اور جانا پڑتا۔ نواب دولہا بے خطا۔ وہ بیچاری جنت کو سدھاریں۔ یہ معصوم بن ماں کی بچی ہے جو طرح طرح کی تکلیف اور ایذا اٹھا کے خدا خدا کر کے چار برس کی ہوئی ہے۔ پورا پانچواں سال تم کو یہاں آئے ہوئے کو ہے۔ اس درمیان میں بیسیوں مرتبہ نواب دولہا نے تنخواہ کے روپے اور کپڑے تمہارے لئے بھیجے جو میں نے بوجوہات نہیں لئے اور نہ تمہارے غم و غصے کی وجہ سے ان کا ذکر تم سے کیا چونکہ وہ سب روپیہ نواب دولہا کے پاس رکھا رہا انھیں حج کو جانا پڑا اس روز بھی وہ کہتے تھے کہ امانت منگوا لیجئیے میں نے پھر ٹال دیا۔ ان کی نیکیاں خوبیاں خیال پاس مروت محبت دیکھو اور اپنی بیرخی طوطا چشمی پر نظر کرو ہماری تین بیبیاں تھیں چوتھی مرتبہ تمہارے سامنے عقد کیا چار میں سے ایک نہ سامنے سے ٹل گئیں نہ گھر سے نکل گئی۔ رنج ہوا ایک دوسرے سے جلا۔ہمارے سامنے نہ گلا ہوا نہ شکوا نہ کسی کو کچھ کہنے سننے کا ہواؤ پڑا۔ اگر کہو کہ روپے کی وجہ یا نوابی کے سبب سے تو نواب دولہا کے ہاں بھی خدا نہ کرے خاک نہیں اڑتی تھی۔ پچاس روپے مہینہ جو پہلے دن اس نے کہا تھا وہ آج تک تمہارے نام سے جمع ہیں۔ ہم نے تمہیں پچاس روپے مہینہ کب دیا۔ اوّل تو چلے آنے کی تم نے نئی حرکت کی پھر بیٹھ رہنے کی دوسری جسارت چونکہ نازک امر تھا اور ہمارا تمہارا رشتہ نہایت مضبوط۔ اس وجہ سے ہمیں کوئی موقع کہنے سننے اور سمجھانے کا نہ ملا۔ جب اس بچی کی ماں نے انتقال کیا اور خبر آئی دوسرا خوش ہوتا۔ مجھے رنج ہوا اور دل میں آیا کہ تمہیں سوار کر کے بھیج دوں۔ تمہاری ماں سے ذکر کیا انھوں نے

ریختہ صفحہ 33
وہ بے رخ ہو کر منع کیا کہ مجھے دوبارہ فہمائش کی جراءت نہ ہوئی گو میرے خلاف گذرا لیکن صبر کر کے چپ رہا۔ آج اس بچی کی بری حالت دیکھ کر مجھے اپنے اوپر لعنت کرنے کو جی چاہتا ہے کہ نہ میں اس وقت تمہاری ماں کے بگڑنے سے طرح دیتا نہ تمہارا جانا رکتا نہ اس کا یہ حال ہوتا۔ افسوس کرتا ہوں اور میری لاعلمی سے خدا خوب واقف ہے اگر میری یہ خطا بخش دے تو کچھ دور نہیں۔ ہماری اماں جان نے یہ سن کر سکوت کیا اور سوا سکوت کے چارہ ہی کیا تھا۔ نواب صاحب کی یہ تقریر ایسی نہ تھی کہ کوئی اس کا جواب دے سکے سوا نانی جان کے۔ انھوں نے ایک مرتبہ آنکھیں بدل کر اور ماتھے پر بل ڈال کر کہا کہ چہ خوش ع "بازار ہم گئے تھے اک چوٹ مول لائے" کیا خوب یہ میری بچی کی ناشاد سوت کی جنی ہے۔ تیل توا کالا منہ نوج درگور خدا اس کی صورت " آگے نہ کہنے پائی تھیں کہ نواب صاحب نے منہ بند کیا اور کہا کہ ہاں ہے تو سہی لیکن عصمت کی مری مٹی سوت کی نہ جیتی جاگتی تمہاری کسی سوت کی ، پھر تم بدزبانی اور ہی ہی کھی کھی کرنے والی کون۔ بس خبردار اب میرے سامنےکوئی کلمہ ان بیگناہوں کی نسبت نہ کہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔ نانی جان کچھ کہا چاہتی تھیں۔ کیونکہ دونوں ہاتھوں سے زور لگا کر نواب صاحب کا ہاتھ اپنے چلنے والے منہ پر سے ہٹایا تھا لیکن اماں جان انھیں ساتھ لے کر ٹل گئیں۔ نواب صاھب ٹہرے رہے پھر اماں جان کو بلا کر میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے کر باہر گئے۔ محل والیوں نے اپنی بیوی مالک گھر والی کی جو مرضی نہ پائینگاہ پھری اور تیوری چڑھی دیکھ کر طرح طرح سے مجھے ستانا اور ڈرانا شروع کیا ایک جلتی

ریختہ صفحہ34
لُکٹی دکھا کر کہتی تھی کہ یہاں جو بچہ موتتا ہے آگ سے اسے داغا جاتا ہے۔ دوسری (دو انگلیاں اٹھا کر) اشارہ کرتی تھی کہ رونے والے کی یوں آنکھیں پھوڑی جاتی ہیں، ایک ترکاری بنانے میں چھری دکھا کر سناتی تھی کہ اس طرح تجھ کو بھی قیمہ تختہ (ٹکڑے ٹکڑے) کروں گی۔ دوسری مصالحہ پیسنے میں گھور کر دھمکاتی تھی کہ بٹّے سے ہی منہ کچل ڈالا جائے گا۔ یہاں آئی تو ہو زندہ جاتی نہیں معلوم ہوتیں۔ ایک دوسری سے کہتی تھی میں رات کو گلا نہ دبا دوں کہ سوتی کی سوتی رہ جائے۔ ایک کہتی تھی کہ تمہاری بلا گلا دبائے کالی بی خود گلا گھونٹ دیں گی۔ خدا کرے کسی رات کو اس کی آواز نکلے، ہوں سے چوں کرے۔ ایک دور سے جواب دیتی تھی کہ ہوّا آئے تو میں اسے حوالے کر دوں۔ دوسری پہلو سے بول اٹھتی تھی کہ کیوں جوجو سے کیوں نہ کہہ دو وہ تو ہر وقت تختوں ہی کے نیچے بیٹھا رہتا ہے۔ میرا سن ہی کیا تھا یہ باتیں ایسی نہ تھیں جو مجھے چین سے پلنے دیتیں اور کھایا پیا انگ لگتا۔ رونا آتا تھا مگر رو نہ سکتی تھی۔ آنکھیں پھوڑے جانے کا ڈر لگا تھا۔ ننھے سے دل پر وہ صدمہ تھا کہ خدا کی پناہ۔ اماں جان کی تاکید کہ اکیلا نہ چھوڑو اور وہاں جو پاس رہتا ہے جان کھائے لیتا ہے۔بغلی گھونسلہ آستین کا سانپ ظاہر میں کھلاتا ہے اور دل ہی دل میں چٹکیاں لے رہا ہے جدا ہوتی ہوں تو جوجو کا ڈر مارے ڈالتا ہے۔ چار برس کی جان اور اس کے دشمن اتنے شیطان۔ آٹھ سات دن میں برس دن کے بیمار سے بدتر ہو گئی۔ یاس سے ایک ایک کے منہ کو تکتی تھی اور مایوس ہو کر گردن کو جھکا لیتی تھی۔ کھانے کے وقت جتنی

ریختہ صفحہ 35
دیر تک اماں جان کے پاس رہتی تھی زندوں میں تھی۔ کھانا کھا چکی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ دھموکے گھونسے تھپڑ اس قدر کھائے کہ بھوک الگ اڑ گئی اور نیند جدا۔ درد کے مارے رات رات بھر پلک نہیں جھپکی۔ سارا بدن نیلا ہو گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ گُدنا گدوایا ہے۔ جس کی گود میں جاتی وہ چٹکیاں لے لے کر کھال چھیلے ڈالتا تھا۔ وہ کتے کے سے ناخن اور بیدردی کے ہاتھ جب چٹکی لی خون چھلک آیا۔ جب ناخن چبھویا زخم پڑ گیا۔ پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا، نہیں بلکہ باری باری جس نے لیا یہی سلوک کیا۔ جدھر جاتی تھی یہی دعوت تھیکہ اگر ذرا بھی بسوری منہ ٹیڑھا ترچھا ہوا آنسو آنکھ میں آئے اور غضب کا سامنا چو طرفہ سے بلوہ ہو گیا۔ طرح طرح کے ڈر موجود ۔ ایک کہتی تھی ذرا مجھے دینا میں منہ سیدھا کر دوں۔ ایک چھری دکھا کر حلال کرنے کو بسم اللہ کر کے بڑھی۔ ایک رسی دکھا کر پھانسی لگانے کے اشارے کرنے لگی۔ جو تھا ، لہو کا پیاسا جو تھا جان کا دشمن، کس سے کہتی کہ میرا یہ حال ہے۔ خدا کے لئےان نادانوں سے پیچھا چھڑاؤ۔ میری مدد کرو۔ گھر میں اس سے بڑھ کر ایذا سہی۔ تکلیف اٹھائی مگر یہ دشمنی تو نہ تھی۔ یہاں تو ان کا بیر حال غیر کئے جاتا ہے۔ بارے مر مر کے آٹھ دن اور کٹے ۔ جمعے کو پندرھویں دن بعد نماز ابا پھر آئے اور کسی نہ کسی طرح ان بلاؤں کو بھی خبر ہوگئی۔ پھر کیا تھا ایک نے ٹہوکا دیا کہ اری لڑکی اپنی زندگی چاہتی ہے تو گھر چلی جا۔ دوسری نے کہا کہ رو رو کر آنکھیں پھوڑ ہم تیری سفارش کر دیں گے۔ تیسری بولی کہ رو بھی سکتی ہے ۔ مجال پڑی ہے انگلیاں نہ بھوک دی جائیں گی۔ چوتھی بولی نہ روئے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 36
تو مرچوں کا پانی ڈال دو۔ پانچویں پیاز کی گٹھی لے کر ملتی ہوئی دوڑی کہ آنکھوں میں عرق چھوڑ دے۔ ایک بیچ میں آ کر بولی کہا اے اب جانے بھی دو۔ اب وہ اپنے باپ کے ساتھ چلی جائے گی۔ تم خفا نہ ہو۔ اس وقت ایک ماما نے کہا کہ ارےتوبہ کرو توبہ۔ کیوں بیچاری کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ لاؤ مجھے دو میں باہر جا کر پہنچا دوں۔ یہ سنتے ہی جو گودی میں لئے تھی بے تحاشا مجھے پھینک کر ہنستی ہوئی اس سے جا کر لپٹ گئی اور کہا کہ بوا رحمت تمہیں کیا پڑی ہے۔ نہ جانو نہ بوجھو خواہ مخواہ پھٹے میں پاؤں دیتی ہو، اپنی نوکری کے پیچھے پڑی ہو کیا؟ وہ بیچاری پہلے تو سناٹے میں آ گئی ۔ پھر کچھ سوچ سمجھ کر مجھے گود میں یہ کہہ کے اٹھا کر چلی کہ اب تم نوکری سے ہمیں چھڑوا دینا ہم تو لئے جاتے ہیں۔ چنچل نے کہا لئے تو جاتی ہو ، اس کے کان کھول دو کہ پھر یہاں آنے کا نام نہ لے۔ نہیں تو مار ہی ڈالی جائے گی۔ میں سہمی اس کے لپٹی تھی۔ یہاں تک کہ باہر پہنچی اباجان کو سلام کر کے کہا کہ آپ کی بچی ہڑک گئی۔ گھر چھٹنے کا اس قدر غم ہے کہ گھلی جاتی ہے۔ دیکھئیے تو کہ پندرہ روز میں کیا حال ہو گیا۔ اباجان نے جو پھر کر دیکھا آبدیدہ ہوئے اور آہ کر کے میری طرف ہاتھ پھیلائے۔ میں ایسی بے غیرت سزا یافتہ تھوڑی تھی کہ بے ماما کے اشارے کے گود سے اتر جاتی۔ ہاں یاس سے پہلے اس کی طرف دیکھا۔ جب رحمت نے پیار سے کہا کہ جاؤ جاؤ، ڈرو نہیں تمہارے بابا جان ہیں۔ تب میں نے ہاتھ بڑھائے اباجان نے مجھے لے کر زانو پر بٹھا لیا۔ دیر تک غور سے دیکھا کئے۔ نواب صاحب کمرے میں تھے۔ جب باہر آئے تو مجھے دیکھ کر محب

ریختہ صفحہ 37
سے چمکار کر میرا نام لے کر کہا کہ " آہا اس وقت اپنے ابا کی گود میں بیٹھی ہو" گو مجھے ان کی محبت پر اعتماد تھا اور آواز پہچانتی تھی لیکن ساتھ ہی اس کے یہ کھٹکا بھی تو لگا تھا کہ ان کی گود میں گئی اور انھوں نے پھر گھر میں پہنچا دیا جہاں پھر ان خیلاؤں کا سامنا ہے ۔ نہ ان کی صورت دیکھوں گی نہ گود میں جانا پڑے گا۔ اس وجہ سے میں نے ان سے نہ آنکھ ملائی نہ نگاہ چار کی۔ دل کو پتھر کر لیا۔ ان کی طرف سے منہ پھیرے بیٹھی رہی۔ انھوں نے ہزار ہزار پیار سے پکارا مگر ڈر کے مارے مجھے جراءت نہ پڑی کہ ادھر رخ کروں۔ اس دن کی بے مروتی مجھے آج تک یاد ہے۔ سمجھ آنے کے بعد مدتوں اس کج خلقی کا ملال رہا۔ اباجان نے کہا کہ اس وقت یہ کچھ ڈری ہوئی سی ہے۔ کلیجہ برابر دھڑک رہا ہے اور الٹی پلٹی سانسیں لے رہی ہے۔ شاید محل میں کسی نے ہنسی دل لگی سے اس کو ڈرا دیا۔ (نواب صاحب) بھلا بھائی میرے گھر میں ڈرانے والا کون۔ (اباجان) اے حضور یہی لونڈیاں باندیاں اور کون۔ انھیں میں سے کسی نے کچھ کہا ہے۔ بچہ تو بچہ ڈر گیا۔ نواب صاحب چپ ہو رہے۔ مگر اس بات کا ان کے دل میں خیال رہا۔ جب اباجان چلنے لگے تو نواب صاحب نے چاہا کہ بہلا پھسلا کر مجھے اباجان کی گود سے لے لیں۔ دم دلاسا دیا پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ لالچ دے کر چیزیں دکھائیں۔ میں نے ہر گز اباجان کا بازو اور گردن نہ چھوڑی۔جب سامنے آتے تھے میں آنکھیں بند کر لیتی تھی۔ مجبور ہو کر نانا جان بیٹھ رہے۔ابا جان رخصت ہو آئے۔ گھر میں پہنچتے ہی بی خیراتن اور اعجوبہ کا سامنا تھا جو دور سے دیکھ کر چولھے پاس سے راکھ اور خاک میں ہاتھ بھرے ہوئے لے کر دوڑیں۔ ناک اور آنسو لتھڑے ہوئے منہ سے خوب میرے منہ کو پیار کر کے بھرا پھر بوا اعجوبہ نے

ریختہ صفحہ 38
مرچوں بھرے ہاتھ گال پر رگڑے اور اپنے مصالحہ دار کپڑوں میں لے کر خوشبودار سینے سے لگایا۔ پھر باری باری دونوں نے میری حالت پر آنسو ٹپکائے اور رونی صورت پر غم کھائے۔ اباجان سے کہا کہ میاں خدا کے لئے اب میری بچی کو وہاں نہ چھوڑ آئیے گا۔ دیکھئیے تو تھوڑے ہی دنوں میں کیا حال ہو گیا۔ اتوار کے دن صبح کو اباجان نے کہا کہ اعجوبہ آج ذرا طاہرہ کو نہلا دینا۔ انھوں نے دوپہر کو جب مجھے نہلانے کو بٹھایا تو سارا بدن نیلا دیکھ کر وہ اسی طرح مجھے چوکی پر بیٹھا چھوڑ کر باہر کمرے میں گئیں اور اباجان کو لا کر میری پیٹھ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ دیکھئیے سوتاپے کی یہ جلن ہوتی ہے۔ میری بچی ے بدن پر ہزاروں نیلے نشان ہیں ، خدا کرے وہ ہاتھ ٹوٹیں بازو شل ہوں انگلیاں جھڑ پڑیں جن سے اس معصوم کو مارا ہے۔ اے خدائے برحق تجھے سب طرح کی قدرت ہے میں بھی اس کے دُھرے اڑانے اور مار پڑنے کی خبر سنوں۔ وہ مارنے والی جہنم میں جائے۔ یہ باتیں بو اعجوبہ کر رہی تھیں کہ ﷽ کی آواز آئی۔ اباجان باہر گئے کہ یہ کون آیا۔ کس کیسواری ہے۔ اور بوا میرے سر میں کنگھی کرنے لگیں۔ دروازے کی طرف میری پیٹھ تھی اور دالان کی طارف منہ۔ مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کون آیا۔ بوا اعجوبہ نے جھک کر میرے کان میں کہا کہ تمہارے نانا ابا آئے ہیں میں نے چاہا کہ جلدی جلدی منہ دھو کر آنکھیں کھولوں اور ان کو سلام کروں کہ وہ قریب آ گئے اور اتفاق سے نگاہ پیٹھ پر پڑی نیلے نشان دیکھ کر ہائیں کہہ کر وہ اسی جگہ ٹھٹھک رہے اور ارے یہ داغ کیسے ہیں کہہ کر اباجان کی طرف مخاطب ہوئے۔ میں سلام کر کے پھر چوکی پر بیٹھ رہی اور اباجان نے ان سے میرے داغوں کی نسبت اپنی لاعلمی جتا کر کانوں پر

ریختہ صفحہ 39
ہاتھ رکھا۔ بوا اعجوبہ پٹ سے بول اٹھیں کہ حضور آپ ہی کے ہاں سے یہ سوغات لائی ہیں۔ نہیں معلوم کون بیدرد کم بخت ماری عورت تھی جس نے میری بچی کا چاند سا بدن نیلا کر دیا۔ خدا کرے اس کے ہاتھ ٹوٹیں۔ناناجان یہ سن کر سناٹے میں آ گئے۔ اور دیر تک اعجوبہ کے اس بے دھڑک کہہ بیٹھنے پر کھڑے رہے۔ اباجان نے کہا کہ آپ تشریف لائیے یہ انتہا کی منہ پھٹ اور احمق ہے عمر گزری مگر بات کرنے کا طریقہ نہ آیا۔ ادب قاعدے سے تو ایسی نا بلد ہے جیسے ابھی پکڑ کر جنگل سے آئی ہے۔ آدمیوں میں رہی نہیں۔ نہ سمجھانے کا اثر ہوتا ہے نہ صحبت کا۔ خدا معلوم اس کی خلقت کیسی ہے۔ میں نے ایسا بے کینڈے آدمی بھی نہیں دیکھا جو منہ میں آیا بے تکان کہہ ڈالتی ہے۔نانا جی یہ عذر معذرت سن کر دالان کی طرف بڑھے تو سہی مگر یہ کہتے ہوئے کہ بھئی اس لڑکی سے بھی پوچھا کچھ کسی کو بتاتی ہے۔ (اباجان) جناب نہ مجھ کو وہاں کسی پر شک ہے نہ شبہ۔ نہ میں نے پوچھا۔ (ناناجان) نہیں بھئی ضرور پوچھو۔ دیکھو تو کیا کہتی ہے۔ مجھ سے شاید کچھ نہ کہے ورنہ میں خود پوچھتا۔ اگر کسی نے اس پر زیادتی یا بدسلوکی کی ہو تو اس کا کیا عجب۔ ہر وقت تو میں آنکھوں میں رکھتا نہ تھا۔ شاید کسی ماما اصیل یا کسی چھوکری چھاکری نے خوشامد کے مارے اپنی حماقت اور سفاہت سے عصمت کے خوش کرنے کو ایسا کیا ہو۔ مجھے بھی کچھ خیال گزرتا ہےاس سے کچھ بھی پتہ چلے تو پھر میں کل حال دریافت کر لوں گا۔ (اباجان) جی نہیں بھلا ان بیچاریوں کو یی دماغ کہاں کہ وہ بیوی کے خیال اور سوتاپے کے ملال سے بچے کو ستا کر بدلہ لیں اور ایذا دیں۔ یہ بھی اس وقت احتمال ہو سکتا تھا کہ جب کسی کی اشتعالک ہوتی یا کچھ اشارہ ملتا۔ یہ بات تو ہے نہیں۔ نہ آپ

ریختہ صفحہ 40
خدا نہ کردہ ایسے نہ اماں جان نا خدا ترس ، رہیں آپ کی صاحبزادی وہ میرے نزدیک بچوں کے لئے ان کی حقیقی ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والی لہیں۔ اور میری وجہ سے تو اور زیادہ مری مٹی سوت کا ملال کیا پھر یہ کیونکر گمان ہو کہ کسی نے کہا اور بے کہے انھوں نے ایسا ظلم کیا۔ کہیں کھیل کود میں گری ہے اور چوٹ لگ گئی۔ (ناناجان) بھئی نواب دولہا تم نہیں جانتے یہ عورتٰں تو بس کی گانٹھ ہیں اور اندرائن کے پھل۔ بس ظاہر ہی ظاہر دیکھ لو۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میں نہا دھو کر وہاں پہنچی۔ نانا جان نے مٹھائی اور کھلونے میرے آگے رکھ دئیے اور پیار سے منہ چوم کر کہا کہ طاہرہ سچ بتاؤ تمہارے بدن پر یہ نشان کیسے ہیں۔ کیا کسی لونڈی باندی نے تمہیں مارا۔ اباجان کی زبان سے میں انکار سن چکی تھی۔ کیونکر اقرار کرتی۔ کہا کہ جی نہیں کوئی مارنے کیوں لگا سب گود میں لئے لئے پھرتے تھے۔انھوں نے قسم دے کر پوچھا اس وقت مجھے کچھ چارہ نہ ہوا اور معجوب ہو کر کہا کہ آپ بوا رحمت سے پوچھ لیجئیے گا اگر میں جھوٹ کہتی ہوں تو حال کھل جائے گا۔ انھوں نے میرا یہ کہنا سچ جان کر کہا لو یہ مٹھائی کھاؤ ہم تمہارے لئے لائے ہیں۔ میں نے سلام کر کے ان کے ہاتھ سے ٹوکری لے لی۔ تھوڑی دیر بعد نانا جان سدھارے۔ میں اس سوچ میں پڑی کہ کہیں ایسا تو نہ ہو کہ یہ رحمت سے پوچھیں اور وہ اس خیال سے کہ شاید انھیں معلوم ہو گیا ہے سب حال کہہ دے۔ اس خلجان نے یہاں تک زور باندھا کہ تمام دن میں گم صم رہی۔ رات کو سونے لیٹی، نیند نہ آئی۔ دن تو جوں توں کٹ بھی گیا رات کو عجب حال تھا۔ کروٹیں بدلا کیں اور ٹھنڈی سانسیں لیا کیں بار بار وہی خیال آتا تھا اور وہی وہم ستاتا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو سب کے سب بڑی بلا میں پھنس جائیں گے۔ اور نانا جان اپنی محبت اور میری بے گناہی پر خیال کر کے ایک ایک کو ادھ موا تو کر ہی ڈالیں گے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 41
انھیں بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ خداوندا کیا تدبیر کروں کیونکر یہ راز نہ کھلے۔ اسی ادھیڑ بن میں ایسی محو ہوئی کہ بابا جان کے پہلو میں ہونے اور ان کے جاگنے کا بالکل خیال نہ رہا۔ بھرائی ہوئی آواز اور ڈرے ہوئے لہجے میں ایک ایک کا نام لے کر خدا سے اس کی سفارش کرنے لگی کہ چنچل کو بچانا، رنگیلی چھبیلی پر کوئی آفت نہ لانا۔ اباجان سمجھے کہ خواب میں بڑاتی ہے۔ اٹھ کر مجھے دیکھنے لگے دیکھا تو ٹخ سے دیدے کھلے ہیں۔ اس وقت وہ متعجب ہو کر بولے کہ طاہرہ یہ کن کن کی خیر منا رہی ہو۔خیر تو ہے۔ اب مجھے حواس آئے اور گھبرا کر دل سے کہنے لگی کہ بھئی کیا تدبیر کریں کہ جتنا چھپاتے ہیں اتنا اور ظاہر ہوتا جاتا ہے۔ اتنی ہی بات کہہ کر جان پر صدمہ تھا۔ اس ہذیان کا کیا علاج۔ یہ کہہ کر میں تو جواب کی فکر میں غلطاں پیچاں ہوئی اور اباجان تسبیح تمام کر کے پھر میرے کھٹولے کی طرف جھکے۔ اپنے سر کی قسم دے کر کہا طاہرہ دیکھو خبردار کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے، جھوٹے پر خدا لعنت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ سے بو آنے لگتی ہے جس سے لوگ پہچان کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر تم کو وہاں کسی نے ایذا پہنچائی ہو ہم سے صاف صاف کہہ دو تمہارے سر کی قسم ہے ہم کہیں گے نہیں۔ اب مجھے سوا حال کہہ دینے کے چارہ نہ ہوا اور سب کیفیت بیان کر دی۔ (اباجان) پرسوں تم رحمت کی گود سے جب میرے پاس آئی تھیں کیا اس وقت بھی کسی نے کچھ کہا تھا؟ (میں) جی ہاں اس وقت بھی جوجو اور ہوّے سے ڈرایا تھا اور سب نے مل کر ستایا تھا چٹکیوں سے خبر لی تھی اور زبان سے دعوت کی تھی (اباجان) اے ہے جبھی تمہارا دل دھڑکتا تھا میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ کسی نے ڈرایا ہے۔ لیکن تم ڈرتی کیوں ہو اور سمجھی کیا ہو۔ ہزار کوئی کہے خبردار اب جوجو پوجو سے
ریختہ صفحہ 42
نہ ڈرنا۔ بالکل جھوٹ ہے۔ اچھا تم ابھی لونڈیوں کے نام لے لے کر کیا کہہ رہی تھیں۔ (میں) اس وقت نانا باوا نے قسم نہیں دی تھی اور اسی بات کو پوچھا تھا۔ میں نے رحمت کا نام لے دیا تھا۔ اس وقت یہ وہم ہوا کہ کہیں وہ رحمت سے نہ پوچھیں اور وہ کہہ دیں تو سب پر مار پڑے گی جن جن نے مجھے ایذا پہنچائی اور دشمنی کی تھی۔ ان کے بچنے اور محفوظ رہنے کی خدا سے دعا کر رہی تھی۔ اس کا بالکل خیال نہیں آیا کہ آپ نے ابھی آرام نہیں کیا۔ بے ساختہ منہ سے نکل گیا۔ صبح سے دل ہی دل میں لئے رہی۔ اس وقت آپے سے باہر ہو جانے سے حال کھل گیا۔ (اباجان) قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے ناناجان جو اس قدر اصرار کرتے ہیں کچھ سن گن پا گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو مجبوری ہے۔ اگر ایسا ہے تو مجبوری ہے۔ اور اگر ابھی تک انھیں نہیں معلوم ہوا تو کل میں جا کر ان کے دل سے بالکل نکال دوں گا۔ اول تو رحمت ایسی نادان نہیں کہ بے سمجھے بوجھے وہ یہ بات کہہ دے ۔ بوڑھی عورت بال دھوپ میں نہیں سفید کئے۔ جانتی ہے کہ اس کہہ دینے سے سارا گھر دشمن ہو جائے گا۔ دوسرے اباجان کو یہ درد سری کہاں کہ وہ فرض کر کے رحمت کو بلائیں اور پوچھیں۔ ایک تو یاد ہی نہ رہے گا۔ رات گئی بات گئی۔ تکئیے سے سر اٹھاتے ہی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ ایک سر ہزار سودا۔ اور اگر یاد بھی آیا تو جب تو وہ پوچھیں پوچھیں میں پہلے ہی جا کر ان کے ذہن نشین کر دوں گا کہ وہ سارے گھر کو بیگناہ سمجھ جائیں اور پھر کسی سے نہ پوچھیں۔ نہ کسی پر آنچ آئے گی نہ مار پڑے گی۔ بس رات بہت آئی۔ اب آرام کرو۔ صبح سویرے جا کر ان کے دل سے میں اس بات کو نکال آؤں گا۔ اتنا بہ مصلحت اور کہہ دوں گا کہ میں نے بھی پوچھا اور بہت اصرار سے پوچھا مگر اس نے کچھ کسی کی شکایت نہیں کی ہاں یہ کہا کہ چوٹ کے نشان ہیں۔ کہیں کھیل کود میں گری ہوگی۔ بچے بعض وقت

ریختہ صفحہ 43
بے تحاشہ دوڑتے ہیں۔ ادھر پیروں چلے اور پیٹ سے پاؤں نکالے کوئی کہاں تک خیال رکھے۔ بندہ بشر ذرا نگاہ ادھر سے ادھر ہو گئی ہے یہ گر گرا پڑی ہے۔ کسی کی اس میں خطا کیا۔ بچوں کا اس عمر میں گرنا چوٹ چپیٹ اٹھانا اک قسم کی ورزش ہے۔ تم خاطر جمع رکھو۔ نہ اس بات میں جھوٹ بولنا ہے نہ پھر ان کے دل میں کسی کی طرف سے شبہ رہ سکتا ہے۔ چوٹ کا نام بھی لئے جاؤں گا اور پھر اس کو چھپا بھی دوں گا۔ نہ کسی کی لے دے ہو گی نہ مار پیٹ۔ نہ روزی جائے گی نہ رزق۔ یہ بہت اچھی ان کے بچاؤ کی تدبیر ہے۔ اندیشہ نہ کرو اور وہم کو دل میں جگہ نہ دو۔ وہم بہت بری چیز ہے ۔ صبح سے اس وقت تک تم نے اس کو روکا نہیں، بڑھتا چلا گیا۔اب اس تدبیر سے اسے گھٹاؤ اور اطمینان سے پڑ کے سو رہو۔ اگر تمہاری وجپہ سے کسی کا بال بیکا ہو تو میرا ذمہ۔ ہاں خدا ہی کو یہ انتقام لینا منظور ہو تو اس کا بندوبست میرے امکان سے باہر ہے۔ ان کی اس تشفی سے میں مطمئن ہوئی پھر کوئی وہم و وسوسہ میرے پاس نہ آیا۔ تھوڑی دیر میں نیند آ گئی۔ صبح کو جب تک اباجان سب کاموں سے فرصت کر کے نانا جان کے پاس جائیں جائیں وہاں منہ اندھیرے اس راز کھلنے کے غیب سے سامان ہو گئے۔ ناناجان بیدار ہو کر چوکی پر تشریف لے گئے۔ اور رحمت نے سارے گھر کو جگایا۔ سب کی سب اٹھ کر باورچی خانے والے دالان میں جمع ہوئیں ۔ نانا جان افیون کھانے کی وجہ سے ذرا دیر تک چوکی پر بیٹھتے تھے۔ قبض کی شکایت رہتی تھی۔ اندر باہر دونوں جگہ ان کے چوکی پر جانے کے مقام سب سے جدا تھے۔ باورچی خانے سے ملا ہی ہوا ایک پائخانہ تھا جس میں اور سب آیا جایا کرتے تھے۔

ریختہ صفحہ 44
آگے پیچھے اٹھ کر اور کام کاج پائخانہ پیشاب سے فرصت کر کےسب کی سب اسی باورچی خانے میں اکٹھی تھیں ، نانا باوا کے چوکی پر ہونے کا ایک کو حال معلوم نہ تھا بیٹھتے ہی میرا ذکر نکالا ایک نے ڈینگ کی لی ایک نے شیخی بگھاری ایک نے اپنے پتھر دل کی تعریف کی اور میرے دھان پان ہونے کی مذمت کی ایک نے اپنی تیز عقل اور بے لگام زبان کی بات دہرائی، ایک بولی کہ دیکھو میں نے ناخون (ناخن) ابھی تک نہیں کاٹے۔ ایک نے اسی کے چٹکی لے کر کہا کہ تم سے ہمارے بڑے ہوں جب کی سند۔ ایک ہنس کر بولی میں نے رونے سے بھی ڈرا دیا تھا۔ وہ بھیتری اور بودی مار دی کہ یہاں آنے کا جھوٹوں نام نہ لے گی۔ نواب صاحب چوکی پر بیٹھے میری ساتار و ہن میں پھنسنے کی کیفیت سنا کئے اور دل ہی دل میں تاؤ پیچ کھایا کئے۔ وہ سب یہ باتیں کر رہی تھیں کہ نماز پڑھ کر بوا رحمت بھی وہاں آ نکلیں اور سب کو سر جوڑے میرا رونا روتے دیکھ کر کہا اوئی لوگا آج چوتھا پانچواں دن اس بچی کو گھر گئے ہوا مگر اس کا ذکر موجود ہے۔ بس ہو چکا۔ کہاں تک دون کی لوگی اور باتیں بگھارو گی، جب سنو وہی کہانی جب دیکھو وہی کھسر پھسر۔ کیا برا مرض ہے۔ کوئی سن لے تو ساری قلعی کھل جائے۔ ایک بات کا مہینوں گھولوا رہے گا پھر کیا اچھی بات ہے جسے کہہ رہی ہو۔ تمہاری عقلوں پر پتھر پڑ گئے کیا۔ چنچل نے کہا کہ سنے گا کون اور سنے گا تو کیا ہو گا۔ بڑی بیگم صاحب اس کی صورت دیکھے سے جلتی تھیں۔ نہ کبھی منہ لگایا نہ بات کی۔ نہ خبر پوچھی۔ دور سے بیٹھی ہوئی ہماری سب باتیں دیکھتی تھیں اور مسکراتی تھیں۔ فقط نواب صاحب کی وجہ سے ٹانگے ٹانگے پھرنا پڑتا تھا۔ ہمارے گودکڑے میں چڑھائے رہنے سے ان کی آنکھوں میں خون اترتا تھا۔ اگر ان کے خلاف ہوتا تو منع نہ کرتیں۔ سیر کیوں

ریختہ صفحہ 45
دیکھتیں۔ چھوٹی بیگم ایک دن کوٹھے سے اتر رہی تھیں۔اور میں اسے اناج والی کوٹھری میں ٹھونک رہی تھی، دیکھتی ہوئی ٹال کر چلی گئیں۔ (بوا رحمت) اے عورت خدا سے ڈر۔ بڑی بیگم کو تو میں نہیں کہتی ہاں چھوٹی بیگم صاحب کی طرف سے تو میں بڑی چیز اٹھانے کو موجود ہوں۔ ان کے دل میں رتی ریزے برابر ملال نہ تھا۔ سو دفعہ مجھ سے کہا کہ رحمت ذرا طاہرہ بیگم کا خیال رکھنا۔ بے چین نہ ہو۔ یہ سب کی سب خیلائیں دیوانیاں بے ڈھنگی ہیں۔ کہیں اس کو اذیت نہ پہنچے۔ مجھے جب کاموں سے فرصت ہوتی تھی گھڑی دو گھڑی گود میں لے لیتی تھی۔ (چنچل) تم آپ خیلا بطیلا ہو گی ہماری بلا ہو۔ (رحمت) اے ہے مجھے لڑنا نہیں آتا ۔ میں تمہارے لئے کہتی ہوں۔ مجھے کیا۔ اب ان باتوں کا چرچا اچھا نہیں ۔ تمہیں اختیار ہے تم جانو تمہارا کام۔ مجھے کیا پڑی ہے۔ بڑوں کی بڑی بات۔ نہ کوئی بڑی بیگم صاحب سے کہے گا نہ چھوٹی بیگم صاحب سے پوچھے گا۔ تمہارا دردسا ہو جائے گا۔ مجھے بڑا ڈر حضور کا ہے۔ وہ اس بچی کے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔ میرے سامنے انھوں نے ایک پنواڑ کہہ کر بیوی بیٹی کو سمجھایا تھا۔ یہ کہہ کر رحمت تو چلی گئیں اور وہ سب بھی اپنے اپنے کام سے لگیں۔ نواب صاحب باہر نکلے اور ان سب کی طرف غیظ و غضب کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے افسردہ اور چیں بچیں دیوان خانے میں گئے ۔ سب کی سب ایسی بے خود اور محو تھیں کہ نواب صاحب کے نکلنے اور غصے سے دیکھنے کی مطلق خبر نہیں ہوئی۔وہ باہر جا کر کپڑے پہن کر سوار ہوئے اور تھوڑے سے دن چڑھے ہمارے ہاں آ پہنچے اباجان باہر تھے۔ سیدھے گھر میں چلے آئے اور دروازے ہی سے میرا نام لے کر پکارا حقیقی نواسی سے زیدہ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے۔ مُڑ کر جو دیکھتی ہوں تو ناناجان
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 46
ہیں۔ جلدی سے اٹھ کر سلام کیا انھوں نے مجھے گلے سے لگا کر کرتا ہٹایا اور میرے سارے بدن کے نشان دیکھے۔ پھر آبدیدہ ہو کر کہا کہ کیوں طاہرہ بیوی ہم نے تم سے کیسا کیسا پوچھا قسم تک دی۔ مگر تم نے ان بلاؤں کے ظلم کا ہم سے ذکر تک نہ کیا۔ دیکھو خود بخود ہم پر سارا حال کھل گیا۔ نواب دولہا کہاں ہیں؟ خیراتن نے کہا کہ وہ تو آپ کے یہاں جانے کو تھے۔مرزا شجاعت علی صاحب آ گئے باہر کمرے میں ہیں۔ فرمایا کہ جلدی بلاؤ میرا نام لو۔ ہنوز وہ جانے نہ پائی تھی کہ اباجان خود آ گئے۔ ان کی صورت دیکھتے ہی نانا باوا چیخیں مار مار کر رونے لگے۔ وہ بے چارے نا واقف ہکا بکا ہو کر رہ گئے۔ مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ خیراتن سے اشارہ کیا۔ سب چپ۔ کچھ معلوم ہو تو بتائیں، کچھ دیر تو وہ سناٹے میں آ کر ان کو دیکھا کئے۔ پھر کہا کہ حضرت خدا کے لئے جلدی جلدی بتائیے کیا ہوا۔ اب مجھ میں تابِ ضبط نہیں۔ بڑی دقت سے انھوں نے فرمایا کہ نواب دولہا ہمارا قصور بخشو۔ ہمارے ہی سبب سے تمہاری بیگناہ بچی پر بڑی بڑی شدتیں اور تکلیفیں ہوئیں۔ آج میں چوکی پر تھا۔ اپنے کانوں سے ان چڑیلوں کی باتیں سنیں جو فخریہ بیان ہو رہی تھیں۔ خوب ہوا کہ یہ بچی یہاں چلی آئی اور تم نے اس کے دل کی بات سمجھ لی۔ جس پر طرح طرح کی سختیاں ہوں اور بلاؤں میں گھر جائے وہ بچہ کیونکر نہ ڈرے۔یہ کہہ کر پورا حال ان کی بات چیت کا دہرایا تو اباجان تو حیرت میں آ گئے کہ اب ان کے غم و غصہ کو ٹالنے کی کیا تدبیر کروں۔ جو میں سوچا تھا وہی بات ہوئی۔ اور وہ یہ کہہ کر اٹھے کہ آج میں اس بیگناہ کا بدلا لے لوں۔ دل ٹھنڈا کر لوں۔ تو کل تم اس کو سوار کر کے ضرور بھیج دینا (اباجان) بہت خوب بہت بہتر کہتے ان کے پیچھے پیچھے ڈیوڑھی میں گئے۔ میں سمجھی سدھارے۔ پھر کیا دیکھتی ہوں

ریختہ صفحہ 47
کہ دونوں صاحب چلے آتے ہیں۔ بیچ انگنائی میں پہنچ کر مجھ سے فرمایا کہ طاہرہ چلو ہم اپنے ساتھ ہی تمہیں لیتے چلیں۔ ڈرنا نہیں کیا مجال جو اب تمہیں کوئی ٹیڑھی نگاہ سے بھی دیکھ سکے۔ پھر اباجان کی طرف مڑ کر کہا کہ نواب دولہا تمہیں کہیں جانا تو نہیں ہے۔ ( وہ جی نہیں آپ فرمائیں) کہا کہ تم بھی چلو اس وقت کی سیر قابل دیکھنے ہی کے ہے، چلو گے نا۔ (اباجان) بہت اچھا ، مگر (ن) آپ اپنے اگر مگر کو یہیں چھوڑ کر چلئیے وہاں ان کا کوئی کام نہیں ۔ صبح سے میری نگاہ میں دنیا اندھیر ہے۔ کلیجہ جل رہا ہے دل سلگ رہا ہے۔ گو اس بارے میں اباجان کچھ کہنے کو تھے لیکن ان کی آمادگی اور خفگی کی وجہ سے یہ سمجھ کر چپ ہو رہے کہ بروقت دیکھا جائے گا۔ ابھی سے کہہ کر کیوں غصہ دلائیے اور بات بڑھائیے۔غصے کا قاعدہ ہے کہ سمجھانے اور روکنے سے اور بڑھتا ہے۔ جب ہم سب وہاں پہنچے تو اباجان نے مجھے گود میں لے لیا اور دروازے کے قریب جا کر چاہا کہ اتار دیں۔ پردے کے پاس رکے۔ نانا جان نے کہا کہ کیوں کیا ہے۔ اندر چلو وہاں تم سے چھپنے والا ہی کون ہے۔ وہ سر جھکائے ساتھ ہو لئے۔ دالان سے جیسے ہی بڑی اماں نے دیکھا وہ تو ندامت و خفت سے سر بزانو ہو گئیں۔ کیونکہ نانا جان ان کو قائل کر چکے تھے اور دوسرے اب کچھ سوچی سمجھی بھی تھیں۔ وہ غصہ بھی نہیں رہا تھا۔ نانی جان نانی جان روئی دوئی کر کے کمرے میں چلی گئیں۔ نانا باوا جیسے دالان میں پہنچے۔ بڑی مہیب آواز سے اماں جانی کا نام لے کر پکارے اور کہا کہ جلد ادھر آؤ۔ وہ نہایت ادب سے سر نیہواڑے ہاتھ جوڑے باپ کے قریب آئیں۔فرمایا نواب دولہا کے قدم پر گرو اور اباجان سے کہا کہ ان کی

ریختہ صفحہ 48
پیٹھ پر ہاتھ رکھو خطا معاف کر دو۔ دونوں طرف گو عذر و انکار تھا مگر کوئی چارہ نہ ہوا ان کی غیظ بھری نگاہ اور تھرائی ہوئی آواز نے دو طرفہ وہ عملہ دخلہ کیا کہ ناچار کہا ماننا ہی پڑا۔ جب قدموں سے سر اٹھا کر وہ روتی ہوئی پھر اپنی جگہ چلیں اس وقت مجھے گود سے لے کر اپنے آگے کھڑا کیا اور کہا کہ جاتی کہاں ہو، اس کے بھی پیر پڑو۔ یہ سنتے ہی مجھ کو خفقان ہوا کہ لیجئیے وہاں تک تو ادب قاعدہ تھا یہ بے قاعدہ بات کیسی۔ میں نے گھبرا کر اپنے تئیں زمین پر گرا دیا اور دونوں پاؤں پیٹ کے نیچے چھپا لئے۔ ان کو بھی کچھ لحاظ سا آیا۔ پلٹیں تو سہی مگر قریب آ کر ٹھٹک گئیں، دوسر دفعہ ناناجان نے نہایت ڈراؤنی صدا سے کہا کہ کیا تم نے نہیں سنا۔ عصمت اپنی نجات چاہتی ہو تو جلدی کرو۔ وہ بیچاری پاس بیٹھ کر میرے پاؤں ڈھونڈنے لگیں۔ میں ان کے گرنے سے پہلے خود پہ قدموں پر گر پڑی اور ان کے پیروں سے منہ مل کر رونا شروع کیا۔ چونکہ نانا جان برابر اشارہ کئے جاتے تھے وہ وقت کی منتظر تھیں۔ جیسے ہی میں ان کے قدم پر گر کر چہکوں پہکوں روتی ہوئی اٹھی اور چاہا کہ ہاتھ پھیلا کر اباجان کے پاس چلی جاؤں کہ انھیں قابو ملا اور جھک کر اپنا سر میرے پاؤں پر رکھ دیا۔ میں تڑپی بلبلائی لیکن نانا باوا مجھے سنبھالے رہے اور دوسرے ہاتھ سے ان کے سر کو زور دے کر خوب ہی میرے پیروں سے رگڑا۔ نانی اماں روتی پیٹتی اور دہائی دیتی کمرے سے باہر نکل پڑیں اور ہائے ستم ہے اندھیر ہے ظلم ہے قیامت ہے کہا کیں۔ نانا باوا نے کچھ سماعت نہ کی۔ انھوں نے کوئی پہلو لڑائی کا نہ اٹھا رکھا اور حد سے زیادہ بدزبانی کی لیکن نانا باوا نے سُنی کو ان سُنی کر دیا۔ بالکل اعتنا نہ فرمائی۔ جب دیر تک میں روئی یہاں تک کہ ہچکی بندھ گئی تو اماں جان

ریختہ صفحہ 49
سے کہا کہ لو اس کو سینے سے لگا کر چپ کراؤ اور یہاں بیٹھ کر تماشہ دیکھو۔ پھر رحمت کو آواز دی وہ تھراتی ہوئی سامنے آئیں کہا کرسیاں منگواؤ۔ وہ جلدی جلدی تین چار کرسیاں لائیں ایک پر ان کے اشارے سے اماں جان مجھے لے کر بیٹھیں اور ایک پر اباجان، ایک کرسی پر خود بیٹھ کر عدالت پر تُلے۔ گھر بھر کی عورتیں چبوترے پر موجود تھیں۔ایک ایک کو اپنے پاس بلا کر میرے نشان دکھا کر ایمان و قسم کی رو سے پوچھا سب کی سب مکر گئیں اور جھوٹی جھوٹی دیدے گھٹنوں کی قسمیں کھا لیں۔ اس وقت نانا جان رحمت کی طرف پھرے اور کہا کہ بی رحمت اب تمہاری باری ہے تم کو جو کچھ معلوم ہے صاف صاف کہو۔ پہلے تو بوا رحمت منمنائیں بغلیں جھانکیں کیونکہ دریا میں رہنا اور مگرمثھ سے بیر۔ کہتیں تو کیا کہتیں۔ پھر یہ بھی ڈر لگا تھا کہ ان میں کچھ تو لونڈیاں ہیں اور کچھ پرانے لوگ۔ اور یہ بھی خیال کہ سب کے سب ایک حال میں ہیں۔ اور پھر ایک منہ ایک زبان، ایسا نہ ہو کہ میری بات نیچی رہے اور جھوٹی پڑوں۔ بہت سوچ سمجھ کر کہا کہ حضور مجھ سے نہ پوچھئیے۔ میں نگوڑی ماری ان کے ساتھ ساتھ کہاں پھرتی تھی جو کچھ جانتی ہوں گی۔ چولہے سے نکلی بھاڑ میں گئی۔ اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر مجھے کسی کی کیا خبر۔ نواب صاحب اچھا (میری طرف اشارہ کر کے) اس کے بدن پر نشان ہیں۔ (رحمت) جی ہاں حضور ہیں۔ (نواب صاحب) پھر کاہے کے ہیں (رحمت) مجھے کیا معلوم (نواب صاحب) تمہیں نہیں معلوم (رحمت) جی نہیں عرض تو کرتی ہوں ، میں کہیں یہ لوگ کہیں۔ کام سے مہلت ملی اپنے گھونسلے میں گھس گئی۔ (نواب صاحب) اچھا آج صبح کو یہ سب باورچی خانے میں اکٹھا بیٹھی کیا باتیں کر رہی تھیں۔ یہ سن کر بی رحمت شہ ہوئیں اور سمجھیں کہ یہ خود سن چلے ہیں۔ اب چھپانا اور ٹالنا بے موقع ہے۔

ریختہ صفحہ 50
بولیں کہ حضور نہ کہوں تو باپ کتا کھائے اور کہوں تو ماں ماری جائے۔ (نواب صاحب) ایمان مقدم ہے۔ جو سچ ہو وہ کہو۔ (رحمت) حضور پھر اپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں انھیں سے دوبارہ خود نہ پوچھ لیجئیے۔ نواب صاحب اچھا کہہ کر پھر ادھر مُڑے اور مسکرا کر فرمایا کہ ہاں جی بتاؤ تو آج تم سب کس کا ذکر کر رہی تھیں۔ جو رحمت نے سمجھایا اور تم نے اس کا گلا دبایا۔ اب تو سب نے سورنیوں کی طرح تھوتھن لٹکا دئیے اور کہا جی ہاں حضور خطا تو ہوئی (نواب صاحب) پھر قسم کیوں کھائی اچھا تم سے کسی نے کہا تھا (وہ سب) جی نہیں (نواب صاحب) پھر یہ کیا تھا (وہ سب) بڑی بیگم کی خوشی کے لئے (نواب صاحب) ان کے خوش ہونے کا حال تم پر کیوںکر کھلا (وہ سب) حضور ایک بات سے کھلا بیسیوں باتیں ہیں (نواب صاحب) تم سے انھوں نے فہمائش تو نہیں کی تھی کہ تم ایسے ایسے ظلم کرنا (وہ سب) جی نہیں (نواب صاحب) نہیں اگر کی ہو تو صاف صاف کہہ دو انھوں نے دوبارہ پھر قسم کھائی ۔ ایک دفعہ جھوٹی قسم تو کھا ہی چکی تھیں مگر اپنے ہی دیدوں گھٹنوں کی۔ اب کی خدا اور رسول کی قسم کھانا تھا کہ نواب صاحب اسے جھوٹ سمجھ کر تھرائے۔ ابھی ابھی تو ہنس ہنس کر روبکاری کر رہے تھے اب کانپتے ہوئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں سمجھی کہ ماریں گے۔ مگر انھوں نے بڑا صبر کیا۔ غصہ کو روک کر فرمایابس تمہاری یہی سزا ہے کہ ابھی ابھی ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔ سات آدمی قصوروار تھے ساتوں کو ساتھ چلے جانے کا حکم دے کے بیوی کی طرف پھرے اور کہا کہ سنا بیگم صاحب اگر رتی ریزے برابر آپ کو غیرت ہو گی تو اب مجھے منہ نہ دکھائیے گا اور نہ میرے مکانوں سے کہیں اور جائیے گا، اسے بہت اچھی طرح سن لیجئیے اگر ان میں سے ایک بات بھی
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 51
میری مرضی کے خلاف ہوئی تو پھر میری بھی برائیوں کی کوئی حد نہ ہو گی۔یہ کہہ کر اماں جان کو بلایا اور کہا کہ میں نے سرف تمہاری وجہ سے یہ شق (کہ محل سے کہیں نہ جانا) لگا دی کہ تم روتے روتے جان دے دو گی ورنہ مجھے ہرگز ہرگز ان کا رہنا گوارا نہیں۔ تم اسی وقت ان کو جامن والی حویلی میں بھیج دو اور یہ ساتوں بلائیں بھی انھی کے ساتھ کر دو تا کہن اپنی سہیلیوں میں بہلیں۔ اور تم بھی اگر ظاہر بظاہر ملیں تو عمر بھر صورت نہ دیکھوں گا اور یہ بھی سن لو کہ اس بچی کی ماماگیری بلکہ کنیزی کرنا پڑے گی۔ اگر اس کے ساتھ کسی نے پھر بیر کیا تو یہی اس کا بھی حال ہو گا۔ اماں جان چپ چاپ کھڑی ہوئی سنا کیں۔ کچھ جواب نہیں دیا۔ بعد اس کے نانا باوا اباجان کی طرف مخاطب ہوئے اور بیوی بیٹی کے سمجھانے کی ساری کیفیت بیان کر کے کہا کہ
با وصف تاکید اور میری خلاف ورزی ہونے کے بیگم نے بڑی دلیری کی اور مطلق خدا کا خوف نہ کیا۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ اگر خلاف تہذیب نہ ہوتا تو میں سب کو معقول سزا دیتا۔ نواب دولہا جس دن سے میں نے طاہرہ کے بدن پر نیلے نشان دیکھے ہیں میرے دل و جدر میں داغ و ناسور پڑ گئے۔ کھانا پینا ، راحت سے سونا چھٹ گیا۔ میں نہیں کہہ سکتا جس کرب سے میں نے یہ دس پانچ دن کاٹے ہیں۔ خیر الحمد للہ کہ جھوٹ سچ کھل گیا۔ میں نے اپنے کانوں سے یہ بھی سنا کہ اگر دس پانچ دن اور گزر جائیں تو ہم طاہرہ کا کام ہی تمام کر دیں، اس کو نچ نچ کر سکھا ڈالیں۔ اور ڈرا ڈرا کر مار ڈالیں۔ خیال تو کرو اس دشمنی کی کوئی حد بھی ہے۔ اللہ رئٓے بغض و عداوت۔( اباجان) جی ہاں بعض امر ایسے ہی حیرت انگیز واقع ہوئے ہین کہ ان کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی

ریختہ صفحہ 52
(ناناجان) ہائیں بھئی نواب دولہا یہ کیا کہتے ہو۔ وجہ تو صاف صاف ظاہر ہے۔یہ ساری بے عنوانی بیگم صاحب کی وجہ سے ہوئی۔ وہی اس کی بانی اور وہی اس کا سبب ہیں۔ نہ وہ میری نصیحت کے جواب میں ایسی بے رخی دکھاتیں نہ میری خلافِ مرضی چلتیں نہ یہ نوبت آتی۔ ؎
بہ نیم بیضہ چو سلطان ستم روادارد
زنند لشکر یانش ہزار مرغ بسیخ
(اباجان) جی ہاں بجا ہے لیکن اب آپ اس ذکر کو موقوف کریں تو بہتر ہے۔ بے اس کے آپ کا غم غلط نہ ہو گا۔ (نانا جان) اے بھائی یہ غم کیا غلط ہو گا۔ ادھر میں نے طاہرہ کی صورت دیکھی اور زخم دل کا ہرا ہو گیا۔ جگر کا ناسور رسنے لگا۔ مر کے بھی یہ غم ساتھ لے جاؤں گا۔ اباجان یہ سمجھ کر چپ ہو رہے کہ اس ذکر کو قطع کرنا چاہئیے۔ ٹالنے کے لئے کہا کہ اب میں رخصت ہوتا ہوں۔ فرمایا کہ دو عملے کو موقوف کیجئیے اور خیراتن و اعجوبہ کو یہیں بلا لیجئیے کہ گھر کا کام کاج دیکھیں جب تک نئے نوکر رکھے جائیں، دو تین آدمی رحمت سمیت ہیں۔ یہ وہ مل کر نباہ کر لیں گے۔ کھانا باہر باورچی پکائے گا۔ پانچ آدمی بہت ہیں۔ یہ کہہ کر رحمت کو بلا کر حکم دیا کہ نواب دولہا کے یہاں سے دونوں عورتوں کو سوار کر لائے۔ رسول بخش سے کہو ابھی جائے اندر کے دروازے میں قفل لگا دے اسباب اچھی طرح سے بند کر کے باہر پہرہ چوکی بٹھا دے۔ ایک سپاہی ہمارے یہاں سے وہاں جا کر رات کو رہا کرے اور صبح کو وردی بولا کرے۔ حکم کی دیر تھی دونوں آ گئیں۔ تھوڑے دن بعد وہ مکان کرائے پر دے دیا گیا اور نوکر چاکر سب نانا جان کے ہاں آ گئے۔ کاٹھ کباڑ بلا بد تر کرکری خانے میں پھینک کر اور سب چیزکیں تھل بیڑے سے رکھ دھر دی گئیں۔ آنکھوں کے سامنے سے سابّڑ ہٹا پھر نانا باوا نے رحمت سے فرمایاکہ اگر تمہاری دانست میں کچھ مامائیں سلیقہ مند

ریختہ صفحہ 53
بھلی مانسیں غریب نیک نوکری کے قابل ہوں تو جلد تلاش کرو۔ رحمت نے کہا کہ ہیں تو سہی مگر زمانے کا رنگ دیکھ کر جی ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ دنوں رہ کر پیٹ سے پاؤں نہ نکالیں۔ آج تو فاقے کے مارے منو بلائی ہو رہی ہیں۔کوئی کسی کے دل میں بیٹھا تو نہیں ۔ ظاہر دیکھا جاتا ہے ۔ ایسا نہ ہو جب پیٹ میں روٹی پڑے تو کلیلوں کی سوجھے۔ خدا رکھے محل کا واسطہ بھرا پرا گھر گر پڑا ۔ بہت کچھ کسی نے ہاتھ چالاکی کی۔ لیجئیے حضور میں تو کہیں کی نہ رہی۔ سر پر بال بھی نہیں ہیں۔ نئے پنے میں تو ہبک دھبک کام بھی کریں گی اور ڈھنگ سے بھی رہیں گی۔ آگے چل کر کچھ دن رہ کر آپے سے نہ گزر جائیں۔ دھین دھوکڑ اللہ میاں کی نوکر۔ (نانا جان) بی رحمت تم تو بڑی سمجھ دار نکلیں۔ ہمارے ہاں کے آدمیوں میں یوں چھپی ہوئی تھیں جیسے کوڑے کرکٹ میں نگ یا مٹی میں سونا۔ میں تمہارے مطلب کو سمجھا ۔ اچھا تم ان کو بلواؤ ضمانت نہ کرنا۔ تمہارا پاؤں درمیان سے نکال ڈالیں گے۔ بس تمہاری معرفت سے تمہاری پسند کے آدمی نوکر رکھنے سے یہ مآل ہے کہ تم خود اچھی ہو اچھوں سے ملتی ہو گی۔ جنھیں لاؤ گی سمجھ کے لاؤ گی۔ ہزار برے ہوں گے مگر ان بروں سے پھر اچھے ہوں گے۔ تم نے ہماری لونڈیوں کی بد نفسی اور بے عقلی دیکھی۔ جن کی بری صحبت کے اثر سے سوا تمہارے اور کوئی نہیں بچا۔ (رحمت) بہت اچھا۔ خدا آپ کو بیسا سو برس سلامت رکھے۔ میں اسی بات کو ڈرتی تھی کہ بے ٹھور ٹھکانوں کو ٹھکانے سے لگاؤں اور اپنا لگا بندھا ٹھکانا چھڑاؤں۔ ٹوٹی بانہ گل جندڑے پڑے لیکن بلاؤں کس کے ہاتھوں۔ دن بھر کے لئے حضور لونڈی کو رخصت دیں گھر تک جاؤں۔ جن کہاروں پر جاؤں گی انھیں پر ان لوگوں کو بھیج دوں گی۔ (نانا جان) تو

ریختہ صفحہ 54
اچھا آج ہی جاؤ اور ہاں کوئی استانی ہوں تو ان کو بھی ٹہرانا بلکہ لیتی آنا۔ (رحمت) حضور آج نہیں اب کل پر رکھئیے۔ نانا جان چٌپ ہو رہے۔ دوسرے دن رحمت بوا منہ اندھیرے گھر کے کہاروں پر سوار ہو گئیں اور سہ پہر تک پانچ عورتیں بھیج دیں۔ جن میں چار ادھیڑ اور ایک جوان تھیں۔ قریب شام بوا رحمت بھی آ گئیں۔ اور نانا جان سے کہا کہ حضور کے اقبال سے میرے نزدیک تو یہ لوگ بڑے نیک بخت غریب ملنسار محنتی اور عزت دار ہیں۔ اگر ایسی ہی رہیں۔ نانا جان نے بلوایا، سب سامنے آئیں۔ نام پوچھے حالت دیکھی۔ طرز و صورت دیکھ کر نوکر رکھ لیا۔ ناناجان بڑے خداترس اور غریب دوست تھے۔ تین روپیہ مہینہ اور کھانا سب کا مقرر کیا۔ رحمت کا ایک روپیہ اور بڑھا دیا اور فرمایا کہ بھائی رحمت یہ سب کی سب نیک بختیں اصیل زادیاں معلوم ہوتی ہیں۔ تمہاری نیک مزاجی کے علاوہ عقل و نظر کا بھی حال کھل گیا۔ بیس جگہ گئی ہو گی جب جا کے یہ پانچ عورتیں تمہیں جچیں۔ ہاں استانی کوئی نہیں ملیں؟ (رحمت) جی گئی تو تھی ، دیر انھیں کے ہاں ہوئی مگر (نانا جان) کچھ تو کہو (رحمت) حضور وہ راضی تو ہیں مگر نوکری نہیں کرنے کہتیں۔ (نانا جان) کیا اپنے گھر سے کچھ آسودہ ہیں۔ اگر یہ ہے تو یہاں رہیں گی کیوں بے نفع کے۔ خواہ مخواہ کی زحمت اٹھانا کیا معنی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر راضی کیونکر ہیں۔ (رحمت) حضور ان کا مطلب ہے کہ اپنا کھاؤں پیوں اور پڑھاؤں ان کی لڑکی کو۔ یہ ان کی بات ایسی تھی جسے سن کر میں سن کر چپ ہو رہی اور کہا کہ "آپ کا اقرار کاہے کو یہ تو انکار ہے نہ حضور اس بات کو منظور کریں گے نہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔ انھوں نے کہا بوا سمجھو تو سہی

ریختہ صفحہ 55
میں ایسی خدمت ہی کیا کروں گی جس کے لئے روٹی کپڑا مانگوں۔ اللہ رکھے پوتڑوں کے امیر کی لڑکی گھڑی دو گھڑی کھیلنے کی طرح میرے پاس بھی آ بیٹھے گی۔ اس میں ایک آدھ حرف ٹوٹا مارا بتا دوں گی ۔ کسی دن یہ بھی نہ ہو گا۔ کیسا پڑھنا لکھنا وہاں کے لاڈ پیار ایسے گھنیرے ہوں گے کہ آٹھ آٹھ دن چھاؤں سے چاندنی میں نکلنے کی نوبت نہ آئے گی اور ادھر ( بر موجب تمہارے کہنے کے) ان کے ہاں کا ایسا رویہ نہ ہوا تو بھی میری کیا شامت ہے کہ مزدوری لے کر کلمہ بتاؤں یا قران مجید پڑھاؤں۔ خدا نے دو چار ہنر میرے ہاتھ میں دے دئیے ہیں ۔ روٹی کپڑے کی محتاجی نہیں۔ تن پیٹ ڈھکتا پلتا چلا جاتا ہے۔ زیادہ لے کے کرنا ہی کیا ہے۔ تھاتھی رکھ چھوڑنے قارون کے بالکے بننے سے کیا حاصل۔ چھینا جھپٹی نوچ کھسوٹ کر کے جمع جتھا کرنا دھنی کی کھوپڑی میں پانی پینا مجھ سے تو نہ ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ میری آنکھ میں مروت ہے۔ ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے جان ہی پر بنتی ہے۔ دم ہی نکلا جاتا ہے۔ دوسرے نوکری کر کے پڑھانا اپنی حکومت خاک میں ملانا ہے۔ بے قاعدہ بات کرنی آتی نہیں ۔ جب میں نوکر ٹہری تو جیسے نواب صاحب کی نوکر ویسے ہی اس کی بچی کی نوکر۔ ایک گھر کے چھوٹے بڑے رتبے میں یکساں ہوتے ہیں۔ بندہ بشر کسی وقت (کان گوشی) گوشمالی کا موقع ہوا اور ہم ہیں کہ دل ہی دل میں ڈر رہے ہیں انگلی تک نہیں چھوا سکتے۔ پیار دلار دم دلاسے سے کام نکال رہے ہیں۔ اور وہاں بھانویں نہیں۔ برطرفی کا دھڑکا موقوتی کا خطرہ مزاج پرسی کا کھٹکا لگا ہوا ہے کہ ذرا سے میں خطاوار نہ ہو جائیں۔ نوکری پر نہ بن جائے روٹی کا سہارا نہ جاتا رہے۔ نا بیوی نا مجھےبےقصور اپنا دل قید میں پھنسانا منظور نہیں۔ ہاں اس طرح سے حاضر ہوں
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 56
پڑھانے سے نابر نہیں مگر اپنی محنت بیچوں گی نہیں۔ بیچاری آسودہ و اسودہ تو خاک نہیں۔ مُل دل کی بڑی غنی ہیں۔ میں چلتے چلتے کہہ آئی ہوں کہ آپ کے کہنے کے بر موجب حضور راضی ہو جائیں اور میں بلواؤں تو چلی ائیے گا۔ انھوں نے وعدہ تو کر لیا ہے اور میں انھیں جھوٹا بھی نہیں جانتی مگر جب یہاں آ جائیں تو مینان (اطمینان) ہو (نانا جان) بھئی رحمت تم انھیں سواری بھیج کر ابھی بلواؤ میں انھیں کی خوشی کروں گا۔ دینے کے ہزاروں محل موقع ہیں۔ ایک تنخواہ کا نام نہ ہوگا نہ سہی۔ بوا رحمت نے اسی وقت ڈیوڑھی پر جا کر ٹھیک پتے نشان سے آدمی اور کہار بھیج کر انھیں بلوایا۔ وہ بیچاری سیدھی آدمی تھیں۔ وعدے کے بموجب بے عذر چلی آئیں۔ ہم اور بڑی اماں چبوترے پر بیٹھے مٹر کی پھلیاں چھیل رہے تھے کہ ان کی ڈولی آئی اور بوا رحمت نے خبر دی۔ اماں جان گئیں اور ان کو لائیں۔ میں نے بھی کھڑے ہو کر جھک کر سلام کیا ۔ وہ بوڑھ سہاگن کہہ کر بیٹھ گئیں جتنی دیر تک اماں جان سے باتیں کیں میری طرف پھر پھر کر دیکھا پھر مسکرا کر اماں جان سے کہا کہ بیگم صاحب ایسی ہی لڑکی میں اللہ سے مانگتی تھیاس کے صدقے جاؤں میری دعا سن لی۔ کیا رحیم و کریم ہیں۔ہونہار بردا کے چکنے چکنے پات۔ یہ سن اور یہ تمیز و سلیقہ۔ میں نے جتنی دیر آپ سے باتیں کیں مڑ مڑ کر کئی مرتبہ اس بچی کی طرف دیکھا مگر اس کو کام ہی میں مصروف پایا۔ رغبت اور بے دلی کا کام چھپا نہیں رہتا۔ ماشاء اللہ جی لگا کر کام کرتی ہے۔ میرا یہ سن ہونے آیا کیا کیا کچھ اس نگاہ نے نہیں دیکھ ڈالا ہزاروں جوان اور بوڑھی عورتیں سینکڑوں لڑکیاں نظر سے گزر گئیں۔ لیکن یہ ڈھنگ ہی اور ہے۔ کیا اچھا اٹھان اٹھایا ہے۔ خداا س کو میری مرضی کے موافق پروان چڑھائے۔ تو عجب چیز معلوم ہوتی ہے۔ اماں جان نے کہا کہ

ریختہ صفحہ 57
جی ہاں اس کی قدرت ہے۔ ماشاء اللہ اب پانچویں میں ہے اور ب اس کے کہ کسی نے کچھ تعلیم و تلقین کی ہو۔ دین و دنیا کی بیسیوں باتیں دیکھ سن کر سیکھ لیں۔ اللہ رکھے ذۃن ایسا ہے کہ دیکھا نہ سنا۔ نماز بالکل یاد ہے۔ مجھے قسم لیجئیے جو ایک حرف کسی نے بتایا ہو۔ وضو تو ایک ہی روز میں سیکھ لیا تھا۔ کوئی گھر میں سینے کو بیٹھا اور سوئی پرونے کے بہانے سے خود لے کر سینے لگی۔ کاغذ کی اچکنیں انگرکھے ہوتے ہیں۔ گڑیوں کا مکان بنایا ہے۔ ان کے بچوں کو سبق پڑھایا جاتا ہے۔ ایک چنگنے کو نرسوں ہی اچھا سا جوڑا سی کر پہنایا اور بسم اللہ کی ہے۔ ایک بات ہو تو کہوں۔ سب سے بڑھ کر غیرت اور بھولاپا ہے۔ دنیا کی نیکیاں اس کی جنم گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں۔ جو جئیے گا دیکھ لے گا کہ سارے لکھنو میں یہ لڑکی ایک ہو گی ۔ دیکھئیے چہرے کا بُھگّا پن۔ ہزار طرح کے بناؤ دیتا ہے۔ جی چاہتا ہے کلیجے میں رکھ لیجئیے۔ ہاں طاہرہ بیگم ذرااستانی جی کو نماز تو سناؤ۔ میں نے سنے سنائے سورے اذان اقامت تشہد رکوع سجود سمیت سنائے۔ استانی جی نے میرا منہ چوما،پیشانی پر بوسہ دیا ۔ گلے سے لگا کر فرمایا کہ جی ہاں بیوی جی ہم نےبھی تو دیکھتے کے ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ یہ لڑکی بڑی چیز ہے۔ اماں جان نے استانی جی کی نورانی صورت پاکیزہ خصلت تجربہ سلیقہ تمیز عقل قیافہ شناسی تھوڑی دیر میں خوب پرکھ لی۔ پھر باہر کہلوا بھیجا۔ اباجان اور نانا جان آئے۔ اوٹ کے ادھر استانی جی بیٹھیں دیر تک باتیں ہوئیں۔ اماں جان بیچ میں پیام پہنچانے والی تھیں ۔ جب معلوم ہوا کہ ان کا فاطمہ بیگم نام ہے اور سیدانی ہیں تو نانا جان نے فرمایا کہ پھر کیا ہے دراصل یہ لڑکی آپ ہی کی ہے۔ ہم لوگ تو خدمت گزار ہیں۔ آپ کی خدمت اور زیارت کا طاہرہ اور عصمت کو ثواب لوٹنا مبارک۔ آپ کے

ریختہ صفحہ 58
قدم مبارک ہمارے گھر میں آنا بڑی برکت کا سبب ہیں۔ ہم ہر حال میں آپ کی خوشی اور مرضی کے پابند رہیں گے۔ آپ اس کو اپنا بچہ سمجھ کر پڑھائیے۔ استانی جی نے کہلوایا آپ خود اللہ رکھے نیک اور قدردان ہیں جب ہی تو ایسی باتیں کرتے ہیں۔ میں آنکھوں سے اس بچی کی خدمت کو موجود ہوں جو کچھ آتا ہے اس میں کمی اور دریغ نہ کرں گی۔پردے کے جھگڑے سے استانی جی کا رہنا کوٹھے پر ٹہرا۔ ہاتھوں ہاتھ سب سامان درست ہوا۔ ہفتے کو دوسرے دن بل گوندھن اور بسم اللہ کی دوہری تقریب ہوئی۔ وہی بی خیراتن اور اعجوبہ چار ہی دن میں ان کے فیض صحبت اور تعلیم کی برکت سے آدمی بن گئیں۔ پندرھویں روز تیسرے ہفتہ کو ہم نے قران مجید اور اعمال نامہ تحفہ آخرت زاد سفر شروع کیا ۔ ایک مہینے کے بعد مجھے ہمہ تن مستعد پا کر استانی جی نے اوقت کی بھی پابندی کرا دی۔ صبح کو بعد نماز چھوٹی چھوٹی دعائیں درود راہ نجات پڑھ کر قران شریف اور تحفہ آخرت کا سبق لیا۔ یاد کر کے پھر سرے سے وہاں تک پڑھ کر اس کے بعد تختی لے کر نام ہندسے جی سے بنائے۔ رقعہ لکھا اصلاح لے کر مشق کی پھر کھانا کھایا۔ تھوڑی دیر لیٹ رہی۔ کچی گھڑی کے بعد اٹھ کر حساب کے قاعدے سیکھے امتحان دیا۔ ہماری سمجھ کے موافق ہم سے سوال ہوئے۔ جواب دے سکے تو واہ واہ نہیں بیوی نے ہندی کی چندی کر کے سمجھا دیا۔ آگے چھوڑ پیچھے دوڑ نہیں کی۔ پھر مسئلے مسائل کی کتاب کھلی۔ دو سبق اس وقت ہوئے دو بجتے بجتے انھیں ازبر کر کے نماز کو گئی۔ بعد نماز قران پاک کا سیپارہ پڑھا۔ پھر جالی کاڑھی۔ پھر سینا پرونا لے بیٹھی۔ کچھ کترا کچھ بیونتا۔ چکن کی چیزوں میں قسم قسم کی بوتیاں پھول پتیاں بنائیں ۔ ریشم سوت کا کام کیا

ریختہ صفحہ 59
مُرّی گتّی تیچی پھندا بخیہ زنجیرہ دھوم وغیرہ کے نمونے کاڑھے۔ کبھی زردوزی کا ایک آدھ ٹانکا بھرا کبھی جالی لوٹ پر آڑھی ترچھی بیلیں پھول ڈالے۔ دوپٹے اچکن ٹوپیاں کرتے چھوٹے کپڑے سی پرو کر رکھ چھوڑے تھے۔ گنڈے دار کام کیا جاتا تھا۔ آج کرتے میں کچھ بنایاکل انگرکھے میں کاڑھا۔ پرسوں اوگی میں زردوزی بنائی۔ کبھی کٹاؤ کا کام کیا کبھی دھوم کا۔ نادؔر پاٹ چندؔیری ملؔمل محموؔدی تؔنزیب ادؔھی کریؔب قلؔندر اصؔحن رادھا نگری اکرنگا یہ کپڑے اس زمانے میں تھے یہی منگوا رکھے تھے۔چار بجے استانی جی اپنے کھانے کے سامان میں مصروف ہوئیں اور ہم کو چھٹی ملی۔ اس وقت بھی اچھل کود نہ تھی نہ المل ٹلمل۔ نہ ہم نے کودکڑے مارے نہ زغندیں بھریں نہ کھلنڈرا پن کیا۔ مغرب کے وقت تک گڑیاں کھیلیں لیکن وہاں بھی ایسی قسم کی باتیں کیں جن سے عقل کی تیزی ہو۔ کبھی پہلیلیاں بجھوائیں کبھی شادی بیاہ کا حساب کتاب لکھوایا۔ کبھی چنگنوں سے سوال کئے کبھی گڑیوں سے رنگنے جوکھنے کی بحث کی۔ کبھی کھانے پکانے ریندھنے کی زبانی ترکیبیں بیان کیں۔ اسی میں کبھی نماز مغرب کا وقت آ گیا اور کبھی کچھ دن کم رہا کہ ہم دوبارہ اماں جان کے پاس کھڑے کھڑے ہو آئے۔ کوئی دن ایسا بھی ہوا کہ فقط منہ اندھیرے سلام کو جانا ہوا۔ نہ کھانے کے وقت جا سکے نہ کچھ دن رہے۔ مہلت ملی۔ اک دن استانی جی نے فرمایا کہ جمعہ کو کوئی کام نہیں ہوتا، سویرے سے نہا دھو کر فرصت کر لیا کرو۔ ایک بجے نماز پڑھ کر اس دن ہنڈیا کلیا پکایا کرو تو بہت مناسب ہے۔ سب ہنروں میں یہ ہنر مزیدار ہے۔ آج میں بیگم صاحب سے اجازت لے لوں۔ میں نے کہا کہ ان سے پوچھنے گچنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ میری تکلیف اور ایذا

ریختہ صفحہ 60
کے خیال سے اب تب میں الجھا دیں۔ اور میں اس با مزا فن سے محروم رہ جاؤں۔ استانی جی مسکرا کر چپ ہو رہیں۔ پھر فرمایا اچھا تمہاری خوشی نہیں ہے، نہ کہوں گی۔جمعہ جو عموماً لڑکے بالوں کے کھیلنے کا دن ہے۔ اور چھ روز برابر جسے یاد کیا کرتے ہیں اسے بھی ہم نے اپنے لئے ایک بہت سخت کام کو تجویز کر لیا۔ دو روز باقی تھے۔ ہم نے جلدی جلدی نانا جان سے کہہ کر چھوٹی چھوٹی آٹھ دس پتیلؔیاں کؔرچھی چؔمچہ کؔفگیر سؔینی لگؔن کؔڑاہی ماؔہی توا منگوا کر قلعی کرایا۔ جمعہ کو بسم اللہ کر دی۔ جو کام بڑھتا تھا اپنا وقت آپ نکال لیتا تھا۔ اب جمعہ کے علاوہ آٹھ ہی دس دن بعد ہم نے ایک وقت روز استانی جی کی تکلیف بچائی اور محنت بٹائی۔ مہینہ بیس روز کے اندر دونوں وقت ہمارے ہی ہاتھ کا کھانا استانی جی کھانے لگیں۔ ایک دن میں نے کئی طرح کے کھانے پکائے تھے استانی جی نے الگ لے جا کر کہا کہ اپنی والدہ کے نام پر ہاتھ اٹھا دو۔ (فاتحہ پڑھ دو) اس روز تک ہم کو ترکیب نذر و نیاز معلوم نہیں تھی۔ میں چپ ہو رہی۔ انھوں نے قرینے سے پہچان کر ترکیب بتائی۔ فاتحہ دے کر اس کی نسبت استانی جی سے باتیں کر کے اپنا اطمینان کیا۔ ہمیشہ سے میرا معمول تھا کہ جو نئی بات سنتی تھی اس کی اُت گت پوچھ لیتی تھی۔ اچھے اچھے کھانے پکنا تو آٹھویں روز پر منحصر تھے ۔ اس دن سے ہر روز چند سورتوں کا پڑھ کر بخشنا اپنے اوپر فرض کر لیا۔ رات کو ہر نماز اور کھانے اور سبق دیکھنے کے بعد سے سوتے وقت تک طرح طرح کی نصیحت اور عبرت سے بھری ہوئی نقلیں اور کہانیاں کہا کرتی تھیں۔ ایک دن ایک خواب کا تذکرہ کیا جو کسی لڑکی ے دیکھا تھا۔ اور وہ اس کی تعبیر کے واسطے ہماری استانی جی کے والد ماجد کے پاس آئی۔ انھوں نے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 61
فرمایا زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تم درمیان مغربین دو رکعت نماز پڑھ دیا کرو۔ ان شاء اللہ پھر اپنے والدین کی بہت اچھی طرح زیارت کرو گی۔ اس لڑکی نے ایسا ہی کیا۔ بلا ناغہ نماز پڑھی۔ یا لگاتار ماں باپ کو برے حالوں میں دیکھتی تھی یا آ کر مولوی صاحب کے قدموں پر گر پڑی اور سینکڑوں دعائیں دیں۔اس بیچاری نے اپنے ماں باپ کو فقر و مصیبت کی حالت میں ہاتھ پھیلائے دیکھا تھا کہ ایک ایک سے گھگھیا اور گڑگڑا کر کچھ مانگ رہے ہیں اور دونوں یاس و ہراس کے پتلے ہیں۔ چہروں سے حسرت و مایوسی ٹپک رہی ہے۔ اپنی لڑکی کو دیکھ کر ادھر بھی آئے اور آنکھ بھوں سے اشارہ کر کے بُدر بُدر کچھ مانگا پھر دانت نکال کر ہاتھ بڑھا دئیے۔ یہ ان دونوں کو پہچان کر سوتے سوتے چیخ مار کر اچھل پڑی۔ جب نماز کی برکت اور اس کے ہدیے کے سبب سے خدائے پاک نے ان پر رحم فرمایا اور میر صاحب سے عرض کیا تب انھوں نے نماز پڑھے جانے کی تاکید کی اور فرمایا کہ جو کچھ ہو سکے صدقہ خیرات بھی کر دینا۔ میں نے استانی جی سے اس نماز کی ترکیب پوچھی اور اسی دن سے اس نماز کو اپنے اوپر واجب کر لیا، آپ لوگ دیکھتے جاتے ہیں کہ میرے کام کس قدر بڑھ رہے ہیں اور پرانا دن جتنا اور دن کے لئے اتنا ہی میرے واسطے بھی ہے۔ لیکن میری ہمت اور ارادے کی طرح خدا نے اس کو بھی بڑھا دیا تھا۔ اپ اپنے دل میں یہ نہ خیال کریں کہ ایک بولی ہزار کام کیونکر ہوتے ہوں گے۔ ہم لوگوں کے متوجہ کرنے کو لکھ دئیے ہوں گے۔ یا اپنی رسوخیت جتانے کو ہو تو یہ بات نہیں ہے۔ میں نے اس کتاب لکھنے میں اور اقراروں کے ساتھ یہ بھی عہد کیا ہے کہ جھوٹ نہ بولوں گی۔ برس دن تک تو وہی معمولی چھوٹے مشغلے رہے۔

ریختہ صفحہ 62
برس دن کے بعد میری عمر کے ساتھ استانی بیوی نے میرے کام بھی بڑھانے شروع کئے۔ ہر مہینے اک نہ ایک نیا کام ضرور ہی سکھاتی تھیں۔ آخر کو بڑھتے بڑھتے ان گنتی ہو گئے۔ جس کام کا سکھانا منظور ہوتا تھا پہلے اس کی اچھائی بیان کر ے تعریف سے تمہید اٹھاتی تھیں۔ پھر اس کا سامان درست کر کے میری مہلت کے وقت اسے خود لے بیٹھتی تھیں۔ نئے ہونے کی وجہ سے وہ خواہ مخواہ اچھا معلوم ہوتا تھا اور میں خود عرض کرتی تھی کہ استانی جی ہ بھی کام ہمیں بتا دیجئیے۔ اسی صورت سے آٹھ برس کی عمر تک انھوں نے مجھے دنیا بھر کے ہنر اور پیشوں میں کامل کر دیا۔ اور طرہ یہ تھا کہ کوئی کام میں نے پہر دو پہر کرنا نہ سیکھا نہ کیا بلکہ ہر روز تھوڑا تھوڑا یہ بھی کیا وہ بھی۔ ہوتے ہوتے برس چھ مہینے میں خوب اس پر ہاتھ بھی صاف ہو گیا۔ اور کوئی نہ کوئی چیز پڑی ملی۔ زیادہ مصروف ہو جانے میں وقت بھی برباد ہوتا ہے اور بوجھ پڑنے سے دل اچٹ جاتا ہے اوبھے ہوئے جی اور اچٹی ہوئی طبیعت کا کوئی کام کیوں نہ ہو بے کینڈے ہو جاتا ہے۔ میرے اکتا جانے کے احتمال سے انھوں نے یہ عمدہ طریقہ میرے لئے نکالا تھا ۔ بسم اللہ کی مبارک تقریب سے میرے جتنے مان گون ہوئے ان کے سب کام استانی جی کے صدقے سے میں نے آپ ہی کئے۔ کسی کو جھوٹوں ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ بن ماں کی بچی اور اس کی اس قدر اللہ امین ہو۔ یہ اس کی بندہ نوازی تھی ۔ ہر برس سالگرہ کے علاوہ ایک نہ ایک اور بھی خوشی کی تقریب ناناجان اپنی محبت اور امارت کی وجہ سے ٹہرا دیتے تھے اور کیا عجب ہے جو اسی کے پردے میں میری گھرداری اور سلیقہ شعاری کا امتحان لینا بھی منظور ہوتا ہو۔ اور یہ بھی مقصود ہو کہ چھوٹا بڑا سہل مشکل کوئی کام ایسا باقی

ریختہ صفحہ 63
نہ رہ جائے جو اس کو نہ آئے۔اور نئے ہونے کی وجہ سے بار نہ پڑے۔ رمضان مبارک میں نواب صاحب نے نہ صرف میرا سلیقہ اور سگھڑاپا دیکھنے کو ایک سال پانچ سو آدمی کی دعوت کر دی۔ ظاہر میں تو یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں معلوم ہوتی ۔ ہزاروں کا سامان مہمانی مہیا ہو سکتا ہے سینکڑوں کیسے۔ مگر اس کے ضمن میں جو جو مشکلیں اور قابل خیال کرنے کے باریک باتیں ہیں وہ ایسی ہیں کہ ان کے لکھنے سے بات بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ مگر خلاصہ یہ ہے کہ ایک تو ہر شخص کی طبعیت اور عادت جدا جدا ہوتی ہے روزہ رکھ کر تو مزاج بالکل طعنہ شاہ کا سا ہو جاتا ہے۔ ذرا سی بات بری معلوم ہوتی ہے۔ کوئی نمک پانی سے روزہ کھولتا ہے کوئی خالی نمک سے۔ کوئی خرمہ یا چھوہارے سے روزہ کھولتے ہی کھانا کھانے کا عادی ہے کائی گرم مزاج ہے کوئی سرد مزاج۔ کسی کو برف ضرور ہے کسی کو آبشورہ۔ کوئی پکوان اور چٹپٹی چیزوں پر رغبت کرتا ہے کہ سیٹھا پھیکا منہ کھلے۔ کوئی مٹھاس پر میل کرتا ہے۔ یہی نمک مرچ ہے کوئی کھاتا ہے کوئی نہیں کھاتا ہے۔ کسی کو ترشی بھاتی ہے کسی کا مٹھاس سے جی متلاتا ہے۔ کوئی روزے کی حرارت سے ٹھنڈی چیزیں کھاتا ہے کوئی شربت اور فالودے کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ الغرض سوندھی ٹھنڈی میٹھی سلونی چٹپٹی کھٹ مٹھی گرم سرد میوہ ترکاری پکوان برف آبشورہ پانی دانہ یہ وہ وغیرہ وغیرہ الّم غلّم غرض دنیا بھر کی چیزیں افطاری میں چاہئیں تا کہ بروقت خواہش و رغبت یہ آواز کان میں نہ آئے کہ اے ہے کالی مرچ نہیں ہے۔ سب سےبڑھ کر جو لحاظ کرنے کی بات ہے وہ یہ کہ سب مہمان اور وہی ایک دسترخوان ۔ جو شے ہو سب کے آگے ہو چاہے اسے بھائے چاہے نہ بھائے۔ چاہے کھائے چاہے نہ کھائے

ریختہ صفحہ 64
ایک کی خاطر سے سب کی خاطر کرنا پڑتی ہےاور ایک کے خیال سے سب کا خیال مقدم ہوتا ہے۔ جس کا حاصل اور نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز ہو پانچ سو جگہ ہو۔ ایک ہی دسترخوان پر ایک ہی سا سامان بھی ہونا چاہئیے۔ ورنہ سو عیبوں سے بھرا وہ دسترخوان ہو جائے گا۔ اگر سینکڑوں چیزیں دسترخوان پر ایک آدمی کے سامنے چنی یا لگائی جائیں تو یہ بھی خیال ہے کہ فقط نمک اور کالی مرچ لینے کو پیسے ڈولی جانا پڑے گا۔ جہاں تک ہو سکے قریب ہی ہو۔ یہ نہ ہو کہ دروازہ کھولتے ہی اٹھا بیٹھی کرنا پڑے۔ اس لئے میں نے اپنی عقل کے موافق جتنی چیزیں اس دن افطاری کے واسطے میرے ذہن میں تھیں اور جن کی فصل تھی وہ ایک پرتکلف کشتی کے اندر جس میں کچھ اوپر دو سو تشتریاں تھیں۔ ایک جگہ لگا دیں۔اور تشتریاں بہت چھوٹی چھوٹی منگائیں اور چیزوں کے علاوہ چکنی ڈلی الائچی کی منی منی ڈبیاں بھی رکھ دیں۔ انھیں میں سے ایک ڈبیہ کے اندر افیم بھی تھی۔ اسی کے قریب ایک چھوٹے سے شمع دان میں مچلی کی شمع روشن ڈبیہ پر افیون لکھا ہوا صاف اسی روشنی میں پڑھا جاتا تھا۔ بہت لوگ افیون پیتے اور کھاتے ہیں مگر ایسے وضعدار ہیں کہ با وصف عادی ہونے کے اس کو عیب جان کر مانگنے میں عار کرتے ہیں جو کھاتے ہیں انھوں نے کھائی۔ جو نہیں کھاتے انھوں نے ہنسی میں اڑائی۔ ایک کا حال دوسرے پر نہیں کھلا۔ نہ صاحب خانہ کو معلوم ہوا۔ اتنی بڑی دقت کی تو دعوت اور نانا جان نے چار پانچ روز قبل مجھے حکم دیا کہ پندرھویں کو جمعہ کے دن ہم نے دعوت کی ہے اور کوئی پانچ سو آدمی ہیں۔ اسی دن ان شاء اللہ تم روزہ بھی رکھنا۔ ذرا تکلف سے سامانِ دعوت ہو۔ میں نے بہت اچھا کہہ کر اسی وقت سے تیاری شروع کر دی۔ فرد بنائی۔ چیزیں

ریختہ صفحہ 65
منگائیں۔ کئی ہزار تشتریاں جمع کیں۔ دس تھان مارکین کے منگائے۔ ان کے دو دسترخوان بنائے۔ دو گھڑی دن رہے سے دونوں بڑے دالانوں میں اندر باہر وہی دسترخوان بچھائے اور مردانہ کر کے میں قنات میں چلی آئی۔ پھر کشتیاں چنوا کر باہر بھجوائیں۔ پچاس ساٹھ کشتی باہر جا چکی تھیں جو مجھے خیال آیا کہ لو میری بھول کو دیکھو۔ دیگ میں پانی چڑھوا دیا کیتلیاں سب نکلوا لیں چائے کے ڈبے پاس رکھ لئے پیالیوں کے سامنے نہ ہونے سے چائے بھیجنا رہ گئی۔ یہ کہہ کر ادھر تو میں نے کھولتے ہوئے پانی میں چائے ڈالی اور رحمت سے پیالیاں لانے کو کہا۔ اور ادھر چائے کی مانگ ہوئی۔ میرا دل اس وقت ایسا خوش ہوا جس کی انتہا نہیں۔ فوراً دودھ ملائی قند شکر بسکٹ شیر مال کشتیوں میں لگا کر پیالیوں کے ساتھ باہر بھیجا۔ اتنے میں چائے نے دم کھایا۔ کیتلیاں بھر کر بھجوائیں۔ ادھر سے تو خدمتگار کشتیاں لے چلے اور وہاں سے اباجان نے پکار کر پوچھا کہ رسول بخش ذرا دریافت تو کرو کہ چائے بھی بنی ہے؟ اس نے کہا حضور لئے تو آتا ہوں۔ نانا جان چبوترے پر بیٹھے تھے۔ اسے بلا کر کشتی پوش اٹھا کر دیکھا اور ہنس کر فرمایا کہ لے جاؤ الحمد للہ کسی چیز کی کمی نہیں۔ گو پہلے روزے کا دن تھا لیکن دل و دماغ میرے کہنے میں رہے۔ نہ میں گم صم تھی نہ گپ چپ۔ آدمیوں نے بھی خوب ہی دل توڑ کے کام کئے۔ روزہ کھولنے اور نماز پڑھنے کے بعد کھانا رکھا جانے لگا۔ جن نشانوں میں دسترخوان پر افطاری کی کشتیاں رکھی تھیں اب وہاں کھانا چنا جانے لگا۔ آدمیوں سے کہہ دیا تھا کہ ہر آدمی کا حصہ ان نشانوں کے اندر رہے جو چو طرفہ سے حد باندھ کر ایک چھوٹے سے دسترخوان کی شکل پر ہے۔ جتنے برتن کھانوں کے ایک روزہ دار کے لئے تجویز کئے تھے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 66
وہ جتنے کپڑے پر آئے تھے اتنے جگہ میں نے پکا رنگ بنا کر چھاپے سے ایک بیل چوطرفہ چھاپ دی تھی اور اسی حلقے کے اندر برتن رکھنے کے چھوٹے بڑے نشان تھے، کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ پڑی۔ جو نشان خالی رہا اس نے آنکھ دکھا کر اپنا حصہ مانگ لیا۔ درمیان میں ادھر ادھر جو مقام خالی تھےاس میں سفید کپڑے پر طرح طرح کے مختلف رنگوں کے پھول بوٹے بنے ہوئے تھے۔ بہت باغ و بہار دسترخوان تھا۔ جو سرا مہمان روزہ دار کے پاؤں پاس تھا، بیچوں بیچ بیل میں یہ فقرہ اس پر بڑے موٹے قلم سے لکھ دیا تھا کہ (نوشجان شیر مادر) یہ دسترخوان شادی بیاہوں میں دیکھنے کے لئے منگوایا جاتا تھا۔ جو کھا کر اٹھا نہایت شکر گزار تھا۔ جب زنانہ ہوا اور میں ناناجان کے سامنے گئی بے اختیار دوڑ کر مجھے گلے سے لگایا اور ہاتھ چومے۔ فرمایا کہ شاہی خاندان کے لوگ اور چند خوش خوراک دماغ دار رئیس تو ایسے خوش گئے ہیں کہ جس کی انتہا نہیں۔ اور انھیں کے خیال سے میں نے تم سے زیادہ اہتمام و تکلف کے لئے کہا بھی تھا۔ غریب بیچارے تو ہر نوالے پر رال ٹپکاتے اور دسترخوان دیکھ کر باغ باغ ہوئے جاتے تھے۔ میں نے ان کے اقبال اور خوش نیتی و سیر چشمی وغیرہ کی تعریف شروع کی تھی کہ اماں جان کالا دانا اور انگیٹھی لئے ہوئے میرے پاس آئیں۔ کالا دانا اتارا ، ماتھے پر نظر کا ٹیکا لگایا۔ میں نے کاغذ حساب اور ہزار روپیہ جو خرچ سے بچے تھےنانا جان کے آگے رکھ دئیے۔ انھوں نے کاغذ اٹھا لیا اور اماں جان سے دو ہزار روپیہ اور منگا کر ان روپیوں میں ملائے اور شہ درے والے باغ سمیت مجھ کو عنایت فرمائے۔ پھر ایک سونے کی مہر جس کے نگ میں فخرالنساء کھدا تھا مجھے مرحمت فرمائی اور یہ خطاب عنایت کیا۔ اباجان نے کہا کہ حضور یہ تو اس کی خدمتوں کا صلہ اور محنت

ریختہ صفحہ67
کی مزدوری ہوئی جاتی ہے ۔ ناان جان نے ایک نہ مانی اور فرمایا کہ بخدا نہ یہ صلہ ہے نہ انعام و اکرام۔ آج میری بچی نے روزہ رکھا ہے۔ اس کی خوشی میں دیتا ہوں۔ اور اپنے دل کی خوشی کرتا ہوں۔مزدوری تو خدا سے ملے گی۔ میں نے سو روپیہ اندر باہر کے آدمیوں کو بانٹے۔اتنے میں استانی جی کے آنے کی خبر ہوئی ، پردہ ہوا نانا جان نے صاحب سلامت کے بعد فرمایا کہ استانی جی حق تو یہ ہے کہ آپ نے ہمیں مول لے لیا زبان نہیں جو آپ کی تعریف ہو سکے۔جس قدر آپ نے اس بچی کی نسبت محنت اور مشقت کی ہو گی اس کا اندازہ ہمارے تصور سے نہیں ہو سکتا۔ سبحان اللہ کیا حسن تعلیم اور کیا طرزِ طبیعت ہے ۔ استانی جی نے نہایت دھیمی آواز سے کہا کہ آپ مجھے معجوب نہ فرماویں میں نے کیا کیا۔جو جو باتیں ہوئیں سب شدنی تھیں۔ منظورِ خدا یوں ہی تھا۔ دنیا پر ہر شخص تھوڑے ہی دن کے لئے آتا ہے اور نیکی بدی ایسے دو دوست دشمن ہیں کہ ہر شخص کے ساتھ ساتھ سائے کی طرح موجود رہتے ہیں۔نیکی سے ربط بڑھانا اور بدی کو منہ نہ لگانا ہر شخص کی اختیاری بات ہے آنکھ کان عقل سب خدا کے دئیے ہوئے اس کے پاس ہیں تو حق و باطل خیر و شر نیکی و بدی میں بخوبی امتیاز کر سکتا ہے۔ ڈھیل دے دینے کی تو مت ہی اور ہے کوئی بدنصیب دنیا چھوڑنے کے بعد برائی سے یاد کیا جاتا ہے اور کائی خوش نصیب نیکی سے۔ جانا تو اک دن ضرورہے۔ بدی ساتھ چھوڑ کر خود ہی پیچھے رہ جاتی ہے۔ رہی نیکی اس کی یاد بہت کم آتی ہے۔ خدا وند عالم گو بڑا توانا ہے مگر اس کی یہ عادت نہیں کہ کسی کے مرنے کے بعد اسی صورت شکل سیرت خصلت کا دوسرا آدمی پیدا کر دے ، اکثر ماؤں کی صورت سیرت لڑکیوں میں ہوتی ہے جن کے دیدار سے کبھی کبھی ان مر مٹوں کی یاد آ جاتی ہے۔ چونکہ میں تن تنہا ہوں اور

ریختہ صفحہ 68
خداوند عالم کو میری خو بو سیرت خصلت ہنر سلیقہ دوسے کو عطا کرنا منظور ہوا اسلئے اس نے غیب سے یہ سامان کر دئیے۔ اس کے فضل و کرم سے آسانی بھی ایسی ہو گئی جس کے شکر میں میری زبان قاصر ہے۔ میں کیا ہوں اگر لقمان بقراط بھی چاہتے اور دوسرے میں مادہء قبول نہ ہوتا تو ہزار برس میں بھی یہ بات حاصل نہ ہوتی جو چار برس میں یہاں ہوئی، اب طاہرہ بیگم ما شا ءاللہ
(حف نظر) میری کل اچھی باتوں کی پوری تصویر ہے۔ جنھوں نے مجھے مدتوں دیکھا ہے اور بعد میرے مجھے پھر دیکھنا چاہیں گے تو طاہرہ بیگم کی زیارت کر لیں گے۔ اس بات کا بھی میں نے بڑا لحاظ رکھا ہے کہ میری کسی بد عادت اور بری خصلت کا اس پر اظہار نہ ہو حالانکہ اس میں بری بات سیکھنے اور قبول کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے۔ اس پر بھی میں نے بڑی احتیاط سے کام لیا ہےخدا اسے پروان چڑھائے اور عمر طبعی کو پہنچائے اور ابھی کیا ہے یہ زمانہ تو بچپنے کی کمزور عقل کا ہے کچھ دن اور گزریں پھر خدا کے صدقے سے اس کی عقل کی روانی اور فکر کی تیزی دیکھئیے گا۔ تمام زمانے کے لڑکے بالے نازوں کے پالے کہلاتے ہیں آپ کی بچی ہنروں کی پالی ہے۔ یہ کام جو اس اکیلی بچی نے مردا مردی اور سماندھانی سے انجام کو پہنچایا ہے حقیقت میں لائق داد ہے۔ اور پھر پہلے روزے کا دن اس کی بساط اس کی عمر اور اسکی عقل سے کہیں بڑا ہے۔ لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اس سے ہزار درجے بڑھ کر یہی بچی کام کرے گی۔۔ (ناناجان) وہ کون سا کام؟ (استانی جی) "نواب صاحب وہ اس کے بیاہ جانے کے دن سے آخر تک کا کام ہے لمبا چوڑا تو اس قدر اور نازک اتنا کہ اک ذرا میں اس کے بگڑ جانے اور خراب ہونے کا کھٹکا جسکے نہ گئی ہو بوائی وہ کیا جانے پیر پرائی۔ نیا پانی نیا دانہ نئی دنیا نیا زمانہ عالم نرالا سابقہ انوکھا رشتہ بودا

ریختہ صفحہ 69
ساتھ مضبوط اک اک خوردہ گیر ایک ایک نکتہ چین نازک مزاجیوں کی گرم بازاری گھر کی جھڑکیوں کی آؤ بھگت امتحانوں کا زور ذری سی بات پر گرفت کبھی دانتا کلکل کبھی سانسا۔ کبھی چھیڑ چھاڑ کبھی جلاپا کوئی بنی بنائی کو ٹھیک بنائے گا کوئی سیدھی سادی کو آڑی ترچھی سنائے گا۔ تانسنا اک دل لگی ہو گی اور جلانا ہنسی کوئی چھچھلیان کہلائے گا کوئی پیاز کے سے چھلکے ادھیڑے گا۔ پتامار اسون کھینچی مٹھو سی اور گھٹور ہو گئی۔ جواب دیا کلے دراز اور تنتنے باز کہلائی۔ بڑوں کی تلینڈو چھوٹوں کی کھلونا بھاری بھر کم بنی چھاتی کی پتھر ہے ہیل میل کر کے بیٹھی دوبھر ہے۔ ساس نندوں کی دشمنی جولاہے کا تیر شیر و شکر ہونا ٹیڑھی کھیر ماما اصیلون کی دھاک میاں موم کی ناک۔ آئے گئے بھوک بنائیں اپنے بیگانے بیوی بنو کہہ کر صلواتیں سنائیں۔ ساس کے خوف سے گابھنی گابھ ڈالے نندوں کے ڈر سے پیٹ میں غم پالے۔ وہی بہو جو ابھی پیاری اور راج دلاری تھی، تھوڑی دیر میں بھونڈ پیری اور آفت کی ماری ہے۔کبھی چاہ اور چونچلا ہو رہا ہے للّو پتو ہے کبھی نام دھرا جاتا ہے۔ بوڑھی ڈھڈو ہے ایک ایک جز بز ہو رہا ہے۔ ایک ایک تن پُھن جوہے۔اس کا آلہا گاتا ہے نیا راگ سناتا ہے۔ایک پیلے ڈالتا ہے دل کا غبار نکالتا ہے ایک بھلی چنگی کو دیوانی باؤلی بناتا ہے۔ اٹھنا بیٹھنا ،چلنا پھرنا ،سونا جاگنا، کھانا پینا ،اوڑھنا پہننا ،تراش خراش، وضع طرح، راہ رویہ، ادب قاعدہ، شرم لحاظ ،بات چیت، چال چلن ،نشست برخاست، ہنسنا بولنا ،ہر اک پر جدا جدا اعتراض کی نظریں پڑنا، بے ماندگی دکھی ایڑیاں رگڑ نا ،پرکھوں کو پنوانا ،چرکے پر چرکے کھانا، تھوڑا تھوڑا ہو کر رہ جانا ،کڑوی چیز کو شربت کے گھونٹ کی طرح پینا بدمزگی سے جینا ہر وقت کا ملال اس پر اپنی حد کا ملال، دل پر چوٹ سہنا

ریختہ صفحہ 70
اپنے تئیں لئے رہنا دشمنوں کو دوست بنانا آپے سے باہر نہ ہو جانا، آن بان سے بسر کرنا، دلوں میں گھر کرنا، تلخیوں کا ذائقہ چکھنا، اپنی بات کا رکھنا، عزت کا بچانا، جی نہ چرانا، بیدل نہ ہونا، آبرو نہ کھونا، زبان کو لگام دینا، دل کو تھام لینا ، ان کہی سننا، سر نہ دھننا، کھوٹے کھرے کا پرکھنا ، اپنی حقیقت پر دھیان رکھنا، افتوں کا ٹالنا، گرتے پہاڑ کو سنبھالنا۔ سب کی سن لینا، سمجھ کر جواب دینا،برابری کا دعویٰ نہ کرنا ، مقابلے پر سامنے نہ ٹہرنا، بچوں کی رکھیا اپنا رکھ رکھاؤ ، چوٹ چپیٹ سے بچاؤ، مٹھی میں بگڑی ہوا کا تھامنا، آگ بارود کا سامنا، ہر صبح کا دکھڑا ہر شام کا کھڑاگ، ہر روز کی کھیکھڑ ہر وقت کی کھٹ کھٹ، ہر گھڑی کی تُو تُو مَیں مَیں، ہر ساعت کی دُر دُر پِھٹ پِھٹ ۔ یہ ایک ایسا کٹھن اور مشکل کام ہے کہ بہت بُری دل پر ٹھن جاتی ہے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے جان پر بن جاتی ہے۔ خدا ہی بیڑا پار لگائے تو دریائے مقصد کا کنارا ہاتھ آئے نہیں تو ہزاروں ناویں اسی کی خشکی میں ڈوب گئیں۔یہ ایسا بے کنارے کا دریا ہے جس سے مل کر آبرو بچانا بڑی سرتی اچوک چونکال پرانی کھوپڑی والے کا کام ہے۔ ہزاروں نے گھٹ گھٹ کر لال سی جان دے دی۔ہائے سینکڑوں پھوٹ پھٹک کر الگ ہو گئے ہزاروں دھڑکن اور خفقان کا روگ لگا کر سوکھ سوکھ کر کنڈا ہوئے۔ ہزاروں نے ہاتھ پاؤں مارے مقابلہ کیا۔ سچ پوچھئیے تو یہ ہوں یا اور میرے نزدیک سب کے سب اپنے آپ دشمن تھے۔ نہ عقل کو صرف کیا نہ نیک پھل پائے۔ سمجھدار وہی ہے جو اس کام کو خوبی اور خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچائے۔ سانپ مرے اور لاٹھی نہ ٹوٹے۔ نہ بات جائے نہ ساتھ چھوٹے۔ جس طرح ظاہر میں صورت شکل رنگت انگلیٹ ایک
 

اوشو

لائبریرین
افسانہ نادر جہان

صفحہ ۔۔۔ 176

صالحہ بیگم صاحب میری ساری باتیں سنا کیں اور پھر کہا تو یہ کہا کہ میری بچی میں تجھ پر ہزار جان سے قربان، تو نے مجھے بال بچوں سمیت مول لیے لیا اور پھر آزاد کر دیا۔ عمر بھر یہ احسان نہ بھولوں گی۔ ماشاءاللہ چار دن تو میں اس اوٹ پٹانگ چھوکری کو جس کی کوئی کل اونٹ کی طرح سیدھی نہ تھی، کیسا ہموار اور درست کر لیا۔ یا میں صورت دیکھنے سے جلتی تھی یا گھر بیٹھے پیار چلا آتا ہے۔ میں نے کہا بیگم صاحب دیکھیے آپ کا یہ فقرہ بھی (کہ کوئی اونٹ کی طرح سیدھی نہ تھی) مجھے نہیں پسند آیا۔ اگر آپ کو ناگوار نہ گذرے تو میں عرض کروں (صالحہ بیگم) نہیں بیوی تمہاری بات اور ناگوار گذرتے۔ خدا معلوم میں تمہیں سمجھتی کیا ہوں۔ میں نے کہا کہ خداوند عالم نے اونٹ کو عجیب الخلقت صرف اپنی قدرت خلاقی دکھانے کو بنایا ہے اور یہی سبب ہے جو قرآن مجید میں حکم دیتا ہے کہ دیکھ تو اونٹ کی طرف کیونکر پیدا کیا گیا۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ پیدا کرنے والے کی قدرت کو دیکھ بظاہر بےہنگم کا واک چار ہاتھ کی گردن پر ہڈا اور پھر اس سے کیسے کیسے کاموں کا نکلنا۔ خدا تو اس کو اس شکل پر ایک مصلحت خاص سے بنائے اور ہم اونٹ کی کسی کل کو سیدھا نہ سمجھ کر اپنی جہالت سے ٹیڑھی راہ چلیں اور عیب لگائیں تو آپ ہی بتائیے یہ اس کی کاریگری پر نام دھرنا ہے یا نہیں۔ صالحہ بیگم نے دونوں ہاتھوں سے جلدی منہ پر توبہ توبہ کہہ کر تھپڑ مارے اور کہا کہ اے ہے سچ تو ہے کسی نے کیا بری مثل کہی ہے۔ نوج کوئی اس نگوڑی مثل کو یاد کرے۔ خداوند میری خطا معاف کرنا، میں نہ جانتی تھی۔ گو میں نے دیکھا نہیں مگر تیرے اونٹ بنانے کے صدقے۔ میں اس فقرے پر مسکرا کر رہ گئی اور سارا گھر ہنسنے لگا۔ کوئی پہر بھر ٹھہر کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 177

صالحہ بیگم رخصت ہونے لگیں۔ میں نے کہا جی چاہے تو وجیہ النسا بیگم کو لیتی جائیے۔ کہا کہ نہیں بیوی میں لے جا کر کیا کروں گی۔ میں تو دیکھ چلی، رہے ان کے باپ ان سے خیریت کہہ دوں گی۔ پھر اور ہے کون جس کے لیے لے جاؤں۔ میر نقش علی صاحب پیشہ وروں میں سے تھے۔ چکن اور کامدانی کی چیزیں بنا بنا کر بیچتے تھے۔ جتنے بچے ہوتے گئے، خرچ بڑھتا گیا۔ خدا نے ان کے کام میں بھی ترقی دی۔ دو سے چار کاریگر ہوئے۔ چار سے آٹھ رفتہ رفتہ کارخانہ ہو گیا۔ جیسے وجیہ النسا میرے ہاں آئیں اس سال سے دن دونی رات چوگنی ان کے کاروبار میں رونق ہو گئی۔ جب بیوی میرے یہاں سے گھر پہونچیں اور میر صاحب رات کو آئے تو انہوں نے یہاں کی سب باتیں دہرائیں جن کو سن کر میر صاحب کی باچھیں کھل گئیں اور کہا کہ ایک دن تو لڑکی کو بلاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں کہ چودہ پندرہ مہینے میں کیا کیا سیکھا۔ بیوی نے کہا بلانا تو میرے اختیار میں ہے مگر میں بلاؤں گی نہیں، اور کیا عجب ہے جو لڑکی خود نہ آئے۔ میں پہر بھر کامل وہاں بیٹھی اس نے آنکھ اٹھا کر میری طرف نہ دیکھا کہ یہ ماں ہے یا کوئی غیر عورت۔ قرآن شریف گردان کر کتاب اٹھائی، کتاب پڑھ کر رکھی تختی لے بیٹھی۔ اس سے فرصت ہوئی بقچی کھل گئی۔ چار دن پانچوں سر جوڑے اپنا اپنا کام کیا کیں۔ میں تو چلی آئیں، نہیں معلوم اس کےب عد پھر کون کون سے کام کئے۔ فرصت کس وقت ہے جو کوئی بلائے اور بلائے ہزار جب وہ آئے بھی۔ تمہاری خوشی ہے میں کل کسی کو بھیج دوں گی۔ دوسرے دن انہوں نے یہ سب باتیں بختاور دلہن سے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ دس روز میں میرے اصغر کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 178
دودھ بڑھائی ان شاء اللہ وہ گی۔ اس دن قصد ہے کہ استانی جی کو بھی لاؤں اور لڑکیوں کو بھی بلاؤں۔ وہ چپ ہو رہیں۔ بدھ کو بختاور اور دولہن پہونچیں اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے کہا کہ آپ سے کئی روز پیشتر اسی غرض سے میں کہنے کو دوڑی آئی ہوں تاکہ آپ پوچھنے گچھنے کا عذر نہ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کی دعوت ہے اور اپنے ساتھ لڑکیوں کو بھی لیتی آئیے گا۔ آپ کے آنے سے میری عزت، گھر کی حرمت، محفل کی زینت ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ آپ نے بہت خوب کیا جو پہلے سے کہہ دیا۔ عین وقت پر شاید میں نہ پہونچ سکتی۔ اب تو بڑا وقت آپ نے دیا ہے۔ میں اجازت لے کر ان شاء اللہ ضرور آؤں گی۔ وہ مجھے راضی پا کر خوشی خوشی واپس گئیں۔ شب کو نانا جان سے میں نے عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جانا مگر تمہاری اماں جان سے نہیں کہا۔ میں نے کہا جی نہیں تو فقط مجھی سے کہا ہے۔ وہ چپ ہو رہے۔ صبح کو جیسی ہی اپنی فرض و واجب ضرورتوں سے فراغت کر کے بیٹھی ہوں کہ پھر ان کا میانہ آیا اور بختاور دولہن اتریں۔ عقلمند کی دور بلا بختاور دولہن نہایت ذہین اور ہوشیار تھیں۔ کل اماں جان سے کہنا بھول گئیں۔ گھر پر جا کر یاد آیا۔ بڑی دیر تک رنج میں مبتلا رہیں۔ جب عقل سے مدد مانگی تو اس نے ایک عمدہ تدبیر بتا دی۔ جوں توں رات کاٹی صبح کو پھر آ موجود ہوئیں۔ پہلے مجھی سے صاحب سلامت ہوئی۔ جب میں کھڑی ہو گئی تو کہا کہ آپ بیٹھیے میں بڑی بیگم صاحب کے پاس جاؤں گی کیونکہ خقاص انہیں کے لینے کو آئی ہوں۔ پھر چپکے سے رات کی بات دھرا کر کہا کہ آپ بھی آ کر میری سعی کیجیے۔ میں بھی ان کے ساتھ ہوئی۔ کمرے میں پہونچی۔ پہلے اماں جان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 179

کو سلام کیا۔ پھر ہاتھ جوڑا اور سر جھکا کر بیٹھ رہیں۔ وہ ہائیں یہ کیا، ہائیں یہ کیا، کچھ کہو تو سہی۔ ہزار ہاتھ جدا کرتیں ہیں۔ یہ نہیں سنتیں۔ پھر کہا تو یہ کہ میری خطا معاف کیجیے (اماں جان) ہائیں خطا کیسی (بختاور دولہن) کیسی ہی ہو آپ معاف کیجیے تو میں ہاتھ سے ہاتھ جدا کروں۔ انہوں نے گھبرا کر کہہ دیا کہ اچھا بیوی معاف کی۔ اس وقت بختاور دولہن نے عقل کی بتائی ہوئی بات یوں کہنا شروع کی کہ کل میں نے استانی جی سے فقط اس لیے کہا کہ دو دو صاحبوں کی ان کو اجازت درکار ہے۔ پہلے ان سے کہہ دوں تاکہ یہ رخصت لے رکھیں۔ آپ سے نہ کہنے کی یہ وجہ تھی کہ دونوں صاحبوں میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ خاص ہمارے لینے کو یہ آئی تھی۔ آپ اللہ رکھے گھر کی مالک ہیں۔ میری بھی بری، ان کی بھی بڑی۔ اس کے علاوہ فقط نواب دولہا صاحب سے پوچھنا تھا وہ روز محل میں آتے ہی تھے۔ میں سمجھی کہ پہلے اس مشکل معاملہ کو طے کروں، وہ سہل ہے۔ کل آپ سے عرض کر دوں گی اور الگ الگ آنا دونوں صاحبوں کے بلانے کے لیے ضرور بھی تھا۔ استنی جی صاحب کو مقدم صرف اس وجہ سے کیا کہ تھوڑی مدت کو یہ مانتیں اور جھٹ سے عذر کر دیتیں۔ پہلے آپ سے عرض کرنا چاہیے تھا اور مجھ سے اس کا عکس ظاہر ہوا۔ اس لیے میں نے خطا بھی بخشوا لی اب جمعہ کو استانی جی صاحبہ اور پانچوں لڑکیوں کو لے کر سویرے سے آپ تشریف لائیے گا، نہیں میری آنکھیں دروازے سے نہ ہٹیں گی۔ اور دل آپ ہی میں لگا رہے گا۔ جس سے میرے کاروبار میں بڑی خرابی ہو گی۔ جتنے سویرے آئیے گا اتنا ہی مجھ پر زیادہ احسان فرمائیے گا۔ صبح و شام دونوں وقت کی دعوت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 180

اماں جان ان کی باتں بیٹھی ہوئی سنا کیں اور مسکرایا کیں۔ جب وہ کہہ چکیں تو کہا کہ بس آپ کی داستان ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ کہا میں ضرور چلتی مگر چونکہ پہلے آپ نے طاہرہ بیگم کو کہا ہے اور بعد میں مجھے اسی طرح یہ جمعہ کو آئیں گی اور میں ہفتہ کو (بختاور دولہن) اے ہے بیگم صاحبہ ہفتہ کو میرے ہاں کیا ہے (اماں جان) چاہے کچھ ہو چاہے نہ ہو مجھے ہونے ہوانے سے کیا کام۔ جس طرح بلانا اس طرح جانا۔ ہفتہ کے دن میں سویرے سے چلی آؤں گی (بختاور دولہن) اپنی آنکھوں کی قسم ہفتے کو کچھ نہیں ہے۔ اس کے لیے تو خاص جمعہ مقرر ہے (اماں جان) میں نے اپنے جانے کا ہفتہ مقرر کیا ہے۔ جب دو وقت کی دعوت ہے تو کیا کھانا کھا کھا کے لوگ اسی وقت سوار تھوڑی ہو جائیں گے (بختاور دولہن) جی ہاں نو دس بجے کے بعد شاید دو چار مہمان رہ جائیں تو رہ جائیں (اماں جان) تو بس انہیں دو چار میں پانچویں میں بھی شامل ہو جاؤں گی۔ بختاور دولہن نے گھبرا کر پھر ہاتھ جوڑنے کا ارادہ کیا کہ اماں جان نے ہنس کر ہاتھ پکڑ لیے اور کہا کہ بیوی میں تمہاری باتوں سے ہنستی تھی۔ پہلے بلانا اور پیچھے بلانا، میں کون غیر ہوں اور طاہرہ بیگم کون غیر ہیں۔ آپ خاطر جمع رکھیے میں ضرور آؤں گی۔ اور جہاں تک بن پڑے گا سویرے آؤں گی۔ ماشاءاللہ طاہرہ بیگم کے کام جب یہ چلیں گی تو میں بھی مل سکوں گی (بختاور دولہن) کام کیسے نہانے دھونے سے ایک دن پہلے فرصت کر رکھیے۔ صبح کی نماز کے بعد سوار ہو جیے۔ کھانا اس دن پکوانا نہیں۔ آدمی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ جو یہاں رہ جائیں گے وہ نواب صاحب اور نواب دولہا صاحب کی دعوت کا بچا کھچا کھا لیں گے (اماں جان) تو یہ کہیے کہ سارے گھر کی دعوت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 181

(بختاور دولہن) جی دعوت کیسی۔ یہی دال دلیا چٹنی روٹی جو کچھ میسر ہے آپ کے ساتھ کھانے کو جی چاہتا ہے۔ نہ دودھ بڑھائی ہے نہ کھیر چٹائی ہے۔ میری غرض فقط آپ کے بلانے اور استانی جی کے لے جانے سے ہے (اماں جان) تو اچھا جمعہ کو بڑھا دیجیے پھر کسی دن ان شاء اللہ چلیں گے۔ ہم دودھ بڑھائی سمجھے تھے جب وہ بات نہیں تو جمعہ پیر کیسا چلیے ابھی چلیے۔ بختاور دولہن ہنس کر چپ ہو رہیں اور پھر بہ کمال منت اماں جان سے وعدہ لے کر اپنے گھر گئیں۔ جمعرات کو اماں جان نے تیاری کی میں اور وہ نہائیں۔ لڑکیوں کو نہلوایا، کپڑے بدلوائے۔ میں تو اجازت لے ہی چکی تھی، شب جمعہ کو اماں جان نے بھی پوچھ لیا۔ رحمت اعجوبہ دولت محمد خانم بھی تیار ہوئیں۔ نانا جان اور ابا جان اپنی دعوت کا حال سن کر مجھ سے کہنے لگے کہ یہ تو انہوں نے نئی بات کی ہے۔ تم لوگ تو خیر اپنے ساتھ مٹھائی لے جاؤ گی۔ لڑکے کے ہاتھ میں کچھ دو گی۔ ہماری دعوت تو مفت میں ہوتی ہے۔ اس کی کیا تدبیر۔ میں نے کہا کہ آخر وہ یہاں آتی ہیں۔ جس دن لڑکے کو لائیں گی میں آپ سے کہلوا بھیجوں گی۔ باہر بلا کر جو مناسب ہو ہاتھ میں دے دیجیے گا اور اگر نہ لائیں گی تو کہہ سن کے لڑکے کو اک دن بلا لیا جائے گا۔ سوا اس کے اور کیا تدبیر ہو سکتی ہے۔ نانا جان نے فرمایا کہ ہاں بات تو معقول ہے۔ تم نے مٹھائی منگوا لی۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ گلام علی ہی کو تو روپے دیے تھے۔ بختاور دولہن کے مزاج میں تکلف کم ہے اس وجہ سے میں نے فقط پانچ روپیہ کی مٹھائی منگائی ہے۔ ایک خوان لگا لیا اور قصد ہے کہ پانچ پانچ روپے بچے کے ہاتھ میں دے دیں۔ دیکھیے وہ قبول بھی کرتی ہیں یا نہیں۔ کھانا کھانے کے بعد رات کو بڑی دیر ایسی ہی ایسی باتیں رہیں پھر سو رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 182

صبح کو اٹھ کر نماز وغیرہ سے فرصت کر کے جانے کا سامان کر ہی رہے ہیں کہ امیر خانم آ موجود ہوئیں اور کہا کہ لیجیے یہاں تو نام خدا سب چلنے ہی کو تیار بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں وعدہ ہی کر چکے تھے (امیر خانم) جی ہاں بیوی نے مجھے نہ ٹکنے دیا کہا تم جلدی جاؤ۔ کہنا رات بھر خوشی کے مارے مجھے نیند نہیں آئی کہ کل استانی صاحب یہاں آئیں گی۔ خدا نے یہ دن دکھایا۔ اب ایک دم کی دیر ناگوار ہے۔ میں نے کہا بھی کہ وہ وعدہ کر چکی ہیں تو ضرور آئیں گی۔ کہا کہ نہیں دل نہیں مانتا۔ ابھی جاؤ دیر نہ لگاؤ اور میری بےتابی ظاہر کرو تاکہ وہ آنے میں اور جلدی کریں۔ گھر سے نکلنا سبھی کو دشوار ہو جاتا ہے اور ان کو تو ماشاءاللہ ہزاروں کام ہیں۔ چلتے چلتے ایک نہ ایک کام نکل آئے گا۔ میں نے کہا کہ اب کچھ دیر نہیں۔ کہا آئے اور سوار ہوئے۔ رحمت اور دولت کو سزاول کر دیا ہے۔ کوئی دم میں خبر آتی ہے امیر خانم کھڑے کھڑے یہ باتیں کر کے اور پہلے میں جا کر خبر کروں کہہ کر تو ڈیوڑھی میں گئیں اور دولت کو ادھر سے پردا کرائے آتے دیکھ کر جلدی سے سوار ہو کر پہلے چلی گئیں۔ ان کے بعد تین پنسیوں میں ہم ساتوں آدمی سوار ہوئے اور وہاں پہونچے۔ دروازے پر امیر خانم سب کو لیے کھڑی تھیں۔ استقبال کر کے آنکھیں بچھاتے سب کے سب ہم کو لے گئے۔ پانچوں لڑکیاں میرے ساتھ ساتھ تھیں۔ جہاں میں بیٹھی وہاں میرے پہلو سے لگ کر وہ بھی بیٹھ گئیں۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ نئے نئے مہمان ہیں۔ ان کا گھر ہی نہیں۔ میں نے تھوڑی دیر تو ان کو بیٹھنے دیا پھر کہا تمہارا تو گھر ہے تم یہاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھی ہو۔ وہاں جاؤ دیکھو شاید کوئی کام ہو۔ آج ہی تو تمہارے سلیقے اور سگھڑاپے دیکھنے دکھانے کا دن ہے۔ سردار نے جواب دیا کہ جی ہم سے کوئی کہے بھی تو میں نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 183

کہا کہ میں کہتی ہوں کہ آپ کا فرمانا بجا ہے مگر کام تو ممانی اماں کے ہاں کا ہے۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ اچھا بوا حشمت تم جاؤ اور بھی سر جھکا کر خاموش ہو رہی۔ اتنی دیر میں بختاور دولہن آئیں اور ان کو چپ چاپ مہمانوں کی طرح بیٹھے دیکھ کر کہا کہ اوئی لڑکیوں یہ تم الگ تھلگ خالی خولی کیوں بیٹھی ہو۔ اٹھو گھر کا کام کاج دیکھو۔ مہمان بن کر بیٹھنا کیسا۔ بیوی سے پوچھ کر جاؤ۔ سب نے کہا کہ بیوی تو خود فرما رہی تھیں مگر جا کر کیا کریں۔ آپ جو جو کام بتائیں ہم انہیں آنکھوں سے بجا لائیں (بختاور دولہن) نے کسی کو پانوں پر مقرر کیا، کسی کو کشتیوں کا انتظام سونپا، کسی کو مہمان کے اتروانے اور لانے کا عہدہ دیا۔ وجیہ النسا سے کہا کہ تم کھانے پر رہنا اور مٹھائی جو آتی جائے اسے کوٹھری میں رکھواتی جاؤ۔ ایک آدمی یہاں رہنے دو باقی ان کو بھی کام میں لگا دو۔ وجیہ النساء نے رحمت اور دولت کو ساتھ لیا۔ دوچار مہمان آ چکے تھے۔ مٹھائی اٹھوائی، خوانوں پر نام لکھ کر کوٹھری میں رکھوائے، بچھونے درست کیے، پاندان کھول کر دیکھے، ضروری چیزوں کا جائزہ لیا، باورچی خانے میں جا کر کھانے کی خبر لی، تنور سے روٹیاں آئیں وہ گن کر رکھوائیں، پھر مہمانوں کی طرح آ کر بیٹھ رہیں۔ نو بجتے بجتے دستر خوان بچھا، کھانا کھلایا گیا۔ جن جن کو آنا تھا وہ آ چکے تھے۔ دس پانچ عزیز نہیں آئے تھے، پھر بھی مہمانوں سے ماشاءاللہ کھچا کھچ مکان بھر گیا۔ میر نقش علی صاحب کی بیوی اپنی لڑکی کے پیچھے پیچھے ان کے کام گرہستی سلیقہ دیکھتی پھرتی تھیں۔ ان کو یہی ایک کام تھا۔ میں نے جو ان مصارف پر نظر کی اور دودھ بڑھائی کی چھوتی سی شادی کو دیکھا تو دل بھُربھُرایا۔ جی چاہا کہ اس فضول خرچی پر کچھ کہوں۔ بڑی دیر سے اسی اُدھیڑ بن میں تھی اور بیٹھی ہوئی دیکھ رہی تھی کہ جو چیز ہے افراط سے جو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 184

بات ہ ے کر و فر سے۔ سب کھا پی چکے اور من بھر کی روٹیاں بچ رہیں۔ بیگم صاحب روٹیاں بچنے کا حال سن کر بولیں کہ باہر بھجوا دو اور ان سے کہو کہ فقیروں کو بٹوا دیں۔ دس بجے ہمارے ہاں بھی پانچ خوان کھانے کے بھیجے گئے۔ بارہ بجے کشتیاں آنے لگیں۔ سفید اور ہرے پان کی دو ڈھولیاں آدھ سیر چھالیا، پاؤ بھر کتھا، چھٹانک بھر چوگھڑے کی الائچیاں، ایک تشتری میں تمباکو کا قوام، پاؤ سیر دو رخی چکنی ڈلیاں، گوٹے کا ہار، عطر کی سنہری شیشی، دھنیا بن، دو پلیٹوں میں سادی ورق دار گلوریاں، غرض ایک طرح کی کشتی چھوتے سے لگا کر بڑے تک کو بتی۔ ایک نہیں بجا تھا کہ فرصت ہوئی۔ لڑکیاں میرے پاس آئیں۔ میں نے کہا کہ امجدی بیگم صاحب کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں میں بیٹھی ہوئی کچھ آپ ہی باتیں کر رہی ہیں۔ کچھ عجب نہیں جو سب کو لے کر آئیں۔ مجھے بختاور دولہن نے سب سے الگ اپنے رہنے کے کمرے میں بٹگھایا تھا۔ وہ کچھ ایسی لمبی چوڑی جگہ نہ تھی، مگر راحت کی سب چیزیں آنکھوں کے سامنے تھیں۔ آٹھ چوکیوں پر بچھونا تھا جن میں کی دو پلنگ سے رکی ہوئی تھیں۔ میں نماز کا تہیہ کر کے جانماز کھول رہی ہوں کہ امجدی بیگم اور بختاور دولہن آٹھ دس بیویوں کو لیے ہوئے وہاں پہونچیں۔ شناخت اور صاحب سلامت کے بعد میں نے کہا کہ اگر آپ صاحبوں کے خلاف مزاج نہ گذرے تو میں نماز پڑھ لوں۔ بلکہ میری تو صلاح ہے کہ آپ بھی فراغت کر لیجیے تاکہ اطمینان سے بیٹھیں اور بےاندیشہ دل کھول کر آپس میں بات چیت کریں۔ دو چار تو مستعد ہو گئیں۔ ایک دو بیویں نے عذر کیا کہ جی نہیں ہمارا وقت نہیں ہے، آپ شوق سے پڑھیں۔ ایک دو نے بچوں کا حیلہ لیا۔ ایک دو یہ کہہ کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 185

چلی گئیں کہ بہت اچھا ہم بھی پڑھے آتے ہیں۔ میں نے سب کی سنی اور نماز پر کھڑی ہو گئی۔ نماز کے بعد جب پھر سب جمع ہوئے تو اب کے پانچ چھ بیبیاں اور زیادہ پائیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ میرا کہنا سنیں اور دل لگا کے سنیں تو کچھ کہوں۔ اس سے مجھے کام نہیں کہ آپ کو اس پر عمل کرنے کو بھی مجبور کروں۔ میرا کہنا بےغرض اور دوستانہ ہے۔ نہ یہ کہ بڑی بوڑھی بن کر نصیحت کرنے کو بیٹھی ہوں۔ ایک بات دل میں آئی ہے ارادہ ہے کہ وہ آپ صاحبوں کے سامنے بیان کر کے صلاح لوں۔ دیکھوں تو آپ کے نزدیک میری تجویز کی کچھ قدر ہوتی ہے یا پھیر دی جاتی ہے۔ بختاور اور دولہن صاحب آج کی اس مبارک تقریب میں آپ کا کیا خرچ ہوا ہو گا۔ ماشاءاللہ حوصلہ تو آپ کا ظاہر ہے اگر آپ کو نہ معلوم ہو تو اندازے سے بتائیے۔ میرے نزدیک تو دو ہزار روپیہ سے زیادہ ہی اٹھتا معلوم ہوتا ہے۔ بختاور دولہن جی کیا معلوم کل حال کھلے گا (میں) ہاں اس میں شک نہیں۔ آج تو اٹھا ڈالا کل البتہ حال کھلے گا یہی تو میرا مطلب بھی تھا جو آپ نے خود کہہ دیا۔ میں دو ہزار ہی فرض کئے لیتی ہوں۔ اب یہ بتائیے کہ آپ نے کتنا روپیہ دیا (بختاور دولہن) ایک پیسہ نہیں۔ میں کہاں سے لاتی اور کیوں دیتی (میں) ہاں بجا ہے۔ لڑکے میں فقط آپ کا آدھا ساجھا ہے اٹھانے سے تو غرض نہیں بھلا یہ پہلی شادی تھی یا اس کے پہلے اور بھی ہوئی (وہ) جی نہیں یہی پہلی شادی تھی (میں) آپ کے میاں کی کیا آمدنی ہے (وہ) دو سو روپے مہینے کے نوکر ہیں (میں) اگر اس تقریب میں دو ہزار روپے صرف ہوئے تو کے مہینے کی تنخواہ ہوئی (وہ) دس مہینے کی (میں) اب ان شاء اللہ سال پلٹے پھر کوئی نہ کوئی شادی اٹھ کھڑی ہو گی۔ اسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
افسانہ نادر جہاں

صفحہ ۔۔۔ 186

حوصلے سے اس میں دل چالاکی کر بیٹھئے گا۔ پھر تیسرے سال دل بھُربھُرائے گا۔ عالی ہمتی کیجیے گا۔ ہمیں بظاہر کوئی کام نہیں۔ فقط کھانا کھانے کو آئے ہیں لیکن ہم آپ کہیں جدا تو ہیں نہیں۔ آپ کا نقصان ہمارا نقصان ہے اور آپ کا فائدہ ہمارا فائدہ ۔ دودھ بڑھائی کی ایسی شادی نہیں ہے کہ آدمی دو ہزار اٹھا بیٹھے۔ ہمارے آپ کے ہاں جتنے رسوم ہیں، سب مذموم ہیں۔ خیال کیجیے کہ ماشاءاللہ دو لڑکیاں آپ کی موجود ہیں۔ چار دن میں یہ بیاہنے کے قابل ہوں گی۔ جہاں تک ہو ان کی فکر کیجیے اور جو کچھ مہینے کے خرچ سے بچے اس کو ان کے لیے جوڑیے۔ نہ بچتا ہو تو اس کے بچانے کی فکر کیجیے۔ آپ نے تو اس کے خلاف ارادہ کر لیا ہے۔ دیکھیے تو سہی کہ آٹھ نو برس میں یہ بیاہنے لائق ہوئیں، بات ٹھہری اور آپ نے چھوٹی چھوتی غیر ضروری شادیاں نکر کے اپنے حوصلے دلی نکال لیے اور خدا نہ کرے قرض دار بھی ہو چکیں۔ ہمت صرف ہو گئی، دل خوش کر لیا، قرضے کا بار ہو گیا۔ اب یہ بوجھ کیونکر اٹھے گا۔ مجھے ہر گز امید نہیں کہ آپ کے ہاں اس فضول خرچی کے بعد مہینے میں کچھ پس انداز ہوتا ہو۔ اگر آپ نے پہاڑ کا بوجھ مرد کے سر پر رکھ دیا تو کون سی محبت کی بات ہے۔ اپنی جان پھنسا کے قرض کے دام سے جہاں سے ہو سکے وہ قرض ادا کرے گا۔ اور اس بوجھ کو اٹھائے گا لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے غم و الم کی وجہ سے باقی حصہ زندگی کا آپ پر بھی بہت گراں گذرے گا اور جب آمدنی وہی رہے گی تو اس قرضے کی ادائی کی کوئی شکل نہ ہو گی سوا اس کے کہ گہنے پاتے سے ہاتھ اٹھائیے اور پوری نہ پڑے تو دو چار جوڑے دیجیے اور پھر کچھ باقی رہ جائے تو تنخواہ لگائیے۔ تنگی اور مصیبت سے بسر کیجیے اور جب خدا نہ کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 187

فاقوں کی نوبت آئے تو وہ بیچارہ حرام سے روپیہ کمائے۔ ہا دو گھڑی کی واہ واہ کے واسطے اتنا بڑا کام بے سمجھے بوجھے کر گذرنا کون سی دانائی کی بات ہے۔ اب تو آپ نے ایسا کیا۔ آئندہ ایسی ناشائستہ حرکت سے کنارہ کیجیے۔ کچھ آپ ہی پر موقوف نہیں، میں اس وقت سب بیویوں کی خدمت میں عرض کرتی ہوں کہ آپ سب سے میرا وہی اک سوال ہے۔ آپ میں سے کوئی ایسا کیوں نہ کرے، ضرور غلطی پر ہے۔ اور وہ غلطی ایسی نہیں ہے کہ زبانی افسوس سے کام چلے، بلکہ مالی اور جانی مضرت پہونچنے کا کھٹکا لگا ہے۔ چھوتی چھوتی شادیاں جیسے سالگرہ، دودھ بڑھائی، کھیر چتائی، بل گوندھن، بسم اللہ، مسلمانی وغیرہ ہے ان میں کی چار دن پہلے والی تو ہر گز اس قابل نہیں کہ سوا روپے سے زیادہ اس میں صرف کیجیے۔ اب رہی بسم اللہ بری شادی (مسلمانی) یہ البتہ اپنی ضرورتوں سمیت سو پچاس روپیہ صرف کرنے کے قابل ہیں۔ کسی قسم کی کوئی شادی کیوں نہ ہو، ڈھون ڈھون پون پون اور نوبت نقارہ، باجا گاجا بالکل بےجا اور سراسر بےجا ہے۔ ڈومنیوں کے چونگے، ناچنے والوں کے غمزے، گناہ بے لذت اور پھر نہ خسر خوش نہ خاوند۔ دولہن بیچاری کوٹھری میں آنکھیں بند کیے بیٹھی ہو گی۔ دولہا اپنے نہانے دھونے یا اور کسی ضرورت میں مصروف ہو گا۔ ناچ دیکھنا، گانا سننا نہ ان کو نصیب نہ ان کو میسر۔ اب رہی رہے خود ماں باپ انہیں سر اٹھانے کی تو مہلت نہیں ملتی۔ ناچ گانا کیا مہمانوں میں سے آدھے تو سنتے ہی نہیں۔ ثقہ صلح ہیں جو سنتے ہیں۔ ان میں کے دو چار کمسن کمسن آ بیٹھے۔ مسخرا پن دیکھا، خوش ہوئے، وہیں پڑ کے سو رہے۔ ڈومنیاں پڑی چلا رہی ہیں، طبلہ بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔ باہر کا بھی کچھ ایسا ہی نقشہ ہوتا ہو گا۔ دو کو پسند ہے، چار مذمت کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 188

چار جا کے لیٹ رہے کہ جب طائفہ بدلا جائے تو جگا دینا۔ دو کو رنڈی کا ناچ پسند ہے، چار نقالوں کی حرکتوں پر لوٹ پوٹ ہیں۔ اندر باہر دونوں جلسوں کے سب لوگ ہر گز ہر گز خوش نہیں ہو سکتے۔ مزاج مختلف، طبیعتیں جدا جدا۔ اور اگر خوش بھی ہوں تو ہماری کیا شامت ہے کہ خدا کو ناخوش کر کے بندوں کی خوشی کریں۔ اپنی قبر میں انگارے بھریں۔ پھر سب ایک ہوں تو کیونکہ۔ رہی رونق چہل پہل، اس کے لیے شادی خود کیا کم ہے۔ مہمانوں کا ہجوم، ان کی زینت، بناؤ نکھار سنگار سو طرح کی ہانک پکار، بچوں کی چیں پیں، کم سنوں کی دوڑ دھوپ، سودے والوں کا میلا، نئی نئی وضعیں، طرحیں، ڈولیوں کا آنا، سمدھنوں کا اترنا، صھنک، رت جگا، منت مراد ایک بات ہو تو کوئی کہے۔ کیا ان سے رونق اور گہما گہمی نہیں ہوتی جو ناچ گانے کی شاخ لگائی جائے۔ اس کی تو بات ہی دوسری ہے کہ بے طبلے سارنگی کے شادی مقبول ہی نہ ہو گی۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے بھی ڈومنیاں بلوائی ہیں۔ نوبت ہی کی آواز پر میرے کان کھڑے ہوئے تھے۔ یہ خبر سن کر تو روئیں کھڑے ہونے کی نوبت پہونچی۔ کوئی عقل مند کہے گا کہ یہ پیسہ فضول نہیں اٹھا۔ جن صاحب کو میری بات میں شک ہو یا اعتراض کرنا منظور یا جواب دینا وہ اسی وقت فرمائیں۔ میرے پیچھے کہنے کی سند نہیں۔ اکثر جگہ میں نے دیکھا ہے کہ جب کہنے والا کہہ کر چلا گیا، اب ایک ایک سو سو طرح کے اعتراض اور نکتہ چینی کرتا ہے۔ نفرین ہے، مذمت ہے اس کی بےوقوفی ثابت کی جاتی ہے، رد پر رد کر کے ردے رکھے جاتے ہیں، یہ غلط تھا اور وہ بالکل غلط ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اور اس طرح کیونکہ کیا جا سکتا ہے۔ باپ دادا کے وقت سے ایک بات ہویتی چلی آئی ہے۔ ان کے کہنے سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 189

چھوڑ دیں۔ کنبے میں ناک کٹ جائے، ذلیل و حقیر ہوں، انگلیاں اٹھیں، نکو بنیں، ان کا کہنا ہو جائے، ہذیان بک کر چلی گئیں۔ میری بیویو مزا تو جب تھا کہ اس بدذبان کے جواب میں آپ منہ در منہ کچھ کہا ہوتا۔ پیٹھ پیچھے آپ اپنی عقل پر ناز اور زبان پر افتخار کیا کیجیے۔ اس لیے میں کہتی ہوں کہ جن صاحب کو عذر ہے وہ میرے آگے ہی کہہ کر قائل معقول ہوں۔ کیا عجب جو میں ہی غلطی پر ہوں۔ اس فقرے سے دلیر ہو کر ایک بی بی بول اٹھیں کہ استانی جی صاحب دنیا میں کوئی ایسی بھی بات ہے جس کا جواب نہیں۔ یہ کہیے کہ لحاظ کے مارے کوئی کچھ نہ کہے۔ میں نے کہا شرع میں کیا شرم۔ میں نے جو کچھ عرض کیا ہے آپ اسی کا جواب دیجیے۔ بولیں کہ اس کا ایک جواب، بیسیوں جواب ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک دو ہی ارشاد ہوں۔ کہا کہ سو جوابوں کا ایک وجاب تو یہ ہے کہ اپنے دل کی خوشی اس پر طُرہ یہ کہ قدیمی رسم ارجا پرجا اسی دن کے امیدوار شادی میں ناچ گانا نہ ہو تو کیا مولود پڑھا جائے۔ میں نے کہا خوشا نصیب اس دولہن کے جن کی شادی کے مہمان گانا سننے کے بدلے مولود شریف یا حدیث سنیں۔ اپنے دل کو خوش کرنا اسی وقت تک اچھا ہے جب تک کسی دوسرے کو رنج نہ پہونچے۔ کیا آپ اس فقرے کی قائل نہیں کہ وہاں تک گدگدائے جہاں تک دوسرا رو نہ دے۔ یہ فقرہ پورا پورا آپ کی بات کا جواب ہے۔ کسی کو گدگدانا اپنے دل کی خوشی کرنا ہے اور اس کے رونے کا خیال رکھنا انسانیت کا مقتضاجب۔ ایک آدمی دوسرے کا اس طرح خیال و پاس رکھتا ہے اور آدمیت کا منشا بھی یہی ہے تو خداوند عالم کے خلاف حکم و مرضی کرنا کتنی بری نالائق بات ہے۔ اس نے تو یہ روز خوش دکھایا۔ برسوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 190

کے بعد شادی کا دن آیا۔ دل کی خوشی کے سامان پیدا کیے۔ سب ارادے پورے فرمائے۔ ہم جو اتھے تو شکر کے بدلے ناشکری کرنے لگے اور سر تسلیم جھکانے کے عوض میں سرتابی پر کمر باندھی۔ اگر وہی نہ چاہے تو یہ خوشی ہم یا کوئی کر سکتا ہے کیا۔ آپ نے یہ جانگداز حادثے نہیں دیکھے کہ ارمان میں مشکل سے دم توڑ توڑ کر مری ہیں۔ کیا غضب کی بات ہے کہ حاکم مالک اپنے محکوم اور بندے کی خوشی کرے اور بندہ اس کی خوشی اور مرضی کے برخلاف کرے۔ اس کے علاوہ جب آپ کی خوشی فقط ناچ گانے ہی پر موقوف ہے تو سہرے جلوے دیکھنے کی حسرتیں اور دعائیں دولہا یا دولہن بنانے کی مرادیں منتیں کیسی۔ ناچ گانا دیکھ کر دل ٹھنڈا کر لیا، خوشی ہو گئی، شادی ہو چاہے نہ ہو۔ اور جب بچوں کیش ادی کی تو ضرور دل کی خوشی ہوئی۔ پھر ناچ ہو گا تو کیا اور نہ ہو گا تو کیا یہی خوشی کیا کم ہے جس کے نہ ہونے کا ہزاروں بیویاں غم لے کر دنیا سے سدھاری ہیں۔ بیوی یہ تو میں نہیں جانتی اگر کوئی بڑا بوڑھا باخدا کمانے اور دینے والا ہو اور اس کی خوشی یہ باتیں کرنے کی نہ ہو تو پھر دیکھوں کیونکہ آپ اپنے دل کی خوشی کرتی ہیں۔ جب یہ بات آپ کو خواہ مخواہ دنیا داری کے اصول سے ماننا پڑی تو کیا قیامت ہے کہ اس بڑے بوڑھے کو بھی جس نے دیا ہے اور جو اس بڑے سے کروڑوں درجے بڑا ہے اس کی خوشی کرنے پر آپ کو بالکل توجہ نہ ہو۔ آپ ہی بتائیے کہ دل کی خوشی اچھی یا خدا کی۔ (وہ) نہیں خدا کی۔ (میں) تو بس میرا مطلب حاسل ہے کہ خدا کبھی غنا سے خوش نہیں اور اسی نے حرام کیا ہے، منع فرمایا ہے۔ آپ اس کے فرمانے کے برعکس کرتی ہیں۔ اب رہے ارجا پرجا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 191

ان سے نہ یہاں بحث ہے نہ ان کا دینا حرام۔ قدیمی رسم کو آپ نے فرمایا اس کے بہت سے جواب ہیں۔ افسوس ہے کہ آپ نے تاریخ نہیں دیکھی ورنہ قدامت کا لفظ کبھی منہ سے نہ نکالتیں۔ بری بڑائی آپ نے اپنے ماں باپ انتہا نانا دادا کو دیکھا ہو گا تو ایک دو پشت کی بات کو قدیمی تھوڑی کہتے ہیں۔ قدیمی وہ ہے جو ہمارے بزرگوں کے بزرگ کرتے تھے۔ سات پیڑھی ادھر ہم ہوں یا آپ، ہندوستان کے نہیں ہیں۔ کیونکہ میں نے قرینے سے پہچانا کہ آپ سیدانی ہیں تو بالضرور کسی نہ کسی امام کی اولاد سے ہوں گی۔ میں آپ کے کہنے پر ابھی چلوں گی اگر آپ ان امام کے احکام میں، جن کی آپ اولاد ہیں یا جن کا میں نام لینے والیوں میں سے ہوں، جن کو میں حرام کہتی ہوں، حلال دکھا دیجیے۔ جب آپ نہیں دکھا سکتیں تو ہر گز قدیمی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی بے ہودہ اور نئی رسموں میں ایک حرام اور ناجائز یہ بھی ہے۔ پھر قدیمی کیونکر ہوئی۔ آپ اس کو جھوٹوں بھی نہیں یقین لا سکتی ہیں کہ بچھتر لاکھ پر کسی امام یا نبی کا مہر بندھا، ان کے جسم اقدس پر ٹونے لگائے گئے، تل شکری کھائی، قدم قدم پر بیڑے چنے، متصدیوں کا سا شملہ سر پر رکھا، ڈیڑھ گز کا سہرا باندھا، طرہ لٹکایا، خلعت پہنا، اکیس پان کا بیٹا نوش فرمایا، رسی پر بیٹھ کے آرسی مصحف دیکھا، منڈھا کھڑا کیا گیا، گھاس سے نہلائے گئے، سب تو سب (بیوی میں تمہارا غلام ہوں آنکھیں کھولو) کہا گود میں اٹھا کر لے گئے۔ آپ کو تو خدا نے عقل دی ہے۔ زمانہ دیکھا ہے۔ کوئی بچہ بھی امام کے نام کے ساتھ ان باتوں کو منسوب نہیں کرے گا۔ اس سے پہلے بلکہ سب سے پہلے حضرت آدمؑ اور جناب حوّاؑ ہمارے آپ کے پہلے ماں باپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 192

کس طرح خدا نے ایک کر دیے۔ نہ نوبت رکھی گئی، نہ ڈومنیاں آئیں۔ آپ فرمائیں گی کہ ڈومنیاں تھیں کہاں۔ میں کہتی ہوں اگر ضرورت ہوتی تو جس طرح خدا نے حضرت حوّاؑ کو پیدا کیا تھا ڈومنیاں بھی جہنم کی آگ سے پیدا کر دیتا۔ نہیں بنائیں تو معلوم ہوا کہ ضرورت ہی نہ تھی۔ پھر کیونکہ یہ پہلی شادی ہو گئی۔ اچھا ان دونوں صاحبوں کا ذکر جانے دیجیے۔ بہشت سے نکل کر دنیا میں آئیے اور اس کی آبادی پر خیال فرمائیے۔ جیسے اور ہمارے نبیؐ بر حق کے عہد تک ہزاروں پیمبر گذرے۔ کسی کی شادی اس دھوم دھام سے ہوئی جیسے اب ہوتی ہے (وہی سیدانی) تو بیوی یہاں کون پیمبر اور پیر ہے (میں) اہا میں پیر پیمبر کسی کو نہیں بنا سکتی اور نہ میرے بنائے کوئی بن سکتا ہے۔ ذکر فقط قدیمی رسم کا ہے۔ ہر گز نہیں اور کسی طرح یہ رسم کیا بلکہ کل رسمیں قدیمی نہیں، بالکل نئی ہیں۔ اور گڑھی ہوئی بھی کسی ایسے ویسے ان پڑھ کندۂ ناتراش کی ہیں جو انتہا کا نڈر تھا۔ کہیے کیوں اس لیے کہ حدیثوں اور قرآن سے برابر ظاہر ہے کہ خدائے پاک نے مرد کا مرتبہ عورتوں سے زیادہ بنایا ہے۔ خصوص بیوی سے میاں کا۔ دین کی باتوں میں بھی عورتیں ناقص ہیں۔ عبادت ہو یا جہاد اور ناقص العقل تو ضرور ہیں۔ جس کے ثبوت میں یہ رسوم جو خاص عورتوں کے گڑھی ہوئی ہیں، ان کی حماقت کے کافی شاہد ہیں۔ مرد جس کو خدا نے عوعرت پر غالب کیا ہے، دولہا بن کر شیر کی طرح کٹہرے میں بند ہو گیا ہے۔ جو جو جس کے جی میں آتا ہے وہ وہ کہلوا رہا ہے۔ بندھا خوب مار کھاتا ہے۔ وہ بھری محفل اور اس کا عاجز آ کر میں تمہارا غلام ہوں کہنا کیسا قلب کو ناگوار گذرتا ہو گا۔ اور اس کی بےبسی مجبوری، عزیزوں کی زیادتی، اصرار، خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 193

نہ دیکھتا ہو گا۔ ضرور دیکھتا اور سنتا ہو گا۔ کیونکہ وہ سمیع و بصیر ہے۔ لیکن اس کی عین عنایت اور بندہ نوازی ہے جو ان آنکھوں کو (جو ایک بےگناہ کو خواہ مخواہ غلام بنوا کر کھلتی ہیں) پھوڑ نہیں دیتا۔ بیگم صاحب چاہے آپ برا مانیں لیکن میں ضرور یہ کہوں گی کہ جو کوئی خلاف شرع رسموں کی پابندی پر کسی کو مجبور کرے گا وہ گناہ گار ہے اور کیسا گناہ گار کہ خدا کا الگ اور بندے کا جدا۔ جو جو میں نے کہا ہے اس کو قبول کیجیے یا جواب دیجیے۔ بختاور دولہن صاحب ہماری بیگم صاحب کا اسم مبارک کیا ہے (بختاور دولہن) جی ان کا نام سلطان بیگم ہے (میں) جبھی شاہانہ مزاج ہے۔ نام کا بھی تھوڑا بہت اثر ضرور پڑتا ہے۔ ہاں جناب سلطان بیگم صاحب میری بات کا جواب مرحمت ہو۔ میں نے جھوٹ عرض کی یا سچ۔ سلطان بیگم، استانی جی میرے تو حواس گم ہیں، عقل چکر میں ہے کہ آپ نے کہا تو جو کچھ وہ سچ کہا۔ مگر میں جو دیکھتی ہوں تو یہ بیل منڈھے نہیں چڑھتی معلوم ہوتی (میں) کیوں (سلطان بیگم) اسی وجہ سے کہ جب ایک بات شہر میں برسوں سے جاری ہے اور کوئی گھر اس سے نہیں بچا تو تتا تاؤ موقوف اور بند کیونکر ہو جائے گی۔ (میں) بیگم صاحب تمام شہر کا تو میں نے ٹھیکہ نہیں لیا، مجھے آپ لوگوں سے کام ہے۔ اور تمام شہر بھی سہی تو کیا مضائقہ۔ یہ بد رسم کیونکر جاری ہوئی۔ افسوس کی جگہ ہے کہ لوگ بری بات پھیلانے میں پس و پیش نہ کریں اور آپ لوگ نیک کام کرنے میں بغلیں جھانکیے (سلطان بیگم) ہمارے ہاں کیا اور آپ ےک ہاں کیا، سبھی کا تو ایک حال ہے۔ ہم تو جب جانیں کہ ہمارے لڑکے کی کوئی شادی کرا دے اور یہ رسمیں وسمیں کچھ نہ ہوں۔ خالی زبانی جمع خرچ سے تو کام نہیں چلتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 194

کوئی اپنی لڑکی کیوں اس طرح دینے لگا کہ چوروں کی طرح چپ چاپ ننگے لُچے آؤ، نقد مال اٹھا لے جاؤ (میں) جس کو غرض ہو گی جو خدا سے ڈرے گا جو اس کے حکم پر چلے گا وہ دے گا (سلطان بیگم) جی ہاں مجھے تو اتنے صاحبوں میں سے ایک بھی نہیں معلوم ہوتا (میں) کیوں کیا خدا نہ کرے یہ سب کے سب خدا اور اس کے حکم سے منحرف ہیں۔ یہ سنتے ہی بختاور دولہن بول اٹھیں کہ ہماری ہی دونوں لڑکیوں کا استانی جی کو اختیار ہے وہ انہیں کی لونڈیاں ہیں، جس طرح چاہیں بیاہیں۔ اس کےب عد امجدی بیگم نےکہا کہ میں بھی دل سے کہتی ہوں بلکہ اگر ایسا ہو جائے تو استانی جی ہمارے سارے کنبے اور قبیلہ کی محسن اور آبرو بخش ہیں۔ میر نقش علی صاحب کی بیوی نے کہا کہ اپنے ایمان کی قسم استانی جی کے کہنے کے اگر خلاف کروں تو سید کی نہیں چمار کی زائیدہ ہوں۔ اب تو چو طرفہ سے یہی آوازیں آنے لگیں کہ اگر یہ رسمیں بالکل حکم خدا و رسول کے خلاف ہیں یا ہمارے بزرگ نہیں کرتے تھے اور ترک وطن یا اور کسی سبب سے جاری ہو گئی ہیں تو ہم کو ان کے چھور دینے میں کیا قباحت اور گناہ ہے۔ ہم موجود ہیں۔ استانی جی ہم نے آپ کے فرمانے پر جان و دل سے عمل کیا۔ میں نے کہا بیویو! ابھی آپ سن چکی ہیں کہ زبانی جمع خرچ کوئی مانتا نہیں۔ میں کاغذ لکھے دیتی ہوں۔ جو صاحب راضی ہوں وہ دستخط فرمائیں، جو ناخوش ہوں بحث کریں۔ یہ کہہ کر میں نے کاغذ لکھا۔ جتنی بیبیاں بیٹھی تھیں سب شریک ہوئی۔ پانچ چار نے دستخط کئے، آٹھ دس نے نشانی بنائی۔ اس کے بعد میں نے وہ کاغذ لے کر سلطان بیگم صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ آپ کا بھی نام لکھا جائے۔ انہوں نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 195

مسکرا کر کہا کہ جی ہاں ضرور۔ سبھا بگاڑ تو میں ہی ہوں۔ جب وہ بھی دستخط کے نیچے نشان کر چکیں تو میں نے کہا کہ لیجیے اللہ رکھے پانچ لڑکیاں تو یہیں موجود ہیں۔ آپ پہل کیجیے۔ آپ ہی کو یہ بات سب سے زیادہ دشوار بھی معلوم ہوتی تھی۔ وہ بہت خوب بہت اچھا کہہ کر ہنسنے لگیں۔ میں اس کاغذ کو لئے ہوئے ایک بات سوچ رہی تھی کہ امجدی بیگم نے کہا استانی جی آپ کی اماں جان نے نہیں دستخط کیا۔ کہیں وہی مثل نہ ہو کہ خود را فضیحت و دیگرے نصیحت۔ میں کچھ کہنے نہ پائی تھی کہ اماں جان نے کہا کہ میرے تو گھر کی بات ہے جب چاہوں گی دستخط کر دوں گی۔ (امجدی بیگم) جی نہیں یہیں لکھیے۔ انہوں نے کہا خیر آپ کی خوشی۔ لائیے میں لکھ دوں۔ میں نے کہا کہ بس اب اقرار ہو گیا۔ میں اماں جان کے بھی دستخط کرا لوں گی۔ امجدی بیگم نے نہ مانا۔ میں چاہتی تھی کہ اماں جان کی بےعلمی نہ ظاہر ہو مگر مجبور ہو کر میں نے وہ کاغذ انہیں دیا اور کہا کہ دیکھیے گیلا ہے، خشک ہو جائے تو لکھ دیجیے گا۔ انہوں نے کاغذ لے کر رکھ لیا اور بیویاں رخصت ہونے لگیں۔ سلطان بیگم صاحب نے چلتے وقت کہا کہ استانی جی میری خطا معاف کر دیجیے گا۔ میں نے آپ سے زبان لڑائی تھی۔ میں نے کہا اسی زبان لڑانے کا تو یہ نتیجہ نکلا۔ نہ آپ زبان لڑاتیں نہ برسوں کی لڑائی طے ہوتی۔ یہ آپ ہی کی زبان کی برکت ہے۔ (سلطان بیگم) استانی جی سچ تو یہ ہے کہ ہم کو آپ کی کیا قدر۔ آج کا حال جب مرد سنیں گے تو دل سے آپ کو دعا دیں گے۔ آپ نے بہت بڑا احسان کیا ہے (میں) جی نہیں، میں نے مردوں پر تو احسان نہیں کیا ہے بلکہ عورتوں پر کیا ہے، کیونکہ ان کو ناجائز باتوں سے روکا۔ نہ وہ ضد کریں گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
افسانہ نادر جہاں

صفحہ ۔۔۔ 196

نہ مردوں کو کرنا پڑے گا۔ سلطان بیگم کچھ کہا چاہتی تھیں کہ ان کی ماما نے (بچہ روتا ہے) صدا دی۔ وہ گھبرا کر اٹھ گئیں۔ جب سب جا لئے اور دم کم رہا، میں نے پھیکی روشنائی سے ایک العبد کے نیچے اماں جان کا نام لکھ کر دیا۔ انہوں نے سیاہی بھر دی۔ اب میں نے لڑکیوں سے کہا کہ بیویو تم نے بھی میری تقریر سنی (سب) جی ہاں (میں) یہ تقریر تمہیں پسند ہے؟ ماننے اور عمل کرنے کے قابل ہے؟ (وہ سب) جی ہاں کیوں نہیں۔ (میں) تو پھر تم بھی دستخط کر دو۔ بچپنے کی بات زیادہ یاد رہتی ہے۔ وہ سب کچھ رکیں اور اپنے دل سے کچھ باتیں کرنے لگیں۔ میں نے کہا کہ آج تم صاحب اولاد نہیں ہو کل ان شاء اللہ ہو گی۔ اس وقت میں کہاں اور تم کہاں۔ اس کاغذ پر دستخط کرو اور ایک ایک نقل کر کے کتاب کی دفتی میں اندروار گوند سے چپکا لو تاکہ مکرر نظر کرنے سے خوب ذہن نشین ہو جائے۔ کتاب سے لوح دل پر اتر آئے۔ انہوں نے چپکے چپکے شرما شرما کے اپنے اپنے نام لکھ دئے۔ ان لڑکیوں سمیت کوئی 4 بجے تک ستائیس نام ہوئے تھے۔ جب یہاں کی عورتیں اپنی اپنی جگہ گئیں اور جو نہیں آئی تھیں انہوں نے سنا، بعض نے تو چھٹتے ہی اے ہے خوب ہوا کہا اور بعض سناٹے میں آ کر رہ گئیں۔ ایک آدھ الجھنے لگیں۔ امجدی بیگم اور بختاور دولہن انہیں پکڑ کر میرے پاس لے آئیں اور کہا کہ استانی جی انہیں بھی راہ پر لائیے۔ یہ کسی طرح شیطان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ میں نے کہا آپ یہاں بیٹھیے وہ خود بھاگ جائے گا۔ دو دفعہ ان سے لاحول اور درود پڑھوا کر میں نے کہا کہ ہاں بتائیے آپ اس بات میں کیا عیب نکالتی ہیں۔ ان صاحب کا امراؤ بیگم نام تھا بولیں کہ استانی جی امجدی بیگم دلگی باز ہیں۔ ہنر میں کوئی عیب نکال سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 197

میں نے کہا تو پھر کاغذ پر دستخط کیجیے۔ کہا لائیے۔ میں نے کاغذ دیا۔ ان بیچاری نے چپکے سے دستخط کر دیا۔ امجدی بیگم انہیں لکھتے دیکھ کر جاتے جاتے پلٹ پڑیں اور کہا کہ وہاں خوب قینچی سی زبان چل رہی تھی، یہاں نہ کچھ بن پڑی۔ کیسی شرمائی بلی بنی بیٹھی ہیں۔ جب جانتے کہ استانی جی سے کچھ تقریر کرتیں۔ امراؤ بیگم اے بیٹھو جی۔ وہاں کس نے تقریر کی تھی۔ میں تو ایک بات کہتی تھی وہ بھی ناتمام رہی۔ تم ادھر کھینچ لائیں (میں) کیا بات (وہ) اے استانی جی مجھے یاد بھی نہیں۔ امجدی بیگم استانی جی ان کی یہ سزا ہے کہ کاغذ اور قلم دوات انہیں دیجیے اور فرمائیے کہ سب سے دستخط کرا لاؤ۔ (امراؤ بیگم) نہیں بیوی مجھ میں لڑنے کی طاقت نہیں۔ (میں) اچھا آپ کمک کو میرے ساتھ رہیے۔ میں خود چلتی ہوں۔ امجدی بیگم۔ ہاں استانی جی یہ خوب بات ہے۔ اگر کچھ فرمانے کی نوبت آئے تو مجھے ضرور بلوا لیجیے گا۔ بڑے دالان والوں میں سے تو ایک نے چوں نہیں کی۔ نام بتاتے گئے اور امراؤ بیگم لکھتی چلی گئیں۔ نند بھاوج ایک صحنچی میں سب سے الگ بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے البتہ کہا کیسا کاغذ دستخط کاہے کی۔ امراؤ بیگم پڑھ لیجیے۔ وہ آپ خود پڑھیے۔ آخر ہے کیا۔ کچھ ٹکٹ باندھا ہے، کہیں جانے آنے کی قسم لیجیے گا۔ امراؤ بیگم۔ اوئی بیوی بات کرنے دو ماشاءاللہ تمہاری گرمیاں مجھے تو جلائے دیتی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ بیٹھ گئیں۔ میں امجدی بیگم سے پھر کر پوچھنے لگی کہ یہ کون صاحب ہیں۔ انہوں نے کہا ایک بختاور دولہن کی بہن ہیں اور ایک بھائی کی بیوی۔ امراؤ بیگم نے کاغذ سنایا کہا کہ جب لڑکے ہوں گے اس وقت لائیے گا۔ سوت نہ کپاس کوری سے لٹھم لٹھا۔ امراؤ بیگم۔ بیوی شادی ہوئی ہے تو خدا اولاد بھی دے گا (وہ) تو ہاں جب دے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 198

جب ہم بھی لکھ دیں گے۔ آج آپ لکھوا لیجیے۔ اور اولاد نہ ہو تو آپ تو سب طرح سے اچھی رہیں۔ چہ غم۔ کسی نے کہا کہ مرے تو ہم۔ امراؤ بیگم کچھ سناٹے میں آ کر رہ گئیں۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں ان سے کچھ باتیں کروں۔ امجدی بیگم امراؤ بیگم کو اٹھا لائیں۔ بختاور دولہن کی بہن مبارکی بیگم نے کہا کہ جناب مجھ سے تو دستخط کراتی جائیے۔ امراؤ بیگم اب تم بھی نہ دستخط کرو۔ گھر بھر میں ایک کا لکھ دینا کافی ہے۔ وہ اٹھ کر دوڑیں اور کہا کہ چچی جان میں نہ مانوں گی۔ میں گھم گئی۔ وہ بھی رکیں۔ انہوں نے دستخط کیا اور کہا کہ اگر وہ نہ دستخط کریں گی تو کیا ہو گا۔ دو تین مقام کمرے شہ نشین سائبان میں اور گئے اور کاغذ سنایا۔ سبھوں نے بخوشی منظور کیا۔ دو کم چالیس عورتوں کے دستخط ہوئے اور وہ کاغذ میں نے بوا رحمت کو لا کر دے دیا۔ حقیقت میں یہ کاغذ بڑے معرکے کا تھا۔ اور جو بات اس سے حاصل ہونے والی تھی وہ میری زندگی بھر کی نصیحتوں کا نتیجہ تھا۔ کہاں میں اور کہاں نصیحت، کہاں وعظ اور کہاں میری حقیقت۔ دراصل یہ سب ان معظمہ کی دعا کی برکت تھی جو خداوند عالم نے میری زبان و بیان میں تاثیر بھر دی۔ برسوں کا کہنا تو مؤثر نہیں ہوتا نہ کہ ایک دن کا کہنا اور وہ بھی بے ارادے۔ نہ پہلے سے اس کا خیال تھا نہ فکر، نہ دس آدمیوں میں کبھی زبان کھولنے کی نوبت آئی تھی، نہ عادت تھی۔ لیکن خدا نے اچھی باتوں میں ہمیشہ سے ایک عروج دیا ہے۔ اری سبھا پر میری بات در رہی گو میں ان سب سے کم عمر اور کم رتبہ تھی مگر اس نے اپنی عنایت سے میری آبرو رکھ لی۔ وجیہ النسا نے آ کر وہ کاغذ بوا رحمت سے لے لیا اور چاروں لڑکیوں سمیت الگ بیٹھ کر اس کی نقلیں شروع کر دیں۔ جتنے نام تھے اتنے کاغذ مجھے لکھ کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 199

دکھائے اور کہا کہ ایک ایک پرچہ سب کو بانٹ دیجیے۔ تاکہ ان صاحبوں کو اپنے کہنے کا پاس اور لکھنے کا خیال ہے۔ مجھے اس بچی کی یہ بات بہت پسند آئی اور اسی سے کہا کہ جاؤ تمہیں تقسیم کر آؤ۔ پانچوں کی پانچوں وہ کاغذ لے کر گئیں۔ ایک نام پکارتی گئی ایک کاغذ دیتی گئی۔ دو نے دعا دی کہ خدا آپ کے اقرار کو پورا کرے۔ ایک نے آمین کہا۔ اسی طرح سب کاغذ بانٹے ۔ ڈمنیاں بھی آ گئیں تھیں مگر بختاور دولہن نے ان کی ڈولیاں باہر ہی باہر کرایہ دے کر پھروا دیں۔ کسی نے کہا بھی کہ بھلا یہ کون سی بات ہے۔ آپ ہی بلانا آپ ہی ہکانا اور پھر کون کہ ڈوم ڈھاڑی اگر ان کو نچوانا منظور نہیں ہے تو مجرے کا روپیہ تو دے دو۔ بختاور دولہن نے کہا کہ جی بجا مجھے غرض دینے سے کچھ حرام کا روپیہ ہے کہ ناچیں نہ گائیں روپے لے جائیں۔ نچوانا نا گوانا منظور نہیں، پھر روپیہ کیوں دوں۔ میں تو ڈولی کے کرائے بھی نہ دیتی۔ کم بخت پہلے سے یاد نہ آیا جو منع کروا بھیجوں۔ اب وہ آ پڑیں۔ شرما شرمی دینا پڑا وہ بھی فقط بھائی پیارے کی مروت سے ورنہ توبہ ایک کوڑی تو میں دیتی نہ کھچڑی ہی کا روپیہ گل گیا مجھے اسی کا ملال کیا کم ہے جو اور رنج مول لوں۔ وہ چپ ہو رہیں۔ بختاور دولہن میرے پاس آئیں اور سب حال بیان کیا۔ میں نے کہا خدا آپ کو نیک ہدایت دے۔ بہت اچھا کیا۔ ان بے تکیوں کے نہ ہونے سے نقصان ہی کون سا ہو گا۔ کہا جی ہاں مہمانوں کے لیے سب سامان کئے جاتے ہیں کہ ان سب کا دل لگے۔ جانے کی دھاڑ نہ مچائیں۔ اب وہ بھی ڈر نہیں۔ سبھی تو ایک رنگ میں ہیں۔ نہ کہہ سکتے ہیں نہ جا سکتے ہیں۔ میں نے کہا ہاں اور کسی کے جانے اور برخاستہ خاطر ہونے کا خیال نہیں لیکن آ پ کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 200

بھاوج البتہ ڈومنیوں کے چلے جانے سے بےچین ہوں گی۔ خدا معلوم انہوں نے سنا کہ نہیں۔ کہا سنیں گی تو کیا کریں گی۔ جی چاہے بیٹھیں جی چاہے چلی جائیں۔ میں ان کے لئے سارے کنبے اور آپ کو تھوڑی ناراض کروں گی۔ یہ ذکر تھا کہ بختاور دولہن کی بھاوج باجی کہاں ہیں پوچھتی ہوئی ادھر آئیں اور کہا کہ بیوی صاحب یہ کون سی حرکت تھی کہ ڈومنیوں کو باہر ہی باہر ٹہلا دیا۔ ہم اب کیا کریں۔ دم الجھتا ہے۔ سناٹا پڑا ہے۔ موئے پانچ چار روپیہ کی بھی یہ حقیقت تھی جس کا آپ نے خیال نہ کیا۔ نہ اپنی بات جانے کو دیکھا نہ مہمانوں کے گھبرانے کو۔ ہمیں ان کے مجرے کے روپے دے دیتے اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مہر آپ کے بھی مزاج کا عجب نقشہ ہے۔ اسی سے تو لوگ تھالی کا بینگن کہتے ہیں۔ جو جس نے کہا اس پر لگ گئیں۔ اچھا سلوک آپ نے بلا کر کیا۔ یہ قید ہے کہ شادی۔ ہنسو نہیں بولو نہیں۔ جل تو جلال تو کی تسبیح پڑھا کرو۔ بختاور دولہن کو بھی ان کے بگڑ کر نام دھرنے سے غصہ آ گیا اور کہا کہ بس بیٹھو تمہاری جو بات ہے بے تکی۔ جب ہمیں نچوانا گوانا منظور ہی نہ تھا تو ڈومنیوں کو اندر بلا کر کیا کرتے۔ کچھ ان کی صورت میں لال لگے تھے۔ تمہارے دم الجھنے کی کیا بات ہے۔ کچھ دنیا سے انوکھی نہیں ہو جو سب کریں وہ تم بھی کرو۔ کیا سب بیٹھے ہوئے جل تو کی تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ تمہارے پاس روپیہ فالتو ہے۔ اپنے گھر پر طائفے بلا کر ناچ دیکھنا۔ میرے نزدیک تو بےشک پانچ روپے کی بری حقیقت ہے۔ کیونکہ نہ خیال کرتی۔ بعضے وقت آدمی ایک ایک پیسے کو حیران ہو جاتا ہے۔ مزاج سب کے الگ الگ ہیں۔ کچھ ضرور نہیں کہ میں تمہارے مزاج کی تقلید کروں۔ میرے مزاج کا اچھا یا برا جیسا نقشہ ہے وہ میر لئے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 201

تھالی کا بینگن ہوں یا بازی کا پھول آپ اپنی خبر رکھیے۔ یہ استقلال آپ کا آپ کو مبارک رہے۔ نہ میں نے کوئی بدسلوکی تم سے کی نہ دشمنی نہ میرا گھر خدا نہ کرے قید خانہ ہے نہ تمہیں کسی نے قید کیا ہے۔ تمہیں اپنی بات کا اختیار ہے مجھے اپنے فعل کا۔ کاغذ دستخط کرنے پر چچی جان سے تم نے جو تکرار کی ہمیں نہ برا معلوم ہوا۔ اپنی اپنی سمجھ اور توفیق۔ ہم بھی سن کر چپ ہو رہے۔ ٹال دیا کہ وہ جانیں۔ ان کا کام فقط ہمارا ہی نفع تو ہے نہیں۔ ہے تو سب کا ہے، جسے اپنا نفع خود نہ سوجھے اس کی سمجھ کا کیا علاج۔ ہم کو تو نیک بات پر تکرار بری نہ لگی۔ تم وہاں سے فرض کر کے بری بات پر رد و بدل کرنے آئی ہو۔ بس جاؤ بیٹھو، میرے منہ نہ لگو۔ تم اس قابل کب ہو کہ تم سے کوئی بات کرے۔ ذرا مزاج میں خلقی چلبلا پن ہے، اس پر اترائی جاتی ہیں۔ چاہے شوخ طبعی کا موقع ہو چاہے نہ ہو، بڑا ہے بڑا سہی، چھوٹا ہے چھوٹا سہی۔ تمہیں دو دو چونچیں لڑ لینے سے کام۔ چچی امراؤ بیگم صاحب سے الٹی سیدھی ہانک چکیں، اب آئیں مجھ سے میدان واری کرنے کو۔ نچلا بیٹھا ہی نہیں جاتا، زبان میں کھجلی ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر چپ رہیں اور منہ میں چل اٹھی۔ (وہ) ہا ہا ہا! یہ کہیے کہ اس کاغذ کے لیے آپ کو تاؤ پر تاؤ آ رہے ہیں۔ وہ تھا ہی کیا۔ کہیں کاغذ کی ناؤ بھی چلتی ہے۔ آپ کو اتنا بھی معلوم نہیں اور یہ کہہ کر مسکرائیں۔ اپنے نزدیک انہوں نے گویا پالا جیت لیا اور بختاور دولہن کو بند کر دیا۔ میں نے کہا آپ ذرا بیٹھ جائیے کھڑے رہنے سے تو سچ مچ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھاگنے کو تیار ہیں۔ بختاور دولہن نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا اور کہا کہ لو اب زبان لڑاؤ دیکھوں تو کیسی تُرتُریا ہو۔ وہ کیوں زبان لڑانے کو کیا ہوا جو جیسا کہے گا ویسا سنے گا۔ (بختاور دولہن) دیکھو سطوت آرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 202

اگر تم نے استانی جی سے شوخی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں۔ طریقے سے بیٹھ کر ادب سے بات کا جواب دینا۔ میں۔ اب اپ اپنی نصیحت تہہ کر رکھیے اور میری سفارش نہ کیجیے۔ اگر میں ان کے نزدیک سرزنش ہی کی سزاوار ہوئی تو وہ کیونکر طرح دے سکتی ہیںاور ان پر کیا کوئی بھی نہ دے گا اور قابل رحم ٹھہری تو خدا نہ کرے وہ ظالم اور نالائق نہیں ہیں ہاں سطوت بیگم صاحب آپ کیا روز ڈومنیوں کا ناچ دیکھا کرتی ہیں۔ وہ۔ نہیں تو۔ اچھا آپ کے ہاں سو پچاس آدمی روز آتے جاتے ہیں۔ وہ۔ جی نہیں۔ میں نے کہا پھر یہاں تو ایک بات زیاد آپ کے گھر سے ہے کہ سارا کنبہ جمع ہے۔ دو چار نئے آدمی بھی ہیں۔ اگر کھڑے کھڑے سب کے پاس جائیے تو دل کا دل بہل جائے اور ایک جگہ کی قید بھی نہ ہو۔ شادی میں بری چہل پہل مہمانوں کی ہوتی ہے۔ بھلا بدون مہمانوں کے فقط ڈومنیاں بلا کر تو نچوائیے، دیکھئے کیا برا معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ روز اپنے گھر میں ناچ نہیں دیکھتیں اور نہ عادت ہے تو آج ڈمنیوں کی کیوں تلاش ہے۔ اگر شادی بیاہ میں دار و مدار ڈومنیوں ہی پر ہے اور انہیں کی یاد منائی جایا کرتی ہے تو پھر صاحب خانہ پر احسان جتانا بےسود نہ اس کے کہنے سے آئے نہ اس کی خوشی سے کام نہ شادی سے غرض۔ ڈومنیاں ہوئیں ، ٹھہرے، نہ ہوئیں پلٹ گئے بلکہ میرے نزدیک یہ نہایت مناسب ہے کہ ڈولی ہی میں بیٹھے بیٹھے پوچھا۔ بھر بھنڈ صحبت ہوئی، ہر گز نہ اترے۔ زیادہ احتیاط کی، گھر ہی سے پچھوا لیا۔ آنے کے قابل ہوئی آئے ، نہ ہوئی نہ آئے۔ میل ، ملت، عزیز داری و قرا بت سے تو غرض نہیں۔ کام تو فقط ڈومنیوں سے ہے۔ میں جانتی ہوں کہ اگر آپ ہمارے کاغذ کی طرح سے ایک پرچہ اس کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 203

خلاف لکھ کر کنبے والیوں سے (ایسے میں سب اکٹھا بھی ہیں) دستخط کرا لیجیے تو بڑی ناموری کی بات ہے۔ نیکی ہو یا بدی کسی میں نام پیدا کرنا چاہیے۔ اس کاغذ کی ناؤ خشکی اور تری دونوں جگہ بڑے زور و شور سے چلی کی۔ بلکہ طوفان حشر میں بھی کام آئے گی۔ بیگم صاحب بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ نہ اپنے گھرانے پر نظر کرتی ہیں نہ اپنی اصلیت کو دیکھتی ہیں۔ جو منہ میں آتا ہے کہہ بیٹھتی ہیں۔ برے کام بد بات پر مصر ہوتے ہیں۔ میں نے آپ ہی کو دیکھا کوئی نادم ہو کر گریبان میں منہ ڈالتا ہے، آپ الٹا حلق دباتی ہیں۔ کون سی بری بات اس کاغذ میں لکھی تھی جس کی آپ نے دھجیاں اڑائیں۔ اگر بدعات اور بےہودہ خصلت ناجائز رسمیں گناہ کی باتیں چھوڑنے پر خدا سے ڈر کے سب نے قسمیہ اقرار نامہ لکھ دیا تو کیا گناہ، کیا عقل و تہذیب کا مقتضا یہ تھا کہ اگر وہ کاغذ بے جا بھی ہوتا تو آپ اس کی مذمت نہ کرتیں۔ آپ نے اچھے کو برا کر دیا۔ ہنر میں عیب نکالا۔ ماشاءاللہ کیا شوخ طبعی اور ذہانت اسی کا نام ہے کہ چاند پر خاک ڈالیے اور حق کو متیا میٹ کیجیے۔ فضول خرچی سے نجات ہو گی تو سب کو اور ترک رسوم بد ہو گا تو سب کے ہاں سے۔ اس بات کا انتشار یا دغدغہ کیا کہ ہم نے اگر ایسا عہد کر لیا تو اپنی لڑکی کون دے گا یا ہمارا لڑکا کیونکر بیاہا جائے گا۔ بیوی جب چار مل کر ایک بات کریں گے تو انہیں کے ہاں کھپت بھی ہو جائے گی۔ نئی بات نیا قانون نیا حکم پہلے خلاف طبع ہونے کی وجہ سے گراں گزرتا ہے لیکن رفتہ رفتہ جب اس کی خوبیاں اور جوہر کھل جاتے ہیں، فائدے ظاہر ہو جاتے ہیں تب بدون اس کے کام بھی نہیں چلتا۔ اسی طرح سے یہ بد عادتیں پیچھے پڑی ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 204

کیا ایکا ایک سب نے تھوڑی مان لیں۔ دو آج پھنسے چار کل، دس اس سال، بیس اُس برس۔ لیجیے آخر کو ایک ہی لاتھی سے ہانکے گئے۔ جب بچوں کا فیون دینا شوہروں سے مقابلہ کرنا، زچا خانے سے نماز کا ترک قضا کا اعادہ نہ کرنا، روزہ کھا کھا کے پیٹ بھرنا، نصیحت سے بگڑنا، بڑوں سے لڑنا، ایک گھر یا ایک گھرانے سے نکل کر عالمگیر ہو گیا اور اب ان باتوں کو کوئی عیب بھی نہیں جانتا اور ان کا چھورنا سہل بات نہیں کیونکہ داخل عادات ہو گئیں اور عادت کا دوسری طبیعت نام ہے۔ جس طرح سے آج ان کے ترک میں دقتیں معلوم ہوتی ہیں اسی طرح دوسرے کے اختیار کرنے میں مشکلیں نظر آتی ہیں۔ عقل سا جوہر لطیف خدائے پاک نے خاص اسی منشا سے دیا ہے کہ حق و باطل کو پہچانو، نشیب و فراز کو سمجھو، اچھے برے کو پرکھو۔ اس لیے نہیں دیا ہے کہ دل کے کوٹھے میں بادشاہی چیز کی طرح رکھ چھوڑو اور جھوٹوں کام نہ لو۔ کیا آپ انصاف اور عقل سے یہ کہہ سکتی ہیں کہ ہمارے ہاں جتنی باتیں شادی بیاہ میں ہوتی ہیں اول سے آخر تک مہمل اور بہت سی خلاف شرع بہتیری جان لیوا اکثر آبرو کی دشمن نہیں ہیں۔ آپ تو آپ میں ہوں چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ ماں باپ ان کو پیسہ دو پیسہ روز اٹھانے کو دیں اور وہ ایک دن چار آنے کا سودا کھا جائیں، آٹھ روز سوا ایک ایک کا منہ تکنے اور قرضہ ادا کرنے کے کوئی چارہ ہے۔ اگر اس فضول خرچی کی خبر سن کر ماں باپ نے ہاتھ کھینچا تو سودے والے کا ہاتھ ہے اور ان کا دامن۔ اسی طرح جس خدا نے ہمارے اخراجات کا ذمہ لیا ہے، ضامن رزق ہے کفیل خرچ ہے ہم کو جو کچھ دیا ہے یا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 205

عنایت کیا ہے، ہمیں چاہیے تھا کہ سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔ تقدیر کے لکھے کی تو کسی کو خبر نہیں کہ کتنا لکھا ہے کیا ملا اور کیا باقی ہے۔ اگر یکمشت دس بیس ہزار لکھ دیے تھے اور وہ ملے، ہم نے بیس راہ لگا دیے۔ لکھا تو مٹ نہیں سکتا اب فرمائیے کہ کیا ہو گا۔ دینے والا تو دے چکا ہم نے چار روز میں دارا نیارا کیا، ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ رہے۔ اب بھیک مانگیں یا چوری کریں۔ راحت طلب نفس پرست ہوئے، مال حرام پر ہاتھ لپکا یا چوری کا چسکا پڑا۔ جفا کش خدارس ہوئے ڈلیا ڈھونے لگے۔ نتیجے دونوں کے برے۔ اپنے نین گنوا کے در در مانگے بھیک والی مثل ایسے ہی لوگوں پر صادق آتی ہے۔ فضول خرچی وہ بدتر چیز ہے جس کا مارا پنپتا ہی نہیں۔ عقل سے کام لے کر دیکھیے کہ میں نے جو مثال دی وہ صحیح ہے یا نہیں۔ آگے بڑھ کر خلاف شرع ہونے کا ثبوت مجھے دینا چاہیے۔ اس کے واسطے بہت دور نہ جائیے۔ یہیں بیٹھے بیٹھے قیاس کیجیے کہ شرع کو تکلفات ظاہری سے کیا علاقہ۔ معاذاللہ شرع میں یہ بات ہو سکتی ہے کہ اکیس پان کا بیڑا کھاؤ، تلشکری چباؤ تو کام چلے۔ وہاں مہر کے لیے ایک سو پانچ یا سات کا حکم ہے۔ یہاں ہزاروں سے لاکھوں پر نوبت پہونچ گئی۔ جب آمدنی ٹھہری کم اور ارادہ کیا برا یہ بھی ہو، وہ بھی ہو تورے بندی کی اور تمام شہر کو رقعہ بانٹے، پندرہ طائفے بلائے، پچاس من کی پخت کرائی تو خواہ مخواہ دھوس موس کر لانا پڑا۔ کہیں خوشامد اور اپنی ساکھ پر کہیں سے لکھ پڑھ کے روپیہ لیا شادی کے بعد جو خرابی پڑی اس نے رونے تک نہ دیا۔ گھر میں چھپے بیٹھے ہیں۔ باہر قرض خواہوں کی چڑھائی ہے۔ اگر دولہن بیاہ لائے اس کا جہیز چھینا تو سارے شہر میں بدنام الگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
افسانہ نادر جہاں

صفحہ ۔۔۔ 206

ہوئے اور صاحبزادے سے الگ بیر پڑا۔ وضعداری کی کھُس کھُس کے جان دی۔ تتے پڑے آبرو پر پانی پھر گیا۔ عورتوں کا کیا وہ فرمائشیں کر کے الگ ہو گئیں۔ جن بیچارے مردوں پر آفتیں ہیں ان سے میری تقریر کی داد لیجیے۔ پرائی کمائی کا کیا۔ درد، محنت، مشقت سے کمانا پڑے تو قدر عافیت معلوم ہو۔ آنکھوں کے آگے ناک سوجھے کیا خاک جس وقت راہ پر آ کر نظر کیجیے گا آپ کو میرے کہنے کا حال کھل جائے گا۔ بہت سے نادان ناک چوٹی گرفتار عورتوں نے نام اور شہرت کی طمع میں اپنا گھر خال سے لگا دیا۔ شادی تو برے بھلے حال ہو گئی مگر انجام یہ ہوا کہ میان دیس چھوڑ کر پردیسی ہوئے۔ چار دن چھپ کر بھی گھر میں رہنے نہ پائے اور بہو بیٹا پھٹک کر الگ وہاں ہے کیا جو کوئی ساتھ دے۔ بیوی صاحب خالی بیٹھی کرایے کے مکان میں اپنے کیے کو رو رہی ہیں۔ پچھتاتی ہیں کوے اوڑاتی ہیں۔ بےوقت کے افسوس سے ہوتا ہی کیا ہے۔ بہتیرے تو پہلے ہی شادی میں کھک ہو کر رہ گئے۔ اکثر دوسرے درجے پر پہونچ کے گر پڑے۔ بعضے تیسری شادی کر کے سر پر ہاتھ دھر کے روئے۔ بڑے بوڑھے اگلے زمانے والے جن کی طبیعتیں نیک اور مزاج اچھے تھے، اسی لیے کہہ گئے ہیں کہ جو کام کرے خوب سوچ سمجھ کر کرے۔ اس وقت تو خوشی کی ترنگ میں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ آخر کو آنکھیں رو رو کر پھوڑنا پڑتی ہیں۔ میرا کاغذ اسی قسم کی ہزاروں برائیاں دفع کرے گا۔ اور ان شاء اللہ بیگم صاحب دیکھ لیجیے گا کہ بلا کے کاغذ میں بلا ہی کا اثر ہو گا۔ آج ہم کو نئی بات کہنے سے آپ چاہے بلا فرمائیے اور چاہے ٹالنے کی دعا کیجیے۔ کل خدا نے چاہا تو اسی بلا کے قدم آنکھوں سے لگانے کی آپ کو بھی حسرت ہو گی۔ اور یہ بلا نہ ملے گی (سطوت آرا بیگم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 207

استانی جی توبہ توبہ میں نے توت ایک بات کہی تھی۔ میں اور آپ کو بلا کہوں (میں) بیگم صاحب میں کچھ برا تھوڑی مانتی ہوں۔ اگر میں دراصل بلا ہوں تو آپ نے ٹھیک کہا اور اگر نہیں ہوں تو آپ کا کہنا غلط بات پر خیال کرنا کسی سمجھ دار آدمی کا کام نہیں۔ میں نے بھی آپ ہی کیط رح سے ایک بات کہہ دی۔ اگر آپ نے کہا تھا تو اس کا جواب سمجھیے۔ تاکہ آپ کو اپنی جودت اور شوخی پر دوبارہ ناز نہ ہو۔ اگر آپ نے نہیں کہا تو میری طرف سے اب سمجھیے کہ میں اپنے گئیں خود بلا کہتی ہوں کیونکہ اتنی دیر سے آپ کے پیچھے پڑی ہوں۔ (سطوت آرا بیگم) اگر آپ یہی سمجھیں تو میں مجبور ہوں آپ کی سمجھ پر میرا زور نہیں۔ کیونکر سمجھاؤں سوا سکوت کے کوئی چارہ نہیں۔ بہتر ہے یوں ہی سہی۔ آپ جو بانٹتی پھرتی ہیں مجھے نہ دیجیے گا۔ چلیے فرصت پائی (میں) بیگم صاحب یہ تو آپ کا حال بالکل اس وقت ویسا ہے کہ زبردست مارے اور رونے نہ دے۔ جب بات عائد ہو چکی ضمیر پھر گئی تو آپ کو حجاب آیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ غصہ کو بھی ملا لیا۔ یہاں عتاب و ملال کا محل نہیں نہ ذاتی گفتگو ہے نہ مجھے خدا نہ کرے آپ سے لڑنا منظور ہے (سطوت آرا بیگم) آپ لڑ بھی سکتی ہیں (میں) استغفر اللہ میری کیا مجال، خدا نہ کرے جو میں آپ سے لڑنے کا ارادہ کروں۔ کیونکہ میرا تو مقصود ہی کچھ اور ہے۔ وہ لڑائی میں حاصل کیوں ہو گا۔ مجھے اپنا مطلب فوت کرانا تھوڑی منظور ہے کہ اتنی دیر ٹھک ٹھک ہو اور پھر نہ الالذی نہ اولاالذی۔ ہاں جواب لینے کی ضرور طالب ہوں کہ میری بات کا شافی جواب دیجیے (سطوت آرا) شافہ اور شافی تو کسی دوسرے لغت چھانٹیے۔ میں آپ کی طرح استانی وستانی تو ہوں نہیں۔ جواب میں نے فقیر تک کو نہیں دیا، آپ تو بڑے گھر کی ہیں۔ بختاور دولہن صاحب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 208

کا گھرانا ماشاءاللہ آ پ کا خاندان سبحان اللہ۔ (میں) بیگم صاحب یہ مزاح کا وقت نہیں ہے۔ میں فقیر نہیں ہوں۔ آپ شوق سے جواب دیجیے۔ لغت بولنے کے قابل جب آپ کو سمجھوں تو کیونکر نہ بولوں۔ خواہش اور خوش طبعی سوال اور غصہ چار دن آپس میں ضد رکھتے ہیں۔ آپ ایک وقت میں ان کو جمع کر کے اپنی جوانی کا ماشاءاللہ زور دکھاتی ہیں۔ میں ہر طرح سے آپ کی طبیعت کا لوہا مان گئی۔ لیکن میرا مطلب خبط ہوتا ہے۔ دو ہی باتیں ہیں، ہاں یا نہیں۔ جو کہنا ہو کہہ دیجیے۔ کہیں فرصت تو ہو۔ (سطوت آرا) آپ مزاح کے قابل ہی کب ہیں۔ لیجیے ہاں اور نہیں بس۔ (میں) واہ واہ سمجھانے کا اثر آپ کی طبیعت پر کس قدر جلد پڑتا ہے۔ اے صاحب دو میں سے ایک قبول کیجیے (سطوت آرا) مارے باندھے کا سودا مجھے نہیں اچھا معلوم ہوتا۔ کہیے آپ کی خاطر سے کہہ دوں۔ (میں) نہیں بیوی، میری خاطر سے کیا کام۔ اپنے اور اپنے کنبے کی خاطر سے کہیے۔ زبردستی کی کیا بات ہے۔ جی میں آئے تو ورنہ مجبوری کاہے کی۔ جبر ظلم کون کرتا ہے۔ اپنے حق میں بہتر دیکھیے ، قبول کیجیے، برا معلوم ہو دور فرمائیے۔ میں نام بھی نہ لوں (سطوت آرا) حضرت سنیے ہزار بات کی تو یہ بات ہے کہ آپ نے اتنا کچھ کہا مجھ سے قسم لیجیے جو ایک لفظ میں نے دل لگا کے سنا ہو۔ نہیں معلوم میں کہاں تھی۔ اب اس کہانی کو تو اٹھا رکھیے کہ دوبارہ سننے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میرا دماغ اس قابل ہے۔ گو آپ پھر کہنے کو موجود بھی ہوں مگر میں سنوں ہی گی نہیں کیونکہ عمل نہیں کرنا ہے۔ اب رہا جواب وہ دو چار روز میں دے دیا جائے گا۔ (میں) بیوی واہ میرا تو اصرار آپ کی یہ گفتار مجھے ہر گز دوبارہ آپ کے نازک دماغ کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔ جواب میں اسی وقت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 209

لوں گی۔ کیونکہ اس میں آپ کے دماغ کو چنداں ایذا اٹھانا نہیں ہے۔ ورنہ میں اسے بھی ہمیشہ کے لیے فردا پر اٹھا رکھتی۔ ہاتھی گھوڑے نہیں لگیں گے نہ چھکڑا۔ آپ کو میری طرح کھینچنا پڑے گا۔ تین حرف کا ایک ہاں دو حرف کا دوسرا نا ہے۔ دونوں میں سے ایک کو کہہ دیجیے۔ بس اللہ اللہ خیر سلا میرے دل کی ہوس نکل جائے (سطوت آرا) اجی حضرت صاف تو یہ ہے کہ بندی کو نہیں منظور چاہے آپ سر سے زمین کھودیں (میں) بیگم صاحب دیکھیے غصے سے کام نہ بگاڑیے۔ آپ کے حق میں یہ جواب بہت مضر ہے۔ آپ کے کنبے والے کچھ اور خیال رکھتے ہیں، آپ کچھ اور کہہ رہی ہیں۔ شادی بیاہ آپ کے ہاں آپس میں ہوتا ہے۔ ذرا سوچیے تو یہ ہونا کیا ہے۔ خدا رکھے چار دن میں لڑکے بالے ہوں گے پھر شادی کا زمانہ آئے گا۔ ان میں شادی نہ کیجیے گا تو کہاں جائیے گا (سطوت آرا) بیٹھیے بھی غصہ اور ملال کیسا۔ میں سچ کہتی ہوں، ہر گز ہر گز میں آپ کی بات نہیں مانوں گی۔ چاہے یہ لوگ شادی کریں چاہے نہ کریں۔ جس کو ہزار دفعہ غرض ہو گی ذات رات کا بھوکا ہو گا، ناک گھستا ہوا آئے گا اور سری ٹیک کر کے لے جائے گا۔ نہ غرض ہو گی وہ اپنے گھر خوش میں اپنے گھر خوش۔ نہ لڑائی نہ جھگڑا۔ اب تو چار باتیں اور میں اپنی طرف سے بڑھا دوں گی۔ امراؤ بیگم جاتے جاتے کھڑی ہو گئیں اور یہ آخر ہی فقرہ سن کر ان کو تاب نہ رہی۔ غصہ سے کہا کہ بس استانی جی کہنے کی حد ہو گئی۔ آپ کی بلا سمجھائے اس لڑکی کو نہیں معلوم کاہے سے اپنی عقل پر غرّا ہے اور عقل چھو تک نہیں گئی۔ چار نہیں تم پچاس باتیں بڑھا دینا۔ کسی کو کیا جو آگ کھائے گا آپ انگارے ہگے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ تم کنبے میں اپنی بات اونچی ہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 210

تو لے کر جاتی ہو۔ اپنے سر کی قسم اگر شادی کے لالے نہ پڑ جائیں اور لڑکا لڑکی دو بھر نہ ہو جائیں تو اپنا ہاتھ کٹوا ڈالوں۔ لو صاحب سارے گھرانے سے یہ الگ چل کر نئی بات کریں گی اور کوئی ان کے کہنے کو مان لے گا۔ کسی کو ایسی کیا پڑی ہے۔ ضد ہے تو ضد سہی۔ جاؤ تمہاری یہ راہ، ہماری وہ راہ۔ سو ناک والوں میں ایک نکٹا کیا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ ری بات کی پچ پہلے جو منہ سے نہیں نکلا تو اب بھی وہی نہیں سوا رہے۔ ایک نہیں ہزار نہیں۔ کوئی سمجھائے سے سمجھتا ہے۔ یہ اور تنتی بررتی جاتی ہیں۔ بٹیا حواس میں آؤ، ہم بھی دیکھتے ہیں کہ یہ انوکھی چال چل کر کیونکر الگ نکل جاتی ہو۔ اور سب سے بگر کر کیا بناتی ہو۔ ذرا اس وقت کی بات بھول نہ جانا (سطوت آرا) جی خوب یاد ہے لائیے لکھ دوں۔ امراؤ بیگم کچھ ضرورت نہیں لکھوا ک کسی کو کیا کرنا ہے۔ تم چاہے لکھو چاہے نہ لکھو ہم نے تو دل پر لکھ لیا ۔ جیتے جی تو یہ نہیں مٹتا۔ استانی جی آپ کو میرے سر کی قسم اس بارے میں اب آپ کچھ نہ فرمائیے گا۔ حجت ختم ہو گئی، نصیحت ہو چکی۔ (سطوت آرا) جی بہت اچھا۔ آپ کتاب نصیحت بند کرا دیجیے۔ یہاں بھی کسی کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ استانی جی نہیں کہیں گی تو کیا ہو گا۔ وہ ہزار کہیں یہاں سنتا ہی کون ہے۔ قسم لیجیے جو میرے کان پر جوں تک رینگی ہو (امراؤ بیگم) تمہارے کان پر جوں کیوں رینگے کی۔ پرانی لیکھ پر چلنے والیوں میں ہو۔ جو کرتی ہو اچھا کرتی ہو۔ ایک حمام میں سب ننگے سنے تھے، روئی کا بنولہ نہ دیکھا تھا۔ برضدی کچھ اچھی تھوڑی ہے (سطوت آرا) بھئی کیا مزے کی بات ہے کہ آپ ہی تو کتاب نصیھت بند کرنے کو کہتی ہیں اور آپ ہی روضہ والی بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ہزار سمجھائیے یہاں اثر ہی نہ ہو گا۔ پتھر میں کہیں جونک لگ سکتی ہے۔ یہی نا کہ لوگ ہمارے بچوں سے شادی نہ کریں گے۔ جوتی کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 211

نوک سے پاپوش کی خاک سے آپ سب سے کہہ کر بری چیز اٹھوا لیجیے۔ دیکھیے بات نہ ہیٹی ہو (امراؤ بیگم) میری جان میں کیوں کہنے لگی۔ جنہیں اپنی قسم اور بات کا خیال ہو گا وہ خود ہی نہ کریں گے۔ سبھی تو آتے جاتے سن رہے ہیں۔ کچھ کُلھیا میں تو گڑ پھوٹا نہیں۔ تم تو ڈنکے کی چوٹ ہانکے پکارے کہہ رہی ہو (میں) بیگم صاحب اس وقت آپ کو سچ مچ غصہ آ گیا اور غصہ کا قاعدہ ہے کہ آدمی کو اونچ نیچ دیکھنے سے روک دیتا ہے۔ ابھی اس ذکر کو موقوف کیجیے۔ تھوڑی دیر بعد سمجھ بوجھ کر جواب دیجیے گا۔ کچھ نلدی نہیں۔ ابھی تو ہم آپ کی خدمت میں رات تک حاضر ہیں۔ گو ہم سے آپ سے تعارف نہ تھا۔ آج ہی آپ کو پہچانا۔ لیکن ماشاءاللہ آپ بڑی بات کی دھنی اور قول کی پوری ہیں۔ کوئی آپ کی اس بات کو ضد یا ہٹ سمجھے لیکن میں ہر گز نہیں کہہ سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس آپ کی عقل کی تعریف کرتی ہوں۔ انسان کو جو کام کرنا ہو پہلے اس کے عیب و ہنر پر آپ کی طرح دانائی سے نظر ڈالے۔ یہ نہیں کہ ہر کس و ناکس کے کہنے پر لگ جائے۔ مجھے آپ کے انکار و تکرار سے ہر گز ہر گز ملال نہیں ہوا بلکہ ایک طرح کی خوشی ہوئی کہ اگر آپ میرے کہنے کو قبول کریں گی تو پکر طرح سے یہ نہیں کہ خاطر سے منہ پر ہاح ہاں، بہت اچھا، بہت بہتر کہہ دیا پھر کون کرتا ہے سمجھداری کے معنی یہی ہیں کہ جس کام میں دخل دے اسے پورا کرے۔ لے ذرا آ کر میرے گلے تو لگ جائیے۔ سارے جلسے میں اک آپ کی عقل کا مجھے امتحان ہوا۔ جتنی چھان بنان سے کام کیا جائے گا اتنا ہی اس کو قیام ہو گا۔ یہ کہہ کر میں نے تو ہاتھ بڑھائے اور وہ خدا کی بندی جھچک کر کھڑی ہو گئی، مسکرا کہا کہ اوچھا جی اب آپ نے دوسری طرح سے میرے پھانسنے کی تدبیر کی میں ایسے دم دھاگوں میں آنے والی نہیں۔ کسی اور کو یہ پٹی پڑھائیے۔ چہ خوش کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ 212

میں کچی گولیاں کھیلی ہوں جو آپ کے دم پر چڑھ جاؤں گی۔ (میں) ووئی بیوی اس میں دام دلاسے کی کون بات ہے۔ میں تو آپ کے اوپر چھوڑتی ہوں ابھی پہر بھر کا عرصہ میرے گھر جانے میں اتنی دیر میں خوب سوچ بچار کے جواب دیجیے گا۔ یہ کیا ضرور ہے کہ جواب میرے خاطر خواہ دیجیے۔ اگر آپ نے پھر نہ منظور کیا تو دم دھاگا کیونکر ہوا۔ بیگم صاحب کیا آپ نے میری ہر بات نہ ماننے ہی کا عہد کر لیا ہے جو اچھے کو بھی بری طرف لے جاتی ہیں۔ آپ کی عقل سے بعید ہے کہ آپ اپنے اک نئے مہمان کو بات بات پر ذلیل کیجیے اور اس کو بے رخی سے جواب دیجیے۔ سطوت آرا۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ مہمان باجی کی ہوں گی مجھ سے کیا غرض۔ یہ کیا میرا گھر ہے (میں) آپ وہ کہیں جدا ہیں۔ میں تو ایک ہی جانتی ہوں۔ آپ چاہے مانیے اور چاہے نہ مانیے۔ مہمان تو ضرور ہوں اور آپ دونوں صاحب ہیں بھی برابر جیسے آپ کا گھر ویسے ان کا مکان۔ آپ اگر ایسا نہ سمجھیں تو میں مجبور بھی نہیں کر سکتی کہ خوامخواہ میرا کہنا ہو۔ سطوت آرا۔ آپ ہزار پھیر پھار اور گھیر گھار کیجیے۔ باغ سبز دکھائیے، محبت جتائیے۔ بندی ان پھلاسڑوں میں آنے والی نہیں۔ (میں) بہت خوب جیسا ارشاد کیجیے لیکن میری خطا کو معاف کر دیجیے گا کیونکہ آپ کے نزدیک میں نے ہر اک بات بے جا اور بے محل کہی۔ جس سے ضرور ہی آپ کے دشمنوں کو رنج ہوا ہو گا۔ میرا تو بے اختیار دل چاہتا تھا کہ آپ کے گلے سے لگ کر دل صاف کروں لیکن خراف مرضی یہ بھی نہیں کر سکتی۔ آپ مجھے نہ گلے لگانے کے قابل سمجھتی ہیں نہ منہ لگانے کے۔ پس میں ضرور نالائق و ناقابل ہوں۔ اور نالائق گناہ گار۔ لہذا خطا بخش دیجیے اور قصور معاف کیجیے۔ (سطوت آرا) جی معاف تو ایک کوڑی نہیں ہو گی۔ آپ کے دل میں اور جو کچھ آئے کہہ لیجیے۔ میں کچھ کہنے نہ پائی تھی کہ امراؤ دولہن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 213

(امراؤ بیگم) نے دوڑ کر میرے قدموں پر سر رکھ دیا اور کہا کہ اللہ استانی جی اب آپ ان بی صاحبزادی کی بات کا جواب نہ دییے اور ان سے کہا کہ بس بیوی تمہارے جوہر کھل گئے۔ اب سدھارو اپنی صحنچی میں جاؤ۔ بختاور دولہن باہر کھڑی ہوئی یہ تقریریں سن رہی تھیں۔ سطوت آرا بیگم کے دو کوڑی نہ معاف ہو گی کہنے پر آپ سے گذر گئیں اور امراؤ بیگم صاحب سے بلا کر کہا کہ بس جو ہونا تھا ہو چکا۔ آپجا کر اس بےہودہ کو یہاں سے دفان کیجیے۔ جب ان بیچاری نے جانے کو کہا تو سبوت آرا بیگم بولیں کہ جی بجا کیوں جاؤں۔ صحنچی اور دالان کیسا کچھ قبالہ تو اس کا میرے نام ہے نہیں۔ نہ میں صحنچی میں ٹانگ توڑ کر بیٹھنے کا عہد کر کے آئی ہوں۔ سارے گھر میں جہاں جی چاہے گا وہاں بیٹھوں گی۔ جس کو میرا بیٹھنا ناگوار ہو وہ خود اٹھ جائے (امراؤ بیگم) میری جان ناگوار کیوں ہو گا اک بات کہی کہ یہاں بیٹھ چکیں اب وہاں جاؤ نند تمہاری اکیلی بیٹھی ہیں (سطوت آرا) بیٹھی رہیں۔ کچھ میں ان کی نوکر تو ہوں نہیں کہ دم کے ساتھ ساتھ پھروں (امراؤ بیگم) نوکر کیسا۔ محبت عجب چیز ہے تم ان کا خیال رکھو گی وہ تمہارا (سطوت آرا) نہ میں ان کا دیا کھاتی ہوں نہ مجھے ان کے خیال کی ضرورت پڑی ہے (امراؤ بیگم) چلو نہ سہی تم یہیں بیٹھو۔ ہم استانی جی کو تمہاری صحنچی میں لئے جاتے ہیں (سطوت آرا) دیکھا تو نہیں وہاں میری طرح ہزار طرح کی چیزیں پڑی ہیں (امراؤ بیگم) تو یہ سنتے ہی فق ہو گئیں اور بختاور دولہن تھر تھر کانپتی ہوئی مبارک بیگم کے پاس پہونچیں۔ تھم تھم کے اور رک رک کے آدھے کا تیہا کہہ کے ان کے ہاتھ جوڑے کہ بیوی اپنی بھاوج کو اٹھا لاؤ نہیں میں آدمیوں سے کہتی ہوں۔ وہ بیچارے گھبرا کر دوڑین کمرے میں آئیں اور کہا کہ ہائیں تم یہاں بیٹھی ہو میں کب سے ڈھونڈتی پھرتی تھی (سطوت آرا) کیوں (مبارک بیگم) یونہیں اکیلے بیٹھے بیٹھے دم گھبرا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 214

کہا لاؤ بھابھی کو دیکھوں۔ تم یہاں چھپی ہوئی تھیں۔ لے چلو (سطوت آرا) ہم تو نہیں جاتے۔ تمہیں غرض ہو تم بھی بیٹھو (مبارکہ بیگم) معقول۔ مجھے یہاں بیٹھنا ہوتا تو کسی نے منع کیا تھا۔ جلدی اٹھو اک کام ہے تاؤ بگڑتا ہے۔ اک چیز لے رکھی ہے۔ ٹھنڈی ہوتی ہے (سطوت آرا) یہیں لے آؤ کسی کا ڈر ہے یا چوری۔ کیا لونگ چڑے والی آئی ہے (مبارکہ بیگم) واہ لونگ چڑے کون گرم گرم بیچتا ہے۔ کلیجی کے کباب ہیں وہ پھڑپھڑا رہے ہیں کہ بےپھونک کھائے نہیں جاتے۔ لوگ ماشائاللہ لے رہے ہیں۔ ٹوٹے پڑتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بک جائیں (سطوت آرا) یہ ہر چیز پر آپ ہی کی رال ٹپکتی ہے میری نیت سیر ہے۔ میں تمہاری طرح ندیدی نہیں ہوں کہ جہاں دیکھوں چکنی بوتی وہاں کٹاؤں ناک اور چوٹی (مبارکہ بیگم) اے ہے اٹھو بھی مثلیں پھر چھانٹ لینا۔ میرا بھی مزا جاتا ہے۔ تمہارے سر کی قسم ایسے چٹ پٹے ہیں کہ بس کھاؤ گی تو کہو گی (سطوت آرا) ایک دفعہ کہہ دیا کہ یہیں لے آؤ۔ مبارکہ۔ پھر وہی مرغ کی ایک ٹانگ۔ سنتی جاتی ہو کہ وہ آتے ہی کے ساتھی نرغے میں گھر گئی۔ سانس تک تو لے نہیں سکتی۔ وہ آئے گی نہیں۔ کباب یہاں تک آتے آتے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ پھر کیا ہو (سطوت آرا) اے ہے وہ بھی بھاڑ میں جائے اور کباب بھی چولھے میں پڑیں۔ میں تو نہیں جاؤں گی (مبارکہ بیگم) میری بھابھی میں صدقے ، میں قربان تمہارے بغیر حلق سے نہیں اترتے۔ جلدی چلو مجھ نگوڑی کا بھی مزا جاتا ہے۔ کباب لے کر ایک کھایا تھا کہ حلق میں پھنسا۔ تمہیں لینے کو چلی آئی۔ وہ وہاں اتنی دیر میں بٹی ہو گئے ہوں گے (سطوت آرا) میری بلا سے مجھ پر احسان کچھ میرے واسطے لئے تھے۔ آئیں تو دونا وہاں چڑھا کر آئیں۔ لیتی آتیں تو کیا ہاتھ گھس جاتے (مبارکہ بیگم) لاتی تو تھی پھر مجھے شرم آئی کہ استانی جی صاحب وہاں بیٹھی ہیں۔ ان کی اماں جان میں کیا کیا بون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 215

کا دونا لیے ان کے سامنے جاؤں (سطوت آرا) تم ایسی ہی شرمیلی بلی ہو استانی جی اور ان کی اماں ولی ہیں۔ کچھ کھاتی پیتی تھوری ہیں۔ ہوا پھانک کر جیتی ہیں۔ سانڈے کی اولاد (مبارکہ بیگم) بس بےہودہ نہ بکو۔ تمہارا لحاظ شرم کہاں اڑ گیا۔ (سطوت آرا) جو ہمارا لحاظ پاس نہ کرے ہم اس کے باپ کا نہ کریں۔ بختاور دولہن اس کلمے سے آگ ہو گئیں اور کمرے میں لال بھبوکا بنی آئیں۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر باہر یہ کہتی ہوئی چلی کہ مجھے کچھ کہنا ہے ذرا باہر چلیے۔ وہاں آ کر دیکھا کہ سر پکڑے امجدی بیگم بھی بیٹھی ہیں۔ ان کو لیتی ہوئی میں کوٹھے پر چلی گئی۔ وہاں جا کر جہاں تک زبان میں گویائی تھی دونوں صاحبوں کے دل سے بات نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کو اس قدر رنج تھا کہ زانوؤں سے سر نہ اٹھایا۔ دونوں آنکھ نیچی کیے خاموش بیٹھی رہیں۔ جب دن بہت کم رہا تو میں نے کہا کہ بس بیوی میرا غم کرم کرو۔ نیچے جاؤ مہمانوں کی خبر لو۔ لڑکیوں کو یہاں بھیج دو کہ میں نماز کا سامان کروں۔ تمہیں تو ایک بات عمر بھر کے یاد رکھنے کو کافی ہو گئی۔ کچھ گھر کا بھی دھندا دیکھو گی۔ وہ بے چاریاں شرمائی لجائی میرے آگے سے ٹل گئیں۔ اور وجیہ النسا سے کہا کہ استانی جی کوٹھے پر ہیں۔ اپنی پیر بہنوں کو لے کر وہاں جاؤ۔ پانی ، جانماز بھی لیتی جانا۔ یہ کہتی ہوئی وہ پھر کمرے میں گئیں۔ دیکھا تو وہ نیک بخت بیوی اسی طرح ڈٹی بیٹھی ہیں۔ دونوں نند بھاوجوں نے ایک زبان کہا کہ بیوی تم سے یہ امید نہ تھی۔ آج تم نے خوب ہی ذلت دلوائی۔ میں سامنے کھڑکی میں کھڑی تھی۔ سطوت آرا چٹاخ سے بولیں کہ جی بجا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ آپ نے مجھے ذلیل کروایا یا میں نے آپ کو۔ خدا لگتی کہیے۔ انصاف تو اوڑ گیا دنیا کا، لہو سفید ہو گیا۔ ع پیدا ہوئے ہیں چاہنے والے نئے نئے، غیروں کی چڑھی بارگاہ عزیزوں کا بیٹا تباہ۔ واہ کیا الٹی سنیا ہے آپ کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

اوشو

لائبریرین
افسانہ نادر جہاں

صفحہ ۔۔۔ 216

ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ میں ایسا جانتی تو کیوں آتی۔ آ کر پچھتائی۔ جس طرح اماں جان نے عذر کرا بھیجا میں بھی کوئی حیلہ بہانہ کر دیتی۔ مگر یہ معلوم کس کو تھا کہ آپ نے پیٹ سے پاؤں نکالے ہیں۔ آپ ہی زخم لگایا، آپ ہی نمک مرچ چھڑکتی ہیں۔ اب سے آئے گھر سے آئے۔ آئندہ کو کان ہو گئے۔ دیکھا جائے گا کیا پھر نہ بلائیے گا۔ ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے اور میں اس گھر میں قدم نہ رکھوں۔ اچھی دوستی کے پردے پردے اور عزیزداری کے اوٹ میں آپ نے دشمنی اور بیگانگی دکھائی۔ خیر کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں۔ سو دن سنار کی ایک دن لوہار کا۔ اماں جان نے اور زیادہ بات بڑھتے دیکھ کر امجدی بیگم اور بختاور دولہن کو سمجھا بجھا کر باہر بھیجا اور ہر گز ان کو جواب نہ دینے دیا۔ رحمت سے کہا کہ دیکھو طاہرہ بیگم کہاں ہیں۔ جاتے جاتے امجدی بیگم نے یہ کلمہ سن کر کہا کہ وہ کوٹھے پر ہیں۔ آپ بھی وہیں چلی جائیے۔ اماں جان کانوں پر ہاتھ رکھے کوٹھے پر آئیں اور کہا کہ اپنی آنکھوں کی قسم میں نے ایسی الٹی مت اور اوندھی سمجھ کے لوگ نہیں دیکھے۔ نہ پانی کے اوپر نہ پانی کے نیچے۔ کچھ عجب طرح کا مزاج اس لڑکی کا ہے۔ میں۔ کچھ اور ہوا (اماں جان) جی ہاں امجدی بیگم اور بختاور دولہن اپنا درد دل کہنے کو گئی تھیں انہوں نے وہ دھر پکڑ کیا کہ ہک دھک ہو کر رہ گئیں۔ میں نے دیکھا کہ بات کو طول ہو گا ملال بڑھے گا، انہیں اٹھا لائی۔ میں۔ جی ہاں مجھے بھی ایسے لوگوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ عجیب الخلقت انہیں لوگوں سے مراد ہے۔ ان کا دماغ ضرور بگڑا ہوا ہے۔ کچا سودا نہیں بلکہ پکا جنوں ہے۔ آپ نے اس لڑکی کی بد دماغی اور کوڑھ مغزی دیکھی (اماں جان) بٹیا تمہارا ہی ظرف اور حوصلہ تھا کہ جو تم نے ہنس ہنس کر اس کی ہر بات کا جواب دیا۔ میں ہوتی تو ہتے ہی پر روک دیتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 217

اور یا الجھ پڑتی۔ مجھ سے تو ضبط نہ ہوتا جو تم نے دکھایا۔ ماشاءاللہ کارِ نمایاں کیا ہے۔ سمجھانے کی بھی حد کر دی اور صبر کی بھی انتہا دکھا دی۔ یہ کہہ کے اماں جان چوکی پر گئیں۔ میں ٹہلتی ہوئی کھڑکی میں گئی دیکھتی کیا ہوں کہ پندرہ بیس عورتیں جو قریب قریب کی رشتہ دار تھیں امجدی بیگم اور بختاور دولہن سے یہ خبر سن کر افسوس کرتی ہوئی وہاں آئیں اور میں دیکھ رہی ہوں کہ ایک ایک کمرے میں داخل ہو کر ارد گرد ان دیوانی کے بیٹھیں۔ بہلا پھسلا کر چاہا کہ اٹھا لے جائیں۔ وہ بھلا کب اٹھنے والی تھیں۔ آخر کو سب تھک کر چلی گئیں اور مبارکہ بیگم کو بھی لیتی گئیں۔ ان کے جانے کو پاؤ گھری بھی نہ گذری ہو گی کہ سطوت آرا ادھر تو در میں آ کر کھڑی ہوئیں اور ادھر اماں جان پائخانہ سے نکلیں۔ مجھے کھڑکی میں کھڑا ہوا دیکھ کر چلی آئیں۔ صاحبزادی کمرے کے دروازے میں انگڑائی لے کر تنتی جو ہیں، ہم دونوں آدمیوں پر نگاہ پڑی۔ ہاتھ اٹھا کر نہیں معلوم کیا کہا۔ اماں جان ہٹ کر کہنے لگیں کہ دیکھو کوستی ہیں۔ یہ سن کر لڑکیاں دوڑیں اور دوسری کھڑکی کھول کر جو دیکھا سطوت بیگم نے پھر کچھ کہا۔ دلدار نے ایک دفعہ چیخ کر کہا کہ یہ آپ کوستی کیوں ہیں۔ یہ سنتے ہی بی صاحبہ مسکراتی ہوئی باہر نکلیں اور اپنی صحنچی کی طرف تشریف لے گئیں۔ وجیہ الننسا نے کہا کہ دیکھیے جب سب بلانے آئے تو نہ گئیں اور خود بے بلائے چلی گئیں۔ میں نے کہا چلو تم کو کیا وہ جانیں ان کا کام جانے۔ بڑوں کی بات پر نام نہیں دھرتے۔ وہ چپ ہوئیں۔ میں ضروریات سے فراغت کر کے وضو کرنے کو بیٹھی۔ اتنے میں بختاور دولہن آئیں اور کہا کہ استانی جی صاحب سطوت آرا نے غضب کیا۔ چھوتے بھیا باہر آئے ہوئے تھے۔ فرض کر کے پردا کرایا۔ باہر گئین اور ساری کہانی اپنے بےبسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 218

اور بے گناہی اور میری آپ کی زیادتی کی بیان کی ۔ وہ بیوی کے دانہ کھانے والوں میں تو ہیں۔ بگڑ گئے۔ نہ مجھے بلایا نہ اماں جان سے سے کہلوا بھیجا۔ بیوی کے کہنے پر لگ گئے۔ گھر جا کر پنیس بھیج دی۔ اب سارا گھر ایک طرف ہے اور وہ نیک بخت ایک جانب۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو ان کا جانے دینا منظور نہیں ہے باہر مردوں سے کہلوا بھیجیے وہ ڈرا دھمکا یا کچھ دے لے کے کہاروں کو ٹال دیں گے۔ وہ خوش خوش گئیں اور جا کر یہی تدبیر کی۔ ان کے میاں میر مبارک حسن صاحب نے ڈیوڑھی میں آ کر پردے کے بہانے کہاروں کو باہر نکال کر سمجھا دیا کہ تم رات کو آنا پنیس یہیں چھور جاؤ۔ آٹھ آنے پیسے انعام کے دیے۔ اب کہار ہی نہیں ہیں سوار کیونکر ہوں ۔ اوچھلیں کودیں رہ گئیں۔ نماز پڑھ کر ہم کوتھے سے نیچے اترے۔ آج ہمارے گھر سے نکلنے کا پہلا دن تھا وہ ایسا مبارک و مسعود۔ سارے گھر کو سطوت آرا کی زبان درازی کا رنج تھا مگر مجھے نہ تھا۔ ہاں رہ رہ کر یہ خیال ضرور آتا تھا کہ کیونکر ان کے دل میں اپنا دل ڈالوں اور کس طرح سمجھاؤں۔ میں اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ امجدی بیگم کمرے کے باہر آئیں اور پکار کر پوچھا کہ استانی جی صاحب نواب صاحب کس وقت خاصہ نوش فرماتے ہیں۔ میں نے کہا نو بجے۔ وہ چلی گئیں اور تورا نکلوا کر اندر منگوایا۔ جائزہ لے کر آٹھ نہیں بجے تھے کہ کھانا روانہ کر دیا۔ آٹھ بجے کے بعد گھر میں دستر خوان بچھا۔ جب مہمان کھانا کھا چکے، سواریاں لگیں کھانے کے پہلے تو سطوت آرا بیگم صاحب نے بہت کچھ مہنامت مچائی تھی پھر جو بھولیں تو بہت سے لوگ سوار ہو گئے۔ نو دس کا عمل ہوا اور وہ جانے کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 219

نام نہیں لیتیں۔ میں نے امجدی بیگم اور بختاور دولہن کو بلا کر کہا کہ آپ خوشی سے اگر اجازت دیجیے تو اب ہم بھی سوار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جی تو نہیں سیر ہوتا اور نہ آپ کی تکلیف گوارا ہے۔ کیا عرض کریں۔ نہ رخصت کر سکتے ہیں نہ روک سکتے ہیں۔ اور آج تو آپ سے جیسی شرمندگی ہوئی ہے عمر بھر یاد رہے گی۔ آنکھ چار کرتے حجاب آتا ہے اور دل پانی پانی ہوا جاتا ہے (میں) بیویوں آپ کی پر تکلف باتوں سے غیریت کی بو آتی ہے اور مجھے تکلف سے نفرت ہے۔ آخر شرمندگی کاہے کی اور حجاب کس بات کا۔ نہ آپ نے سکھا دیا تھا نہ آپ کی اشتعالک تھی۔ اگر حجاب آئے تو انہیں، وہ شرماتی نہیں آپ کو کیا ضرور ہے کہ جو ان کی قائم مقام بنیے اور ان کا فرض ادا کیجیے۔ بات میں بات اکثر نکل آتی ہے۔ اسی طرح آنچل میں باندھ لی جائے تو دنیا کے کام بند نہ ہو جائیں ۔ کیا ہوا اگر ایک آدھ بات بڑھ کر کہہ گئیں۔ میرے بدن پر نہ تو ان کا کہیں نشان معلوم ہوتا ہے اور نہ وہ چمٹی ہوئی ہیں (امجدی بیگم) جی رنج تو اسی بات کا ہے کہ آپ کی وہ تہذیب و متانت اور اس بےحیا کا وہ شہدپنا اور سفاہت کاش کہ آپ جواب دیتیں تو پھر نہ رنج ہوتا۔ ہمارے دلوں کی بھی بھڑاس نکل جاتی۔ قلق تو اسی بات کا ہے کہ آپ نے طرح دی (میں) تو کیا میں بھی ویسی ہی ہو جاتی۔ ایک کے ساتھ دوسرا کیوں سڑی ہو جائے۔ اس کے ورا ایک حساب سے ان کا حق بجانب بھی تھا کیونکہ ایک تو نصیحت خود ہی بدذائقہ اور بدمزا ہے۔ اس پر طرّہ ترک عادت کا۔ آپ ہی خیال کیجیے کہ یہ مشکل کام ہے یا نہیں (امجدی بیگم) تو ایک انہیں کے لیے مشکل تھا اور سب کے واسطے سہل (استانی جی) اب آپ کی طرف داری مجھے اچھی نہیں معلوم ہوتی ہاں یہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 220

فرامئیے کہ جس کے نصیبے کی کملی کالی بن گئی ہے وہ ساتوں بہشت کے پانی سے بھی سفید نہیں ہو سکتی۔ یہ ذکر تھا کہ سطوت آرا بیگم کے جانے کا غل ہوا۔ امجدی بیگم ادھر چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد میں بھی وہاں پہونچی اور خوامخواہ چار طرف پھر کے میں نے رخصت کا سلام انہیں کیا۔ گو انہوں نے بہت ٹالا مگر میں نے نہ ٹالنے دیا۔ جب وہ سوار ہو گئیں تو ہمارے ہاں کی پنسیں آئیں۔ میں نے لڑکیوں کو بلا کر کہا کہ تم رہ جاؤ کل چلی آنا۔ انہوں نے عذر کیا کہ کتابیں تو ہماری وہاں ہیں کل کا سبق کیونکر دیکھیں گے۔ میں نے کہا کہ جا کر بھجوا دوں گی۔ شادی کی رات ہے رہ بھی جاؤ۔ کہا کہ جی یہاں سے جاتے جاتے دیر ہو جائے گی۔ دن چڑھ جائے گا ایسا نہ ہو کہ ہمارے کاموں میں فرق پڑے ساتھ جانے میں تو یہ ہے کہ سواری سے اترتے ہی کتاب پر جھک جائیں گے۔ اور جب آپ جا کر بھیجیے گا تو آتے آتے گیارہ بج جائیں گے نیند آنے لگے گی۔ نہ سبق دیکھنا ہو گا نہ امختہ پڑھنا ہو گا نہ مشق کر سکیں گے۔ میں نے بختاور دولہن اور امجدی بیگم سے کہا کہ میں کہتی ہوں لڑکیاں نہیں ٹھہرتیں۔ وہ بولیں ٹھہر کے کیا کریں گی۔ وہاں سے تو آپ کے ساتھ آئیں اور یہاں سے آپ اکیلی سدھاریں وہ گھر میں رہ جائیں۔ اس کے علاوہ شادی ہو چکی۔ پڑ کے سو رہنا ہی ہے۔ پھر وہیں جا کر کیوں نہ سوئیں۔ یہاں اب کیا کام ہے۔ وہ یہ سنتے ہی تسلیموں کو جھکیں اور مجھ سے آگے جا کر ڈیوڑھی میں کھڑی ہو رہیں۔ ہم دس بجے گھر پہونچے۔ نانا جان اور ابا جان دیر تک شادی کی باتیں پوچھا کیے۔ اماں جان نے سب کہہ سن کر اس کاغذ کی نقل انہیں دکھائی اور کہا کہ نام خدا آج پہلے دن کا وعظ میں طاہرہ بیگم نے اتنے آدمیوں کو مسخر کیا۔ نانا جان نے خوش ہو کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 221

مجھے گلے سے لگایا اور دو ہزار روپیہ اس کام کے صلے میں مرحمت فرمائے۔گیارہ بجے جب میں سونے کو گئی تو دیکھا کہ پانچوں کی پانچوں سر جوڑے اپنی اپنی کتابوں پر جھکی ہوئی ہیں۔ بیچ میں شمع روشن ہے۔ میں نے قریب جا کر کہا کہ بس اب رات زیادہ آئی، صبح کو نماز کے لیے آنکھ نہ کھلے گی۔ آؤ سو رہو۔ سبق دیکھ چکیں۔ کہا بہت خوب۔ اپنی اپنی کتابیں اٹھا کر قرینے سے طاق الماری میز پر رکھیں اور میرے ارد گرد اپنے اپنے بچھونوں پر لیٹ کر آرام کیا۔ صبح کو بختاور اور دولہن سوار ہو کر ہمارے ہاں آئیں اور کہا کہ باجی امجدی بیگم سے چھوٹے بھیا صبح صبح لڑنے کو آئے۔ جیسے ہی ان کے اُن کے رد و بدل ہونے لگی میں وہاں سے ادھر چلی آئی۔ باجی پھر لحاظ کریں گی۔ مجھ سے تو بگڑ ہی جاتی۔ میں نے کہا آپ نے دانائی کی اور بہتر ہو جو وہ بھی ٹال دیں۔ وہ بےچارے ناواقف نہیں معلوم جا کر ان سے کیا جھوٹ سچ لگایا کہ وہ برافروختہ ہو گئے۔ یہ بھی قصور انہیں صاحبزادی کا ہے کہ آپ الگ ہو گئیں۔ میاں کو بھڑا دیا۔ وہ بیوی کو سچا سمجھ کر کیا کیا سخن پروری نہ کریں گے۔ یہ امجدی بیگم صاحب کے خلاف ہو گا۔ بات بڑھنے کا اندیشہ تو ضرور ہے۔ ایسا نہ ہو کہ دلوں میں ملال آ جائے۔ اگر آپ کی بھی رائے ہو تو میں بوا رحمت کو بھیج کر انہیں بھی بلا لوں۔ کہا ہاں بہتر تو ہے۔ اسی وقت رحمت سے کہا۔ وہ سوار ہو گئیں۔ جیسے ہی وہاں نازل ہوئیں کہ امجدی بیگم گھبرا گئیں۔ پوچھا بوا رحمت خیر تو ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں آپ کی دعا سے خیریت ہے۔ بیوی نے کہا ہے کہ بختاور دولہن صاحب آئی ہیں۔ اگر آپ بھی گھری دو گھڑی کو آ جائیں تو اچھا تھا۔ امجدی بیگم نے کہا بوا کیا جاؤں صبح سے ان کے بھائی صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں۔ نہ منہ دھونے کی ہون نہ پانے کھانے کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 222

نماز کے بعد سے آج نیا وظیفہ پڑھ رہی ہوں۔ ابھی ابھی وہ اتھ کر بیوی کے بلوانے کو پینس کہار بھیجنے گئے ہیں۔ بکتے بکتے منہ خوش ہو گیا۔ رات بھر میں نہیں معلوم کیا کیا کہہ دیا کہ وہ ہتے سے اکھڑے ہوئے ہیں۔ عزیزداری چھوڑنے پر کمر کسے ہیں۔ وہ تو چلی گئیں صاحبزادے میرے لپٹ گئے۔ لاکھ لاکھ چھڑاتی ہوں ٹالتی ہوں طرح دیتی ہوں وہ ہیں کہ پلے آتے ہیں۔ آخر کو جل کر میں نے کہہ دیا کہ بیٹا تمہاری بیوی بالکل جھوتی ہیں۔ اک اک کی دس دس لگائیں۔ بدزبانی کی۔ آپ ہی استانی جی کو بھلا برا کہا۔ زبان لڑائی اور الٹا تمہیں ابھار کر بھیج دیا۔ ہمارے منہ پر کہیں تو جانیں کہ بڑی سچی ہیں۔ یہ سن کر وہ چلے تو گئے ہیں لیکن مجھے کھٹکا یہ ہے کہ وہ میرے منہ پر کیا میرے فرشتوں کے منہ پر کہہ دیں گی اور مجھے کچھ بنائے نہ بن سکے گا۔ کل بھی تو یہی ہوا تھا۔ ایک ہی بات کہنے پائی تھی کہ انہوں نے باگ لگا دیا۔ ہم دونوں نند بھاوگجیں اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ جھوٹے کے آگے سچا رو مرے۔ حقیقت میں سچ ہے دیکھوں اب کیا ہوتا ہے۔ رحمت۔ بیوی آپ اتنا پریشان کیوں ہوتی ہیں۔ نہ وہ آئیں گی نہ سامنا ہو گا۔ جھوٹا تیہے اور تاؤ کے وقت مقابلہ کر گذرتا ہے پھر اس میں وہ جرأت نہیں رہتی۔ کیا منہ لے کر آئیں گی اور کون سی آنکھیں چار کریں گی۔ اگر یہ سمجھیے کہ وہ ضرور آئیں گی تو آپ کا بھی ٹل جانا مناسب ہے۔ میں لینے تو آئی ہوں ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اک ضروری کام تھا، نہ ٹھہر سکیں۔ استانی جی کی ماما آ کر لے گئی۔ امجدی بیگم نے عذر کیے مگر رحمت نے نہ مانے۔ جیسے ہی وہ سوار ہونے کو اٹھیں کہ سطوت دولہا آ موجود ہوئے۔ رحمت جلدی کر کے ڈیوڑھی میں گئیں اور کہا کہ میاں آپ ذرا باہر ہو جائیے تو بیگم صاحب سوار ہوں۔ (سطوت دولہا) کون بیگم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 223

(رحمت) جی امجدی بیگم صاحب (سطوت دولہا) کہاں جائیں گی۔ (رحمت) جی میں لیے جاتی ہوں۔ (سطوت دولہا) واہ واہ واہ کیونکر جانے پر راضی ہو گئیں (رحمت) جی وہ تو کسی طرح راضی نہیں تھیں۔ میں نے زبردستی راضی کیا ہے۔ کہیں دور نہیں اسی گلی میں تو جانا ہے۔ دہنے ہاتھ کو جو ہے (سطوت دولہا) دہنے ہاتھ کو کون سی گلی ہے (رحمت) اے میاں یہ کیا اس دروازے سے نکل کر ۔ سطوت دولہا۔ اجی بایاں ہاتھ کہو تم بھی کچھ یونہی سی ہو (رحمت) جی ہاں میاں یونہی سی نہ ہوتی تو آپ کہتے ہی کیوں۔ اچھا لے ہٹ جائیے تو میں پٹ بھیڑوں، دیر ہوتی ہے۔ ابھی پلٹ بھی آنا ہے۔ یہ سن کر وہ باہر گئے۔ رحمت نے امجدی بیگم کو بلایا وہ یہ کہہ کر پینس میں سوار ہوئیں کہ بوا رحمت تم ٹھہری رہو۔ سطوت آرا بیگم آئیں تو مجھے فوراً بلوانا یا خود سوار ہو آنا۔ رحمت دروازے پر تھیں کہ تھوڑی دیر بعد کہار غل مچاتے ہوئے آ موجود ہوئے۔ صاحبزادے کہیں ٹہل گئے تھے۔ رحمت نے ان سے کہا کہ بھیا تم چیختے کیوں ہو۔ دو آدمی یہیں ٹھہرے رہو۔ نواب صاحب آتے ہوں گے اور اک ڈولی لا کر مجھے پہونچا دو۔ وہ ڈولی لائے۔ رحمت سوار ہو کر گھر پہونچیں۔ امجدی بیگم دیکھتے ہی ڈر گئیں کہ شاید وہ آئیں۔ پوچھا خیر تو ہے۔ کہا کہ جی ہاں بیوی تو بیوی میاں بھی پلٹ کر نہ آئے۔ کہار غل مچا رہے ہیں۔ میں دو کو اپنی ڈولی میں جوت لائی دو وہاں دہنے بائیں ان کی تاک میں ہیں۔ پھر رحمت نے وہ سب ذکر دہرایا۔ امجدی بیگم نے کہا کہ سطوت دولہا بھی نہات اکھڑ اور اجٹ ہیں۔ ایسی ہی خدا نے جورو بھی دی۔ برابر کی جوڑ ہے۔ خدا دیکھ کے جامہ قطع کرتا ہے۔ اگر مزاجوں میں فرق اور سیرتوں میں جدائی ہوتی تو زندگی حرام ہو جاتی۔ اک دن نباہ نہ ہوتا۔ بیوی ڈوپٹہ میں چاند سورج چھپاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 224

اور میاں یقین لاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ نہ ہوتا تو دن رات کا فرق نہ ہو جاتا۔ خدا کی قدرت ہے کہ ایک دوسرے سے دب یا ڈر کر اپنی ترک عادت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور کسی نہ کسی طرح سے خواہ مخواہ اپنی خوشی پر دوسرے کی خوشی مقدم رکھتا ہے۔ طبیعتیں بالکل تو ایک ہو ہی نہیں سکتیں ہاں یہ بات ہے کہ مادے نیکی بدی کے طبیعتوں میں برابر ہوں۔ اگر دونوں میں نیکی کم اور بدی زیادہ ہے تو اور نیکی زیادہ ہے تو دوسرے کے ہم قدم ہو جائے گا۔ اور ایک میں اچھی چیز زیادہ اور دوسرے میں کم ہوئی تو دل ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔ عقل ہوئی لشتم پشتم برے بھلے حال گذر گئی۔ دل کیب ات ظاہر نہ ہونے دی۔ بدعقل ہوئے، قلعی کھل گئی۔ ان دونوں صاحبوں کے مزاجوں میں کبر و غرور اور دماغوں میں فتور معلوم ہوتا ہے۔ عقل سے کام لینا ہی چھوڑ دیا۔ نفس کو بالکل اختیار دے دیا ہے جو وہ کہتا ہے وہ کرتے ہیں (امجدی بیگم) ہاں ہاں کرتی جاتی اور دروزے کو پھر پھر کے دیکھتی جاتی ہیں۔ میں نے کہا بھی کہ دروازے میں کیا ہے۔ کہا جی کچھ نہیں۔ سطوت دولہا کی نافہمی سے مجھے کھٹکا ہے کہ میرے چلے آنے سے کچھ اور فتور نہ برپا کریں۔ یہ وہ کہتی تھیں کہ امیر خانم کی ڈولی آئی اور ہم سب ادھر دیکھنے لگے۔ اوترتے کے ساتھ ہی انہوں نے سطوت دولہا کی باتوں کا دفتر کھولا۔ معلوم ہوا کہ امجدی بیگم کے میاں سید مقبول احمد صاحب جیسے ہی مسجد سے مکان پر آئے اور ان بندہ خدا نے ان کے آگے شکایت کاباغ لگا دیا۔ وہ بیچارے گھر کے اندر کا حال کیا جانیں۔ سنتے سنتے عاجز ہو گئے اور کہا کہ بھائی مجھے کچھ خبر نہیں۔ حکیم مبارک حسن صاحب کو بلواؤ شاید انہیں کچھ خبر ہو۔ وہ صبح سے ان کے ڈر کے مارے کوٹھے پر چھپے بیٹھے تھے۔ کیونکہ جب بختاور دولہن ہمارے یہاں آنے لگیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ ۔۔۔ 225

تھیں تو ان سے سارا حال کہہ کر آئی تھیں۔ ایک تو بیوی کا چھوٹا بھائی دوسرے بدمزاج اس لیے عمداً وہ نہیں آئے تھے۔ بہنوئی کے بلانے سے مجبور ہو کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ذرا آپ کی تو باتیں سنئیے۔ وہ بولے کہ جی میں کیا سنوں۔ آپ جو فرماتے ہیں بجا ہے۔ آنکھوں کی بینائی سے کام لینا اور عقل کو تکلیف دینا تو انہیں آتا نہیں۔ فقط کانوں سے غرض رکھتے ہیں۔ میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں (سطوت آرا) یہ کیا کہا سمجھے آپ جواب دیجیے نا۔ میں بھی تو دیکھوں سنوں (مبارک حسن صاحب) آخر آپ کا منشاء اصلی اس جواب طلبی سے کیا ہے اور کاہے کا جواب مقصود ہے (سطوت دولہا) سمجھے اسی کا جواب دیجیے کہ ایک غیر عورت نے بیگم کو ذلیل کیا اور گھر بھر کی عورتیں سنا کیں۔ مجھے سارے کنبے کی شکایت سے کای۔ فقط مجھے بڑی باجی اور چھوتی باجی کا گلہ ہے کہ یہ دونوں صاحب ایک تو ہنسا کئے اور پھر بولے تو استانی کی طرف سے۔ سمجھے کیا قرابت اسی کو کہتے ہیں اور محبت اسی کا نام ہے کہ گھر پر بلا کے ایک عزیز کو خفیف و حقیر کریں (میر مبارک حسن) بھائی خدا معلوم بے سمجھے بوجھے کیا کہہ رہے ہو اول تو خواہ باجی ہوں خواہ تمہاری بہن۔ ان کی یہ عادت نہیں کہ کسی پر ہنسیں اور اس غرض سے جس میں کسی کی تحقیر و تذلیل ہو۔ دوسرے جب سارا خاندان ایک طرف تھا تو کون سی دانائی کی بات تھی کہ وہ دونوں آدمی کنبے سے الگ ہو کر دوسری راہ چلتے اور یہ کیا معلوم تھا کہ تمہاری بیوی اس بات کو منظور بھی نہ کریں گی۔ جب سب ایک ہو چکے اور کاغذ لکھا گیا تب تمہارے گھر کے لوگوں کی نوبت پہونچی۔ انہوں نے انکار کیا۔ استانی جی نے سمجھایا۔ سب نے بوجہ نیک بات ہونے کے ہاں میں ہاں ملائی۔ اس میں ذلت اور حقارت کاہے کی۔ تمہیں یہ بھی خبر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top