بابا بلھے شاہ اس کے استعاراتی معانی سمجھا دیں ۔۔۔ !

شاکرالقادری

لائبریرین
اوپر والے میرے مراسلے میں ٹائپو ہوگئی ہے براہ کرم درست کر لیجئے
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي* وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي
 

نور وجدان

لائبریرین
نور سعدیہ شیخ! آپ درست سمت میں سوچ رہی ہیں ۔۔۔۔ اور اسی سوچ میں انہماک اور غور فکر کو ہی مراقبہ معرفت نفس کہا جائے گا
غور کرتی رہیئے تاکہ:
افلا تدبرون ۔۔۔ افلا تفکرون ۔۔۔ اور افلا تعقلون پر عمل ہوتا رہے
سوال علم کی کنجی ہے
سوال کرنا چاہیئے اور اس کے جواب کی طلب وجستجو میں رہناچاہیئے
اور اس طلب و جستجو کے ساتھ ساتھ اپنے
رب اکبر سے ہدایت کے علاوہ
رب زدنی علما ۔۔۔ اور ۔۔۔ رب الشرح لی صدری
کی دعائیں کرتے رہنا چاہیئے
ان شأ اللہ
عرفان کے در وا ہوتے رہیں گے
آداب

سبحان اللہ
ماشاءاللہ
بلاشبہ اک سچی نصیحت کی ہے استاد محترم شاکر القادری بھائی
بہت شکریہ بہت دعائیں

سب سے پہلے آپ دو معتبر ہستیوں کا شکریہ
محترم شاکر القادری کا نام سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان کو دیکھ لیا÷ کہیے سن لیا یا کچھ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید بادشاہ آیا اور چھا گیا
علم نبیوں کی میراث ہے اور نبیوں کے بعد اللہ کے بندوں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں جب یہ پوسٹ کر رہی تھی تب یہ نیت نہیں کی تھی کہ اس کے استعاراتی معانی پوچھوں گی ۔۔۔اور نہ جانتی تھی اس میں کوئی استعارہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ویسے ہی آسان جیسے ہم آج کل ترجمہ پڑھ کر کہتے ہیں کہ پڑھ لیا ۔۔۔۔۔۔

مگر عین پوسٹ ہوتے ۔۔عنوان کا یہ لکھا جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سود مند ثابت ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔جب بھی قران پاک کھول کر پڑھوں پہلا سوال خود سے ہوتا ۔۔۔ میں اس قوم سے ہوں جس کو معانی آتا نہیں لفظ کو بغیر سمجھے پڑھ رہی ہے پھر اطمینان دے دیتی ہوں ''الم'' یعنی ۔۔۔۔۔''ا''۔۔۔۔''ل''۔۔۔۔۔''م'' مجھے تین نیکیاں مل گئیں اور نیکیاں ملتی جائیں گے سو پڑھ لیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو لگتا قران پاک کی جتنی سورتیں جن میں قسم کھائی گئی ہے کوئی علامت موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قران مجید کا ترجمہ سننا یا کچھ سورتوں کا تفسیر پڑھنا ۔۔۔۔ وہ بھی جب میٹرک میں تھی یہ سورت ایڈ ہوگئیں اور کچھ نہ کچھ ذہن میں آگیا ۔۔۔

میرے لیے پہلی دفعہ معانی کھل جانا جناب شاکر القادری کی بدولت ہوئی ،،،،،،،،،،،،،پھر نظر پڑی کہ جناب نایاب محترم نے کہا کہ ہر حساس روح اپنا مقام ،،،،،،،،،،،'' بابا بلھے شاہ حساس روح تھے واقعی کوئی شک نہیں پیدایشی ولی تھے ۔۔۔حق
سوال دوبارہ لکھ رہی ہوں

1۔ میرا مقام کیا ہے ، میری شفاعت ہوگی یا میں سزا وار ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری مراد اتنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں الحمد اللہ اسفل نہیں مگر ارفع بھی نہیں ۔۔۔درمیاں کے لوگوں کے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر اللہ کا فضل ہوگا یا عدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ سوال ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی سورت بتائیں اس کی نظر سے دیکھ لوں

2۔ نبوت کا درجہ ایک اعلی درجہ ،،،،نبوت کا بوجھ ۔۔۔کیونکہ نبوت کی بدولت ارفع مقام کے حق دار ہوئے
بوجھ سے کیا مراد

براہ کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرما دیں

آپ نے نصیحت کے ساتھ جو دعا دی بہت اچھی لگی ۔۔۔ عرفان کے در ۔۔۔ اللہ جل شانہ اس پیاری دعا و نصیحت کا اجر دیں ۔۔۔ رب زدنی علما اور رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کریں ۔۔آمین آمین آمین
 
آخری تدوین:

شاکرالقادری

لائبریرین
1۔ میرا مقام کیا ہے ، میری شفاعت ہوگی یا میں سزا وار ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری مراد اتنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں الحمد اللہ اسفل نہیں مگر ارفع بھی نہیں ۔۔۔درمیاں کے لوگوں کے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر اللہ کا فضل ہوگا یا عدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ سوال ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی سورت بتائیں اس کی نظر سے دیکھ لوں
نور سعدیہ! ۔۔۔ آپ نے تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے
اسفل ، ارفع اور درمیانہ درجہ کے لوگ
نفس انسانی کے بھی تین درجات ہیں
نفس امارہ ۔۔۔۔ جو گناہ کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے فخر کرتا ہے
ایسے لوگ جو اس نفس کے حامل ہیں اور اس نفس سے جان چھڑانا بھی نہیں چاہتے ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿002:007﴾
خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے
[جالندھری]
نفس امارہ ۔ سب سے زیادہ گناہوں کی طرف مائل کرنے والا اور دنیاوی رغبتوں کی جانب کھینچ لے جانے والا ہے۔
ریاضت اور مجاہدہ سے اس کی برائی کے غلبہ کو کم کیا جا سکتا ہے
اورجب انسان نفس امارہ کے دائرہ سے نکل آتا ہے تو نفس لوامہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔

نفس لوامہ ۔۔۔۔ جو گناہ کرتا ہے مگر اس پر نادم ہوتا ہے اور اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے
اس مقام پر انسان کےدل میں نور پیدا ہو جاتا ہے۔
جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے
جب نفس لوامہ کا حامل انسان کسی گناہ یا زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس کا نفس اسے فوری طور پر سخت ملامت کرنے لگتا ہے
اسی وجہ سے اسے لوامہ یعنی سخت ملامت کرنے والا کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس نفس کی قسم کھائی ہے :
وَلَا اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِO
’’اور میں نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘
القيامة، 75 : 2
ایسے لوگوں کے لیے ہدایت کے راستے کھلے ہوتے ہیں لیکن گمراہی کا اندیشہ بھی موجود ہوتا ہے
احساس گناہ، شرمندگی اورندامت ایک ایسی دولت ہے جس کا کوئی بدل نہیں
احساس گناہ سے اگر گوشہ چشم نم ہو جائے ، یا احساس شرمندگی سے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوجائےتو اللہ کی رحمت جوش میں آجاتی ہے
اقبال نے کہا تھا:
موتی سمجھ کہ شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
اللہ کی شان کریمی نے احساس ندامت سے میرے ماتھے پر نموداد ہونے والے پسینے کے قطروں کو موتی سمجھ کر چن لیا
مبارک ہیں وہ لوگ جن کو نفس لوامہ نصیب ہوا ہے
کیونکہ نفس لوامہ ہی راہنمائی کرتا ہے اس منزل کی جانب جو نفس مطمئنہ کا ٹھکانہ ہے

نفس مطمئنہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ نفس ہے جو بری خصلتوں اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے
یہ اللہ کو بہت محبوب ہے
اس کا ذکر کتاب ہدایت میں کچھ اس انداز میں ہے
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ Oارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًO
’’اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو۔‘‘
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے
==============
نور سعدیہ اگر آپ ارفع نہیں ہیں تو آپ اسفل بھی نہیں ہیں
آپ برزخ میں ہیں اور نفس لوامہ کی حامل ہے ۔ آپ کے لیے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھلے ہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا قہر اور غضب بڑا شدید ہے لیکن
۔اللہ کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے
سبقت رحمتی علی غضبی کے مصداق
ہمیشہ اس کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہیئے
اور جب کبھی کوئی جرم کرکے اپنی جان پر ظلم کر لو تو پھر اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے ہی
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش ہو جاؤ
اپنے احساس جرم کے ساتھ
احساس ندامت کے ساتھ
عرق آلود جبیں لے کر
چشم نم کے ساتھ
اور ۔۔۔ مغفرت کی طالب بن جاؤ
اللہ تو بے نیاز ہے
لیکن رسول اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے گئے استغاثے رائیگاں نہیں جاتے
رسول تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں گے
اور تم اپنے اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور غفور الرحیم پاوگے
=========
حق تعالی بھی کریم اور محمد بھی کریم
دو کریموں میں گنہ گار کی بن آئی ہے
والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت ساری دعائیں
 

آوازِ دوست

محفلین
بُلّھے شاہ کے عارفانہ کلام پر فلسفہء وحدت الوجود کی گہری چھاپ ہے۔ اُنہوں نے دکھاوے کی عبادت کو بے معنی قرار دیتے ہوئے عبادت کی روح کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تصوف انسان کا حیوانی درجہ سے انسانی اور پھر رحمانی درجہ تک کا زینہ ہے جِس کی اوج پر مخلوق خود کو رضائے خالق ہونے کی بناء پراپنےخالق سے الگ حیثیت کی نفی کرتی نظر آتی ہے یہی وحدت الوجودیت ہے اور یہی بُلّھے شاہ کا "بُلّھا کی جاناں میں کون " ہے جو منصورحلاج کی طرح دو ٹوک اعلان کرنے کی بجائے رمز اور استعارے کے آمیزے میں ایک مشکل بات کو آسان اور قابلِ ہضم کر کے پیش کرتا ہے۔ شاکر القادری صاحب نے خوب واضح کیا ہے البتہ اُستادِ محترم یعقوب آسی صاحب پر اُن کا جُملہء معترضہ انسان کے حیوانِ ظریف ہونے کے دعویٰ کی تردید کے سوا کُچھ نہیں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
نورسعدیہ ۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ صوفیأ کی باتیں واردات قلب کی آئینہ دار ہوتی ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام لوگوں کی قلبی واردات ہو بہو ایک جیسی اور یکساں ہوں
اور پھر یہ واردات قلبی تمام لوگوں کے لیے حجت نہیں ہوا کرتیں ۔۔ لوگوں کو ان واردات کے تسلیم کر لینے اور ان پر عمل کر نے کا مکلف نہیں کیا جا سکتا اور اکثر صوفیا اپنی واردات قلبی کو عوام الناس پر ظاہر نہیں کرتے ان واردات کی تفہیم صرف ان لوگوں پر ہوتی ہے جو خود ایسے مقام اور درجہ پر فائز ہوں ۔ عوام الناس اور مبتدی کے لیے تو یہ ایک چیستان ہے۔ جو پریشان کن ہو سکتا ہے
ایک وقت تھا جب تصوف صرف عملی ہوتا تھا اور اس کا مقصد "اخلاص فی العمل" ، "تزکیہ نفس" اور ۔۔۔۔اور "تہذیبِ نفس" کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا
بعد میں اس میں فلسفہ نے راہ پائی ۔ اور اس کی وجہ یہی تھی کہ صوفیا کی واردات قلبی کو بیان کیا جانے لگا اور ان کی وضاحتوں کے لیے فلسفہ و منطق کا سہارا لیا گیا۔ اصطلاحات تصوف وجود میں آئیں
شاید اس کے فوائد بھی ہوں لیکن اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ عملی تصوف کی بجائے نظری تصوف عام ہوتا چلا گیا
صرف فلسفیانہ گفتگو کرنے والے لوگ صوفی بن گئے اور جو لوگ اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرنے والے تھے پس منظر میں کہیں کھو گئے
نہ تو مراقبہ کی اتنی پیچیدہ تعریفوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی عوالم ناسوت و جبروت کے بارے میں اتنا کچھ پڑھنے اور لکھنے کی ضرورت ہے ۔ تصوف عمل کا نام ہے اور عمل بھی ایسا جو پوری توجہ انہمارک اور قلب و روح کی گہرائی سے انتہائی خلوص کے ساتھ کیا جائے
حدیث احسان یا حدیث جبریل جس سے تصوف کو اخذ کیا گیا اس کا منشا بھی یہی تو ہے کہ
تم اپنے رب کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو
اور اگر ایسا نہ کر سکو تو کم از کم اس یقین کے ساتھ عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے
یہ ہے تصوف کا اصل منشا
باقی سب فروعات ہیں ۔۔۔۔۔ جب اخلاص فی العمل پیدا ہو جائے تو اس کے ثمرات خود بخودظاہر ہونے لگتے ہیں
مراقبہ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ ذکر و فکر کا نام ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں
اس کے طریقے کیا ہیں؟
اس بارے میں تصوف کے تمام سلاسل نے اپنا اپنا نصاب مرتب کیا ہوا ہے
مبتدی سے لیکر منتہی تک تمام لوگوں کے لیے نصاب الگ الگ ہو سکتا ہے ۔
آپ جس سطح اور جس مقالم کی سالک ہیں اس سے آگے کے سوالات قبل از وقت ہو سکتے ہیں ان پر اپنی توانائیاں صائع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ
سارا سفر مرحلہ وار طے ہوتا ہے
پرائمری کا طالب علم پی ایچ ڈی کی سطح کی تحقیقات کا نہ تو ادراک رکھتا ہے اور نہ ہی یہ اس کے بس کی بات ہوتی ہے
اگر تو آپ عملی تصوف کو اختیار کرنا چاہیں تو اس کے لیے کوئی لمبے چوڑے فلسفے کی ضرورت نہیں
اور اگر فلسفہ اور نظری تصوف کا مطالعہ مقصد ہے تو بھی مرحلہ وار ہی سفر کو طے کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ اس کی تمام جہات بیک وقت معلوم نہیں کی جا سکتیں
فافھم
 
آخری تدوین:

شاکرالقادری

لائبریرین
شاکر القادری صاحب نے خوب واضح کیا ہے البتہ اُستادِ محترم یعقوب آسی صاحب پر اُن کا جُملہء معترضہ انسان کے حیوانِ ظریف ہونے کے دعویٰ کی تردید کے سوا کُچھ نہیں۔
میں سیدھا سادھا آدمی ہوں فلسفیانہ اصطلاحات اور پیچیدہ عبارات کی وجہ سے بین السطور کہی گئی بات کی تفہیم نہیں کر سکا
سیدھے سادھے الفاظ میں سمجھایئے کہ
از کجا می آید ایں آواز دوست
 

نور وجدان

لائبریرین
ر

آپ کے تعاون کا شکریہ ۔۔۔ آپ کے جواب اور راہنمائی کا ۔۔۔الحمد اللہ آپ کی طرف سے مجھ پر ایک راز کھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے شکریہ ۔۔۔ باقی واللہ عالم

واسلام
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
عِلموں بس کریں او یار!
اِکّو الف ترے درکار​
عِلم نہ آوے وچ شُمار!​
جاندی عُمر، نہیں اِعتبار​
اِکّو الف ترے درکار​
عِلموں بس کریں او یار!​
عِلموں بس کریں او یار!​
پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر​
ڈھیر کتاباں چار چوپھیر​
گِردے چانن وچّ انھیر​
پُچھّو: “راہ؟“ تے خبر نہ سار​
عِلموں بس کریں او یار!​
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں​
اُچیاں بانگاں، چانگاں ماریں​
مِنبر تے چڑھ، وُعظ پُکاریں​
کیتا تینوں علم خوار​
عِلموں بس کریں او یار!​
عِلموں پئے قِضیّے ہور​
اکھّاں والے انّھے کور​
پھڑدے سادھ، تے چھڈن چور​
دو ہِیں جہانِیں، ہون خوار​
عِلموں بس کریں او یار!​
ڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں​
اُلٹے مَسلے گھروں بناویں​
بے عِلماں نوں لُٹ لُٹ کھاویں​
جھوٹے سچے کریں اقرار​
عِلموں بس کریں او یار!​
پڑھ پڑھ مُلاں ہوئے قاضی​
اللہ عِلماں باجھوں راضی​
ہووے حرص دنوں دِن تازی​
تینوں کیتا حرص خوار​
عِلموں بس کریں او یار!​
پڑھ پڑھ مسئلے پیا سناویں​
کھانا شکّ شُبھے دا کھاویں​
دسیں ہور تے ہور کماویں​
اندر کھوٹ باہر سُچیار​
عِلموں بس کریں او یار!​
جد میں سبق عشق دا پڑھیا​
دریا دیکھ وحدت دا وڑیا​
گھمّن گھیریاں دے وچ اڑیا​
شاہ عنایت لا یا پار!​
عِلموں بس کریں او یارا​
 
بلہے شاہ اس کلام میں اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔
بابا بلھے شاہ جتنا خود کو پہچانتے تھے اتنا ہم اور آپ کیا شاید آج کے دور میں کوئی بھی نہیں پہچانتا۔

۔یہ کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے یا جب چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا ۔ پھر جب تارا ماند پڑگیا تو اس کی ربوبیت سے انکار کر دیا اسی طرح جب سورج غروب ہو گیا تو اس کی ربوبیت کا انکار کر دیا

کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی ،ایک لمحہ کے لئے بھی موحد نہیں تھے؟ اپنے نبی مبعوث ہونے سے پہلے۔

مَاکَانَ اِبْرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسْلِمًاؕ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ

ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

یہ تارے ، سورج یا چاند والی بات حکمت کی بات۔ ایسے ہی با با بلھہ شاہ صاحب نے بھی حکمت کی بات ہمیں سمجھانے کے لئے کی ہے وہ خود اس بات سے بخوبی آگاہ تھے ۔

اے ساڈی سمجھ اے باقی رب دیاں رب جانے۔

اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
بیشک ابراہیم ایک امام تھا(ف۳۷۵)اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷۶) اور مشرک نہ تھا(ف۲۷۷)
 
جملہ معترضہ ۔۔۔ بلہے شاہ رحمہ اللہ علیہ کے فکر و فلسفہ پر پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جا چکے ہیں وہ ایک عظیم صوفی بزرگ تھے انکا نام اس قدر تضحیک سے لینا اور" بلہے شاہی آٹو مکانک" جیسے الفاظ کا استعمال خود آپ کی کیا قدر و قیمت متعین کرتے ہیں؟ کیا یہ ایسے ایسے شخص کا کلام ہو سکتا ہے جسے لوگ اردو فارسی کا شاعر ادیب محقق اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہوں اور لوگوں کی زبانیں انہیں استاد محترم کہتے ہوئے نہ تکھتی ہوں ۔۔۔۔ نہیں ہرگز اکابر علما کے ساتھ اس قسم کا رویہ ایک شاعر ایک ادیب اور ایک صاحب علم شخص کا نہیں ہو سکتا

میرا اشارہ ان بدبختوں کی طرف ہے جو بزرگوں کے مزارات پر بیٹھ کر اور ان کے نام پر انسانیت سوز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کو بابا جی کی طرف منعطف کرنا آپ کی صوابدید کا کرشمہ ہے۔
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
اس فقیر نے یہیں سے تحریک پا کر ایک نظم کہی تھی "تینوں اک نظر درکار" ۔۔۔ پنجابی شاعری کی کتاب میں شامل ہے۔
آپ کی بات سمجھ میں آئ ...بلکہ سمجھ پنجابی کی رمز آپ سے بہتر کون جانے

کیا نام ہے آپ کی شاعری کی کتاب کا؟
تینوں .... واہ ..کیا خوب کہا ہے
 

نور وجدان

لائبریرین
بابا بلھے شاہ جتنا خود کو پہچانتے تھے اتنا ہم اور آپ کیا شاید آج کے دور میں کوئی بھی نہیں پہچانتا۔



کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی ،ایک لمحہ کے لئے بھی موحد نہیں تھے؟ اپنے نبی مبعوث ہونے سے پہلے۔

مَاکَانَ اِبْرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسْلِمًاؕ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ

ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

یہ تارے ، سورج یا چاند والی بات حکمت کی بات۔ ایسے ہی با با بلھہ شاہ صاحب نے بھی حکمت کی بات ہمیں سمجھانے کے لئے کی ہے وہ خود اس بات سے بخوبی آگاہ تھے ۔

اے ساڈی سمجھ اے باقی رب دیاں رب جانے۔

اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
بیشک ابراہیم ایک امام تھا(ف۳۷۵)اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷۶) اور مشرک نہ تھا(ف۲۷۷)
یہی تو میں نے پوچھا تھا ..بابا بلھے شاہ پیدائشی عارف ..عارف اپنی پہچان کے لیے ایسا کیوں لکھے ..وہ تو معرفت حاصل کر چکے ..
 

نایاب

لائبریرین
یہی تو میں نے پوچھا تھا ..بابا بلھے شاہ پیدائشی عارف ..عارف اپنی پہچان کے لیے ایسا کیوں لکھے ..وہ تو معرفت حاصل کر چکے ..

صوفی بزرگ ہمیشہ ملامتی روپ اختیار کیئے رکھتے تھے تاکہ عام لوگ ان کے قریب آتے ان کی بات سنتے کوئی جھجھک محسوس نہ کیا کریں ۔ انہیں اپنی بات کہنے اپنے اشکال بیان کرتے کوئی جھجھک نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب درج ذیل کلام جو آپ نے شریک محفل کیا ۔۔ یہ بھی اک وعظ کی صورت تبلیغ ہی ہے ۔۔۔۔ اللہ واحد و لاشریک کی جانب بلانے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
بابا بلھے شاہ اپنی ذات کو مخاطب کرتے اپنی شناخت تلاش کر رہے ہیں
انسان کی سوچ اس کے باطن سے مخاطب ہے ۔۔۔

نہ میں مومن وچ مسیت آں
مومن کون ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ ؟
جو اللہ پر یقین رکھے اور اس کے احکامات پر بے چون و چرا عمل کرے ۔۔
مسیت ۔۔ مسجد کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔؟
جہاں نماز کی ادائیگی ہوتی ہے ۔ نماز پڑھتے نمازی کے سامنے دو صورتیں ہوتی ہیں ۔
اک وہ اللہ کے حضور کھڑا اللہ کو دیکھ رہا ہے
دوسرے وہ اللہ کے حضور کھڑا ہے اور اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔
اب وہ " مومن " کیسے ہو سکتا ہے جو مسجد میں کھڑا ہے رکوع و سجود کر رہا ہے ۔
اور ساتھ ہی ساتھ اس کا نفس اسے خواہش میں الجھائے ہوئے ہے ۔ اور جھوٹ فریب دھوکہ کی راہیں سمجھا رہا ہے ۔۔۔۔
سو میں " مومن " نہیں جو کہ اللہ کی مانتا نہیں اور اپنے نفس پر چلتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں " مومن " نہیں تو کیا پھر میں " کفر " کی راہ پر ہوں ۔۔۔؟

نہ میں وچ کفر دی ریت آں
کافر جس کا مادہ کفر ہے ۔ وہ حق کے جھٹلانے والا ہے ۔
جس نے " لا الہ الا اللہ " کی صدا سنی مگر تسلیم نہ کی اور اعراض کر گیا ۔۔
لیکن میں تو کلمہ پڑھ چکا ۔۔ اللہ کے آخری رسول پہ آئے پیغام کی تصدیق کر چکا ۔۔۔۔۔۔۔
سو میں " کفر " میں تو مبتلا نہیں ہوں ۔۔۔۔
تو کیا میں پاکیزگی کی بجائے ناپاکی میں مبتلا ہوں ۔۔۔۔؟

نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
(اسے نہیں سمجھ پایا )
نہ میں موسٰی، نہ فرعون
نہ میں موسی کے درجے پہ ہوں جسے رسالت سے سرفراز کرتے " تبلیغ " کی امانت کا بوجھ دیا گیا ۔۔۔۔۔
نہ ہی میں فرعون ہوں جسے زمانے کے خزانے دیئے گئے اور وہ خود ساختہ رب بن بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔

بلھا کی جاناں میں کون
تو اب کیسے پتہ چلے کہ " میں " کون ہوں ۔۔ میرا فرض کیا ہے ۔ میری تخلیق کا مقصد کیا ہے ۔
مجھے زمین پہ بھیجا کیوں گیا ہے ۔؟

اب یہاں سے مخاطب بدل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے باطن سے خطاب ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اب باطن جواب دے رہا ہے ۔۔۔۔۔

نہ میں اندر بید کتاباں
زمانے کی کتابیں پڑھ لے مگر میرا بھید نہ مل سکے گا۔۔۔۔۔۔۔ کہ میری حقیقت کیا ہے ۔۔؟
نہ وچ بھنگاں، نہ شراباں
بھنگ چرس شراب تمام نشے کر کے دیکھ لے مگر بھید نہ مل سکے گا ۔۔۔۔۔
نہ رہنا وچ خراباں
خرابات دنیا میں مگن رہتے تجربہ کر لے میرا بھید نہ ملے گا
نہ وچ جاگن، نہ سون
جاگتے بھی سوچتا رہ اور سوتے بھی خواب دیکھ مگر میرا بھید نہ مل سکے گا ۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
بلھے شاہ کیا تو جانا کہ میں کون ہوں ۔؟
نہ وچ شادی نہ غمناکی
خوشی کے عالم میں بھی اور دکھ کی کیفیت میں بھی میرا بھید نہیں ملے گا
نہ میں وچ پلیتی پاکی
ناپاکی اور پاکی میں ڈوبے رہتے بھی میرا سراغ نہ پاسکے گا ۔۔۔۔۔
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں سراپا پانی ہوں نہ ہی سراپا خاک ہوں ۔۔۔
نہ میں آتش نہ میں پون
نہ میں سراپا آگ ہوں نہ ہی سراپا ہوا ہوں ۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
تو میں کیا ہوں ۔۔۔۔؟
نہ میں عربی، نہ لاہوری
نہ میں عرب سے ہوں نہ میں لاہور سے
نہ میں ہندی شہر رنگوری
نہ میں ہندی شہر رنگوری ہوں ۔۔۔۔۔
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ میں ہندو ہوں نہ میں پشاور چھوڑ دینے والا پٹھان
نہ میں رہنا وچ ندون
نہ ہی میں کسی ندون ؟ میں رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
تو بلھے شاہ تو کیا جانے میں کون ہوں ۔۔۔؟
نہ میں بھیت مذہب دا پایاں
نہ میں نے کسی مذہب کو اختیار کیا ۔۔
نہ میں آدم حوا جایا
نہ ہی میں آدم و حوا کی اولاد ہوں ۔۔۔۔۔
نہ میں اپنا نام دھرایا
میرا نام اک ہی ہے چاہے کتنے روپ بدلے

نہ وچ بھٹن، نہ وچ بھون
نہ بھٹن کی خانقاہ میں نہ ہی بھون کے مدرسے میں
بلھا کی جاناں میں کون
تو بلھے شاہ کیا تو جانا کہ میں کون ہوں ۔۔۔؟
اول آخر آپ نوں جاناں
ابتدا سے انتہا تک صرف میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی دوجا پچھاناں
میرا کوئی دوسرا شریک نہیں
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
مجھ سے زیادہ کوئی علم والا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بلھا! او کھڑا ہے کون؟
بلھے شاہ ذرا دیکھ تیرے دل میں کون قائم ہے ۔۔۔۔؟
بلھا کی جاناں میں کون
بلھے شاہ کیا جانا مجھ بارے میں ہوں کون ۔۔۔؟

لاتطمئن القلوب الا بذکر اللہ
اللہ بہترین ذکر یہی ہے کہ اس کے ذکر میں محو رہتے اس کی مخلوق کے لیئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔۔۔
ملحوظ رہے کہ پنجابی میری مادری زبان نہیں ہے ۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
(جاری )
 

نایاب

لائبریرین
1۔ میرا مقام کیا ہے ، میری شفاعت ہوگی یا میں سزا وار ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری مراد اتنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں الحمد اللہ اسفل نہیں مگر ارفع بھی نہیں ۔۔۔درمیاں کے لوگوں کے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر اللہ کا فضل ہوگا یا عدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ سوال ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی سورت بتائیں اس کی نظر سے دیکھ لوں

2۔ نبوت کا درجہ ایک اعلی درجہ ،،،،نبوت کا بوجھ ۔۔۔کیونکہ نبوت کی بدولت ارفع مقام کے حق دار ہوئے
بوجھ سے کیا مراد


لیس للانسان الا ما یسعی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کے لیئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جس کے لیئے وہ کوشش کرے ۔۔
تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ارفع ہونے کی کوشش کریں ۔ مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی کریں
رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں ۔
یہ کہاں کی حکمت کہ جب ہمارے پاس ترقی کی راہ موجود ہو تو ہم قناعت کر جائیں ۔۔۔؟
کون اسفل ہے کون اعلی ہے کون ارذل کون ارفع ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ حساب کے دن کا مالک خوب جانتا ہے ۔۔۔۔
اس کے حساب میں رائی برابر زیادتی اور کمی نہیں ہو سکتی ۔۔

عدل کریں تے تھر تھر کنبن اچیاں شاناں والے ہو
فضل کریں تے بخشے جاون میں جئے منہ کالے ہو

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نیک نیت ہوتے نیک مراد ملنے پر یقین کامل رکھنا اک بہتر عمل ۔۔۔
اور حساب کے دن کی مالک سچی ذات تو اپنی مخلوق پر ماں سے بھی ستر گناہ زیادہ مہربان ہے ۔
اس کی صفت رحیمی اس کے غضب پر حاوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اپنی عاقبت کے بارے فکر کرنا بلاشبہ روشن ضمیروں کی عادت ہوتی ہے ۔
مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے بھانوے نہ لاوے ۔۔
اس شعر کے مصداق اللہ سے ڈرنے والے اس کے ذکر میں محو رہتے مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی کیئے جاتے ہیں ۔
اور اجر و ثواب اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔
عرفان ذات ۔۔۔۔۔ وہ حقیقت بھرا احساس ہے جو کہ بیان میں نہیں آ سکتا ۔
جس کو عرفان ذات نصیب ہوجائے ۔۔ وہ شریعت پر عمل پیرا رہتے طریقت اختیار کرتے معرفت کی منزل پہ پہنچ حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے ۔
لیکن وہ اس راز کو بیان کرنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔ کیونکہ سرمد و منصور کی طرح راز افشاء کرنے پر اک تو سولی مقدر دوسرے عام انسان کے لیئے گمراہی کا سبب بنتا ہے ۔
عمومی طور پر جسے عرفان ذات ہوجائے وہ خلق خدا سے محبت میں اپنی ہستی مٹاتا دکھ جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ انسانوں سے بے نیاز اور اللہ پر یقین رکھنے والا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔
عرفان ذات باری تعالی کی حقیقت کھول دیتی ہے ۔ اور صاحب عرفان وجود باری تعالی کے مقام کی الجھن سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔
نبوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک امانت ہے ۔ اور زمانے کے بوجھوں سے بڑھ کر اک بوجھ
نبی کو حکم ہوتا ہے ۔ تبلیغ کا ۔ بنا کسی جھجھک کسی مصلحت کے ۔
اور یہ فرض بحسن خوبی ادا کرنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔
آپ سورت اقراء سورت المزمل سورت المدثر کو رجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھیں
ان شاء اللہ نافع ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
یہی تو میں نے پوچھا تھا ..بابا بلھے شاہ پیدائشی عارف ..عارف اپنی پہچان کے لیے ایسا کیوں لکھے ..وہ تو معرفت حاصل کر چکے ..
حضور میں نے حضرت ابراہیمؑ کی حکمت قرآنِ پاک کے حوالے عرض کرنے کی کوشش کی ہے ایسی ہی اور بہت سی مثالیں قرآنِ پاک میں ہیں۔
بابا بلھے شاہ نے ہمارے لئے، ہمیں سمجھانے کیلئے یہ سب بیان کیا ہے۔ خود انہیں اس کا مکمل ادراک تھا۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
میرا اشارہ ان بدبختوں کی طرف ہے جو بزرگوں کے مزارات پر بیٹھ کر اور ان کے نام پر انسانیت سوز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کو بابا جی کی طرف منعطف کرنا آپ کی صوابدید کا کرشمہ ہے۔
۔​
جی ایسے بد بختوں کو بزرگوں سے کوئی نسبت نہیں ۔۔ بزرگوں کے مزارات کو ایسے بھنگیوں چرسیوں سے واگزار کرانے کی مصبوط اور توانا مہم چلانے کی صرورت ہے
آپ کا موقف واضح ہونے کے بعد میرے دل میں آپ سے متعلق کوئی میل نہیں میں نادانستگی میں آپ کی دل آزاری پر آپ سے معذرت خواہ ہوں امید ہے کہ آپ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبول فرمائیں گے
والسلام
 
Top