اسلامی عقیدہ “دعوتی نصاب تربیت“ کے مطابق

سارا

محفلین
ماوراء نے کہا:
سارا نے کہا:
قیصرانی نے کہا:
مذاق ایسے کہ بعض دوست 786 کو بسم اللہ کا متبادل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک کے حروف کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ تب آپ کے خطوط کی تعداد 786 تھی تو مذاق میں کہ دیا

جی آپ نے بلکل درست فرمایا۔۔۔قرآن پاک کے حروف کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔۔جو ایسا سمجھتے ہیں بہت ہی غلط ہے۔۔۔
بی ایس بی پر تمھارا نک “سارا 786“ کیوں ہے؟

جب میں نے نیٹ جوائن کیا(6 سال پہلے) تو کافی بیوقوف تھی(جو کہ اب بھی ہوں) تب مجھے پتا چلا تھا کہ اس کا مطلب بسم اللہ ہے اور میں نے بغیر کسی تصدیق کے اپنے سب اکاؤنٹ میں اور نک کے ساتھ یہ لگانا شروع کر دیا۔۔۔پھر ایک بھائی نے بی ایس بی پر ایک تھریڈ کھولا جس میں واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے تفصیل کے ساتھ بتایا گیا جو کہ مجھے سمجھ بھی آ گیا اور ٹھیک بھی لگا۔۔۔تو میں نے اپنے سب نک کے ساتھ یہ ہٹا دیا لیکن بی ایس بی پر نہیں ہٹا سکی۔۔۔لیکن میں ان کو صرف 3 الفاظ ہی سمجھتی ہوں جس کی میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں(مطلب میں ان کو بسم اللہ نہیں سمجھتی) بلکہ ابھی تو میں سوچ رہی تھی ک امجد بھائی سے کوئی طریقہ پوچھوں کہ یہ میرے نک سے ہٹ جائیں(تا کہ دوسرے اسے دیکھ کر غلط نہ سمجھیں)۔۔جیسا کہ یہاں بھی میں اپنا نام اب صرف ‘سارا‘ ہی استعمال کرتی ہوں۔۔۔
 

زیک

مسافر
میں نے یہاں کچھ تبدیلیاں کی ہیں:
  1. اس تھریڈ کا عنوان “اسلامی عقیدہ“ سے بدل کر “اسلامی عقیدہ “دعوتی نصاب تربیت“ کے مطابق“ رکھ دیا ہے تاکہ سب کو علم رہے کہ یہ اس کتاب کے حوالے سے عقیدہ ہے۔
  2. یہاں جہاد سے متعلق خطوط کو “اسلام اور عصرِ حاضر“ فورم میں ایک علیحدہ تھریڈ میں منتقل کر دیا ہے۔
  3. جماعت الدعوہ اور لشکرِ طیبہ سے متعلق گفتگو (جس میں ان کے دہشت‌گرد ہونے یا نہ ہونے کی بحث بھی شامل ہے) کو بھی اسلام اور عصرِ حاضر فورم میں تھریڈ میں منتقل کر دیا ہے۔

پلیز اب گفتگو متعلقہ تھریڈ‌ میں ہی کریں۔
 

سارا

محفلین
س: کیا غیر اللہ کی قسم کھانی جائز ہے؟
ج: فرمان الٰہی : التغابن : 8 )

‘‘کہو کیوں نہیں‘ میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔۔‘‘

1 )حدیث نبوی : (صحیح‘ رواہ احمد )
‘‘جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔۔‘‘

2 )متفق علیہ:
‘‘جس کو قسم کھانی ہو اسے چاہیے کہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔۔‘‘
 

سارا

محفلین
وسلیہ اور طلب شفاعت

س: ہم اللہ کی طرف کن چیزوں سے وسلیہ پکڑیں ؟
ج: وسیلہ پکڑنا جائز بھی ہے اور ممنوع بھی۔۔

1 )جائز اور مطلوب وسیلہ

یہ ہے کہ انسان اللہ تعالٰی کے اسماء حسنٰی اور اس کی صفات اور اپنے اعمال صالحہ کا وسیلہ پکڑے۔۔

فرمان الہٰی : 1 ) (الاعراف : 180 )
‘‘سب سے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں تو انہی سے اس کو پکارو۔۔‘‘

2 ) (المائدہ )
‘‘اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ چاہو۔۔‘‘

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے: اللہ کا تقرب چاہو۔۔اس کی اطاعت اور ایسے اعمال کے ذریعہ جو اس کو پسند ہو۔۔‘‘ (ابن کثیر )

حدیث نبوی : (صحیح‘ رواہ مسلم )
‘‘اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ہر اس نام کے ساتھ جو تیرا ہے۔۔‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے فرمایا جس نے آپ کی رفاقت جنت میں چاہی تھی۔۔
‘‘تم اپنے میں میرا تعاون کرو کثرت سجود سے۔۔‘‘ (مسلم)

یعنی نماز سے۔۔۔۔۔۔۔اور نماز بھی عمل صالح ہے۔۔اسی طرح غار والوں کا واقعہ جنہوں نے اپنے اعمال صالحہ کا وسیلہ لے کر دعا کی تھی تو اللہ نے ان کی مصیبت کو دور کر دیا تھا۔۔
چونکہ محبت بھی ایک عمل ہے لہٰذا انبیاء کرام اور اولیاء کے ساتھ اپنی محبت کو وسیلہ بنایا جا سکتا ہے اور اسی طرح محبت اللہ تعالٰی کی صفت ہے لہٰذا انبیاء و اولیاء کے ساتھ اللہ تعالٰی کی محبت کا وسیلہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔۔‘‘
 

سارا

محفلین
2 ) ممنوع اور ناجائز وسیلہ :

اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ انسان مُردوں کو پکارے اور ان سے حاجتیں طلب کرے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔۔یہ شرک اکبر ہے۔۔

فرمان الٰی: یونس 102 )
‘‘اور اللہ کے علاوہ ان کو مت پکارو جو نہ تم کو نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اگر تم نے ایسا کیا تو ایسی صورت میں تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔۔‘‘
3 ) بدعت وسیلہ :
اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی کے جاہ حشمت کا وسیلہ لیا جائے (اور اس طرح انبیاء و اولیاء کی ذات یا حق و حرمت اور برکت کا وسیلہ لیا جائے یا کسی کے وسیلہ سے اللہ پر قسم کھائی جائے) مثلاً کہا جائے کہ اے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جاہ حشمت کے وسیلہ میں ہمیں شفا دے۔۔تو یہ شکل بدعت کی ہے کیونکہ صحابی کرام رضی اللہ عنہم سے یہ ثابت نہیں۔۔
چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب قحط سالی آئی اور استقاء(اللہ سے بارش مانگنے) لیلئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کع آگے بڑھایا گیا تو اس موقعہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی دعاؤں کا وسیلہ لیا جو کہ زندہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسیلہ نہیں پکڑا حالانکہ آپ کی قبر مدینہ میں موجود تھی۔۔ (بخاری )

اگر یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالٰی کسی بشر کے واسطے کا محتاج ہے جس طرح امیر اور حاکم محتاج ہوتے ہیں۔۔تو وسیلہ کی یہ قسم شرک تک پہنچا دیتی ہے۔۔اس لیے کہ خالق و مخلوق کے درمیان کوئی مشابہت نہیں۔۔
 

سارا

محفلین
س) کیا دعا میں کسی بشر کے واسطے کی ضرورت ہے ؟
ج۔۔ دعا میں کسی بشر کے واسطے کی قطعاً ضرورت نہیں۔۔''

فرمانِ الٰہی۔۔
ترجمعہ۔۔'' اور جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو (آپ بتا دیں) کہ میں ان سے قریب ہوں۔۔'' (البقرہ ۔۔ 186 )

حدیث نبوی۔۔''
'بے شک تم سننے والے قریب کو پکارتے ہو وہ (اپنے علم کے اعتبار سے ) تمہارے ساتھ ہیں۔۔ (مسلم)

س:۔۔کیا زندوں سے دعا کرانا جائز ہے ؟
ج) ہاں زندوں سے دعا کرانا جائز ہیں مردوں سے نہیں۔۔

س) کیا دعا میں کسی بشر کے واسطے کی ضرورت ہے ؟
ج۔۔ دعا میں کسی بشر کے واسطے کی قطعاً ضرورت نہیں۔۔''

فرمانِ الٰہی۔۔
''اور آپ اپنے لیے اور مومن مرد اور مومنہ عورتوں کے گناہوں کے لیے استغفار کیجئے۔۔''
(سورہ محمد : آیت نمبر 19 )

حدیث نبوی۔۔''
''ایک اندھا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ‌آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں ! اللہ مجھےعافیت عطا فرمائے۔۔''(ترمذی)

(لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ سے کسی نے دعا کا مطالبہ نہیں کیا لہذا فوت شدہ سے دعا طلب کرنا جائز نہیں۔۔(مترجم)
 

حسن علوی

محفلین
بہت عمدہ سارا یہ دھاگہ کہاں چھپا رکھا تھا؟ میں نے آج ہی دیکھا ماشاءاللہ بہت معلوماتی دھاگہ ھے اور اچھی کوشش ھے۔ ویلڈن
 

سارا

محفلین
س) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کا واسطہ ہیں۔۔؟
ج)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ یعنی بندوں تک اللہ کا حکم پنچانے کا واسطہ ہیں۔۔

فرمان الٰہی۔۔
ترجمعہ۔۔ اے رسول ! تم پر تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دو۔۔(المائد۔۔68 )

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب کہا۔۔ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے (اللہ کا دین ہم تک ) پہنچا دیا ہے۔۔''

س) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کس سے طلب کرنی جاہیے؟
ج)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اللہ تعالٰی سے طلب کرنی چاہیے۔۔
فرمان الٰہی۔۔الزمر۔۔
ترجمعہ۔۔کہہ دیجئے سفارش (شفاعت) سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے۔۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو یہ دعا سکھائی تھی۔۔
''ترجمعہ۔۔اے اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں شفاعت کرنے والا بنا دے۔۔(حسن صحیح' رواہ الترمذی)
حدیث نبوی۔۔
''بے شک میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے ان افراد کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے جو اس حال میں مریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں۔۔(مسلم)
 

سارا

محفلین
بہت عمدہ سارا یہ دھاگہ کہاں چھپا رکھا تھا؟ میں نے آج ہی دیکھا ماشاءاللہ بہت معلوماتی دھاگہ ھے اور اچھی کوشش ھے۔ ویلڈن

چھپایا تو نہیں ہوا تھا۔۔ شروع میں جب ادھر آئی تھی تو ریگولر لکھتی تھی لیکن پھر کچھ عرصہ کے لیے محفل سے غائب ہو گئی تھی۔۔ابھی کسی نے اس طرف متوجہ کیا ہے تو میں نے سوچا کہ اس سلسلے کو آگے بڑھاتی ہوں۔۔۔:rolleyes:
 

سارا

محفلین
س) کیا ہم زندوں سے شفاعت (سفارش) طلب کر سکتے ہیں ؟
ج)جی ہاں! زندوں سے ہم دنیاوی امور میں شفاعت طلب کر سکتے ہیں۔۔

فرمان الہٰی: جو شخص اچھی بات کی سفارش کرے اس کو اس میں سے ایک‌ حصہ ملے گا اور جو شخص بری بات کی سفارش کرے اس کو ایک حصہ اس میں سے ملے گا ۔۔(النساء )

حدیث نبوی۔۔سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا۔۔'' (صحیح 'رواہ ابو داود)

س)۔۔کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و تعریف میں مبالغہ کر سکتے ہیں۔۔؟
ج)۔۔نہیں! آپ کی مدح و تعریف میں ہم مبالغہ نہیں کر سکتے۔۔
فرمان الہٰی:۔۔کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔۔میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے۔۔''(الکھف )

''حدیث نبوی۔۔تم میری مدح و تعریف میں حد سے نہ بڑھو جس طرح نصاریٰ نے عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) کی مدح و تعریف میں حد سے تجاوز کیا۔۔بے شک میں ایک بندہ ہوں لہٰذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔۔'' (رواہ البخاری)
 
س: الحمد اللہ رب العالمین: ساری تعریفیں اس اللہ کی جو سارے عالمین کا رب ہے۔
لفظ محمد ص کے معنی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا۔
جب ساری تعریفیں‌اللہ کیلئے ہیں‌تو سرکار دوعالم ص کا نام محمد کیسے ہو گیا ؟

ج: کیونکہ ساری تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‌اور اللہ پاک خود اپنے اس نبی ص کی تعریفیں قران کریم میں‌کر رہا ہے۔ درود و سلام سے۔ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے کہ اللہ اور اس کے ملائکہ درود و سلام بھیجتے ہیں اس نبی پر۔ مومنو تم بھی درود بھیجا کرو ہماری نبی پر۔ تو سب تعریف کریں‌اللہ کی اور اللہ تعریف کرے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی۔ کیا شان ہے کیا فضیلت ہے۔ سبحان اللہ

والسلام
 

سارا

محفلین
قرآن و حدیث پر عمل۔۔''

س۔۔قرآن کس لیے نازل کیا گیا۔۔؟
ج۔۔قرآن اس لیے نازل کیا گیا کہ لوگ اس پر عمل کریں۔۔

فرمان الٰہی۔۔
ترجمہ۔۔اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔۔ (الاعراف)

حدیث نبوی۔۔
قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو اور اسے پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔۔'' (صحیح' رواہ احمد )
۔۔۔۔۔۔

س۔۔صحیح حدیث پر عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج۔۔صحیح حدیث پر عمل کرنا واجب ہے۔۔

فرمان الٰہی۔۔ترجمہ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تم کو دیں'لے لوجس سے روک دیں(اس سے) رک جاؤ۔۔''(الحشر)

حدیث نبوی۔۔''تم اپنے اوپر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو۔۔(صحیح ' رواہ احمد)
 
س: الحمد اللہ رب العالمین: ساری تعریفیں اس اللہ کی جو سارے عالمین کا رب ہے۔
لفظ محمد ص کے معنی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا۔
جب ساری تعریفیں‌اللہ کیلئے ہیں‌تو سرکار دوعالم ص کا نام محمد کیسے ہو گیا ؟

ج: کیونکہ ساری تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‌اور اللہ پاک خود اپنے اس نبی ص کی تعریفیں قران کریم میں‌کر رہا ہے۔ درود و سلام سے۔ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے کہ اللہ اور اس کے ملائکہ درود و سلام بھیجتے ہیں اس نبی پر۔ مومنو تم بھی درود بھیجا کرو ہماری نبی پر۔ تو سب تعریف کریں‌اللہ کی اور اللہ تعریف کرے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی۔ کیا شان ہے کیا فضیلت ہے۔ سبحان اللہ

والسلام

غالبا یہاں لکھنے والے سے تسامح ہوا ہے۔ قرآن کریم کی آیت کے مطابق اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور مومنوں کو درود و سلام بھیجنے کا حکم ہے۔
ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی
یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
سورۃ الاحزاب۔ پارہ: 22
 
Top