اردو کو قومی زبان بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، قوم سے مذاق بند کیا جائے: سپریم کورٹ !

عثمان

محفلین
جناب عالی، ان لنکوں کے یہ نام میری لکھے ہوئے نہیں ہیں، میں نے تو بس انکے جو جو نام لکھئے ہوئے تھے، اسی طرح اٹھا کر کاپی پیسٹ کردیا۔ اگر میں ان ناموں کی جگہ "معلوماتی صنعتی فنیات" یا "معلوماتی صنعتی فنیات کی دنیا کے سوال جواب" کےلنک اس فورم میں بتاتا تو شائد آپکو سال بھر ان کو فورم میں ڈھونڈنے میں لگ جاتا اور مجھے پھر شاندار القاب سے نوازتے کہ ان عنوان کے لنک "اردو محفل" میں کہاں سے آگئے؟؟


چلیں آپ کی مہارت یہاں آزما لیتے ہیں۔ ذرا اسی لفظ "انفارمیشن ٹیکنالوجی" کا ہی آسان سے "اردو ترجمہ" تو کرکے دکھائیے؟ کوئی ایسا جناتی لفظ نہیں ہو، جیسا میں اوپر اسکا ترجمہ اسطرح کیا تھا معلوماتی صنعتی فنیات، امید ہے آپ یہاں کچھ نیا اور وکھرا پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے گے :D


جناب آپ مسلمانوں کی ترتی کی تاریخ پھر یہاں بھول گئے، یا آپ نے تاریخ کبھی کھول کر بھی نہیں پڑھی ہوگی۔ جب مسلمان خصوصا اموی اور عباسی خلافت میں دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور انہوں نے دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور خصوصا سائینسی تعلیم کی طرف بھی رجحان کرنا شروع کیا، تو شروع شروع میں انہوں نے صرف انہیں تراجم کرنے کی فکر ہوئی جو انکے پاس لاطینی، ہندوی، قبطی اور یونانی ذرائع سے کتب حاصل ہوئی۔ خلیفہ مامون الرشید نے بغداد میں سب سے بڑا کتابوں کو مختلف زبانوں سے عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا ادارہ قائم کیا، جس نے لاتعداد لاطینی، ہندوی اور یونانی کتابوں کے ترجمے، عربی زبان میں کئے، اس وقت سوائے خالد بن یزید اور جابر بن حیان کے کوئی اور سائنسدان کا وجود عرب دنیا میں نہیں تھا۔ لیکن جب ان تراجم شدہ کتب کی آسانی سے مملکت عباسیہ اور دیگر مسلمان ریاستوں میں ترسیل اور حصول ہونے لگی، تو ایک لائن لگ گئی عرب مسلمان سائنسدانوں کی۔ بہت وسیع ٹاپک ہے، اسکو کسی حد تک میں نے احاطہ کرنے کی کوشش کی ،اسکے لئے میرا یہ ٹاپک دیکھئے،
نامور مسلم سائنسدان ، قسط اول
اس ٹاپک کو پڑھ کر آپکو اندازہ ہوگا کہ ان مسلمان قدیم سائنسدانوں نے کیسے کیسے شہرہ آفاق کارنامہ سائنس کی دنیا مٰیں سرانجام دئے تھے۔اور یہ کارنامہ اس وقت انجام پائے جب ان عظیم سائنسدانوں کو انکی اپنی زبان یعنی عربی میں وہ مواد مل گیا، جسکو بنیاد بنا کر اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا
آئی ٹی کو اردو میں آئی ٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی کہا جاتا ہے کہ اردو دانوں کو پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ انگریزی الفاظ کو من و عن مستعار لے لیں۔ "معلوماتی صنعتی فنیات" بلاشبہ جناتی (غیر مقبول) لفظ ہے۔
آپ کا باقی تمام تبصرہ مسلمانوں اور عرب کی قدیم تاریخ پر ہے جو یہاں موضوع نہیں۔
آپ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ آپ میں تمیز سے بات کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ حساب میں کسی اور وقت کے لیے چکا رکھتا ہوں۔
 

عثمان

محفلین
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ میرے تایا جان جرمنی میں 70 کی دہائی سے مسلسل مقیم ہیں۔ پاکستان سے انہوں نے حسابیات میں ماسٹر کیا تھا۔ البتہ یہاں جرمنی آکر ٹھیک سے زبان نہ سیکھ سکے یوں سابقہ پڑھائی بھی ضائع ہو گئی۔ پھر یوںہی جگہ جگہ کبھی پیزا ڈلیوری تو کبھی کوئی اور کام۔ آجکل وہ اپنی خود کی ٹیکسی چلاتے ہیں۔ جب میں 2013 میں انسے ملنے گیا تھا تو انکا کہنا تھا کہ کاش میں 70 کی دہائی میں ہی محنت کر کے زبان سیکھ لیتا تو آج بڑھاپے میں میرا یہ حال نہ ہوتا۔
مجھے بھی جرمنی میں اپنے دس دن پر مشتمل قیام سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا تھا کہ جرمنی میں مقامی زبان میں سیکھے بغیر گزارہ کافی مشکل ہے۔ یورپ میں کئی دوسرے ممالک جہاں میں نے سفر کیا وہاں ایسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔
بہرحال سلمان کی وضاحت کا بے تابی سے انتظار ہے۔ :)
 

حمیر یوسف

محفلین
آپ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ آپ میں تمیز سے بات کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ حساب میں کسی اور وقت کے لیے چکا رکھتا ہوں۔
ہائیں، میں کہاں اپنے مراسلے میں "بدتمیزی" دکھائی ہے جناب عالی :cool:، کیا اسکی وضاحت آپ کرسکتے ہیں۔ اور آگے آپ کوئی مزید لڑائی کا سوچ رہے ہیں تو یاد رکھئے گا، کہیں یہ لڑائی شیطان کی آنت کی طرح لمبی نہ ہوجائے، مجھے کچھ کہنے سے پہلے آپ ہی ذرا اپنے انداز بیان پر غور کرلیں جناب ، جو آپ نے میرے مراسلے کا اقتباس لینے سے پہلےلکھا تھا
 

arifkarim

معطل
مجھے بھی جرمنی میں اپنے دس دن پر مشتمل قیام سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا تھا کہ جرمنی میں مقامی زبان میں سیکھے بغیر گزارہ کافی مشکل ہے۔
ہم ایک مرتبہ جرمنی کے بڑے شہر فرینکفرٹ میں باہر کھانا نوش فرما رہے تھے۔ ایسے میں فنگر چپس کم پڑ گئے اور میں مزید لینے کیلئے چلا گیا۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ جیسے یہاں مقامی نارویجنز کو انگریزی آتی ہے تو وہاں دکاندار کو بھی آتی ہوگی۔
یوں ہم بڑے مزے سے گئے اور انگریزی میں شروع ہوگئے کہ یہ دے دو، وہ دو۔ وہ جرمن جوان حیران ہکا بکا ہمارا منہ چڑانے لگا۔ مجھے اسکا یہ رد عمل کافی عجیب سا لگا۔ مجبوراً مجھے واپس جا کر تایا جان کو بلانا پڑا۔
بعد میں میں نے انسے پوچھا کہ کیا واقعی اس دکاندار کو انگریزی نہیں آتی تھی؟ تو وہ بولے، نہیں اسکو آتی تھی لیکن یہ لوگ خارجیوں کے ساتھ جان بوجھ کر انگریزی نہیں بولتے تاکہ انہیں سبق سکھا ئیں کہ یہاں اگر کچھ کرنا ہے تو پہلے جرمن سیکھو۔ :)
 

عثمان

محفلین
جناب عالی، ان لنکوں کے یہ نام میری لکھے ہوئے نہیں ہیں، میں نے تو بس انکے جو جو نام لکھئے ہوئے تھے، اسی طرح اٹھا کر کاپی پیسٹ کردیا۔ اگر میں ان ناموں کی جگہ "معلوماتی صنعتی فنیات" یا "معلوماتی صنعتی فنیات کی دنیا کے سوال جواب" کےلنک اس فورم میں بتاتا تو شائد آپکو سال بھر ان کو فورم میں ڈھونڈنے میں لگ جاتا اور مجھے پھر شاندار القاب سے نوازتے کہ ان عنوان کے لنک "اردو محفل" میں کہاں سے آگئے؟؟


چلیں آپ کی مہارت یہاں آزما لیتے ہیں۔ ذرا اسی لفظ "انفارمیشن ٹیکنالوجی" کا ہی آسان سے "اردو ترجمہ" تو کرکے دکھائیے؟ کوئی ایسا جناتی لفظ نہیں ہو، جیسا میں اوپر اسکا ترجمہ اسطرح کیا تھا معلوماتی صنعتی فنیات، امید ہے آپ یہاں کچھ نیا اور وکھرا پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے گے :D


جناب آپ مسلمانوں کی ترتی کی تاریخ پھر یہاں بھول گئے، یا آپ نے تاریخ کبھی کھول کر بھی نہیں پڑھی ہوگی۔ جب مسلمان خصوصا اموی اور عباسی خلافت میں دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور انہوں نے دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور خصوصا سائینسی تعلیم کی طرف بھی رجحان کرنا شروع کیا، تو شروع شروع میں انہوں نے صرف انہیں تراجم کرنے کی فکر ہوئی جو انکے پاس لاطینی، ہندوی، قبطی اور یونانی ذرائع سے کتب حاصل ہوئی۔ خلیفہ مامون الرشید نے بغداد میں سب سے بڑا کتابوں کو مختلف زبانوں سے عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا ادارہ قائم کیا، جس نے لاتعداد لاطینی، ہندوی اور یونانی کتابوں کے ترجمے، عربی زبان میں کئے، اس وقت سوائے خالد بن یزید اور جابر بن حیان کے کوئی اور سائنسدان کا وجود عرب دنیا میں نہیں تھا۔ لیکن جب ان تراجم شدہ کتب کی آسانی سے مملکت عباسیہ اور دیگر مسلمان ریاستوں میں ترسیل اور حصول ہونے لگی، تو ایک لائن لگ گئی عرب مسلمان سائنسدانوں کی۔ بہت وسیع ٹاپک ہے، اسکو کسی حد تک میں نے احاطہ کرنے کی کوشش کی ،اسکے لئے میرا یہ ٹاپک دیکھئے،
نامور مسلم سائنسدان ، قسط اول
اس ٹاپک کو پڑھ کر آپکو اندازہ ہوگا کہ ان مسلمان قدیم سائنسدانوں نے کیسے کیسے شہرہ آفاق کارنامہ سائنس کی دنیا مٰیں سرانجام دئے تھے۔اور یہ کارنامہ اس وقت انجام پائے جب ان عظیم سائنسدانوں کو انکی اپنی زبان یعنی عربی میں وہ مواد مل گیا، جسکو بنیاد بنا کر اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا
ہائیں، میں کہاں اپنے مراسلے میں "بدتمیزی" دکھائی ہے جناب عالی :cool:، کیا اسکی وضاحت آپ کرسکتے ہیں۔ اور آگے آپ کوئی مزید لڑائی کا سوچ رہے ہیں تو یاد رکھئے گا، کہیں یہ لڑائی شیطان کی آنت کی طرح لمبی نہ ہوجائے، مجھے کچھ کہنے سے پہلے آپ ہی ذرا اپنے انداز بیان پر غور کرلیں جناب ، جو آپ نے میرے مراسلے کا اقتباس لینے سے پہلےلکھا تھا
سبز الفاظ میں خوامخواہ کا استہنزا اور نیلے الفاظ میں آپ کی بدزبانی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اب میرے انداز بیان کی نشاندہی بھی کر دیجیے۔
 

عثمان

محفلین
ہم ایک مرتبہ جرمنی کے بڑے شہر فرینکفرٹ میں باہر کھانا نوش فرما رہے تھے۔ ایسے میں فنگر چپس کم پڑ گئے اور میں مزید لینے کیلئے چلا گیا۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ جیسے یہاں مقامی نارویجنز کو انگریزی آتی ہے تو وہاں دکاندار کو بھی آتی ہوگی۔
یوں ہم بڑے مزے سے گئے اور انگریزی میں شروع ہوگئے کہ یہ دے دو، وہ دو۔ وہ جرمن جوان حیران ہکا بکا ہمارا منہ چڑانے لگا۔ مجھے اسکا یہ رد عمل کافی عجیب سا لگا۔ مجبوراً مجھے واپس جا کر تایا جان کو بلانا پڑا۔
بعد میں میں نے انسے پوچھا کہ کیا واقعی اس دکاندار کو انگریزی نہیں آتی تھی؟ تو وہ بولے، نہیں اسکو آتی تھی لیکن یہ لوگ خارجیوں کے ساتھ جان بوجھ کر انگریزی نہیں بولتے تاکہ انہیں سبق سکھا ئیں کہ یہاں اگر کچھ کرنا ہے تو پہلے جرمن سیکھو۔ :)
میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ یہی رہا ہے کہ اکثر جرمن انگریزی سے ناواقفیت کی بنا پر انگریزی بولنے سے گریز کرتے ہیں۔
 

حمیر یوسف

محفلین
اپنے ہی دیے ہوئے لنک پر ہی غور کیجیے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، آئی ٹی۔۔ :)
انگریزی الفاظ اردو میں لکھ دینا کیا کارنامہ ہے۔ سائنس کے زمرے میں اردو زبان میں جو کچھ ہے وہ یا تو اسی طرح انگریزی الفاظ کو اردو میں من و عن لکھا گیا ہے یا پھر انگریزی اور سائنسی اصطلاحات کا زبردستی جناتی قسم کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی ایک نمایاں مثال اردو ویکی پیڈیا تھا جو اب اپنے اس عمل سے تائب ہوچکا ہے۔
سائنس پڑھنے کے معاملے میں انگریزی زبان پر انحصار کرنے کو اس لیے زور دیا جاتا ہے کہ سائنس میں اکثر تحقیق اور تخلیق مغرب اور مغربی زبانوں ہی میں ہو رہی ہے۔ اس لیے محض ترجمہ سازی کا کارخانہ لگانے کی بجائے اصل پر توجہ دینا کہیں سہل ہے۔
جناب عثمان صاحب، ذرا آپ بھی ان سرخ رنگ سے مارک کئے ہوئے جملوں کی کاٹ پر غور کریں۔ آپ تو مجھ سے پرانے اس فورم کے یوزر ہیں، اگر میں نے ریفرنس کے طور پر اس فورم کے چند لنکس کا حوالہ دیا تھا تو آپ کو تو شائد ازخود سمجھ لینا چاہئے تھا کہ یہاں فقط "کاپی پیسٹنگ" سے کام لیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ یہ غلط فہمی رائج ہے کہ اردو قطعی ایک سائنسی رجحان رکھنے والی زبان نہیں ہے، اسکا ازالہ کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ کیوں کسی دور کی کوڑی لاکر اپنا یہ موقف واضح کیا جائے کہ سائینسی کام اردو میں بھی یقینا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جسقدر سائنسی مواد ان یا ان سے ملتے جلتے اس فورم پر موجود ہے، اس نے اس فورم کی حیثیت کو چار چاند لگادئے ہیں۔ اور میرا اس فورم پر رکے رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان متعلقہ لنک پر جو کام مجھے یہاں نظر آیا، اسی مثال مجھے کسی دوسرے فورم پر نظر نہیں آئی۔ لیکن آپ جناب نے لگتا ہے بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی توپیں داغنے لگی۔

دوسری بات یہ کہ سائنس والے سیکشن میں اگر آپ نے ایک دو لڑیاں ہمارے کسی محترم بھائی کی ترجمہ شدہ کیا دیکھیں، آپ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ اس سیکشن میں محض ترجمہ سازی کا کام ہی ہورہا ہے۔ ٹھیک ہے وہاں تحقیقی کام کم ہورہا ہے لیکن کیا کسی اہم سائنسی مقالے یا مواد کا انگریزی سے اردو ترجمہ کرنا اتنا ہی "بھونڈا" کام ہے جسکا آپ نے ایک انتہائی نامناسب لفظ سے تذکرہ کیا،" اس لیے محض ترجمہ سازی کا کارخانہ لگانے" ۔ یہ لکھے گئے الفاظ، معاف کیجئے گا، آپ کی بدتہذیبی اور درشتگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور آپ کو اس کو ایک محتاط الفاظ سے ظاہر کرنا چاہئے تھا۔ ترجمہ کرنا بھی ایک فن ہے، اور آپکی محبوب زبان "انگلش" اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی ہر وقت دوسری زبانوں سے اس میں تراجم کا کام جاری رہتا ہے۔

50 Works of Fiction in Translation That Every English Speaker Should Read

List of literary works by number of translations

literary works translated into english

تراجم کی اہمیت کیا اور وہ کسطرح تحقیقی کاموں میں مدد دیتے ہیں، اس کے لئے یہ لنک پڑھئیے، اس سے شائد آپکی چند غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا

Why Literature in Translation is SUPER SUPER IMPORTANT


میرے خیال سے جب آپ ان لنکس کو پڑھیں گے، تو خود بھی ایک اچھے ترجمہ کرنے کے قائل ہوجائے گے۔ ویسے ایچ اے خان صاحب سے بھی آپ نے اپنے مراسلوں میں ٹھیک ٹھاک "بدتمیزی" کامظاہرہ کیا تھا۔ لیکن میں اسکا حوالہ نہیں دونگا، کیونکہ یہ میرا معاملہ نہیں ہے۔ اور خان صاحب اور آپکے درمیان ہے، میں نے فقط نشاندہی کی ہے
 

عثمان

محفلین
جناب عثمان صاحب، ذرا آپ بھی ان سرخ رنگ سے مارک کئے ہوئے جملوں کی کاٹ پر غور کریں۔ آپ تو مجھ سے پرانے اس فورم کے یوزر ہیں، اگر میں نے ریفرنس کے طور پر اس فورم کے چند لنکس کا حوالہ دیا تھا تو آپ کو تو شائد ازخود سمجھ لینا چاہئے تھا کہ یہاں فقط "کاپی پیسٹنگ" سے کام لیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ یہ غلط فہمی رائج ہے کہ اردو قطعی ایک سائنسی رجحان رکھنے والی زبان نہیں ہے، اسکا ازالہ کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ کیوں کسی دور کی کوڑی لاکر اپنا یہ موقف واضح کیا جائے کہ سائینسی کام اردو میں بھی یقینا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جسقدر سائنسی مواد ان یا ان سے ملتے جلتے اس فورم پر موجود ہے، اس نے اس فورم کی حیثیت کو چار چاند لگادئے ہیں۔ اور میرا اس فورم پر رکے رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان متعلقہ لنک پر جو کام مجھے یہاں نظر آیا، اسی مثال مجھے کسی دوسرے فورم پر نظر نہیں آئی۔ لیکن آپ جناب نے لگتا ہے بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی توپیں داغنے لگی۔

دوسری بات یہ کہ سائنس والے سیکشن میں اگر آپ نے ایک دو لڑیاں ہمارے کسی محترم بھائی کی ترجمہ شدہ کیا دیکھیں، آپ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ اس سیکشن میں محض ترجمہ سازی کا کام ہی ہورہا ہے۔ ٹھیک ہے وہاں تحقیقی کام کم ہورہا ہے لیکن کیا کسی اہم سائنسی مقالے یا مواد کا انگریزی سے اردو ترجمہ کرنا اتنا ہی "بھونڈا" کام ہے جسکا آپ نے ایک انتہائی نامناسب لفظ سے تذکرہ کیا،" اس لیے محض ترجمہ سازی کا کارخانہ لگانے" ۔ یہ لکھے گئے الفاظ، معاف کیجئے گا، آپ کی بدتہذیبی اور درشتگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور آپ کو اس کو ایک محتاط الفاظ سے ظاہر کرنا چاہئے تھا۔ ترجمہ کرنا بھی ایک فن ہے، اور آپکی محبوب زبان "انگلش" اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی ہر وقت دوسری زبانوں سے اس میں تراجم کا کام جاری رہتا ہے۔

50 Works of Fiction in Translation That Every English Speaker Should Read

List of literary works by number of translations

literary works translated into english

تراجم کی اہمیت کیا اور وہ کسطرح تحقیقی کاموں میں مدد دیتے ہیں، اس کے لئے یہ لنک پڑھئیے، اس سے شائد آپکی چند غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا

Why Literature in Translation is SUPER SUPER IMPORTANT


میرے خیال سے جب آپ ان لنکس کو پڑھیں گے، تو خود بھی ایک اچھے ترجمہ کرنے کے قائل ہوجائے گے۔ ویسے ایچ اے خان صاحب سے بھی آپ نے اپنے مراسلوں میں ٹھیک ٹھاک "بدتمیزی" کامظاہرہ کیا تھا۔ لیکن میں اسکا حوالہ نہیں دونگا، کیونکہ یہ میرا معاملہ نہیں ہے۔ اور خان صاحب اور آپکے درمیان ہے، میں نے فقط نشاندہی کی ہے
متعلقہ مراسلے میں تنقید کا مرکز جناب کی زات نہیں ہے. تاہم آپ کی یاوہ گوئی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کو اس محفل میں میچور ہونے کے لیے ابھی کافی وقت گذارنے کی ضروت ہے۔ میری غلطی کہ ابتدائی مراسلے میں آپ کو سنجیدہ لے بیٹھا.
 

حمیر یوسف

محفلین
متعلقہ مراسلے میں تنقید کا مرکز جناب کی زات نہیں ہے. تاہم آپ کی یاوہ گوئی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کو اس محفل میں میچور ہونے کے لیے ابھی کافی وقت گذارنے کی ضروت ہے۔ میری غلطی کہ ابتدائی مراسلے میں آپ کو سنجیدہ لے بیٹھا.
آپ سے بحث فضول ہے، آپ کے پاس سوائے الزام تراشیاں کرنے کے اور کچھ لگتا ہے بچا نہیں ہے۔ کسی دوسرے کو Immature ہونے کا طعنہ دینے والے کو چاہئے کہ وہ ذرا اپنے خود کے گریبان میں جھانکے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا (سورہ الفرقان آیت 63)
رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے
 
Top