فراز اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

نظام الدین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 25, 2015

  1. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
    تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
    اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں
    (احمد فراز)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ثقیل ساقی

    ثقیل ساقی محفلین

    مراسلے:
    16
    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
    احمد فراز
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر