شمشاد خان

محفلین
کچھ ایسا سودا ہے سب کے سر میں مزاج بگڑے ہوئے ہیں سب کے
کوئی بھی سنتا نہیں کسی کی کہیں کسی سے تو کیا کہیں ہم
(آتش بہاولپوری)
 

جا ن

محفلین
گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم
(ساحر لدھیانوی)
 

شمشاد خان

محفلین
یوم مئی کے پس منظر میں :
95801969_642419549933281_8363614305404321792_n.jpg
 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرُو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ سِتم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں، جس کافر پہ دم نکلے

(غالب)​
 

ام اویس

محفلین
مجھ سے تم دور رہ کے بات کرو
خود کو رسوا نہ میرے ساتھ کرو

عشق بھی چھوت کی ہے بیماری
مجھ سے ملنے میں احتیاط کرو

شہزاد احمد کھرل
 

شمشاد خان

محفلین
ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
(جون ایلیا)
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
کوزہ گر ! خاک مری خواب کے خاکے سے گزار
کربِ تخلیق! مجھے سوئی کے ناکے سے گزار

ہستیء جاں سے گزر جائے مرا پختہ ظروف
فرش پر پھینک اسے اور چھناکے سے گزار

ساحلِ خشک ، نمیدہ ہو کبھی بحرِ کرم
خود گزر یا اسے لہروں کے چھپاکے سے گزار

حدّتِ عشق میں پگھلا دے مرے سارے فراز
مجھ کو اس بار کسی خاص علاقے سے گزار

سنگ پاٹوں کی یہ چاکی مجھے کیا پِیسے گی
تُو مجھے ارض و سماوات کے چاکے سے گزار

خالِ بنگال ترا جادو چلے گا لیکن
تُو مجھے پہلے کسی آنکھ کے ڈھاکے سے گزار

رانا سعید دوشی
 

شمشاد خان

محفلین
بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا
کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا

زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے
جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا
(عابد عمر)
 

شمشاد خان

محفلین
یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی

چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں
وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی
(عابد عمر)
 
ستم ظریفی وقت نے
کلیوں کی نزاکت کو
دلوں کی محبت کو
اس طرح سے مسلا ہے
اس طرح سے کچلا ہے
زندگی اذیت ہے
سانس کی بھی قیمت ہے

کس کا ہاتھ ہے
جو خوں سے رنگا نہیں
کس کا گریباں ہے
جو گرفت سے بچا نہیں
صدائے موت آتی ہے
شہر بھر کی گلیوں سے
خوں کی بو آتی ہے
پھولوں اور کلیوں سے​
 

شمشاد خان

محفلین
یہ جو نشہ ہے رقص کا اک مری ذات تک نہیں
کوزہ بہ کوزہ گل بہ گل ساتھ خدا ہے رقص میں
(رضی اختر شوق)
 
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
(فیض)
 

شمشاد خان

محفلین
کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے

جحضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
(فیض احمد فیض)
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
اندھے گونگے بہرے لوگ

اجلے کپڑے میلے لوگ

کم عمری میں سنتے ہیں

مر جاتے ہیں اچھے لوگ

بھاگ رہے ہیں دنیا میں

پاؤں کو سر پہ رکھے لوگ

رستے میں مل جاتے ہیں

تتلی کے پر جیسے لوگ

آئینوں کو لے کر ساتھ

پھرتے ہیں بے چہرے لوگ

مہنگے گھر میں رہتے ہیں

برف کے جیسے ٹھنڈے لوگ

دور حاضر میں جاویدؔ

کپڑوں میں ہیں ننگے لوگ
ملک زادہ جاوید
 
Top