سید فصیح احمد

لائبریرین
یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے

مینا کماری نازؔ
 
ترا فراق رزق حلال ہے مجھ پر
یہ پھل پرائے شجر سے اتارا تھوڑی ہے
یہ لوگ تجھ سے ہمیں دور کر رہے ہیں مگر
ترے بغیر ہمارا گزارا تھوڑی ہے
جمال احسانی
 

طارق شاہ

محفلین

ہم خوشی چاہیں تو کِس طرح سے چاہیں تیری
صاف غیروں سے مِلی جاتی ہیں راہیں تیری

دل کہیں اور، اِدھر کو ہیں نِگاہیں تیری
واقفِ رنج وغمِ دُنیا ہُوئی آہیں تیری

تجھ میں اگلی سے محبّت نہیں، وہ بات نہیں !
پھر یہ کہتا ہے کہ ، پہلی سی مدارات نہیں

علامہ رشید ترابی
 

طارق شاہ

محفلین

سُورج کو دیکھنے کا سلیقہ کہاں ہمیں
جب بھی نظر اُٹھائی، رہی آس پاس شب

گھر جلد لوٹ کر بھی تو، منظر وہی رہا
ویسی ہی سرد شام، وہی ناسپاس شب

پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین

چاہو تو واقعات کے اِن خرمنوں سے تم
اِک ریزہ چُن کے فکر کے دریا میں پھینک دو
پانی پہ اِک تڑپتی شِکن دیکھ کر ہنسو

چاہو تو واقعات کی اِن آندھیوں میں بھی
تم یُوں کھڑے رہو کہ، تمھیں علم تک نہ ہو
طُوفاں میں گِھر گئے ہو کہ طوُفاں کا جُزو ہو

مجید امجد
 
Top