اوشو

لائبریرین
سوز ِ نہاں میں کب کا وہ خاک ہو چکا ہے
اب دل کو ڈھونڈتے ہو وہ دل کہاں ہے ہم میں
بیدل
 

طارق شاہ

محفلین

شخصیت سب کی پرکھنے کے جو ساماں ہوتے
کیا ہر اِک شہر میں اِنسانوں سے حیواں ہوتے

لوگ اطراف کی نفرت سے رہیں یُوں بے حِس
سانحہ کیسا بھی ہو، اب نہیں حیراں ہوتے

شفیق خلش
 

طارق شاہ

محفلین

دیکھنے کا اب یہ عالم ہے، کوئی ہو یا نہ ہو
ہم جدھر دیکھا کئے، پہروں اُدھر دیکھا کئے

حفیظ ہوشیارپوری
 

طارق شاہ

محفلین

پھر شامِ وصالِ یار آئی
بہلا غمِ روزگار کچھ دیر

پھر جاگ اُٹھے خوشی کے آنسو
پھر دِل کو مِلا قرار، کچھ دیر

پھر ایک نشاطِ بیخودی میں !
آنکھیں رہی اشکبار کچھ دیر

پھر ایک طویل ہجر کے بعد
صُحبت رہی خوشگوار کچھ دیر

پھر اِک نِگاہ کے سہارے
دُنیا رہی سازگار کچھ دیر

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

جئے جانے کی تہمت کِس سے اُٹھتی ، کِس طرح اُٹھتی
تِرے غم نے بچائی زندگی کی آبرو برسوں

فانی بدایونی
 
Top