urdu ghazal

  1. محمداحمد

    یہ رتجگوں کا کسی طور سلسلہ نہ رہے - اعزاز احمد آذر

    غزل یہ رتجگوں کا کسی طور سلسلہ نہ رہے ملو تو یوں کہ بچھڑنے کا شائبہ نہ رہے ہُو ا ہے فطرتِ ثانی یہ جاگتے رہنا بلا سے خواب کا آنکھوں میں ذائقہ نہ رہے ملا تو روئے گا اب بھی وہ لگ کے سینے سے کہ اپنے حال کا ماضی سے فاصلہ نہ رہے بچھڑنا شرط ہی ٹھہر ا تو یوں بچھڑ جائیں کسی کو ترکِ تعلق...
  2. مغزل

    غزل ناز غزل کی ایک خوبصورت غزل

    غزل جلاکرہم نے اِس دل کو اگرچہ راکھ کر ڈالا مگر اندر ہی اندر اس کسک نے خاک کر ڈالا یہ ٹھانی تھی کہ ہر قیمت پہ اس کو بھول جانا ہے سو ! خودکو رفتہ رفتہ اس ہنر میں طاق کر ڈالا کہیں پھر سے تمھاری آرزو دل میں نہ بس جائے ہمیں اے دوست اس ڈر نے بہت سفّاک کرڈالا اچانک پھر کسی کی یاد بن کر...
  3. ظ

    سلیم احمد جاکے پھر لوٹ جو آئے وہ زمانہ کیسا ( سلیم احمد )

    جاکے پھر لوٹ جو آئے ، وہ زمانہ کیسا تیری آنکھوں نے یہ چھیڑا ہے ، فسانہ کیسا آنکھ سرشارِ تمنا ہے ، تُو وعدہ کرلے چال کہتی ہے کہ اب لوٹ کے ، ‌آنا کیسا مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم یوں نہ ملنے کا نکالا ہے ، بہانہ کیسا اس کا شکوہ تو نہیں ہے ، نہ ملے تو ہم سے رنج ا سکا...
  4. الف نظامی

    نصیر الدین نصیر دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے- سید نصیر الدین نصیر

    دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے آخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرو یوں تو نہ گزر جاو اس اجڑے ہوئے گھر سے ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواں مشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے یہ حسن یہ شوخی یہ تبسم یہ جوانی اللہ بچائے تمہیں بد بیں کی نظر سے...
  5. فرخ منظور

    قتیل شفائی حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا - قتیل شفائی

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا...
  6. الف نظامی

    نصیر الدین نصیر کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی- سید نصیر الدین نصیر

    کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی نہ وہ ذوق دیدہ وری رہا ، نہ وہ شان جلوہ گری رہی جو خلش ہو دل کو سکوں ملے ، جو تپش ہو سوز دروں ملے وہ حیات اصل میں کچھ نہیں ، جو حیات غم سے بری رہی وہ خزاں کی گرم روی بڑھی تو چمن کا روپ جھلس گیا کوئی غنچہ سر نہ اٹھا سکا ، کوئی شاخ گل نہ ہری...
  7. فرخ منظور

    قتیل شفائی پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ - قتیل شفائی

    پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا یہ...
  8. فرخ منظور

    قتیل شفائی تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے - قتیل شفائی

    تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے چلو اچھا ہوا، کام آگئی دیوانگی اپنی...
  9. فرخ منظور

    قتیل شفائی یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی - قتیل شفائی

    یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا...
  10. حیدرآبادی

    کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

    اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت اِن دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت رات ہو دن ہو غفلت ہو کہ بیداری ہو اُس کو دیکھا تو نہیں ہے اُسے سوچا ہے بہت تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ میں نے پتھر...
  11. محمداحمد

    پیرزادہ قاسم بہ پاسِ خاطرِ سرکار کیا نہیں کرتے - پیرزادہ قاسم

    غزل بہ پاسِ خاطرِ سرکار کیا نہیں کرتے ہیں دل فگار مگر دل بُرا نہیں کرتے ہماری ذات میں محشر بپا ہے مدت سے مگر یہ ہم کہ کوئی فیصلہ نہیں کرتے غبارِ راہ سے آگے نکل گئے ہوتے جو رک کے پاؤں سے کانٹے جدا نہیں کرتے و ہ دل پہ وار بھی کرتا ہے یہ بھی کہتاہے کہ دل کے زخم عجب ہیں بھرا نہیں...
  12. محمداحمد

    پیرزادہ قاسم دریا کس کی پیاس بجھانے آیا تھا - پیرزادہ قاسم

    غزل میں سمجھا مری گھٹن مٹانے آیا تھا وہ جھونکا تو دیا بجھانے آیا تھا موسمِ گل اُس بار بھی آیا تھا لیکن کیا آیا بس خاک اُڑانے آیا تھا چشم زدن میں ساری بستی ڈوب گئی دریا کس کی پیاس بجھانے آیا تھا مہر نشاں، زرکار قبا، وہ یار مرا مجھ کو سنہرے خواب دکھانے آیا تھا خالی چھتری دیکھ...
  13. محمداحمد

    پیرزادہ قاسم اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے - پیرزادہ قاسم

    غزل اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے یعنی اب جرمِ اسیری کی سزا دی جائے دستِ نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگر پہلے جو آگ لگی ہے وہ بجھا دی جائے اُس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں بے حسی وقت کی آواز بنادی جائے صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھر ایک شب اور مری شب سے ملا دی...
  14. محمداحمد

    پیرزادہ قاسم درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے - پیرزادہ قاسم

    غزل درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے آپ کتنے سادہ ہیںچاہتے ہیں بس ایسا ظلم کے اندھیرے کو رات کہ دیا جائے آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسّم بھی دل میں ہنس لیا جائے ، دل میں رو لیا جائے بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھی کب تلک جیا جائے اور کیوں جیا جائے...
  15. شمشاد

    ابن انشا جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

    جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن، رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے (لکھی چاند نگر)...
  16. شمشاد

    ابن انشا انشا صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہو

    سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہو انشا صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہو دل کی بات چھپانی مشکل، لیکن خوب چھپاتے ہو بن میں دانا، شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہو بے کل بے کل رہتے ہو، پر محفل کے آداب کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے ہو، بھولے بھی بن جاتے ہو پیت میں ایسے...
  17. ظ

    تیرے نام کی تھی جو روشنی ، اسے خود ہی تُو نے بجھا دیا

    تیرے نام کی تھی جو روشنی ، اسے خود ہی تُو نے بجھا دیا نہ جلا سکی جسے دھوپ ، اُسے چاندنی نے جلا دیا میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا ، مجھے آپ اپنی خبر نہیں وہ جو شخص تھا میرا رہنما ، اُسے راستوں میں گنوا دیا جسے تُو نے سمجھا رقیب تھا ، وہی شخص تیرا نصیب تھا تیرے ہاتھ کی وہ لکیر تھا ،...
  18. ظ

    نہ ہو سکی جو کوئی بات کُھل کے ساتھ اس کے

    نہ ہو سکی جو کوئی بات کُھل کے ساتھ اس کے میرے لبوں پہ دھرے تھے ، تکلفات اس کے .وہ کھولتا تھا کبھی مٹھی کو بند کرتا تھا پڑے ہوئے تھے عجب کشمکش میں ہاتھ اس کے .وہ اس لیئے گریزاں ہے میری کہانی سے کہ میرا نام ہے ، لیکن ہیں واقعات اس کے عجیب رُ ت ہے کہ میں خون بہا مانگ رہا ہوں...
  19. ظ

    رسوائی کا ڈر بھی دھیان میں رکھا کر

    رسوائی کا ڈر بھی دھیان میں رکھا کر خط محبوب کا مت دلان میں رکھا کر یہی اُجڑے ہوئے لوگ کبھی کام آئیں گے چاہنے والوں کو پہچان میں رکھا کر زرد رُتوں میں تیرا دل بہلائے گی چڑیا کوئی روشندان میں رکھا کر حسن کی ڈھلتی چھاؤں ہے ، اے جانِ جاناں خود کو اتنا بھی نہ مان میں رکھا کر...
  20. محمداحمد

    درختِ جاں پر عذاب رُت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے - اعزاز احمد آزر

    غزل درختِ جاں پر عذاب رُت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے نشاطِ منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجرِ سفر ہی دے دو وہ رہ نوردِ رہِ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اُٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں ہمارے حصّے میں عذر...
Top