محمد یعقوب آسی

  1. فلک شیر

    "تھا وہ اک یعقوب آسی ".........تبصرہ جات

    اس دھاگے میں محترم محمد یعقوب آسی صاحب کی خود نوشت سوانح حیات موسوم بہ "تھا وہ اک یعقوب آسی"پہ تبصرہ جات کیے جا سکتے ہیں ۔اصل دھاگے میں تبصرہ فرمانے سے گریز فرمائیں ، تاکہ لڑیاں مسلسل رہیں اور انہیں بعد میں اکٹھا کرنے میں دشواری نہ ہو۔ جزاک اللہ۔ آسی صاحب کی خود نوشت کا ربط نچلی سطر میں دیا گیا...
  2. انیس فاروقی

    ایک شعر کی اصلاح چاہتا ہوں ۔مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    ایک شعر ہے یوں اس کی اصلاح کی درخواست ہے پھر نہ تقدیسِ ادب ہم سے قضا ہو جائے آج یہ قرض بھی صدیوں کا ادا ہو جائے
  3. سید عاطف علی

    کچھ اشعار برائے نقد و نظر اور مشورہ جات ۔شیشے کی صداؤں سے ۔۔۔

    شیشے کی صداؤں سے بندھا ایک سماں تھا میں منتظر ِجنبشِ انگشتِ مغاں تھا پیہم جو تبسم مرے چہرے سے عیاں تھا وہ ہی دلِ صد چاک پہ اک کوہِ گراں تھا نومیدئ عالم ہوئی مہمیز جنوں کو اوپر سے مہر بان کفِ کوزہ گراں تھا اسکندر و پرویز تو ویرانے میں گم تھے پر تربتِ درویش پہ میلے کا سماں تھا کی جس کے لیے...
  4. ت

    شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں... برائے اصلاح

    شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں... برائے اصلاح شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں وصل کی کوئی بھی گھڑی اب تو آتی نیں محبت ہم نے تجھے رہبر تھا بنایا آج بھٹکا ہوں تو تو بھی راہ دکھاتی نہیں جہاں جاؤں اک کرب مسلسل ہے میرا میزبان میری وحشت بھری طبیعت کہیں چین پاتی نہیں پوچھ بیٹھا زندگی سےدیا تو...
  5. خالد محمود چوہدری

    میرے مولا جیہا مہربان نا کوئی

    میرے مولا جیہا مہربان نا کوئی سوہنے نبی جیہا شان نا کوئی علم سب توں ودھیاایہو قرآن جیہا قرآن نا کوئی قرآن حدیث تے جےعمل کرے مسلمان جیہا انسان نا کوئی اپنے آپ نوں ہی اُچا جاناں میں منّا تیرا فرمان نا کوئی خالد جو توں فِرقے بَنھّے تیرے جیہا شیطان نا کوئی
  6. ت

    براہ کرم اصلاح فرماہیے

    مکرمی استاد الف عین، محمد یعقوب آسی اور مزمل شیخ بسمل براہ کرم اصلاح فرماہیے محتاط رہیےیہ دنیا ہے بڑی ہی خراب محتاط رہیے جناب آپ ہیں کھلتے ہوئے گلاب محتاط رہیے بات کیجیے مگر ہوش سے میری سرکار یہاں لوگ لیتے ہیں بہت کڑا حساب محتاط رہیے میری بے بسی پہ نہ ہنسے اے حضور آپ بھی آ سکتے ہیں زیرِعتاب...
  7. راشد فاروق

    علامہ اقبال کے ایک شعر کا مطلب سمجھنا چاہتا ہوں۔

    السلام علیکم! عزیزان گرامی! علامہ اقبال کا ایک شعر ہے جس کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوں اگر کوئی اقبال شناس میری لاعلمی دور کردے تو ذرہ نوازی ہوگی۔ آدمی کام کا نہیں رہتا عشق میں یہ بڑی خرابی ہے لن ترانی میں طور سوزی میں پردے پردے میں بے حجابی ہے پوچھتے کیا ہو مذہب اقبال یہ گنہگار بوترابی ہے دراصل...
  8. محمد اسامہ سَرسَری

    استاد محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحب کا خوبصورت کلام

    سپنے تو کجا ، دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر! مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو ، بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں...
  9. ملک عدنان احمد

    تبصرہ کتب دیوانِ غالب،میری کج فہمی اور ایک گذارش

    مرزا اسد اللہ بیگ خان غالب کو گزرے ڈیڑھ صدی بیت چکی، تب اور اب کے تعلیمی معیار، نصاب اور ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے، آج جو مرتبہ انگریزی کو حاصل ہو چکا ہے وہ تب فارسی اور عربی کو تھا۔ اسلیے مجھ جیسے بیشتر تشنگانِ اردو ادب کو انہیں سمجھنے میں بے حد دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا ہی اچھا...
  10. فلک شیر

    امیر مینائی کا شعر اور آسی صاحب کا ترجمہ

    امیر مینائی کا مشہور شعر ہے: وہ تجھے بھول گئے، تجھ پہ بھی لازم ہے امیر خاک ڈال ، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر کیا خوب شعر ہے اور کس کیفیت کو کیا الگ رنگ میں بیان کیا ہے مینائی نے، کہ کم کسی کے کہنے میں لفظ ایسے ہوتے ہیں ، جیسے امیر کے کہنے میں تھے۔ آج ہی محترم یعقوب آسی صاحب کا اس شعر کا...
  11. مانی عباسی

    غزل برائے تنقید -----

    ہو باعث کچھ بھی اس بے آبرو کا ذکر مت کیجے بہ اندازِ شکایت بھی عدو کا ذکر مت کیجے ہماری شاعری سن کر لگے وہ ڈانٹنے ہم کو "یوں اپنے بِیچ کی اس گفتگو کا ذکر مت کیجے" بنی ہے یار کی آنکھیں سفیرِ بادہ و ساغر ہمارے آگے اب جام و سبو کا ذکر مت کیجے ہوا ہے گر شبابِ گل فنا تو کیوں ہے حیرانی کہا...
  12. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے اصلاح "غُرفہِ قلبِ صنم کھٹکھٹا کے دیکھ سکوں"

    غُرفہِ قلبِ صنم کھٹکھٹا کے دیکھ سکوں میں اپنے خواب حقیقت بنا کے دیکھ سکوں مرے مزاج کی سرگوشیاں یہ کہتی ہیں کوئی تو ہو میں جسے مسکرا کے دیکھ سکوں کوئی تو شب ہو میسر وصال ہو نہ فراق فقط میں سامنے اسکو بٹھا کے دیکھ سکوں ہے اسکی چشم سمندر کی وسعتوں سے بحال تو اپنے ہونٹ پہ ساحل بنا کے دیکھ سکوں...
  13. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے اصلاح "محبت حرّیت کا راستہ ہے"

    محبت حرّیت کا راستہ ہے مگر یہ آگ میں دِہکا ہوا ہے فضا میں نور کیوں پھیلا ہوا ہے؟ یقیناً پھر کسی کا دل جلا ہے مرا ہر اَنگ پتھر ہوگیا ہے کہ اس نے وار ہی ایسا کیا ہے دِکھاتا ہے جو مستقبل کا نقشہ وہ آئینہ کہاں رکھا ہوا ہے؟ شجر جو سینچتا تھا خونِ دل سے وہی اب چھاؤں کو ترسا ہوا ہے رکو! وقتِ سحر...
  14. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے تنقید و اصلاح "رات ہے اور خمار باقی ہے"

    رات ہے اور خمار باقی ہے شدّتِ انتظار باقی ہے بال اُلجھے ہوئے سے رہتے ہیں نشّہِ زلفِ یار باقی ہے "مرگئے ہیں خدا سبھی" لیکن خوئے شب زندہ دار باقی ہے مقتلِ عشق ہوگیا ویراں پھر بھی اک شہسوار باقی ہے آج کی رات روئے کافر پر اک انوکھا نکھار باقی ہے بزم، ساقی، شراب کچھ نہ رہا پھر بھی اک بادہ...
  15. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے تنقید و اصلاح "ابھی الفاظ میں جذبوں کی چبھن باقی ہے"

    ابھی الفاظ میں جذبوں کی چبھن باقی ہے یعنی تفہیم کی بستی میں سخن باقی ہے گل تو مرجھا گئے عنوانِ چمن باقی ہے اسکے بھیجے ہوئے تحفوں میں کفن باقی ہے چھوڑ جاؤ گے تو جاؤ ہمیں حاجت بھی نہیں ابھی دنیا میں پری خانہِ زن باقی ہے سرحدِ تاشہِ تسکین تک آتی ہی نہیں ایک خواہش جو میانِ تن و من باقی ہے یہ...
  16. ذوالفقار نقوی

    دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے

    دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے فلک محو ِ تماشا تھا، نہ کیوں تحت الثریٰ روئے عجب حدت مرے اطراف میں جلوہ فروزاں تھی کہ میری خاک سے شعلے لپٹ کر بار ہا روئے کسی پتھر کے سینے میں مری آواز یوں گونجے کہ اِس کے دل کے خانوں میں چھپا ہر اژدھا روئے سریرِحجت یزداں، زمیں پر کیا اُتر آیا ؟ اَنا...
  17. محدثہ

    نظم برائے اصلاح

    بے کیف ہے عالم بے جان ہوئی زندگی بھی جیسے گلِ درشتہ رُو خامشی سے چھوڑے شاخ کا ساتھ پنکھڑی پنکھڑی بکھرتا ہوا پھول بہار کی رنگیں صبحوں کا گواہ ! ..شوخ موسموں سے وابستہ کہانی کوئی تہہ در تہہ لالہ رُخ میں سمیٹے اداسی میں ڈھلا مُرجھایا ہوا جاں رسیدہ کملایا ہوا سا اے اجنبی شہر! تیری فصیلوں...
  18. محمد خلیل الرحمٰن

    رُبابِ دِل کے نغمہ ہائے بوالعجب چلے گئے: غزل از:: محمد یعقوب آسی

    رُبابِ دِل کے نغمہ ہائے بوالعجب چلے گئے جو آگئے تھے شہر میں ، وہ بے ادب چلے گئے میں اپنی دھن میں گائے جارہا تھا نغمہ ھائے جاں مجھے نہیں خبر کوئی کہ لوگ کب چلے گئے سیاہ رات رہ گئی ہے روشنی کے شہر میں دِکھاکے چاند تارے اپنی تاب وتب چلے گئے زباں کوئی نہ مِل سکی ظہورِ اضطراب کو تمام لفظ چھوڑ کر...
  19. فارقلیط رحمانی

    سات سمندر(فرہنگ آصفیہ سے ایک اقتباس)

    سات سَمَنْدَرْ (ہ) اِسم مُذکّر۱۔ مجازاً دُنیا کے کُل بحرِ اعظم۔ کیونکہ اِس کا ماخذعربی تحقیقات کے موافق سبعۃ البحر معلوم ہوتا ہے جو قرآن شریف میں آیا ہے۔ اور وہاں وہ ساتوں سمندر مراد ہیں جو عرب کے اِردگِرد یا دُور و نزدیک واقع ہیں۔ جیسے: ۱۔بحیرہ ٔشام۲،۔ بحیرہ ٔ قلزم۳،۔ بحرِ عرب ۴،۔ بحرِ ہند، ۵۔...
  20. مانی عباسی

    غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح

    تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے غزالِ دل وفا کے جال میں ہے مرے ماضی میں میرے حال میں ہے ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے ٹھکانہ جز جہنم کے ہو گا کیا محبت نامۂ اعمال میں ہے نوائے حسن میں موسیقیت ہے نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے چلو مت یوں ادا سے جی اٹھے گا پہن کے جو کفن پاتال میں ہے جھلک کشمیر کے...
Top