مجید امجد

  1. فرخ منظور

    مجید امجد "بس سٹینڈ پر" ۔ مجید امجد

    "بس سٹینڈ پر" مجید امجد "یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی" "خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی!" "خدا سے کیا گلہ، بھائی! خدا تو خیر کس نے اس کا عکسِ نقشِ پا دیکھا نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا مگر توبہ، مری توبہ، یہ انساں بھی تو آخر اِک تماشا ہے یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا...
  2. علی وقار

    مجید امجد ہائے وہ آنکھیں جو ضبط غم میں گریاں ہو گئیں !

    عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں اب لب رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ کیا کہوں بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار ہائے وہ آنکھیں جو...
  3. فرخ منظور

    مجید امجد آج کرسمس ہے ۔ مجید امجد

    آج کرسمس ہے شہر میونخ میں آج کرسمس ہے رودبارِ عسار کے پُل پر جس جگہ برف کی سلوں کی سڑک فان کاچے کی سمت مڑتی ہے قافلے قہقہوں کے اترے ہیں آج اس قریۂ شرا ب کے لوگ جن کے رخ پر ہزیمتوں کا عرق جن کے دل میں جراحتوں کی خراش ایک عزمِ نشاط جو کے ساتھ امڈ آئے ہیں مست راہوں پر بانہیں بانہوں میں، ہونٹ...
  4. فرخ منظور

    مجید امجد جینے والے ۔ مجید امجد

    جینے والے .............. کیا خبر صبح کے ستارے کو ہے اسے فرصتِ نظر کتنی پھیلتی خوشبوؤں کو کیا معلوم ہے انہیں مہلتِ سفر کتنی برقِ بےتاب کو خبر نہ ہوئی کہ ہے عمرِ دمِ شرر کتنی کبھی سوچا نہ پینے والے نے جام میں مے تو ہے مگر کتنی دیکھ سکتی نہیں مآلِ بہار گرچہ نرگس ہے دیدہ ور کتنی جانے کیا زندگی کی...
  5. فرخ منظور

    میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔۔۔۔!!! ۔ وحید احمد

    میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔۔۔۔!!! فرید ٹاون ساہیوال کے اجلے محلے کی چھوٹی سی مارکیٹ سے سورج کا زوال سہ پہری باتیں کر رہا تھا۔ حجام کی دکان میں سیاہ فام کرسی پر بیٹھا میں بال کٹنے کے نغمے سے مدہوش ہو رہا تھا کیونکہ حجام کے ہاتھوں میں قینچی کی چڑیا چہچہا رہی تھی۔ میں اس چڑیا سے خاموش...
  6. فرخ منظور

    میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔۔۔۔!!! ۔ وحید احمد

    میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔۔۔۔!!! فرید ٹاون ساہیوال کے اجلے محلے کی چھوٹی سی مارکیٹ سے سورج کا زوال سہ پہری باتیں کر رہا تھا۔ حجام کی دکان میں سیاہ فام کرسی پر بیٹھا میں بال کٹنے کے نغمے سے مدہوش ہو رہا تھا کیونکہ حجام کے ہاتھوں میں قینچی کی چڑیا چہچہا رہی تھی۔ میں اس چڑیا سے خاموش...
  7. فرخ منظور

    مجید امجد جھنگ ۔ مجید امجد

    جھنگ ............ یہ خاکداں جو ہیولیٰ ہے ظلمتستاں کا یہ سرزمیں جو ہے نقشہ جحیمِ سوزاں کا یہ تنگ و تیرہ و بے رنگ و بو دیارِ مہیب یہ طرفہ شہرِ عجیب و غریب و خفتہ نصیب یہاں خیال ہے محرومِ اہتزازِ حیات یہاں حیات ہے دوزخ کی ایک کالی رات یہاں پہ دردِ دروں کی دوا نہیں ملتی یہاں پہ قلب و نظر کو غذا...
  8. فرخ منظور

    مجید امجد بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی ۔ مجید امجد

    بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی ابد کی راہ پہ بےخواب دھڑکنوں کی دھمک جو سو گئے انہیں بجھتے جُگوں میں چھوڑ گئی یہ زندگی کی لگن ہے کہ رتجگوں کی ترنگ جو جاگتے تھے انھی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا کبھی کبھی تو مرے دِل کا ساتھ چھوڑ...
  9. فرخ منظور

    مجید امجد زندگی اے زندگی ۔ مجید امجد

    صدا کار: فرخ منظور شاعر: مجید امجد " زندگی ، اے زندگی " خرقہ پوش و پا بہ گِل میں کھڑا ہوں ، تیرے در پر ، زندگی ملتجی و مضمحل خرقہ پوش و پابہ گل اے جہانِ خار و خس کی روشنی زندگی ، اے زندگی میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے دھیمے زمزمے کھنکھناتی پیالیوں کے شور میں...
  10. فرخ منظور

    مجید امجد جھونکوں میں رس گھولے دل۔ مجید امجد

    جھونکوں میں رس گھولے دل پون چلے اور ڈولے دل جیون کی رُت کے سو روپ نغمے، پھول، جھکولے، دل تاروں کی جب جوت جگے اپنے خزانے کھولے دل یادوں کی جب پینگ چڑھے بول البیلے بولے دل کس کی دھن ہے باورے من؟ تیرا کون ہے؟ بھولے دل مجید امجد
  11. فرخ منظور

    مجید امجد گہرے سُروں میں عرضِ نوائے حیات کر۔ مجید امجد

    گہرے سُروں میں عرضِ نوائے حیات کر سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر یہ دوریوں کا سیلِ رواں، برگِ نامہ بھیج یہ فاصلوں کے بندِ گراں، کوئی بات کر تیرا دیار، رات، مری بانسری کی لے اس خوابِ دل نشیں کو مری کائنات کر میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دے ان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر آ، ایک دن،...
  12. فرخ منظور

    مجید امجد کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا ۔ مجید امجد

    کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا طلوعِ صبح کہاں، ہم...
  13. فرخ منظور

    مجید امجد کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا ۔ مجید امجد

    کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا یہ کون ادھر...
  14. فرخ منظور

    مجید امجد کس کی گھات میں گم سم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی ۔ مجید امجد

    کس کی گھات میں گم سم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا میں جو تیری راگ سبھا میں راس رچانے آیا تھا دل کی چھنکتی جھانجن تیری پازیبوں میں ٹانک چکا بوجھل پردے، بند جھروکا، ہر سایہ رنگیں دھوکا میں اک مست ہوا کا جھونکا، دوارے دوارے جھانک چکا اجڑی یادوں کے شہرِ...
  15. فرخ منظور

    مجید امجد کیا روپ دوستی کا؟ کیا رنگ دشمنی کا؟ ۔ مجید امجد

    کیا روپ دوستی کا؟ کیا رنگ دشمنی کا؟ کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا اک تنکا آشیانہ، اک راگنی اثاثہ اک موسمِ بہاراں، مہمان دو گھڑی کا آخر کوئی کنارا اس سیلِ بےکراں کا؟ آخر کوئی مداوا اس دردِ زندگی کا؟ میری سیہ شبی نے اک عمرآرزو کی لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا شاید اِدھر سے گزرے...
  16. فرخ منظور

    مجید امجد سفر کی موج میں تھے، وقت کے غبار میں تھے ۔ مجید امجدم

    جہاں نورد سفر کی موج میں تھے، وقت کے غبار میں تھے وہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیال میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رس میں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کل میں اس طرف...
  17. منذر رضا

    مجید امجد نظم۔ سیرِ سرما

    مجید امجد کی ایک نظم سیرِ سرما پیش ہے۔ اساتذہ سے اس کی ہیئت اور بحر بھی سمجھنا چاہتا ہوں۔ الف عین محمد وارث فرخ منظور محمد ریحان قریشی *سیرِ سرما* پوہ کی سردیوں کی رعنائی آخرِ شب کی سرد تنہائی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، خدا کی پناہ دھند میں گم فضا، خدا کی پناہ ذرّے ذرّے پہ، پات پات پہ برف ہر کہیں...
  18. فرخ منظور

    مجید امجد ریلوے اسٹیشن پر ۔ مجید امجد

    ریلوے اسٹیشن پر (نظم) آہنی ، سبز رنگ ، جنگلے کے پاس باتوں باتوں میں ایک برگِ عقیق تو نے جب توڑ کر مسل ڈالا مجھے احساس بھی نہ تھا کہ یہی جاوداں لمحہ ، شاخِ دوراں سے جھڑ کے ، اک عمر ، میری دنیا پر اپنی کملاہٹیں بکھیرے گا اسی برگِ دریدہ جاں کی طرح آج بھی اس دہکتی پٹڑی پر گھومتے گھنگھناتے پہیوں کو...
  19. لاریب مرزا

    مجید امجد صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے

    ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلو رستے میں اک سلامِ رفیقانہ چاہیے آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہیے کیا پستیوں کی ذلتیں، کیا عظمتوں کے فوز اپنے لیے عذاب جداگانہ چاہیے اب دردِ شش بھی سانس کی...
  20. لاریب مرزا

    مجید امجد نگاہِ بازگشت

    آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعتِ دید آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو میری ان تشنہ نگاہوں کی صدا کوئی بھی سن نہ سکا صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا مجھے تو نے، تجھے میں نے دیکھا آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ساعتِ...
Top