Recent content by محمد زید (فیصل آباد)

  1. محمد زید (فیصل آباد)

    غرل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)

    اساتذہ کرام سے بحر و وزن کے حوالہ سے اصلاح درکار ہے۔
  2. محمد زید (فیصل آباد)

    غرل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)

    مجھے تم محبت سے دو چار کر کے کہاں جا رہے ہو مجھے تار کر کے کہا تھا جو ہم نے کہ تم باز آؤ مگر تم ہٹے ہو وہی کار کر کے ہمیں عشق میں کچھ نہ تم سے ملا ہے یہی سوچتے ہیں اہ و زار کر کے جو بسمل مرے دل کو دیکھا ہے اس نے ستمگر تڑپتا ہے خود وار کر کے جہاں ہم کو کوئی نہ پوچھے نہ روکے کہیں ہم چلیں یہ جہاں...
  3. محمد زید (فیصل آباد)

    غزل کی اصلاح درکار ہے۔

    ردیف میں اسقاط اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ جمع کی بجائے محض واحد میں کہیں ھال کا ہے، وبال کا ہے تو بہتر ہو گا۔ باقی مشورے بعد میں سر اس طرح میں خیال کو درست طریقے سے بیان نہیں دے پایا، جسکی وجہ سے ردیف جمع میں لایا۔ یہ میرے بالکل ابتدائی چند اشعار ہیں جو میں نے کہے ہیں۔ آپ نظر ثانی فرما لیں اور باقی...
  4. محمد زید (فیصل آباد)

    غزل کی اصلاح درکار ہے۔

    مفعول مفاعلن فعولن اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ مندرجہ بالا افاعیل پر پرکھ کر اصلاح فرمائیں۔
  5. محمد زید (فیصل آباد)

    غزل کی اصلاح درکار ہے۔

    یہ شہر خراب حالوں کا ہے کچھ آفتوں کچھ وبالوں کا ہے معلوم نہیں یہ بات مجھ کو اب ہجر یہ کتنے سالوں کا ہے کیونکر ہو عزیز مجھ کو فرقت بس شوق مجھے وصالوں کا ہے ہر سمت جواب کی ہے طالب گویا یہ عدم سوالوں کا ہے خوش شکل و خوش بدن وہ ہائے کیسا یہ نشہ خیالوں کا ہے
Top