نکاح المتعہ کا تعارف (حصہ دوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

dxbgraphics

محفلین
بھا یٔ گرافکس عرض ہے کہ آپ کی باتیں ٹھیک ہیں اور بارہ سال امام بارگاہ کی ہمسا یٔگی اور مشا ہدہ بھی اپنی جگہ ، مگر یہاں ایک علمی، عقلی اور منطقی بحث ہو رہی ہے تو براہ مہربانی ایسے حوالہ جات نہ دیں مبادا کہ تھریڈ کلوز ہی نا کر دیا جائے، اس بحث کو ایک منطقی انجام تک پہو چنے دیں۔

تو مہوش پہن اب کیا فرما یٔں گی بیچ اس مسلئے کے، آپ نے منہاج ا لصادقین کے حوالے کو غلط کہا تو ابن حسن بھایٔ نے اصل نکا ل کر دکھا دیا اس کے علاوہ دیگر چار کتب صحیہ میں سے بھی میں حوالہ جات دکھا چکا
تو براۂ مہربانی میری اس سے پچھلی پوسٹ کے جوابات ٹو دی پوا نٔٹ دیں تا کہ فضو لیات سے بچا جا سکے۔

اللھم صل علی محمد و آ ل محمد و ا صحا ب محمد

جناب میں نے کوئی غیر اخلاقی سوال نہیں پوچھا جس موضوع پر بات ہورہی ہے اسی موضوع کے حوالے سے ان کے عیال سے متعہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں ان کی رائے مانگی۔ اگر یہ انہیں حلال کہتے ہیں تو پھر جواب بھی دینا ان کا فرض بنتا ہے۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
درج ذیل لنک پہ آپ اسماعیلی شعیہ حضرات کا موقف دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں‌ امام جعفر رح‌ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ امام متعہ کو زنا ہی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔

http://ismaili.net/heritage/node/10643
 
ش

شوکت کریم

مہمان
جناب میں نے کوئی غیر اخلاقی سوال نہیں پوچھا جس موضوع پر بات ہورہی ہے اسی موضوع کے حوالے سے ان کے عیال سے متعہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں ان کی رائے مانگی۔ اگر یہ انہیں حلال کہتے ہیں تو پھر جواب بھی دینا ان کا فرض بنتا ہے۔

بات تو ہے اگر کوئی مجھ سے میرے نکاحوں کے بارے میں پوچھے تو میں بتاؤں گا کہ حضور اس وقت تک مطلوب نکاح‌ ہوں ؟؟؟؟ اور تیسرے نکاح کی امید ہے۔ دو بھائیو‌ں‌ کے نکاح ہو چکے ہیں‌، دو بہنوں کے نکاح ہو چکے ہیں ۔ متعہ کسی نے نہیں کیا۔ ؟؟؟؟

اب یہ بتانے میں میری ذاتیات یا مجھے کوئی شرم نہیں آئی کہ کوئی پوچھے اور میں منہ پھیر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر متعہ کے حامیوں سے پوچھ کر دیکھئے کہ آپ نے کبھی متعہ کیا یا ارادہ ہے پھر الان الحفیظ۔

شرع میں کیا شرم ؟؟؟ اور جب شرم آتی ہے تو اسکا مطلب ہوا ؟؟؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور یہ دال ساری کی ساری کالی ہے۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
گرافکس بھا ٔی میں نے آپ کو مطلقاً غلط نہیں کہا آپ کا اصل سوال بجا ہے اور اگر کو ٔی کسی چیز سے وابستگی کا اعلان کرتا ہے تو اس سے اس چیز، اس عمل کے بارے میں سوال کرنا بالکل ٹھیک ہے میرا اشارہ کسی اور طرف تھا۔ بہرحال آپ کا شکریہ آپ جاری رکھیں مجھے خوشی ہو گی۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
مہوش صاحبہ میں نے آپ کی حا لیہ پوسٹ پڑھی اور اس پر آپ کا شکریہ بھی ادا کیا، کیوں؟؟ کیوں کے وہ پوسٹ پڑھ کر بے ساختہ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گٔی کیوں کے صاف لگ رہا ہے کے آپ کے ترکش کے تیر ختم ہو رہے ہیں اور الحمداللہ ہر طرف سے سوالوں کی بوچھاڑ ہے اور آپ پر کٔی پوسٹ کا ادھار چڑھتا جا رہا ہے، اور آپ ہیں کے وہی پرانے دلایٔل کو پالش کر کے دوبارہ استعمال کر رہی ہیں، اور ٹو دی پوایٔنٹ جواب سے گریز برت رہی ہیں؟؟؟ چہ معنی دارد؟؟؟

آپ نے میرے دو میں سے صرف ایک سوال کا جواب دیا اور اس سے پہلے کے میں اس کو پڑھتا، جناب شوکت کریم صاحب نے اس کا جواب آپ کو دے کر میرے منہ کی بات چھین لی۔
محترمہ آپ نے کہا کے مولا علی کے علاوہ اور بھی کٔی صحابہ اس وقت موجود تھے انہوں نے تلوار کیوں نا اٹھایٔ؟
اور پھر آپ نے کہا کے جناب عمر نے اسے حرام نہیں کیا صرف پابندی لگایٔ؟
تو کیا آپ بتانا پسند کریں گی کہ جب متعہ کا حکم قرآن و حدیث میں ہے تو پھر یہ شریعت کا حکم ہوا نا اور شریعت پہ پابندی نا خلیفۂ وقت لگا سکتا ہے نا کو ٔی اور۔ تو جس جس نے تلوار نا اٹھایٔ اسی نے حق کو چھپایا مگر حقیقت تو یہ ہے کے سب صحابہ اور خاص کر مولا علی تو تلوار ضرور اٹھاتے اگر جناب عمر اپنی طرف سے منع کرتے مگر فاروق اعظم نے تو شریعت کے ایک حکم پر سختی سے عمل کرایا جیسے صدیق اکبر نے زکوٰت پر سختی سے عمل کرایا مگر وہ اس کے شارع تو نہ بن گٔے؟؟؟
دوسرا کیا آپ بتانا پسند کریں گی کی جپ جناب امام عا لی مقام نے تلوار اٹھایٔ تب مکہ/مدینہ میں کتنے جلیل القدر صحابی موجود تھے انہوں نے تلوار کیوں نا اٹھا یٔ؟؟ میں نے تلوار اٹھانے کا سوال کیا ہی اس لیے تھا کے میرا ایمان ہے کہ مولا علی حق کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ کام (جو دین کو بدل دے ) اس کو روکنے کے لیے صرف آل نبی اور وارث شریعت ہی میدان عمل میں آتے ہیں اور راہ حق میں علی اکبر کی جوانی لٹانا صرف کنبہ رسول کا ہی کام ہے۔ اور اگر ان کے سامنے شریعت بدلنے کا عمل ہوتا تو وہ ضرور بالضرور تلوار اٹھاتے۔ اور پھر یہ بھی کے جب مولا علی نے کار خلافت شروع کیا تو کیا آپ کسی روایت سے ثابت کریں گی کہ انھوں نے متعہ کے حکم کو دوبارہ جاری کیا ہو؟؟
باقی پہلی پوسٹ کے دوسرے سوال کی تشریع آپ کے جواب آنے پر ہی کروں گا مجھے امید ہے کہ آپ اس کا خوب سوچ سمجھ کر ہی جواب دیں گی۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
یہاں پر میں ایڈمن کا ان کی وسعت قلبی پر بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ اس پوسٹ کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھے ہوۓ ہیں حالانکہ کٔی دوسرے فورمز پر تھوڑی تھوڑی سی بحث کے بعد یہ ٹاپک کلوز ہو چکا ہے۔ اور فاروق سرور صاحب اور مہوش صاحبہ وہاں بھی علمی بحث کر چکے ہیں مگر اہلیان محفل سے گزارش ہے کےاس فورم کو کسی منطقی انجام تک جاری رہنا چاہیے تا کے پڑھنے والے حضرات ہدایت پا سکیں۔

اللھم صل علی محمد و آل محمد و اصحاب محمد۔
 

شمشاد

لائبریرین
دلائل کے ساتھ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث کریں گے تو کوئی ایڈمن اس دھاگے کو مقفل نہیں کرے گا۔
جہاں ایک دوسرے کی ذات پر بات آئی، سمجھ لیں بحث پٹری سے اتر گئی ہے اور دھاگہ مقفل ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
 

dxbgraphics

محفلین
شمشاد بھائی موضوع ہی پر بات ہوئی ہے ۔
انشاء اللہ موضوع سے ہٹ کر بات نہی ہوگی۔اور اخلاق کے دائرے میں ہی ہوگی۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
ظہور اسلام کے زمانے میں چینی تہذیت ۔ چینی ادبیبہ پان ہوپن

ایک چینی ادیبہ پان ہوپن(Panhopan)لکھتی ہے:

”انسانوں کی قسموں میں پست ترین مقام ہمارا(عورتوںکا ) ہے ہم انسانیت کا کمزورحصہ ہیں “۔

ایک چینی شاعرفوشوان اپنے کلام میں کہتا ہے :

”عورت ہوناکس قدر غم انگیز ہے۔زمین پر اتنی ارزاں کوئی اورچیز نہیں ہے۔ بیٹے یوں تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں جیسے آسمان سے نازل ہونے والے خدا ہیں۔ جب کوئی لڑکی دنیا میں آتی ہے تو کوئی خوش نہیں ہوتا “۔(18)مرد کوخاندان میں غیر معمولی طاقت حاصل تھی۔ وہ اپنی بیوی اوربچوں کو بیچ بھی سکتا تھا اور قتل بھی کر سکتا تھا۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ دستر خوان پر بیوی اوربچوں کو ساتھ بیٹھنے کی اجازت ملے۔ طاقت شوہر کے اختیار میں تھی اور وہ طرح طرح کے بہانوں،مثلاً بدکلامی کے بہانے طلاق دے دیتا تھا۔

ہندوستان کی طرح انیسویں صدی کے آخر تک یہ منحوس رسم چین میں بھی تھی کہ عورتیں شوہر کی موت کے بعد خود کشی کر لیتی تھیں۔(19)

بیویوں کی تعداد لامحدود جائزبھی تھی اوررائج بھی۔غریب لوگ تو عموماً ایک سے زیادہ شادی نہیں کرتے تھے لیکن اشراف اور حکام حرم سرابنا سکتے تھے۔ جوشخص متعدد عورتیں رکھ پاتا چینی معاشرے میں اسی کا خصوصی مقام اوروقار ہوتا تھا۔ غیردائمی شادی یا متعہ بہت رائج ، مطلوب اور مستحسن تھا۔ لیکن ایسی بیویوں کی حیثیت کنیزوں سے زیادہ مختلف نہ ہوتی۔ (20)

غور کرنے کی بات ہے یہاں‌بھی ان سب چیزوں کا ذکر ہے جو دور جاہلیت سے منسوب ہیں۔ اور کیا طلوع اسلام نے معاشرے کا کچھ نہیں بگاڑا کہ ہم پھر انہی کالے رسوم کی طرف پلٹنا چاہ رہے ہیں جو ہماری آدھی آبادی کو شودروں سے بھی نچلی سطح پر پہنچا دے۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
غیردائمی شادی یا متعہ بہت رائج ، مطلوب اور مستحسن تھا۔ لیکن ایسی بیویوں کی حیثیت کنیزوں سے زیادہ مختلف نہ ہوتی۔

شوکت بھایٔ آپ نے تو بڑی متاثر کن معلومات دی ہیں۔ اس ادیبہ کا انداز بیان اور الفاظ کتنے نوک دار ہیں،اور معا شرے میں عورت کے درد کو کتنے آسان الفاظ میں بیان کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب اد ھر چینی معا شرہ ایک بوجھ تلے دبا تھا اور عورت کی معاشرے میں کویٔ عزت نا تھی تو ادھر عرب معاشرے میں بھی کم بیش یہی صورت حال تھی عورت اتنی ارزاں کے ایک "روما ل" دو اور اس کی ہر متاع حاصل کر لو تو اسلام جو دین کامل ہے نے اس کا کویٔ سدباب نہیں کیا ہو گا؟؟ اور اگر اسلام میں‌بھی وہی چینی تہذیبِ کہن کے سے احکامات ہوں تو اسلام جو کسی خطے کے بجائے پوری کایٔنات کے لیے آیا ہے،تو ایسے احکامات کے ہوتے ہوئے اسلام اس چینی عورت کے لیے کیا عزت کا پیغام لایا، اس کی کیا اشک شویٔ کر سکا، اور اسے کیا اس کا اصل مقام دے سکا؟

صلوت پرمحمد و آ ل محمد و اصحاب محمد
کروڑوں درود، رحمتیں اور برکتیں اس کا لی کملی والے پر جس نے دنیا کو اندھیروں میں سے نکال کر انسانیت کو اس کا ا صل مقام دیا۔
 

dxbgraphics

محفلین
بات تو ہے اگر کوئی مجھ سے میرے نکاحوں کے بارے میں پوچھے تو میں بتاؤں گا کہ حضور اس وقت تک مطلوب نکاح‌ ہوں ؟؟؟؟ اور تیسرے نکاح کی امید ہے۔ دو بھائیو‌ں‌ کے نکاح ہو چکے ہیں‌، دو بہنوں کے نکاح ہو چکے ہیں ۔ متعہ کسی نے نہیں کیا۔ ؟؟؟؟

اب یہ بتانے میں میری ذاتیات یا مجھے کوئی شرم نہیں آئی کہ کوئی پوچھے اور میں منہ پھیر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر متعہ کے حامیوں سے پوچھ کر دیکھئے کہ آپ نے کبھی متعہ کیا یا ارادہ ہے پھر الان الحفیظ۔

شرع میں کیا شرم ؟؟؟ اور جب شرم آتی ہے تو اسکا مطلب ہوا ؟؟؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور یہ دال ساری کی ساری کالی ہے۔

شوکت بھائی یہ مراسلہ آپ کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ ان محترمہ سے سوال تھا جو اسے حلال کہہ رہی ہیں۔:wasntme:
 

dxbgraphics

محفلین
میں پہلے بھی واضح کر چکا ہوں کہ اسے نفی نہ لیا جائے میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی اس کو حلال کہتا ہے تو وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں اس فعل کو گوارہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
اقتباس:
اصل پیغام ارسال کردہ از: Dxbgraphix
اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: شوکت کریم
بات تو ہے اگر کوئی مجھ سے میرے نکاحوں کے بارے میں پوچھے تو میں بتاؤں گا کہ حضور اس وقت تک مطلوب نکاح‌ ہوں ؟؟؟؟ اور تیسرے نکاح کی امید ہے۔ دو بھائیو‌ں‌ کے نکاح ہو چکے ہیں‌، دو بہنوں کے نکاح ہو چکے ہیں ۔ متعہ کسی نے نہیں کیا۔ ؟؟؟؟

اب یہ بتانے میں میری ذاتیات یا مجھے کوئی شرم نہیں آئی کہ کوئی پوچھے اور میں منہ پھیر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر متعہ کے حامیوں سے پوچھ کر دیکھئے کہ آپ نے کبھی متعہ کیا یا ارادہ ہے پھر الان الحفیظ۔

شرع میں کیا شرم ؟؟؟ اور جب شرم آتی ہے تو اسکا مطلب ہوا ؟؟؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور یہ دال ساری کی ساری کالی ہے۔
شوکت بھائی یہ مراسلہ آپ کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ ان محترمہ سے سوال تھا جو اسے حلال کہہ رہی ہیں۔
گرافکس بھایٔ آپ کی بات ٹھیک ہے اور شوکت بھایٔ نے اپنے نکاحوں کے بارے میں بتا کر مثال دی ہے ان کے جواب میں دعوت پوشیدہ ہے کہ اگر کویٔ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کے وہ اس فعل کو قرآن و سنت کے مطابق انجام دے رہا ہے تو اسے کھل کے اورفخر سے بتانا چاہیے نا۔۔۔۔۔۔۔! اب دیکھیںپختگیِ عقیدہ اور وسعت نظری کے مطابق آپ کے سوال کا جواب آتا ہے یا شوکت بھایٔ کےاس
مگر متعہ کے حامیوں سے پوچھ کر دیکھئے کہ آپ نے کبھی متعہ کیا یا ارادہ ہے پھرالامان و ا لحفیظ۔
جملے کی تا یٔد ہوتی ہے؟؟؟؟؟
 

دوست

محفلین
قارئین سب سے پہلے یہ چیز نوٹ کر لیں کہ:

1۔ شوکت بھائی صاحب نے اوپر جتنی روایات نقل کی ہیں، وہ صرف اور صرف ایک صحابی کے متعلق ہیں جسکا تعلق قبیلہ اسلم سے ہے اور انکا نام ماعز ہے۔

2۔ رسول اللہ ص کے پورے دور میں زنا کے شاید دو یا تین کیسز ہی ہوئے ہیں جہاں حد جاری کی گئی ہے، اور ان میں سے بھی شاید تمام تر کیسز وہ تھے جن میں غلطی کرنے کے بعد جب غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے خود آ کر سزا طلب کی۔ چار گواہوں کے ذریعے کسی کو حد اگر جاری کی گئی ہے تو براہ مہربانی یہاں ہم سے یہ معلومات شیئر فرمائیں۔

محترم شوکت بھائی صاحب،

آپ کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ اس وقت بال کی کھال نکال رہے ہیں۔ قرآن کی آیات ہوں یا پھر حضرت علی کا قول جیسی چیزیں، انہیں بہرحال بالکل "مطلق" معنوں میں نہیں لیا جاتا اور ان میں یقینا تخصیص پائی جا سکتی ہے۔ مثلا قرآن ایک جگہ بیوی کے وراثت کے قوانین بتلاتا ہے، مگر اس میں رسول ص کی قول کے مطابق کچھ جگہوں پر تخصیص پائی جاتی ہے جنکا ذکر میں اپنے پہلے مراسلوں میں کر چکی ہوں۔ چنانچہ یہ باتیں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور اکثریت کے متعلق بات ہوتی ہے۔

اب جو یہ صحابی ماعز ہیں، انکے حالات کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں کہ کیا وجوہات ہوئیں۔ ہو سکتا ہے انکے پاس مالی استطاعت ہی نہ ہو کہ وہ آزاد عورتوں سے نکاح یا عقد المتعہ کر پاتے۔ ہو سکتا ہے کہ انکے پاس یہ بھی استطاعت نہ ہو کہ کسی دوسرے کی کنیز عورت سے نکاح کر پاتے۔ چنانچہ ان سے صبر نہ ہو سکا ہو اور وہ غلطی کر بیٹھے ہوں یہ سفر میں تھے یا حضر میں۔ اور پھر ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار شیطان بُرے وقت میں بہکا دیتا ہے کہ جس سے شادی شدہ شخص بھی دل میں خوف رکھتے ہوئے وقتی طور پر غلطی کر سکتا ہے۔

بہرحال وجہ جو بھی رہی ہو، مگر اس قیاس و ظن کو بنیاد بناتے ہوئے آپ رسول اکرم ﷺ کے اس حدیث کو نہیں جھٹلا سکتے کہ جب آپ نے ایسے صحابہ کو عقد المتعہ کی اجازت دی کہ جنہیں بیویوں سے جدائی کے باعث گناہ میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا۔ انسان کی یہ فطرت آج تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ جو انسانی فطرت کے تقاضے اُس غزوے کے دوران تھے، وہی انسانی فطرت آج تک جوں کی توں موجود ہے۔ باقی آپ اپنے قیاسی گھوڑے دوڑانے میں بہرحال آزاد ہیں۔

اور ہمارے لیے تو رسول اللہ ص کی گواہی اور یہ واقعہ کافی ہے کہ اگر 100 فیصد نہیں تب بھی بہت سے ایسے تھے جنہیں گناہ میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا مگر عقد المتعہ کی وجہ سے وہ گناہ سے بچ نکلے۔
یعنی جس کے پاس پیسا ہے وہ اپنا بستر گرم کرلے اور باقی منہ دیکھتے رہ جائیں۔ سبحان اللہ بھئی بڑا دین فطرت ہے جو صرف ان کو رحمت کے دائرے میں لاتا ہے جو پیسے والے ہیں۔ کیا کہنے جی ایسی تاویلات کے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
شیعہ روایات کا جائزہ جو مخالفین عقد متعہ کی ممانعت کے لیے استعمال کرتے ہیں
شیعہ کتب حدیث میں اتنے تواتر کے ساتھ متعہ کے حق میں روایات موجود ہیں کہ ممکن نہیں کہ انکا انکار کیا جا سکے۔ مگر پھر کچھ روایات کو وہ ادھورا اور کچھ کے ساتھ بددیانتی کر کے مخالفین ان سے اپنا مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔ آئیے اللہ کے بابرکت نام سے شروع کرتے ہیں اور حقیقت دیکھتے ہیں۔ انشاء اللہ۔

گذشتہ سے پیوستہ وہ گھڑی ہوئی روایت ہے تو یہ سب کیا ہے آپ ہی کی معتبر کتابیں اس گھڑی ہوئی روایت کی تصدیق کر رہی ہیں۔

( حرم رسول الله صلى الله عليه وآله يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة) انظر (التهذيب 2/186)، (الاستبصار 2/142) ، (وسائل الشيعة 14/441).
امیری المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گدھے کے گوشت اور متعہ النساء کی ممانعت کر دی تھی۔

اس خیبر والی روایت پر لمبی چوڑی جرح اوپر موجود ہے اور اہل عقل و انصاف کے لیے کافی ہے۔ اس لیے اسے بلاتبصرہ چھوڑتی ہوں۔

از شوکت کریم:
عن عبد الله بن سنان قال سألت أبا عبد الله عليه السلام عن المتعة فقال: (لا تدنس نفسك ب۔ها) (بحار الأنوار 100/31.
عبداللہ بن سنان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے متعہ کے بارے میں پوشھا تو انہوں نے کہا مت گندہ کرو اپنے نفس کو اس سے۔

علامہ مجلسی نے یہ روایت ایک النوادر نامی کتاب سے نقل کی جس کے مصنف ہیں احمد بن محمد بن عیسیٰ الاشعری جنھوں نے متعہ کے حلال ہونے کے بارے میں بہت سی روایات درج کی ھیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا بیان خاص پس منظر میں عبداللہ بن سنان کے لیئے تھا جو کہ ایک شادی شدہ تھے اور محض جنسی تسکین کے لیئے متعہ کرنا چاھتے تھے۔ اسی لیئے امام (ع) نے اسے اس کے خلاف مشورہ دیا کیونکہ یہ اُن کے لیئے غیر ضروری تھا، بالکل اسی طرح امام رضا علیہ السلام نے اپنے ساتھی ابن یقطین کو بھی، جو ابن سنان کی طرح شادی شدہ تھے، متعہ کے سوال پوچھنے پر کہا تھا کہ: "تیرا اس سے کیا کام کیونکہ تجھے اللہ نے اس کی ضرورت سے بے نیاز کر دیا ہے (نکاح دائمی والی بیویوں کی موجودگی کی وجہ سے)"لہٰذا امام (ع) کے قول کی روشنی میں بیوی موجود ہونے کی صورت میں متعہ سے پرھیز کیا جائے۔ کہ کہیں ایسا کرنے سے وہ شخص عورتوں کے حقوق نہ پورے کر سکے اور مشکلات سے دوچار ہو جائے۔
اسی بارے میں امام رضا (ع) کی ایک اور حدیث ملاحظہ ہو:امام ابو حسن (ع) کا ارشاد ہے: "متعہ حلال مباح مطلق ہے، اس مرد کے لیئے جسے اللہ نے نکاح کے ذریعے اس سے بے نیاز نہ کر دیا ہو۔ اس لیئے متعہ کے ذریعے پاکیزگی کے طالب رہو۔ اگر اللہ نے تمہارے لیئے اسے غیر ضروری بنا دیا ہے، تو اس کی صرف اس صورت میں اجازت ہے کہ تمہاری بیوی تک تمہیں رسائی حاصل نہ ہو۔
حوالے:
1۔ الکافی، ج 5 ص 453 حدیث 22۔
2۔ وسائل الشیعہ ، ج 21 ص 22 حدیث 26421

اور پھر سب سے اہم بات جو تمام شکوک کو رفع کر دیتی ہے، وہ یہ کہ اہل تشیع کی مستند کتاب مستدرک الوسائل جلد 14 صفحہ 455 پر عبداللہ ابن سنان کی یہ روایت جس باب کے ذیل میں مروی ہے اس باب کا نام ہے "متعہ کی غیر پسندیدگی جب اس کی ضرورت نہ ہو اور جب اس سے کراہت پیدا ہو اور عورتوں سے نا انصافی ہوتی ہو" چنانچہ شعوری طور پر یہ بات عین قرآن کے مطابق ہے کہ جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے:
"اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں سے اپنی مرضی کے موافق دو دو اور تین تین اور چار چار نکاح کرو پھر اگر تمہیں اس کا اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو یا جو تمہاری زرخیز ہو یہ تدبیر بے انصافی نہ کرنے کی بہت قرین قیاس ہے اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی دے ڈالو پھر اگر وہ خوشی خوشی تمہیں کچھ چھوڑ دیں تو شوق سے نوش جاں کھاؤ پیؤ۔ (سورۃ النساء) (4:3)"

از شوکت کریم:
عن عمار قال: قال أبو عبد الله عليه السلام لي ولسليمان بن خالد: (قد حرمت عليكما المتعة) (فروع الكافي 2/48)، (وسائل الشيعة 14/450).

Narrated by A'maar: Abu Abdullah said to me and to Suliman Bin Khaled: "I made Mut'ah Haram on you"
(Furoo AlKafi 2/48 & Wasaeel Shia 14/450).​
اس روایت کی نقل میں مخالفین نے مکمل بددیانتی سے کام لیا ہے۔ مکمل روایت یہ ہے:
"امام علیہ السلام نے فرمایا:
تم دونوں پر متعہ کی (وقتی) حرمت ہے جب تک تم مدینہ شہر میں میرے پاس موجود ہو، کیونکہ تم دونوں میرے پاس آتے ہو تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم گرفتار نہ کر لیے جاؤ اور پھر یہ کہا جائے گا کہ یہ جعفر کے ساتھی ہیں"

1۔ الکافی، ج 5 ص 467 حدیث 9
2۔ وسائل الشیعہ ، ج 21 ص 22 حدیث 26424

اب کوئی بھی عقل والا دیکھ سکتا ہے کہ امام نے یہاں پر عقد المتعہ سے مطلق منع نہیں کیا ہے بلکہ صرف اور صرف خاص حالات کے تحت اپنے ان دو ساتھیوں پر وقتی طور پر حرام کیا ہے کیونکہ مدینہ میں بنی عباس کے ظالم خلفاء کے کارندے شیعوں پر ظلم و ستم کرتے تھے اور انہیں ہر وقت جان کے ڈر سے تقیہ میں رہنا پڑتا تھا۔ اور بنی عباس کے یہ خلفاء خصوصی طور پر ائمہ اہلبیت کی تاک میں تھے کیونکہ لوگ بنی عباس کی جگہ خانوادہ نبوی کے ان ائمہ کو زیادہ عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس لیے بنی عباس کو ان سے بغاوت کا ڈر رہتا تھا۔ چنانچہ اس روایت سے دور دور تک متعہ حرام نہیں ٹہرتا، بلکہ الٹا ثابت کر رہا ہے کہ جب وہ مدینہ میں نہ ہوں اور یہ خطرہ نہ ہو کہ وہ گرفتار کر لیے جائیں گے اور خود ان کو اور ائمہ کو اور دیگر شیعوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو پھر وہاں ان کے لیے عقد المتعہ بالکل حلال ہے۔


از شوکت کریم:
ولما سأل علي بن يقطين أبا الحسن عليه السلام عن المتعة أجابه:
( ما أنت وذاك؟ قد أغناك الله عنها ) (الفروع 2/43)، الوسائل (14/449).

Ali bin Yaqteen asked Aba Hassan about Mut'ah and he answered : "What is that and You (In Arabic it means what has that got to do with you) Allah had compensated you with something much better" (he meant legal marraige) (Furoo /43), (Wasael Al-shia 14/449).​

مخالفین ان روایات کو ہر طرح سے توڑ مڑوڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ ہر ممکن طریقے سے عقد المتعہ کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کر سکیں۔ حالانکہ ہر اہل دانش و انصاف دیکھ سکتا ہے کہ بددیانتی کرنے کے لیے جس روایت کا انہوں نے صرف ایک ٹکڑا کاٹ کر پیش کیا ہے، وہ مکمل روایت کچھ اور ہی پیغام دے رہی ہے۔
مکمل روایت یہ ہے:
علی بن یقطین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امام اباالحسن (ع) سے عقد المتعہ کے متعلق سوال کیا تو آپ (ع) نے فرمایا: 'تیرا اس سے کیا کام ہے جب اللہ نے اسے تیرے لیئے غیر ضروری بنا دیا ہے (کیونکہ علی بن یقطین کی دائمی نکاح والی بیویاں موجود تھیں)؟' میں نے کہا کہ میں تو صرف اس کے متعلق جاننا چاہتا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: 'اس کی اجازت کے متعلق علی (ع) کی کتاب میں درج ہے'
1۔ الکافی، ج 5 ص 442
2۔ وسائل الشیعہ ، ج 21 ص 22 حدیث 26420
تمام شیعہ علماء صدیوں سے علی بن یقطین کی اس روایت کا مطلب بیان کر رہے ہیں، مگر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی بددیانتی ان تمام تر صدیوں میں تبدیل نہ ہو سکی اور ہم تو ایسے ہر شر سے اللہ ہی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
علی بن یقطین کی اسی روایت کے ذیل میں بہت سی دیگر رواتیں موجود ہیں، مثلا یہ روایت:
امام ابو حسن (ع) کا ارشاد ہے: "متعہ حلال مباح مطلق ہے، اس مرد کے لیئے جسے اللہ نے نکاح کے ذریعے اس سے بے نیاز نہ کر دیا ہو۔ اس لیئے متعہ کے ذریعے پاکیزگی کے طالب رہو۔ اگر اللہ نے تمہارے لیئے اسے غیر ضروری بنا دیا ہے، تو اس کی صرف اس صورت میں اجازت ہے کہ تمہاری بیوی تک تمہیں رسائی حاصل نہ ہو۔
1۔ الکافی، ج 5 ص 453 حدیث 2
2۔ وسائل الشیعہ ، ج 21 ص 22 حدیث 26421
اور جو لوگ آج مسلسل پھر ہم پر الزام لگا رہے ہیں کہ عقد المتعہ سے خاندانی زندگی ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور چینی اور دنیا کے دیگر معاشروں کے تمام تر گناہوں کا بوجھ آج عقد المتعہ کی جھولی میں ڈال رہے ہیں، کاش کہ وہ ایسے غلط الزامات لگانے کی بجائے انصاف سے ہماری دلائل کو بھی دیکھ سکیں۔ اور انکی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ مخالفت میں آ کر یہ مستقل طور پر رسول اللہ ص کی نص کو نظر انداز کر رہے ہیں جہاں عقد المتعہ میں موجود محصنین و غیر مسافحین اور دیگر محارم عورتوں اور عدت وغیرہ کی حدود و قیود کی وجہ سے خود رسول اللہ ص گواہی دے رہے ہیں کہ عقد المتعہ اسلامی شریعت پاکیزہ طیبات و حلال چیزوں کی طرح ہے۔ حیرت ہے کہ ہم پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم پچھلی نصوص کو "دہرا" رہے ہیں، مگر کاش آپ لوگوں نے دیکھا ہوتا کہ آپ لوگ "مسلسل" اپنی اس "غلطی" کو "دہرا" رہے ہیں جہاں آپ مسلسل رسول اللہ ص کی اس نص کو نظر انداز کر کے اور پھر اپنے قیاسی گھوڑے دوڑا کر دنیا میں ہونے والے ہر گناہ کی ذمہ داری عقد المتعہ کی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔

از شوکت کریم:
عبد الله بن عمير قال لأبي جعفر عليه السلام (يسرك أن نساءك وبناتك وأخواتك وبنات عمك فعلن؟ -أي يتمتعن- فأعرض عنه أبو جعفر عليه السلام حين ذكر نساءه وبنات عمه) (الفروع /42)، التهذيب 2/186)

Abdullah Bin Umair said to Abi Ja'far (as) :Is it acceptable to you that your women, daughters, sisters, daughters of your aunties do it (Mut'ah)? Abu Ja'far rebuked him when he mentioned his women and daughters of his aunties.(Al-Furoo 2/42 & At-tahdheeb 2/186)​
یہاں پر پھر مخالفین پوری روایت میں کتربیونت کر گئے ہیں کیونکہ پوری روایت مکمل طور پر ثابت کر رہی ہے کہ امام علیہ السلام عقد المتعہ کو مسلسل طور پر حلال قرار دے رہے ہیں، مگر اُس شخص کا مقصد صرف استہزاء کرنا ہے۔ میں اپنی پچھلی پوسٹ میں یہ واقعہ بیان کر چکی ہوں کہ اسلامی مسائل کا بیان کرنا تو فرض ہے، مگر اگر کوئی شخص ذاتیات پر اتر آئے اور مقصد صرف بدتمیزی ہو تو انسان منہ پھیر لے۔
جبکہ اگر کوئی واقعی اس چیز میں یقین رکھتا ہو، اور اُسکا مقصد استہزاء و شر نہ ہو اور وہ آ کر اپنی ضرورت بیان کرے تو اس میں کوئی معیوب بات نہیں ہے اور یہ بات ذیل کی روایت سے ظاہر ہے کہ جو بیان کرتی ہے کہ اس شخص سے بات صرف منہ پھیر لینے پر ختم نہیں ہو گئی بلکہ بات آگے بڑھی۔
ou4lyt.jpg


ائمہ اہلبیت علیھم السلام کی روایات اور ہمارے مراجع کرام کے فتاوی کی روشنی میں مکمل طور پر واضح ہے کہ بیوہ خواتین، چاہے وہ ہاشمی سادات ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کی طرف سے انہیں بوقت ضرورت عقد المتعہ کی مکمل اجازت ہے۔
اور آپ میں سے وہ لوگ جو عقد المتعہ میں تو یقین نہیں رکھتے تو انہیں پھر دوسروں سے عقد المتعہ کے متعلق پوچھنے کا کیا فائدہ؟؟؟؟ (سوائے اسکے کہ آپکی نیت شر کی ہو)
چنانچہ اس صورت میں اگر آپ ضرورتمند ہیں تو آپکے پاس کوئی اور صورت نہیں کہ روزے رکھیں اور صبر کریں، اور اگر صبر نہیں ہوتا تو ہمیں نہیں علم کہ پھر آپکو کیا اچھی نصیحت کی جائے۔ آپ ہمارے دینی بھائی ہیں اور ہم آپ کو نہیں کہہ سکتے کہ آپ شاکر کی تھیوری کے مطابق اُن برائیوں پر کام چلائیں کہ جنہیں وہ "چھوٹا گناہ" کہتے ہیں مثلا فحش فلمیں و انٹرنیٹ و خود لذت پرستی وغیرہ۔۔۔ بہرحال بات یہ ہے کہ یہ چھوٹے گناہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ بذات خود یہ زینہ ہیں زیادہ بڑے گناہوں کی طرف کہ ایسی فحش چیزیں دیکھ کر آپکا دماغ مزید خراب تو ہو سکتا ہے مگر صحیح نہیں۔ تو ایسی فحش چیزیں دیکھ کر لوگ پھر قوم لوط کے فعل میں مبتلا ہو جائیں گے کہ یہ معاشرے میں پھیلا ہوا ہے اور عورتیں کی نسبت معاشرے میں زیادہ آسانی سے میسر ہے۔

اس "چھوٹے گناہ" والی روش پر میں نہیں چاہتی کہ اس پر کوئی ایسی بات لکھی جائے جس سے آپ لوگوں کی کوئی دل آزاری ہو، مگر بطور دینی بھائی آپ لوگوں کو اچھی نصیحت ہے کہ چھوٹے گناہ کرنے چونکہ آسان ہوتے ہیں، اس لیے یہ بہت جلد انتہائی بڑے پیمانے پر پھیل جاتے ہیں (مثلا آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 85 فیصد نوجوان کھلے عام بڑے پیمانے پر یہ گناہ کرتے ہیں)۔ آرگومینٹ یہ ہے کہ یہ چھوٹے گناہ زناکاری کرنے سے بہتر ہیں۔ مگر ٹھنڈے دماغ سے سوچئیے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اگر لوگوں کی فطرت کے تقاضوں کو جائز طریقے سے پورا کرنے کے راستے نہ کھولے گئے تو پھر جہاں موقع ملے گا وہیں یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ مثلا مغربی ممالک میں یہ کھل کر زناکاری کا فعل کریں گے اور اس حوالے سے آپکے پاس ہرگز کوئی حل نہ ہو گا (سوائے سعودی مفتی حضرات کے مسیار دھوکے والی شادی کے جو پھر کام نہیں کرے گی اور اسلام کی انتہائی بدنامی کا باعث ہو گی اور اسلام آفیشل دھوکا مذہب قرار پائے گا)۔ اور مغربی معاشرے کے علاوہ آپ اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو آپکو اندازہ ہو گا کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ چھوٹے گناہ کا نتیجہ فقط یہ نکلے گا کہ قوم لوط کا فعل شروع ہو جائے گا کیونکہ یہ معاشرے میں آسان ہے۔
سوال:
بہت غور سے اس سوال پر غور کریں کہ کیا ان چھوٹے گناہ کہلائے جانے والے افعال سے انسان اور انسانی ضمیر "مطمئین" ہو جاتا جیسا کہ مرد و عورت کے قدرتی و فطرتی ملاپ سے ہوتا ہے؟ یا پھر اسکا بالکل الٹ نتیجہ نکلتا ہے اور "مطمئین" ہونے کی بجائے وحشت و حیوانیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور انسان مزید بے تاب ہو مزید بڑے گناہوں میں مبتلا ہو جائے گا؟
 

مہوش علی

لائبریرین
نہ کسی کو عمرے کی ضرورت پڑے نہ ہی حج کی بس متعہ کرتے جائیں اور ثواب کماتے جائیں :grin:
دوسروں کے گریبان میں جھانکنے سے پہلے حضرت اپنے گریبان کو چاک کر کے دیکھئیے کہ جہاں عمرہ و حج کیا، زمین و آسمان بلکہ کائنات میں جو کچھ موجود ہے اس سے زیادہ ثواب کمانے کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔

کاش کہ آپ اپنی اس استہزاء والی روش کو ترک کرتے اور میری گذارش پر غور کرتے کہ فضائل بالکل آخری چیز ہوتی ہے کہ جس پر بات ہو کہ ان میں ہر طرح کی ضعیف رواتیں نقل کر دی جاتی ہیں۔

مگر ادھر حالت یہ ہے کہ ان فضائل والی روایات کو بنیادبنا کر حلال و حرام کے فتوے لگائے جا رہے ہیں۔

یہ فضائل والی روایات تو تاریخ کے مقابلے کہیں زیادہ کمزور سند و ضعیف ہوتی ہیں ۔۔۔ جی ہاں وہی تاریخ کہ جس سے بھائی لوگ ایسے الرجک ہیں کہ اسکا نام آتے ہی بدکنے لگتے ہیں۔ بہرحال یہ بدکنا بھی فقط اپنی تاریخ تک محدود رہتا ہے اور جہاں دوسروں پر اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آتا ہو تو ان فضائل والی روایات کی طرح انہیں بھی چوم کر آنکھوں سے لگا کر سر پر رکھا جاتا ہے۔

******************

ابن حسن:
مہاج الصادقین میں "ان برما مجھول است" کے یہ الفاظ اسکے فٹ نوٹ میں موجود ہیں:


اب آپ سے میرا مطالبہ ہے کہ آپ ہمارے خلاف یہ روایت استعمال کر کے مطعون کرنے کی بجائے پہلے اس روایت کی سند پیش کریں۔ اور یہ مطالبہ اس لیے ہے کہ ہمارے اوپر تو ایسی روایت لے کر نفرت کے کلہاڑے چلنے شروع ہو گئے کہ جس کی کوئی سند ہے اور نہ ہماری کسی کتاب میں اسکی حقیقت کہیں ڈھونڈنے سے ملتی ہے۔۔۔۔ مگر خود پر ہزار خون معاف ہیں۔۔۔۔۔ مثلا:
1۔ میں نے اوپر اسی روایت کے حوالے سے مطالبہ کیا تھا کہ کیوں ایسی بے سند روایت پر اتنا زور ہے جبکہ میں نے آپکی اپنی کتابوں سے کئی عدد مستند روایات (صحیح مسلم و دیگر) مکمل سندوں کے ساتھ پیش کی تھی کہ جہاں عقد المتعہ کے لیے رسول اللہ ص سے لیکر صحابہ "استمتاع" کی اصطلاح استعمال کر رہے تھے، مگر آپ لوگوں کو اسکے باوجود اس کا انکار ہے اور پھر آپ لوگ منکر حدیث حضرات کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔
2۔ اسی طرح سورۃ النساء کی آیت 24 کے متعلق بے تحاشہ روایات بمع مکمل روایات اور بمع امام حاکم اور امام الذہبی کی گواہی کے نقل کی تھیں، بلکہ آپکے جمہور سلف کی گواہی پیش کی تھی کہ یہ آیت عقد المتعہ کے حق میں نازل ہوئی، مگر اس سب کے باوجود آپ نے اپنے اوپر تو ہر چیز معاف کر رکھی ہے اور اگر کوئی اعتراض و الزام ہے تو بس فقط دوسروں کے لیے۔

**************
اور شیخ صدوق کے متعلق آپ کا اعتراض بالکل غیر متعلق ہے۔ اُس وقت کے سخت دور میں ظالم و جابر خلفاء نے عقد المتعہ کو حرام کر رکھا تھا اور پتا چلنے پر زناکاری کا الزام لگا کر قتل کر ڈالتے تھے۔ چنانچہ وہاں رجسٹر کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ اس رجسٹریشن کا سوال تو صرف ایسی جگہ پیدا ہو سکتا ہے جہاں عقد المتعہ کی اجازت ہو کہ رجسٹریشن کے بعد آپکو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
عورت اتنی ارزاں کے ایک "روما ل" دو اور اس کی ہر متاع حاصل کر لو تو اسلام جو دین کامل ہے نے اس کا کویٔ سدباب نہیں کیا ہو گا؟؟

نقوی بھائی یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یاد رکھیں یہ ظہور اسلام کی باتیں ہیں جوں‌جوں‌اسلام پھیل رہا تھا نئے نئے لوگ دین اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ اب یہ رومال والی مثال انہیں‌حالات میں‌سے ہے وہ لوگ جنہوں‌نے رخصت چاہی تھی ایسے ہی تھے ۔ جس کا جتنا وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے تربیت یافتہ اصحاب کی معیت میں گذرتا تھا وہ اتنا ہی چمکتا جاتا تھا۔ اور یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ احکامات تدریجا نازل اور نافذ ہوتے رہے۔ دور جہالت کی رسوم کا مقابلہ دھیرے دھیرے ایسے طریقے سے کیا گیا کہ لوگوں‌کو بار بھی محسوس نہ ہو اور یہ سب رواج ختم بھی ہو جائیں۔

آپ دیکھیں نبوت کے بعد 13 سالہ زندگی میں متعہ کی روایت ہے ؟؟؟ اور اس دوران جو لوگ تربیت یافتہ ہوئے ان کو دیکھیں کہ فتح بیت المقدس کے بعد فاتح اس شان سے سرزمین بیت المقدس میں داخل ہوتا ہے کہ خود پیدل ہے اور غلام سواری پر ؟؟ ؟

دور جہالت میں‌عورت کو کمتر مخلوق اور شہوت کی بھوک مٹانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ لوگ اپنی بیٹیوں‌کو زندہ گاڑ دیا کرتے تھے کہ ایک لڑکی کا باپ ہونا سخت شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا۔
اور جب کوئی عورت کو صرف اور صرف جنس کی نظر سے دیکھے گا تو یہی ہو گا۔

اور یہ اسلام ہی ہے کہ جس نے جنس کو پیچھے دھکیل کر عورت کے وہ روپ مرد کو دکھائے کہ جن سے وہ نا آشنا تھا۔ جنت ماں‌کے قدموں تلے ہے ۔ عورت کو یہ رتبہ اسلام نے دیا۔

ایک لونڈی ماریہ قبطیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں‌پیش کی جاتی ہیں اور پھر وہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر امہات المومنین میں شامل کی جاتی ہیں۔

ایک لونڈی کی یہ شان یہ رتبہ کس نے دیا ؟؟؟ اسلام نے ؟؟؟ کائنات میں‌سے آپ ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں‌ کر سکتے ؟؟؟

آج کی طالب علم کے لئے متعہ تجویز کیا جاتا ہے۔ اصحاب صفہ کے بارے میں کون نہیں جانتا وہ غریب طالب علم تھے اور بے گھر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بارے میں‌متعہ کی روایات کیوں نہیں پیش کی جاتیں۔

انسان نورانی و حیوانی صفات کا مرکب سا ہے۔ اشرف المخلوقات بھی انسان ہی ہے اور ارزل المخلوقات بھی انسان ہی ہے۔ یہی جنس کا جذبہ ہے کہ جس انسان نے اس کو قابو میں‌کر لیا فرشتوں سے برتر ہو گیا۔ اور جس نے اس کو قابو نہ کیا اور خود کو جنس کے حوالے کر دیا پھر وہ جانوروں کی سطح‌سے بھی گر گیا۔

اسلام نے ایسے طریقے سے جنس کی بھوک مٹانے کی تعلیم دی ہے کہ جس سے عورت کی حیثیت بھی متاثر نہ ہو اور چار شادیوں کی اجازت دینے کے باوجود یہ قید لگائی کہ ان میں انصاف کر سکو تو چار کرنا ورنہ ایک ہی پر گزارہ کرو۔

فطرت پر غور کریں ہر جانور جوڑے کی شکل میں رہتا ہے ۔

اور خنزیر کیوں حرام ہے اس پر بھی غور کریں؟

فطرتا اور طبی طور پر بھی یہ بات قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ ایک عورت جو مختلف اوقات میں مختلف مردوں سے شادیاں کرتی پھرے وہ کبھی پھر ایک مرد یا نکاح دائمی پر قانع نہیں ہو سکتی۔

مرد کی آخر کتنی بھوک ہے چار شادیوں کی اجازت ہے ؟؟ لونڈیوں‌کنیزوں کی اجازت ہے ؟؟ پھر بھی اس کی بھوک نہیں‌مٹتی ؟؟؟ تو پھر اسے ہی مٹ جانا چاہیے ؟؟ ؟

عورت جو معاشرے کی بنیاد ہے جو مرد کی پیدائش کی ذمہ دار ہے ؟؟؟ اسکی اتنی کمتر حیثیت کہ جیسے اترن ؟؟؟ نہیں نہیں‌؟؟؟ یہ روح‌اسلام ؟؟؟ دین فطرت سے مذاق ہے ؟؟؟
 

مہوش علی

لائبریرین
از شوکت کریم:
اور اب ابن ماجہ کی ایک روایت پیش کرتا ہوں ۔
ابن ماجہ میں حضت علی کرم اللہ وجہہ کا خلافت سنھبالنے کے بعد خطبہ ہے کہ اللہ کے رسول نے متعہ کی تین دفعہ اجازت دی تھی اور پھر اس سے منع کر دیا۔ میں اللہ تعالٰی کی قسم کھاتا ہوں کہ کہ میں اس شخص کو 100 کوڑوں کی سزا دوں گا جو متعہ کرتا ہوا پایا گیا جب تک کہ وہ دو گواہ نہ لے آئے کہ جو گواہی دیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع کرنے کے بعد رخصت دے دی تھی۔
آپ کو غلطی ہوئی ہے اور حضرت علی کی ایسی کوئی روایت ابن ماجہ میں موجود نہیں ہے۔
البتہ ابن ماجہ میں مجھے ایک اور روایت نظر آئی ہے جس میں کسی دوسرے کی کنیز سے اگر نکاح کیا گیا ہے اور اس کنیز کا مالک ان میں جدائی ڈلوانا چاہے تو اس پر رسول اللہ ص نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بات اپنی ملکیت میں آنے والی کنیز عورتوں سے مختلف ہے کہ جس میں ان سے عارضی تعلقات قائم کرنے کے بعد آگے بیچ دینے میں کسی ایسی چیز کا ذکر نہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
علامنہ نیشاپوری لکھتےہیں۔
ان الناس لما ذکروا الاشعار فی فتیا ابن عباس فی المتعۃ قال قاتلھم اللہ الی ما افتیت با باحتھا علی الاطلاق لکنی قلت انھا تحل للمضطر کما تحل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔
جب لوگوں نے ابن عباس کے فتویٰ کی وجہ سے ان کی ہجو میں اشعار کہے تو انہوں نے کہا، خدا ان کو ہلاک کرے،میں نے علی الاطلاق متعہ کی اباحت کا فتوی نہیں دیا، بلکہ میں نے کہا تھا کہ متعہ مضطر کے لیے حلال ہے جیسے مُردار،خنزیر اور خون کا حکم ہے۔
اسی روایت کو ابو بکر رازی الجصاص نے احکام القرآن جلد ۲ صفحہ ۱۴۷ اور ابن ہمام نے فتح القدیر جلد ۲ صفحہ ۳۸۶ اور صاحب روح المعانی نے جلد۵ صفحہ ۶ پر بیان کیا ہے۔
بقول علامہ نیشا پوری حضرت ابن عباس نے رجوع بھی کر لیا چنانچہ غرائب القرآن جلد ۵ صفحہ ۱۶ پر ہے
انہ رجع عن ذالک عند موتہ وقال انی اتوب الیک فی الصرف والمتعۃ
اور احکام القرآن جلد ۶ صفحہ ۱۴۷،۱۷۹ پر ہے۔ نزل عن قولہ فی الصرف و قولہ فی المتعۃ۔ حضرت ابن عباس نے صرف اور متعہ سے رجوع کر لیا تھا۔
اس کے علاوہ علامہ بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری جز ۱۷ صفحہ ۱۷ اور ۲۴۶ اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری جلد ۱۱ صفحہ ۷۷ پر متعہ سے رجوع کا بیان کیا ہے۔

پھر مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں اپنی باتوں کو دہرا رہی ہوں۔ میں کیا کروں جب آپکی نظر مسلسل ہمارے دلائل سے پھسل جاتی ہے اور رہی پرانے اعتراضات پلٹ پلٹ کر آپ دہراتے رہتے ہیں۔

یہ تمام روایات ابو عثمان بھائی پہلے نقل کر چکے ہیں اور انہی کے جواب میں میں نے تفصیلی پوسٹ لکھی تھی جس میں:

1۔ آپکے اپنے علماء کے بیانات نقل کیے تھے جنہوں نے ابن عباس پر رجوع کرنے والی ان روایات کو غلط قرار دیتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ انکی سند کمزور ہے اُن روایات کی نسبت جو اسکے بالکل برخلاف بات کو ثابت کر رہی ہیں۔

2۔ اور پھر ابن عباس رسول ص کی وفات کے 60 برس جب تک زندہ رہے عقد المتعہ کے جواز میں فتوے دیتے رہے، مگر ان جھوٹ باندھنے والوں کا خیال تھا کہ ان 60 سالوں کے بعد آخری وقت بستر مرگ پر مرتے دم پڑے ابن عباس پر اس رجوع کا جھوٹ باندھ دیا جائے تو کوئی انکا یہ جھوٹ پکڑ نہ سکے گا۔ مگر یہ چال بھی انکے اپنے حلق میں پھنس گئی جب ابن عباس کے بعد انکے بلند پایہ تابعین شاگرد و اہل مکہ و یمن مستقل طور پر عقد المتعہ کے جواز پر قائم رہتے ہیں۔ حسب معمول ان تمام تر ثبوتوں سے پھر آنکھیں پھسل گئیں ہیں۔ میں چیزوں کو دہراؤں گی نہیں کیونکہ مجھے ادھر کسی سے بات منوانی نہیں ہے بلکہ فقط اپنے دلائل پیش کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔
****************
اور اللہ کی پناہ اب نوبت یہاں تک اس جھوٹ تک آ چکی ہے کہ میں نے آپکی کتب سے جو بیسیوں روایات پیش کی ہیں جن میں سے بہت سی روایات بذات خود بخاری و مسلم کی ہیں یا ایسی ہیں جنہیں خود آپکے علماء مان رہے ہیں، انہیں یہ الزام لگا کر رد کر دیا جائے کہ ان سب کے راوی شیعہ ہیں۔
آپ ایسے غلط الزامات لگانے کی بجائے دلیل اور ثبوت سے ثابت کیجئے کہ ان بیسیوں روایات کے راوی شیعہ ہیں۔ (نوٹ: یہ عیاری و چالاکی والے ہتھکنڈے بھی غیر مؤثر ہو چکے ہیں جہاں کسی روای کو شیعہ کہہ کر پوری روایت کو رد کر دیا جاتا ہے، کیونکہ آپکے علمائے رجال کی اصطلاح میں "شیعہ" سے مراد بذات خود آپ ہی کا عقیدہ رکھنے والا شخص ہے جو کہ صرف سیاسی میدان میں معاویہ ابن ابی سفیان کے مقابلے میں علی ابن ابی طالب کو حق پر سمجھتا تھا، جبکہ آج کے عقیدتی امامی شیعہ کو "رافضی" کہا جاتا تھا)۔
محترم بھائی صاحب،
اگر آپ کو ان بیسیوں روایات کے متعلق یونہی بغیر دلیل و ثبوت پیش کیے ایسے الزام لگانے ہیں، تو بہتر ہو گا کہ اس بحث کو ختم کر دیا جائے کیونکہ جواب میں آپ پر بھی ایسے ہی الزام لگیں گے اور صرف نفرتیں بڑھیں گی۔ وگرنہ آپ سے درخواست ہے کہ الزامات کی جگہ دلائل اور ثبوت ساتھ پیش فرمائیے۔
 

dxbgraphics

محفلین
اگر کوئی آپ سے آپ کی بہن یا بیٹی کے بارے میں متعہ کی خواہش ظاہر کرے تو کیا آپ اس کی اجازت دینگی۔
براہ مہربانی تقیہ نہ کیجئے گا اور جو آپ کے دل پر گزر رہی ہے اس کے مطابق جواب دیجئے گا۔
نیز میرے اس سوال کو فرقہ واریت نہ سمجھا جائے ۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس کو حلال کرنے والے اپنے اہل و عیال کے بارے میں اسے کس تناظر میں دیکھتے ہیں

مہوش صاحبہ میرے ایک سوال کا جواب آپ نے ابھی تک نہیں دیا
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top