زندگی رنگوں میں (پیلا/زرد)

تعبیر

محفلین
شماشاد جی بہت بہت شکریہ اسے پوسٹ کرنے سے پہلے میں کافی دیر سوچتی رہی کہ زرد ز سے ہو گا یا ذ سے
اچھا پھر کھانے والا زردہ بھی اسی طرح لکھیں گے
یہ پوچھنے کے لیے میں نے سوچا کہ آپ کا کھیل کھیل میں املا درست والے دھاگے میں پوچھوں پر ڈھونڈے کون اس لیے سوچ سوچ کر ذ ہی لکھ دیا :)


ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے ۔نیند تو خوراک اور آکسیجن کی طرح ضروری ہے

میں نے تو آپ کو ہر وقت یہیں دیکھا ہے ۔ اپنی صحت کا بھی خیال کیا کرو
ابھی تو ہو بھی بڑھنے کی عمر میں اس لیے اپنا زیادہ ہی خیال کیا کرو بچے :)

ہائے میں مر جاوان پیلا رنگ ہمیشہ سے میری کمزوری ہے
اف زینب اتنے سے رنگ کے لیے اپنی جان تو نا دیں :laugh:
مریں آپ کے دشمن :mad:

زبردست ۔۔۔ سانپ اور سنڈیاں لاجواب ہیں
وسلام

واہ کیا پسند ہے ;)

ٹھیک کہا ملائکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر لے جاؤں پر نایاب چیزیں ہیں ، سنڈیاں عام ملتی ہیں ان سے دل لگی کرتے رہتے ہیں ، ایک کالی سنڈی ہوتی ہے بگویا یا شاید بگوگوشہ کہتے ہیں اسے ، یہاں تو بلیاں ہی نظر آتی ہیں اور وہ مجھے پسند نہیں
وسلام

طالوت بگوگوشہ تو ناشپاتی کو کہتے ہیں نا شاید :confused:
 

طالوت

محفلین
مریں آپ کے دشمن :mad:

واہ کیا پسند ہے ;)
طالوت بگوگوشہ تو ناشپاتی کو کہتے ہیں نا شاید :confused:
آپ کسی ایک کی محبت میں دوسرے کو تو نہ ماریں

سانپ دیکھنے کی حد تک پسند ہیں ۔۔ مگر سنڈیوں سے کھیلنے کا بڑا مزا آتا ہے ۔۔ بگوگوشہ یا ببویا ، کالے رنگ کی موٹی سی سنڈی ہوتی ہے ، سنڈیوں کی طرح بڑی نرم سی اور جسم پر کانٹوں کی مانند بال سے ہوتے ہیں مگر جسامت قدرے بڑی ہوتی ہے ۔۔ شاید کالی سفید یا کالے پیلے رنگ میں بھی ملتی ہے ۔۔

شمشاد کوشش کرتے ہیں کسی مزرعے پر ایک آدھ دن گزارنے کی۔۔
وسلام
 

شمشاد

لائبریرین
ہماری طرف بگو گوشہ ایک پھل ہے۔ باکل ناشپاتی سے ملتا جلتا ہوتا ہے بس ناشپاتی کی طرح سخت نہیں ہوتا۔
 

ملائکہ

محفلین
آپ کسی ایک کی محبت میں دوسرے کو تو نہ ماریں

سانپ دیکھنے کی حد تک پسند ہیں ۔۔ مگر سنڈیوں سے کھیلنے کا بڑا مزا آتا ہے ۔۔ بگوگوشہ یا ببویا ، کالے رنگ کی موٹی سی سنڈی ہوتی ہے ، سنڈیوں کی طرح بڑی نرم سی اور جسم پر کانٹوں کی مانند بال سے ہوتے ہیں مگر جسامت قدرے بڑی ہوتی ہے ۔۔ شاید کالی سفید یا کالے پیلے رنگ میں بھی ملتی ہے ۔۔

شمشاد کوشش کرتے ہیں کسی مزرعے پر ایک آدھ دن گزارنے کی۔۔
وسلام



حیرت ہے بھائی کوئی سنڈیوں سے بھی کھیلتا ہے :eek::eek::eek::eek:
 

شمشاد

لائبریرین
لیکن آپ سب کو حیرت کیوں ہے ان کے حشرات الارض سے کھیلنے پر۔ لگتا ہے آپ کبھی کسی گاؤں میں نہیں رہے۔
ارے بھئی گاؤں میں بچے ایسے ہی کرتے ہیں اور سنڈیاں، مینڈک وغیرہ سے کھیلتے ہیں۔
 

طالوت

محفلین
حیرت ہے بھائی کوئی سنڈیوں سے بھی کھیلتا ہے :eek::eek::eek::eek:
آپ کبھی کھیل کر تو دیکھیں ۔۔ ، کراچی میں سنڈی آپ کو صرف سبزیوں میں ملے گی ، خصوصا مٹر کی پھلی میں ، بڑی خوبصورت نرم نرم سی ، اور پھر اس پر اس کی مر جانے کی اداکاری یا زگ زیگ چال :)
محترمہ یہ طالوت صاحب ہیں، ان کی ہر روش زمانے سے نرالی ہے۔ جانوروں میں انہیں لگڑ بگے پسند ہیں اور کھلونوں میں سنڈیاں :)
لگڑ بھگا برا جانور تو نہیں ابو شامل :beating: بس ذرا خونخوار ہے ;)
"کوئی" نہیں کھیلتا۔۔۔ یہ اپنے نام اور کام کے ایک ہی ہیں۔۔۔۔۔ :grin::grin::grin:
نہیں جی ایک اور بھی ہیں ، انھوں نے اس بات کا دعوٰی کیا تھا مگر دعوے کے بعد سے غائب ہیں :laugh:
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
لیکن آپ سب کو حیرت کیوں ہے ان کے حشرات الارض سے کھیلنے پر۔ لگتا ہے آپ کبھی کسی گاؤں میں نہیں رہے۔
ارے بھئی گاؤں میں بچے ایسے ہی کرتے ہیں اور سنڈیاں، مینڈک وغیرہ سے کھیلتے ہیں۔
نہیں شمشاد بھائی، میں کبھی نہیں کھیلا سنڈیوں اور مینڈکوں سے :( کیونکہ میرا بچپن گاؤں میں نہیں گزرا۔
 

جیا راؤ

محفلین
لیکن آپ سب کو حیرت کیوں ہے ان کے حشرات الارض سے کھیلنے پر۔ لگتا ہے آپ کبھی کسی گاؤں میں نہیں رہے۔
ارے بھئی گاؤں میں بچے ایسے ہی کرتے ہیں اور سنڈیاں، مینڈک وغیرہ سے کھیلتے ہیں۔


جن لوگوں نے نکتہ اعتراض اٹھایا ہے ان سب کا تعلق کراچی سے ہے یہ میں نے اب غور کیا۔۔۔۔ :grin:
 

طالوت

محفلین
نہیں شمشاد بھائی، میں کبھی نہیں کھیلا سنڈیوں اور مینڈکوں سے :( کیونکہ میرا بچپن گاؤں میں نہیں گزرا۔
پھر آپ نے بچپن کیسے گزارا :confused: مینڈک عموما برسات کے موسم میں افزائش کرتے ہیں ، ان کے نومولود بچے مچھلیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں ، جنھیں ہم مچھلیاں سمجھ کر پکڑتے تھے ، اور چھوٹے مینڈکوں کو پکڑ کر دوسروں پر پھینکنا یا کسی کی جیب میں ڈال دینا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔۔ :blush: اسی طرح ایک چھوٹا سا اڑنے والا پتنگا جسے ہم ہیلی کاپٹر کہا کرتے تھے اس کی دم سے دھاگہ باندھ کر اسے اڑانا ، بلکہ یہ توکراچی میں بھی خاصا نظر آتا ہے ۔۔ اسی طرح ایک چھوٹا سا کیڑا ہوتا ہے اسے اگر آپ مٹھی میں بند کر لیں تو وہ شاید اپنی حفاظت کے لیے کوئی مادہ خارج کرتا ہے جس سے ہتھیلی سرخ ہو جایا کرتی تھی ۔۔جگنو ، ایک کیڑا جسے ہاتھ لگائیں تو وہ مر جانے کی اداکاری کرتا ہے ، اور پیلے رنگ کی بھڑ (تمبوڑی)جس کے کاٹنے سے خاصی سوجن ہو جاتی ہے ، دو تین دن تک منہ چھپانا پڑا تھا :)
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
پھر آپ نے بچپن کیسے گزارا :confused: مینڈک عموما برسات کے موسم میں افزائش کرتے ہیں ، ان کے نومولود بچے مچھلیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں ، جنھیں ہم مچھلیاں سمجھ کر پکڑتے تھے ، اور چھوٹے مینڈکوں کو پکڑ کر دوسروں پر پھینکنا یا کسی کی جیب میں ڈال دینا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔۔ :blush: اسی طرح ایک چھوٹا سا اڑنے والا پتنگا جسے ہم ہیلی کاپٹر کہا کرتے تھے اس کی دم سے دھاگہ باندھ کر اسے اڑانا ، بلکہ یہ توکراچی میں بھی خاصا نظر آتا ہے ۔۔ اسی طرح ایک چھوٹا سا کیڑا ہوتا ہے اسے اگر آپ مٹھی میں بند کر لیں تو وہ شاید اپنی حفاظت کے لیے کوئی مادہ خارج کرتا ہے جس سے ہتھیلی سرخ ہو جایا کرتی تھی ۔۔جگنو ، ایک کیڑا جسے ہاتھ لگائیں تو وہ مر جانے کی اداکاری کرتا ہے ، اور پیلے رنگ کی بھڑ (تمبوڑی)جس کے کاٹنے سے خاصی سوجن ہو جاتی ہے ، دو تین دن تک منہ چھپانا پڑا تھا :)
وسلام
ہمارا بچپن تو بھائی بہت سیدھا سادا تھا، شرارتوں سے خالی :( بارشوں میں جمع ہونے والے پانی سے نہیں نہاتے تھے کہ "گندا ہوتا ہے"۔ مینڈک کو تو زندگی میں ہاتھ میں نہیں لیا۔ بایولوجی کے پریکٹیکلز میں بھی اللہ کا شکر ہے ہمیشہ مینڈک سے بچ بچا کر نکل جاتے تھے :)
ہیلی کاپٹر سے بچوں کو کھیلتے دیکھا بہت ہے لیکن کبھی خود پکڑ کے اس کی دم میں دھاگہ باندھ کر اڑانے کی کوشش نہیں کی۔
سرخ مادہ خارج کرنے والا کیڑا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ جبکہ جگنو تو کراچی میں آج تک نظر نہیں آیا پہلی مرتبہ 21 سال کی عمر میں ایک عزیز کے گاؤں میں کھجور کے باغات میں دیکھے تو حیران ہو گیا تھا۔ البتہ ان سے پہلی مرتبہ شغل ہم نے ابھی حالیہ گرمیوں مین بالاکوٹ میں منعقدہ کیمپ میں کیا۔
اور بھڑ سے تو اللہ بچائے۔ زندگی میں صرف ایک مرتبہ شہد کی مکھی نے ہاتھ پر کاٹا تھا کیونکہ جو کھجور میں کھا رہا تھا وہ اس پر بیٹھی تھی۔
ویسے یہاں کراچی میں مٹر یا بھنڈی سے نکلنے والی سنڈي کے لیے بڑا عجیب سے لفظ بولا جاتا ہے "گِنڈار" (gindaar)
 
Top